تحریک انصاف صرف عمران خان سے ہے!

ایک کوشش الیکشن سے پہلے کی گئی کہ پرویز خٹک کی شکل میں تحریک انصاف کو توڑا جائے لیکن سخت ناکامی ہوئی،،، دوسری کوشش آجکل جاری ہے کہ اس جماعت کو بھی دھڑوں میں تقسیم کر لیا جائے اور divide and rule policy کے تحت ان پر قبضہ کر لیا جائے،،، جس میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کسی حدتک کامیاب بھی ہو رہے ہیں،،، جیسے آج کل شیر افضل مروت گروپ اور عمر ایوب گروپ میں آپس میں ٹھن گئی ہے،،، شیر افضل مروت کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی و کور کمیٹی سے نکال دیا گیا ہے ،،، جس کے بعد اعظم سواتی اور سالار کاکڑ نے پی ٹی آئی سیاسی اور کور کمیٹی چھوڑ دی، اعظم سواتی اور سالار کاکڑ پی ٹی آئی کی موجودہ کور کمیٹی و سیاسی کمیٹی کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔کیوں کہ اُنہیں شدید تحفظات ہیں۔ کیوں کہ یہ اراکین سمجھتے ہیں کہ شیر افضل مروت کو بانی پی ٹی آئی نے بہت عزت و احترام دیا ہے، اس لیے اُسے نہیں نکالا جانا چاہیے،، جبکہ دوسری جانب شیر افضل مروت کو اڈیالہ جیل میں خان سے ملاقات نہ کروانے پر تحریک انصاف کی قیادت پر سخت غصہ ہے۔ خیر ان باتوں سے بظاہر تویہی لگ رہا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر دراڑ ڈالنے کی انتھک کوششیں ہو رہی ہیں،،،یہ بالکل وہی ماڈل استعمال ہو رہا ہے ، جو ایم کیو ایم کے لیے استعمال کیا گیا ،،، نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ 2018ءکے انتخابات قریب تھے، ایم کیو ایم بکھر چکی تھی،،، تین کے قریب دھڑے بن چکے تھے،،، جن میں سے ایک بالکل الگ جبکہ دو دھڑے فاروق ستار اور خالد محمود صدیقی کی شکل میں آمنے سامنے تھے،،، لیکن پھر الیکشن سے ایک ماہ قبل دونوں دھڑے آپس میں مل گئے یا ملا دیے گئے اور چند سیٹیں دے کر انہیں اپوزیشن میں بٹھا دیا گیا۔ حالانکہ اُس سے پہلے کراچی کے عوام ایک آواز پر گھروں سے باہر نکل آتے تھے،،، اور وجہ بعد میں پوچھتے تھے کہ کیوں نکلے ہیں۔ پھر پیپلزپارٹی کو دیکھ لیں،،، جو تحریک انصاف کے ساتھ سلوک ہو رہا ہے،،، وہ 1977ءسے لے کر 1988تک پیپلزپارٹی کے ساتھ کیا گیا،،، آپ نے غلام مصطفی جتوئی توڑ لیا،،، آپ نے غلام مصطفی کھر کو توڑ لیا،،، آپ نے جام صادق کو توڑ لیا،،، اور بھی بہت سے بڑے سیاستدانوں کو توڑا لیکن کیا پیپلزپارٹی ختم ہوگئی ؟ لیکن اس کے برعکس یہ جو کچھ مرضی کر لیں،،، تحریک انصاف صرف اور صرف بانی تحریک انصاف کے گرد گھومتی ہے،،، حکمران اس جماعت کے جتنے مرضی دھڑے بنا لیں،،، حالانکہ اس میں ابھی تک یہ کامیاب نہیں ہوئے،،، انہوں نے 70فیصد قیادت سے پریس کانفرنسیں کروا کر تحریک انصاف سے لاتعلقی کا اعلان کروایا ہے،،،جہانگیر ترین، علیم خان، فیاض چوہان، فردوس عاشق اعوان، فواد چوہدری، اسد عمر، جمشید اقبال چیمہ، فیض اللہ کموکا، اقبال وزیر، اجمل وزیر، علی زیدی، جے پرکاش، محمود مولوی سمیت 220سے زائد قائدین نے تحریک انصاف کو خیر آباد کہا،،، لیکن جو چھوڑ کر گئے ، اُن کی سیاست کا کیا بنا؟ جہانگیر ترین کی جماعت استحکام پاکستان پارٹی کا احوال پوچھ لیں کہ کیا ہے؟ 90فیصد اُمیدوار اپنی سیٹیں ہار گئے،،، بلکہ خود جہانگیر ترین نے بھی سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا۔ اس پرمیں تو یہ کہتا ہوں کہ تمام تحریک انصاف کے دیگر قائدین بھی چھوڑ جائیں لیکن آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس سے جماعت کو یا اُس کے کارکنوں کو،،، یا اس جماعت کے ووٹرز کو کوئی فرق نہیں پڑتا،بانی تحریک انصاف کے لیے محبت آج بھی اُتنی ہے جتنی پہلے تھی۔ بلکہ آپ آج الیکشن کروا لیں ، اس جماعت کو پہلے سے زیادہ ووٹ ملیں گے،،، اس کی وجہ کچھ بھی ہو لیکن پاکستان میں ہمدردی کے ووٹ کی اپنی ایک اہمیت رہی ہے،، آپ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں کہ 88ءکے الیکشن میں پیپلزپارٹی کو دبانے پر ہمدردی کا ووٹ ملا، پھر 2008ءمیں پی پی پی کو بے نظیر کی شہادت کا ووٹ ملا،،، پھر یہی نہیں بلکہ حالیہ الیکشن 2024میں تحریک انصاف کو عمران خان کے جیل میں ہونے کی وجہ سے ہمدردی کا ووٹ ملا۔ لہٰذاآپکو اس کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کرنا ہی ہوں گے،،، کیوں کہ اگر آپ نے کچھ کرنا ہوتا تو اب تک کچھ کر چکے ہوتے،،، آپ نے پورا ایک سال اُسے دبا کر دیکھ لیا، اس کے باوجود کہ تمام ادارے آپ کے ماتحت ہیں،،، عدالتیں آپ کی ہیں،،، تو ایک سال میں آپ اُسے مذاکرات کے لیے نہیں منا سکے،،، بلکہ اُسے تو کسی مناسب کیس میں ابھی تک کوئی سزا بھی نہیں سنائی جا سکی۔ اور پھر ہم اس وجہ سے پاکستان ہی میں نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اس قدر بدنام ہو رہے ہیں کہ یو ایس سینیٹرز چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف پر لگی پابندیوں کو ختم کیا جائے۔ اگر کسی کو اس پر بھی نہیں یقین تو اپنے وزیر اعظم یا وزیروں سے پوچھ لیں کہ اُنہیں بیرون ملک جا کر کن کن سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،،، تبھی تو یہ لوگ بیرون ملک جا کر عوام کا یا میڈیا کا سامنا نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ یہ اپنی عوام کے سامنے جاتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں،،، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ کب تک چلے گا؟ کیا ملک ایسے ہی چلتا رہے گا؟ دنیا میں کوئی مثال دے دیں کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو آپ دبا لیں،،، اور کہیں کہ اب امن ہو جائے گا؟ آپ کو کم از کم یہ تو علم ہے کہ یہ جماعت چاروں صوبوں کی جماعت ہے،،، ایم کیو ایم کی طرح ایک صوبے کی جماعت نہیں تھی،،، آپ اسے مرکز میں دبائیں گے،،، تو یہ صوبوں میں زور پکڑ لے گی، آپ اسے ایک صوبے میں دبائیں گے تو یہ دوسرے صوبے میں زور پکڑ لے گی،،،لیکن یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے،،، میں تحریک انصاف کا نمائندہ نہیں ہوں،،، نہ مجھے اس جماعت سے کوئی ہمدردی ہے،،، لیکن کیا مجھے یا آپکو اس پاکستان سے ہمدردی نہیں ہے؟ ہمیں صرف پاکستان کا غم ستائے جاتا ہے،،، کہ اس کا کیا بنے گا،،، بقول شاعر نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر ا±ٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے پھر اُس نے ٹھیک ہی تو کہا ہے کہ وہ ”بڑوں“ کے علاوہ کسی اور سے بات نہیں کرے گا،،، کیوں کہ وہ بھی جانتا ہے،،، کہ اس کے علاوہ اور کسی سے مذاکرات کرنا ،،، مطلب اپنا مذاق بنوانا ہے،،، تو خدا کے لیے ، پاکستان کے لیے ، عوام کے لیے، مظلوموں کے لیے، پسے ہوئے طبقات کے لیے، غریبوں کے لیے اور اُن کے لیے جو اس وقت بغیر کسی مقدمے میں جیل میں قید ہیں،،، ملک کے لیے سوچیں،،، اس کا آج نہیں تو کل نقصان ہوگا۔ اور پھر سب سے اہم بات ہے کہ قومی اداروں کی اس وقت جس قدر شناخت خراب ہوئی ہے،،، اُسے بھی یہی لوگ ٹھیک کر سکتے ہیں،،، کیوں کہ 80فیصد سوشل میڈیا انہی کے پاس ہے،، اور انہی کا کنٹرول ہے۔ میرے خیال میں اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ ن لیگ کے بس کی بات ہوگی یا پیپلزپارٹی کے بس کی تو یہ آپ کی بھول ہے،،، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ میں پھر یہی کہوں گا کہ EGOکو چھوڑ دیں اور پاکستان پر رحم کریں،،، یہ کہنا کہ 9مئی کے واقعات کے ذمہ داران کو نہیں چھوڑیں گے،،، یہ باتیں پرانی ہوگئی ہیں،،، بلکہ اب تو یہ کہیں کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں گی اور ذمہ داران کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ کیوں کہ تحقیقات کروالیں تو آپ کو اس واقعہ کا سرا کہیں اور طرف جاتا ہوا ملے گا، اس لیے میں پھر دست بستہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ان گھسے پٹے اور کرپٹ سیاستدانوں کو چھوڑیں، اس سے پاکستان کا رہا سہا امیج بھی خراب ہو رہا ہے،،، یہ تو وہ سیاستدان ہیں جو اپنے ایک دو کروڑ کمیشن کے لیے سوا ارب ڈالر بیرون ملک بھیج کر کہتے ہیں کہ اس کا ذمہ دار بھی عمران خان ہے،،، کیوں کہ اس کی منظور اُس کے دور میں ہوئی تھی؟ مطلب! یہ ملک ہے یا مذاق ؟ خداکا نام لیں اور وہ کام کریں جو ملک کے لیے بہتر ہے،،، اور جو اصل قیادت ہے اُس کے ساتھ مذاکرات کریں،،، اگر وہ نالاں ہے تو اُس کی ناراضگی کو دور کریں،،، اگر وہ کسی وجہ سے طیش میں ہے تو اُس کا غصہ کم کریں،،، کچھ اُس کی باتیں سنیں،، کچھ اپنی سنائیں ،،، یقینا ان باتوں کی قدر ہوگی،،، آپ کے سامنے والا شخص بھی کچھ سوچے گا کہ بقول شاعر کیا بتائیں کیا سنائیں کیا پڑھیں اکبر غزل کوئی دنیا میں سخن کا قدرداں ملتا نہیں بہرکیف اب جب بھی پاکستان کا الیکشن ہو گا، تحریک انصاف ہی جیتے گی،،، ہو سکتا ہے، اُس کے بعد وہ اپنی پرفارمنس کی وجہ سے مار کھا جائیں ،،، لیکن ملک میں استحکام اُسی صورت آئے گا جب آپ اصل قیادت سے مذاکرات کریں گے،،، ورنہ آپ یونہی گھومتے رہیں گے اور ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا۔