144ویں نمبرکی عدلیہ کے تابوت میں آخری کیل!

یقینا آپ نے کبھی نہ کبھی تاریخی ڈرامہ سیریل ضرور دیکھے ہوں گے جس میں کسی سلطنت کی تباہی ، اُس کا عروج ،زوال، سازشیں یا نظام عدالت ضرور دیکھا ہوگا،،، یاد دہانی کے لیے مثالیں دیتا چلوں کہ جیسے مشہور ڈرامہ ارتغرل ، عثمان، وائیکنگز، سپارٹکس وغیرہ۔ان ڈراموں کی کہانیاں اصل کہانیوں کے قریب تر سمجھی جاتی ہیں،،، پھر آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ پرانے ادوار میں عدلیہ کا نظام ”بادشاہ“ کے گرد گھومتا تھا،،، ویسے تو بادشاہ کا حکم ہی حتمی فیصلہ سمجھا جاتا تھا،،، لیکن پھر بھی اگر بادشاہ نے اپنی رعایا کو مطمئن کرنے کے لیے عدالت بنائی بھی تو اُس کا اختیار کم و بیش اپنے پاس ہی رکھا۔ آپ مشہور ڈرامہ سیریز ”کورلس عثمان“ کو دیکھ لیں،،، سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والا عثمان جس نے عدلیہ کی بنیاد رکھی تو سلطنت کے آغاز میں ہم نے دیکھا کہ اکثر و بیشتر فیصلے عثمان کے دربار میں ہی ہوتے تھے،،، جہاں ”چیف جسٹس“ بیٹھ کر ملزمان اور مدعیان کو سنتا اور فوری فیصلہ سناتا تھا،،، اب ڈرامے کی سٹوری ایسے بنائی یا دکھائی جاتی ہے،،، کہ فیصلہ بالکل ٹھیک اور میرٹ پر کیا گیا ہے،،، لیکن سوال یہ ہے کہ بادشاہ کے دربار ہی میں عدالت کیوں؟ اور جج تو ہمیشہ نیوٹرل ہوتا ہے،،، کیوں کہ اُس نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے،،، اور اگر جج کے فیصلے میں بادشاہ کے دربار کا خوف ہوگا تو وہ کیسے میرٹ پر بہتر فیصلہ کر سکتا ہے؟ ویسے معذرت کے ساتھ میں سلطنت عثمانیہ کے انصاف کرنے والوں پر شک نہیں کر رہا، بلکہ عدلیہ کے درباروں پر اثرورسوخ کی بات کر رہا ہوں،،، اگر اس حوالے سے کوئی سین دیکھنا ہوتو عثمان سیریز کی قسط نمبر 103دیکھ لیں،، آپ کا مجھ سے اختلاف شاید ختم ہوجائے۔ لہٰذاوہی درباری عدلیہ کا اثر ورسوخ اس خطے سے آج تک ختم نہیں ہوسکا،،، ماضی میں بھی جتنے حکمران آئے، اُن کی یہی کوشش تھی کہ عدلیہ کو اپنے حصار میں لیا جائے ،،، آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے،،، تبھی ہماری عدلیہ دنیا کے آخری نمبروں(144ویں) پر ہے۔ ورنہ اگر دنیا ہمارے ”انصاف“ سے متاثر ہوتی تو یقینا ہمیں ضرور فالو کرتے اور ہماری رینکنگ بہتر ہو جاتی۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ ساری تمہید میں کیوں باندھ رہا ہوں ۔ یہ اس لیے کہ ہماری عدلیہ تو ویسے ہی گزشتہ دو تین سال سے مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، اور 26ویں آئینی ترمیم کے بعد تو ویسے ہی ہماری عدلیہ سرکار کی بیساکھیوں پر ہے ۔ اور اس کے اثرات اس قدر شدید ہیں کہ تمام صوبوں کے ہائیکورٹس پر بھی اثر انداز ہورہے ہیں،،،لگ ہی نہیں رہا کہ کوئی بھی ادارہ میرٹ پر چل رہا ہے بلکہ یوں محسوس کیا جا رہا ہے کہ جیسے اسے کہیں سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ اب نئی ”ڈویلپمنٹ“ کی روداد سُن لیں، ،، کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز جن کے بارے میں حکومت سمجھتی ہے کہ ان کا جھکاﺅ ”سرکار“ کی طرف نہیں بلکہ اُن کے خلاف ہے یا تحریک انصاف کی طرف ہے،،، کودارلحکومت کی ہائیکورٹ سے فارغ کرنا مقصود تھا تو اُن کے تبادلے کر نے کے لیے گزشتہ روز جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس بلایا گیا ،،، حالانکہ حکومت ہی کے منتخب کر دہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے بھی حیرت انگیز طور پر اس کی مخالفت کی کہ ججز کو اُن کی مرضی کے بغیر تبادلہ نہیں کیا جانا چاہیے،،، لہٰذاانہوں نے اس اقدام کی شدید مخالفت کی۔ حالانکہ وہ کمیشن کے سربراہ ہیں، لیکن وہ مجبور ہوئے اور اجلاس بلایا۔ اب وہ پورے اجلاس میں جو اُن کی اپنی صدارت میں ہو رہا تھا،،، انہیں ہی نظر انداز کرنے کا پورا اہتمام کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی غیررسمی درخواست پر مشورہ دیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے کل 9 ججوں میں سے پانچ کو دوسری ہائی کورٹس میں بھیجنے کا ارادہ ترک کر دیا جائے۔ البتہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی حکومت کو راضی رکھنے کے لیے چیف جسٹس کے مشورے کو اہمیت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بلکہ اس کی بجائے جوڈیشل کمیشن کا باقاعدہ اجلاس بلانے کے لیے درخواست دائر کردی۔ چیف جسٹس نے اس درخواست پر کمیشن کا اجلاس بلانے سے گریز کیا تاکہ کسی طرح یہ غیر منصفانہ کوشش ٹال دی جائے۔ لیکن اس گریز کے بعد جوڈیشل کمیشن کے پانچ ارکان نے آئینی شق 175 اے ( 22 ) کے تحت 7 اپریل کو کمیشن کا اجلاس بلانے کی درخواست جمع کرائی۔ قانوناً ایسی درخواست سامنے آنے کے بعد چیف جسٹس پندرہ روز میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کے پابند ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ اجلاس آج منعقد ہوا اور تین ’ناپسندیدہ‘ ججوں کو تین مختلف ہائی کورٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ،جج ،جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلہ لاہورہائیکورٹ،جسٹس بابر ستار کا تبادلہ پشاور ہائیکورٹ اورجسٹس ثمن رفعت امتیاز کا تبادلہ سندھ ہائیکورٹ میں کر دیا گیا،،، جبکہ دیگر دو ججز جس میں جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو دونوں کا تبادلہ کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ اجلاس میں کمیشن کے بارہ ارکان میں سے صرف تین نے اس فیصلہ کی مخالفت کی جن میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے علاوہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے بیرسٹر گوہر علی اور سینیٹر علی ظفر شامل تھے۔حالانکہ پیپلز پارٹی شروع میں ان تبدیلیوں کی مخالفت کرتی رہی تھی لیکن حالیہ منعقد ہونے والے اجلاس میں اس کے نمائندوں نے حکومت کے ساتھ مل کر ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ یہاں ایک دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ ماہرین کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں مذکورہ جج صاحبان کے تبادلے کے لیے انہیں پہلے ہی تنہا و بے اختیار کرنے کے لیے متعدد عدالتی انتظامی اقدامات کیے جا چکے تھے۔ یہ تینوں ان 6 ججوں میں شامل تھے جنہوں نے مارچ 2024 میں سپریم جوڈیشل کونسل کے اراکین کے نام ایک کھلے خط میں عدالتی امور میں انٹیلی جنس اداروں کی مداخلت اور ججوں کو ہراساں کرنے کی شکایت کی تھی۔ اس کے بعد یہ تینوں جج ان پانچ ججوں میں بھی شامل تھے جنہوں نے لاہور ہائی کورٹ سے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ تبدیل کر کے انہیں وہی سنیارٹی دینے کی بھی مخالفت کی تھی۔ اس مخالفت کے باوجود جسٹس عامر فاروق کے سپریم کورٹ کا جج بننے کے بعد جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ ان ججوں نے بعد میں جسٹس ڈوگر کی تقریب حلف برداری میں بطور احتجاج شرکت سے گریز کیا تھا۔ ان تبادلوں کے بعد معذرت کے ساتھ اب ہوگا یہ کہ سپریم کورٹ بھی اپنی ، ہائیکورٹس بھی اپنی ، دیگر عدالتیں تو ہیں ہی اپنی،،، ایسے میں گلیاں ہوجان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے والا حساب ہوگیا ہے۔ کیوں کہ اب عدالتوں میں سیاسی وابستگیوں والے بہت سے ججز تعینات ہوگئے ہیں،،،دراصل جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے یہ تبادلے 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کے تحت کیے ہیں۔ اس شق کے مطابق ہائی کورٹ کے کسی جج کو اس کی مرضی پوچھے بغیر کسی دوسری ہائی کورٹ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ایسے کسی فیصلے کی مخالفت کرنے والے جج کو سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کرتے ہوئے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ البتہ جسٹس بابر ستار اور دیگر متاثرہ ججوں نے چیف جسٹس اور جوڈیشل کمیشن سے اپنے دلائل پیش کرنے کی اجازت طلب کی تھی تاہم اس درخواست پر غور نہیں کیا گیا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئے ججوں کی کمی محسوس کی جا رہی ہے اور اس بارے میں متعدد نام بھی میڈیا میں گردش کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی بات مان کر جوڈیشل کمیشن کے سرکاری ارکان نے تین ججوں کا تبادلہ منظور کیا اور ملک کے سب سے بڑے عدالتی عہدے پر فائز چیف جسٹس کو اپنی قانونی و آئینی رائے کی وجہ سے تنہا کر دیا گیا۔ حالانکہ یہ فیصلہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی ہی کی صدارت میں منعقد ہوا تھا لیکن سرکاری ارکان صدر مجلس کی رائے سننے پر آمادہ نہیں تھے۔ بہرکیف یہ تبادلے چند ججوں کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے عدالتی اختیار اور ججوں کی خود مختاری سے رائے قائم کرنے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اب یا تو صرف ایسے لوگوں کو جج بھرتی کیا جائے گا جو قانون و آئین کی بجائے حکومت کی مرضی و منشا کے مطابق فیصلے کرنا ہی ضروری سمجھیں گے یا خود مختاری سے سوچنے والے جج بھی تبادلے کے خوف سے خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ججوں کی تقرری کے معاملے میں ججوں کی بجائے پارلیمنٹ کے سیاسی نمائندوں کو جوڈیشل کمیشن میں اکثریت دے دی گئی تھی۔ اس طرح ججوں کی تقرری و تبادلوں کا اختیار عملی طور سے حکمران پارٹی کے ہاتھ میں آ گیا کیوں کہ اسی کے نامزد کیے ہوئے ارکان کے پاس اکثریت ہوتی ہے۔ اب یہ روایت بھی راسخ کی جا رہی ہے کہ چیف جسٹس کی آئینی رائے کو بھی نظر انداز کر کے کسی معاملہ میں ان کی مخالفت کی پرواہ نہ کی جائے۔ یوں قانون و آئین کی سب سے اہم اور مقدس علامت کو بے توقیر کیا جا رہا ہے۔اور پھر ایسا اس لیے بھی ”جرم“ سمجھا ہے کیوں کہ جس سیاستدان کی وساطت سے کوئی بھی جج تعینات کیا جائے گا تو وہ ساری زندگی اُس شخصیت، اُس سیاسی جماعت یا اُس ادارے کی مرہون منت کام کرے گا، کبھی اپنے ”احسان مندوں“ کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکے گا، جبکہ وہ کبھی عدلیہ کی بہتری کے لیے کام نہیں کرے گا، وہ کبھی عدلیہ کی آزادی کے بارے میں نہیں سوچے گا۔ جبکہ اس کے برعکس میرٹ پر تعینات ہونے والا جج یا مقابلے کا امتحان پاس کرکے آنے والے جج کے پاس ایک وژن ہوگا، ایک عزم ہوگا، جوش ہوگااور ولولہ ہوگا۔ ورنہ تو ماضی میں ایسے سفارشی ججز بھی تعینات رہے جنہیں فیصلے لکھنے بھی نہیں آتے تھے۔اور اب بھی ایسا ہوگاہمارے ہمارے منصف اعلیٰ دربار میں بیٹھ کر صرف کاتب کا کام کریں گے،،، جبکہ فیصلے کہیں اور ہو رہے ہوں گے!