آزادکشمیر ،،، کیا یہ بھی گیا؟

جب پانی سر کے اوپر سے نہیں گزرا تھا تو کشمیر میں احتجاج کی خبر منظر عام سے غائب تھی، جو خبریں ، ویڈیوز یا تصاویر سامنے آرہی تھیں سوشل میڈیا کے ذریعے آرہی تھیں،، ، پھر پتہ چلا کہ ”عوامی جوائنٹ کمیٹی“ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے،، اور احتجاج میں تین شہری جاں بحق اور ایک پولیس سب انسپکٹر شہید ہو چکا ہے۔ اور پھر آزاد کشمیر میں احتجاج کوئی نیا نہیں ہو رہا بلکہ یہ احتجاج گزشتہ سال مئی میں شروع ہوا تھا، تب بھی یہ پرامن تھا اور اب بھی ابتدا میں عوامی تحریک مکمل طور پر پرامن تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعد میں یہ پر تشدد کیسے ہو گئی؟ مئی 2023ءمیں اس تحریک کا بنیادی مطالبہ بجلی کے نرخوں میں کمی تھا۔ راولا کوٹ سے یہ تحریک شروع ہوئی تھی۔اُس وقت کی حکومت نے عوام کے اس یک نکاتی مطالبے پر کوئی توجہ نہ دی، یوں اہلِ آزاد کشمیر کی بے بسی اور بے کسی مایوسی میں بدل گئی۔جذبات کا جو لاوا اندر ہی اندر اُبل رہا تھا ایک سال کے بعد وہ شدت سے پھٹ پڑا۔آزاد کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 11مئی کو راولا کوٹ سے مظفر آباد تک لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے پر عملدرآمد سے پہلے ہی آزاد کشمیر حکومت نے پولیس اور رینجرز طلب کرلی اور پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی۔یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اس وقت آزاد کشمیر کے تقریباً 98فیصد عوام کی نمائندگی کر رہی ہے۔ دوسری طرف صرف 52اراکین کی ننھی منی اسمبلی کے بل بوتے پر تشکیل پانے والی کابینہ میں وزیروں‘ مشیروں اور ایڈوائزروں کو ملا کر کوئی 48افراد کی فوج ظفر موج ہے‘ مگر ان میں کوئی صاحبِ حکمت و دانش نہیں وگرنہ ”لانگ مارچ“ اور طویل احتجاج کی نوبت ہی نہ آتی۔ کشمیری عوام کا ایک سال پہلے بنیادی مطالبہ بجلی کے نرخوں میں کمی تھا،مگر اب یہ ایک سے بڑھ کر چار مطالبات ہو گئے ہیں۔ نیلم جہلم ڈیم سے 2500میگاواٹ بجلی کئی برسوں سے نیشنل گرڈ میں شامل ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر صرف 350میگاواٹ بجلی استعمال کر رہا ہے۔ کشمیری صارفین کا کہنا ہے کہ ہم سے نیلم جہلم پراجیکٹ کے مکمل ہونے کے بعد بھی کئی اقسام کے سرچارجز وصول کیے جا رہے ہیں۔ چار پانچ روپے فی یونٹ پیدا ہونے والی بجلی بہت مہنگی فروخت کی جا رہی ہے۔آزاد کشمیر کے عوام کو ہوم پروڈکشن کی بنا پر ریلیف ملنا چاہیے۔ تاہم ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ اگر بجلی کی پیداوار پر آزاد کشمیر حکومت خالص منافع اوررائلٹی لے رہی ہے تو پھر عوام کو پیداواری لاگت پر بجلی کیسے دی جا سکتی ہے؟ آزاد کشمیر کے عوام کا مطالبہ یہ تھا کہ بجلی کے بلوں میں لگائے گئے ٹیکسز ختم کر کے ہمیں بجلی پیداواری لاگت پر کچھ سروس چارجز شامل کر کے مناسب نرخ پر ملنی چاہیے۔بجلی کے علاوہ دوسرا مطالبہ جو گزشتہ سال سے چلا آ رہا تھا وہ آٹے پر سبسڈی کا تھا۔ تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ حکمران طبقے کی مراعات اور پروٹوکول ختم کیا جائے۔ اس وقت تک تقریباً آزاد کشمیر اسمبلی کا ہر ممبر وزیر یا مشیر ہے، ہر کسی کے پاس سرکاری گاڑیاں بھی ہیں‘سٹاف بھی ہے‘ پولیس گارڈ بھی ہے‘سرکاری گھر بھی ہے جس میں سینکڑوں یونٹ بجلی ماہانہ فری ہوتی ہے۔ حکمرانوں اور بیورو کریسی کی آسائشات کے لیے مختص بجٹ عوام الناس پر ٹیکسز اور مزید ٹیکسز لگا کر پورا کیا جاتا ہے اس لیے کشمیری عوام کا یہ مطالبہ بھی بالکل جائز ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پرامن احتجاج میں شدت کیسے آگئی؟ دراصل ہمارے سیکیورٹی اداروں کو عادت ہوگئی تھی کہ ہر جائز احتجاج کو بھی بزور طاقت کچلنے کی تو اس بار پھر بھی حکومتی اداروں نے ایسا ہی کرنے کی کوشش کی تو حالات یکسر بدل گئے،،، ہمارے پولیس والوں کو پہاڑ سے نیچے پھینکنے کی ”روایات“ شروع ہوگئیں،،، پھر کیا ہونا تھا ،،، وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے جلدی جلدی میں آزادکشمیر کے لیے 23ارب روپے کی منظوری دے کر جان خلاصی کروائی۔ لیکن تب تک پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہو چکی تھی،،، انڈیا ہم پر ہنس رہاتھا،،، مقبوضہ کشمیر کے اندر سے پاکستان کے لیے غم و غصہ اُبھر رہا تھا کہ کیسے 3کشمیریوں کو دوران احتجاج موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا،،، مودی حکومت تو ویسے ہی کشمیریوں کے خلاف ہے،،، نے اس احتجاج پر ایسے ایسے بیانات دینا شروع کردیے کہ جو یہاں قابل اشاعت بھی نہیں ہیں۔ پھر حکومت کی ایسی حرکتوں کے بعد انڈیا کا کیس اور مضبوط ہو جاتا ہے،،، بلکہ انڈیا کا کیس تو اُسی وقت مضبوط ہو گیا تھا جب یہاں مہنگائی آسمان کو چھونے لگی تھی اور وہاں حالات نارمل تھے۔ تو ایسے میں کشمیری کیوں چاہیں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہوں،،،اور پھر اب تو کہیں بھی ایسا نہیں ہے کہ مذہب کی بنیاد پر قومیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی رہیں،،، اگر ایسا ہوتا تو گزشتہ ہفتے سخت گیر اسلامی ملک ایران ، انڈیا کے ساتھ چاہ بہار پر 10سالہ معاہدہ کیوں کرتا؟ اگر ایسا ہوتا تو سعودی عرب بھارت میں سرمایہ کاری کیوں کرتا؟ اگر ایسا ہوتا تو بھارت یواے ای میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کیوں کرتا؟ اگر ایسا ہوتا تو افغانستان پاکستان کے بجائے بھارت کے ساتھ تعلقات کیوں استوار کرتا؟ یعنی یہ سب مفادات کی گیمیں ہیں، یہاں کچھ بھی سادہ نہیں بلکہ بہت کچھ پیچیدہ ہے،،، یہاں عوام اپنی سہولت دیکھتے ہیں اور حکمران اپنے مفادات ! لہٰذاقومی مفاہمتی پالیسیاں اختیار کریں،،، عوام اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کریں، کے پی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور نومنتخب گورنر فیصل کریم کنڈی کے درمیان ہونے والی سرد جنگ کو وفاق زیادہ سنجیدہ نہ لے،،، اور ان دونوں کو سمجھائے۔ کیوں کہ اس لڑائی کو زیادہ سنجیدہ لینے کا مطلب ہے کہ آپ مزید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کیوں کہ اگر کے پی کے کے خلاف ایکشن لیا گیا تو خدانخواستہ یہ پاکستان کے تابوت میں آخری کیل کے مترادف ہوگا۔ بہرکیف لاءاینڈآرڈر ہمارا سب سے بڑا پرابلم بنا ہوا ہے اورجن کا کام ہی لاءاینڈ آرڈر کی صورتحال کو دیکھنا ہے ،ان کی دلچسپیاں کہیں اور ہیں۔ اس ملک میں جو کرتب ہوتے ہیں انسان وہ دیکھے تو دنگ رہ جاتا ہے۔ یہاں ہرچیز چلتی ہے۔ ہم جیسوں نے ملک کی صورتحال بگڑی ہوئی بہت دیکھی ہے لیکن ایسی بگڑی ہوئی صورتحال کبھی نہ تھی‘ لیکن لگتا ہے کہ جو بھی کرتے دھرتے ہیں اُن کو کوئی پروا نہیں۔یا ا±نہیں حالات کی کچھ سمجھ نہیں۔