اربابِ اختیار! ....قومی کھیل ہاکی بھی توجہ چاہتا ہے!

بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے ہوں گے، کہ اس وقت ہمارے قومی کھیل ہاکی کی ٹیم میں کون کون سے کھلاڑی ہیں، ہاکی کھیل کیسے کھیلا جاتا ہے؟ کون کون سے کھلاڑی کس پوزیشن پر کھیلتے ہیں، اور دنیا بھر میں اس کے کون سے ٹورنامنٹس کھیلے جاتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ہم کرکٹ کے ہر ٹورنامنٹ کے بارے میں جانتے ہیں، ہر کھلاڑی کے بارے میں جانتے ہیں، اور یہ بھی جانتے ہیں کہ کس سے کس وقت بہتر پرفارمنس کی اُمید کر سکتے ہیں۔اس کی وجہ شاید سرکار کی سطح پر صرف کرکٹ کو پروموٹ کرنا اور قومی کھیل ہاکی کو پیچھے دھکیلنا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی ایک اچھی خبر آنا کہ پاکستان ملائشیا میں ہونے والے اذلان شاہ ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچ چکا ہے(اگرچہ قومی ٹیم فائنل میں جاپان سے سخت مقابلے کے بعد ہار گئی )، لیکن ہاکی ٹیم کی طرف سے ”سرپرائز“ گفٹ کی توقع نہیں تھی،،، جیسے ہی یہ سرپرائز خوشی ملی پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہوگیا۔یہ خوشی ہمیں پہلے اتنی حیران کن نہیں لگتی تھی،،، کیوں کہ ہم دنیا میں ہاکی کے بادشاہ سمجھے جاتے تھے،،، یعنی اگرہم قومی کھیل ہاکی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ کھیل ہمارے سر کا تاج رہا ہے.... وہ ٹیم، جس نے 1960ءمیں روم اولمپکس میں ہاکی میں گولڈ میڈل جیت کر دنیا میں اپنی دھاک بٹھا دی تھی اوراُس کے بعد مزید دو مرتبہ اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا، جو چار مرتبہ ہاکی کا ورلڈ کپ جیت چکی ہے، تین مرتبہ چیمپئنز ٹرافی، متعدد مرتبہ ایشیا ئی چیمپئن شپ اور کئی دیگر عالمی ٹورنامنٹس جیت چکی ہے، یعنی 8ورلڈ کپ میں سے ہم نے 7ورلڈ کپ کے فائنل کھیلے تھے،،، وہ ہاکی ٹیم اب 13سالوں کے بعد کسی بڑے ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچے تو یہ یقینا سرپرائز خوشی ہی ہوگی۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ وہ زمانے ہی اور تھے جب منیر ڈار، رشید جونیئر، منظور سینئر، سلیم شیروانی، سلیم اللہ، کلیم اللہ، صلاح الدین، اختر رسول اور اِنہی کی طرح کے مایہ ناز کھلاڑی قومی ٹیم کاحصہ ہوا کرتے تھے۔ ایک ایسی شاندار ٹیم، جس کے میدان میں اُترنے سے پہلے یہ طے ہوچکا ہوتا تھاکہ یہ ٹیم میدان سے کامیاب و کامران لوٹے گی۔ پھر یوں ہوا کہ 1994ءمیں آخری مرتبہ ہاکی کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کی کارکردگی مسلسل خراب ہوتی چلی گئی۔ اِس کے باوجود اُمید تھی کہ یہ جو براوقت ہے، ان شاءاللہ جلد گزر جائے گا لیکن پھر تمام اُمیدیں دم توڑ گئیں،،، پھر جن ممالک کی ٹیموں کو ہمارے ہاکی ماہرین نے اِس کھیل کے اَسرارورموز سکھائے تھے، آج وہی ممالک اور انہی کی ٹیمیں دنیائے ہاکی پر حکمرانی کررہی ہیں اور ہم بے بسی کی تصویر بنے دکھائی دیتے ہیں۔1994ءکے ورلڈ کپ کے بعد ایسا کیا ہوا کہ یہ کھیل دوبارہ سر اُٹھا نہیں سکا۔ میرے نزدیک اُس وقت ہوا کچھ یوں تھا کہ 90کی دہائی میں ہاکی فیڈریشن کے حکام کے لیے کھیل سے زیادہ اپنی کرسیاں بچانا اہم ہوگیا تھا۔ اور پھر اُس وقت کی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی حکومتوں نے قابلیت کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اپنے پسندیدہ افراد کو فیڈریشن میں عہدے دینا شروع کر دیے تو پھر وہی کچھ ہوا جو آج ہمار قومی کھیل بھگت رہا ہے۔ کئی احباب اِس صورتِ حال کی بڑی وجہ آسٹروٹرف متعارف کرائے جانے کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک آسٹروٹرف پر چونکہ زیادہ جسمانی فٹنس درکار ہوتی ہے اور ایشیائی کھلاڑی اِس حوالے سے یورپی کھلاڑیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے، لہٰذا اِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یورپی ممالک کی ٹیمیں بتدریج اپنے کھیل میںبہتری لاتی گئیں اور ایشیائی ٹیمیں تنزلی کا شکار ہوتی گئیں۔ دیکھا جائے تو یہ استدلال زیادہ قابلِ قبول نہیں ہے کیونکہ بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا بہرطور ہم پر لازم تھا اور ہم اپنی یہ ذمہ داری ادا نہ کرسکے۔ اگرچہ اِس دوران اندرونِ ملک ہاکی میں بہتری لانے کے دعوے بھی ہوتے رہے لیکن مسلسل بگڑتی ہوئی صورتِ حال میں ذرہ برابر بھی سدھارنہ آ سکا۔ دیکھا جائے تو اِس میں حکومتیں، ہاکی فیڈریشن اور کئی صورتوں میں خود کھلاڑی بھی ذمہ دار قرار دیے جاسکتے ہیں۔ یوں بھی ہوا کہ بیشتر مواقع پر ہاکی فیڈریشن کے کرتا دھرتاﺅں کا تعلق اُس قبیل سے رہا جن سے کوئی سوال کرنا”جرم“ سمجھا جاتا ہے۔اُن کے رویوں نے خامیوں کواُجاگر کرنے کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹیں پیدا کیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فیڈریشن میں پائی جانے والی خامیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ سچ بولنے کی پاداش میں کئی کھلاڑی بھی دباﺅ کا شکار ہوئے اور پھر ہوتے ہوتے ہمارا قومی کھیل اور اِس میں ہماری ٹیم کی شاندار کارکردگی قصہ پارینہ بنتی چلی گئی۔ خیر قصہ مختصر کہ ہاکی وہ کھیل ہے، جس نے دنیا میں ہمیں شناخت دی، ایک عرصے بعد یہ ٹیم اذلان شاہ ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچی اور سلور میڈل حاصل کیا ہے ،یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہے،،، میں نے تمام میچز دیکھے ، ٹیم نے اس قدر شاندار پرفارم کیا کہ مجھے 90ءکی دہائی کی یاد تازہ ہوگئی،لیکن ہم نے گلہ کس سے کرنا،،، ہمارا اپنا پی ٹی وی چینل ہی ہاکی کا ٹورنامنٹ دکھانے سے محروم تھا،،، وہ تو بھلا ہو ہمارے منسٹرانفارمیشن کا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر بڑھتی تنقید کو دیکھتے ہوئے پریس کانفرنس میں اعلان فرمایا کہ وہ پاکستان اور جاپان کے مابین ”فائنل“ دکھانے جا رہے ہیں،،، مطلب! اس حوالے سے بھی وہ شاباشی لینا چاہ رہے تھے،،، جو کام اُن پر فرض تھا۔ یعنی میرے خیال میں اگر قومی کھیل کو آپ نے براہ راست ٹیلی کاسٹ نہیں کرنا تو پھر ماہانہ چارجز کس چیز کے وصول کیے جا رہے ہیں؟ ویسے میرے پاس ایک آئیڈیا ہے کہ آپ پی ٹی وی سپورٹس کے بجائے ،،، آپ چینل کا نام ”پی ٹی وی کرکٹ“ رکھ دیں۔ کیوں کہ اب صرف سرکاری سطح پر کرکٹ کا پرچار ہی رہ گیا ہے،،، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ اور پھر یہ حقیقت ہے کہ اس کھیل میں ہم نے اتنا گلیمر، جوا اور روپیہ پیسہ ڈال دیا ہے کہ یہ اب گیم کم اور جوا خانہ زیادہ لگتا ہے،،، جہاں ہر وقت اور ہر لمحہ ریٹس فکس کیے جاتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ پی ایس ایل کی آڑ میں بھی ہو رہا ہے،،، جو گزشتہ 10سال سے ہو رہا ہے،،، اور بین الاقوامی ٹورز پر بھی ہو رہا ہے۔ میرے خیال میں اس وقت تمام حکومتوں کی پہلی ترجیح صرف اور صرف کرکٹ بن چکی ہے،،، ہاکی نہیں۔ کیوں کہ کرکٹ میں پیسہ ہے،،، منہ مانگی رقمیں وصول کی جاتی ہیں،،، پھر یہی نہیں بلکہ کروڑوں روپے کمیشن وصول کی جاتی ہیں،،، تبھی تو ہمارے حکومتی عہدیدار اور کچھ چاہے نہ چاہیں سب سے پہلے پی سی بی کی چیئرمین شپ کا عہدہ مانگتے ہیں۔ آپ ہمارے وزیر داخلہ ہی کو دیکھ لیں،،، جنہوں نے خود کہہ کر پی سی بی کی چیئرمین شپ حاصل کی۔ حالانکہ اُن کا کرکٹ سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے! لیکن بقول شاعر ہم اس سے بھی زیادہ بجگ ہنسائی کا باعث بن رہے ہیں۔ وہ جتنی خود نمائی کر رہا ہے خود اپنی جگ ہنسائی کر رہا ہے کرکٹ میں ہم نے ماسوائے چند ایک ٹائٹل کے کیا جیتا ہے؟ جبکہ ہاکی اور سکواش نے ہمیں دنیا بھر میں پہچان دی ہے،،، سکواش کی بات کروں تو یہ صورتحال صرف ہاکی فیڈریشن ہی کی نہیں بلکہ ملک میں کھیلوں کی دیگر فیڈریشنز کا بھی یہی حال ہے۔ایک زمانہ تھا کہ سکواش کی دنیامیں ہمارا ڈنکا بجتا تھا۔ ایک سے بڑھ کر ایک کھلاڑی اور ایسے ایسے کارنامے کہ دنیا حیران رہ گئی۔ کہاں ہیں آج جہانگیر خان، جان شیرخان اور اِن سے پہلے روشن خان جیسے کھلاڑی۔ آج دنیا ئے سکواش میں شاید ہی کوئی نمایاں پاکستانی کھلاڑی بچا ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سوائے کرکٹ کے‘ تمام کے تمام کھیل زبوں حالی کا شکار ہوچکے ہیں۔ اور پھر اہم بات یہ ہے کہ آج تک ہاکی کا کوئی پلیئر بھی جوے میں نہیں پکڑا گیا، اور نہ ہی سکواش میں کسی پلیئر کو کوئی سزا ہوئی ہے،،، جبکہ اس کے برعکس کرکٹ پر جوا، آج کل ہر گلی محلے میں ہو رہا ہے۔ جب بھی جوا پکڑا جاتا ہے،،، تو کرکٹ کا ہی پکڑا جاتا ہے، ،، ایسا اس لیے بھی ہے کہ کرکٹ میں فکسنگ آسان ہے،، کرکٹ میں ایک دو کھلاڑی خرید لیں تو میچ کا پانسا پلٹ جاتا ہے،،، جبکہ ہاکی میں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ بہرکیف حکومت سے دست بستہ گزارش ہے کہ وہ کرکٹ کے ساتھ ساتھ ہاکی اور سکواش کو بھی ساتھ لے کر چلے۔ پی ایس ایل کی طرز پر ہاکی اور سکواش یا پھر جن جن کھیلوں میں پاکستان آگے جا سکتا ہے،،، اُن کی ”لیگ“ کروائی جائیں،،، اگر ایسا نہ کیا گیا تو یقین مانیں ہم 2023ءکی طرح 2027ءمیں ہونے والا ورلڈ کپ بھی نہیں کھیل سکیں گے،،، پھر یہ صورتحال ایسے ہی ہوگی جیسے فٹ بال کا ورلڈ کپ ہو اور اُس میں برازیل، ارجنٹائن، فرانس یا جرمنی کی ٹیمیں شریک نہ ہوں۔ بدقسمی سے ایسا ہوچکا ہے! اب ہم اُس وقت کو غنیمت جان رہے ہیں کہ جب پاکستان کی ہاکی ٹیم سبھی میچز ہار کر وطن واپس لوٹتی تھی۔ کم از کم وہ اِس لائق تو تھی کہ ٹورنامنٹس میں حصہ لینے کے قابل سمجھی جاتی تھی۔ اربابِ اختیار کو بھی چاہیے کہ ذرا سوچیں! آخر ہم کرنا کیا چاہتے ہیں؟ کیا عہدے اور پیسہ ہی ہمارے لیے سب سے بڑا مقصد بن چکے ہیں؟ کیا ہمیں اِس بات سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کس طرح کا ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں؟