اگر آپ نے ایسا ہی نظام قائم کرنا ہے تو یہ دیرپا نہیں ہوگا،،، ایوب خان نے اپنے اقتدار کو یہ جواز مہیا کرنے کی کوشش کی کہ ملک میں ترقی ہو رہی ہے اور ملک کو استحکام حاصل ہوا۔ دس سال تو کام چلتا رہا لیکن سلگتا ہوا لاوا ابلنے پہ آیا توسب کچھ بہہ گیا اور آج اُس دور کو یاد بھی کیا جاتا ہے توبرے الفاظ سے۔ ضیاالحق نے اسلام کے نام پر اپنے لئے قبولیت حاصل کرنا چاہی۔ جنہیں ہم مذہبی عناصر کہتے ہیں وہ اُن کے ساتھ تھے، جماعت اسلامی بہت سے حوالوں سے ا±ن کا ہراول دستہ تھا۔ تاجرطبقہ اوربڑے سرمایہ دار جو بھٹو مخالف تھے وہ ضیا کے حامی ہو گئے۔لیکن ضیا بھی محض آمرانہ ڈھانچے پر نہ رہ سکے اورکچھ عرصہ بعد اُنہیں ریفرنڈم کا ڈھونگ رچانا پڑا اور غیرجماعتی انتخابات کرانے پڑے۔ اورپھر حالات اُن کی گرفت میں نہ رہے۔اسی طرح مشرف نے بھی زور زبردستی کا نظام قائم کرنا چاہتا ،،، لیکن اُسے بھی تحریکوں کے ذریعے نکالا گیا،،، لہٰذاظلم کا عرصہ لمبا نہیں ہوتا،،، یہ بہت کم وقت کے لیے ہوتا ہے،،، اس وقت بھی معاشرے میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور ہرگزرتے دن مزید گہری ہو رہی ہیں۔سٹالن ایک ڈکٹیٹر تھا‘ خونی قسم کا ڈکٹیٹر لیکن جب 1941ءمیں جرمنی نے سوویت یونین پر حملہ کیا توسٹالن کی اولین کوشش تھی کہ قوم حملہ آوروں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائے۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ ابھی بھی حکومت یا سکیورٹی ادارے اگر یہ سمجھتے ہیں کہ عوام اُن کے ساتھ ہیں تو یہ محض ان کی خام خیالی ہے،،، آج آزاد کشمیر میں جو کچھ ہوا ہے یا ہو رہا ہے،،، کچھ ہی وقت پہلے گلگت بلتستان تھا۔ جہاں دیکھیں احتجاج ہو جاتا ہے۔ مہنگائی میں عوام پِس رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کی صورتحال دیکھ کرلوگ شہ لے رہے ہیں کہ بات منوانے کا طریقہ یہی ہے۔پورا مغربی بارڈر آگ کا دریا بنا ہوا ہے۔ حملے اتنے ہیں کہ گنتی میں نہیں رہے۔ جانی نقصان ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معاشی اہداف پر اثر پڑسکتا ہے۔سٹالن اور ہٹلر کیلئے قومی اتحاد ناگزیر تھا، لیکن ہمارے ہاں دیکھئے کہ پریس کانفرنس کرکے جو منطق کے موتی بکھیرے جاتے ہیں‘ انسان حیران ہو جائے۔یہ جانے بغیر کہ یہ کام ا±ن کے کرنے کاہے بھی یا نہیں۔ابھی کالم لکھنے کے دوران ہی فیصل واﺅڈا کی پریس کانفرنس سامنے آگئی ، موصوف دھمکی آمیز لہجے میں فرما رہے تھے،،، کہ ملک کے سکیورٹی اداروں کے خلاف کوئی بات نہ کرے ورنہ،،، بندہ پوچھے کہ آپ ترجمان ہیں؟ یہ کام جن کا ہے،، اُن کو کرنے دیں،، یہ تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے تو کون .... میں خامخواہ .... الغرض ہم کب سنبھلیں گے؟ حکمران اور فیصلہ کرنے والی قوتیں کیا اس ملک میں خانہ جنگی چاہتی ہیں؟ کیا اُنہیں نہیں علم کہ حالیہ الیکشن کے بعد اس وقت پورا ملک ایک چنگاری کا انتظار کر رہا ہے،،، خیبر پختونخوا آگ پر بیٹھاہے،،، پنجاب سُلگتی ہوئی چنگاری پر بیٹھا ہے،، ، سندھ کے عوام پسے ہوئے ہیں،،، اور بلوچستان توپہلے ہی محرومیوں کا شکار ہے۔ اور پھریہ کیسی بات ہے کہ ہمیں اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے کیا پرتشدد احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا؟ کیا تین چار لوگوں کی قربانی دینا پڑے گی؟ سرکاری املاک کو پر قبضہ کرنا پڑے گا؟ اگر نہیں تو حکومت ہوش کے ناخن لے اور حالات کو سنبھالے ورنہ آزاد کشمیر کی طرح بہت دیر ہو جائے گی!