ریٹائرمنٹ کے بعد من پسند جگہ پر تعیناتی .... لمحہ فکریہ!

پاکستان کے ترقی نہ کرنے کی وجوہات اتنی ہیں کہ آپ گننا چاہیں بھی تو نہیں گن سکتے۔ انہی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں،،، اور اس تشویشناک حد تک ناصرف اضافہ ہو رہا ہے،،، بلکہ اُلٹا ملک کو نقصان بھی ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گاہے بگاہے آوازیں بھی اُٹھتی رہتی ہیں مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ یعنی ہو یہ رہا ہے کہ کسی بھی ریٹائرڈ افسر کی اپنے ادارے میں یا اوپری سطح پر ”لابنگ“ ضرور ہوتی ہے،،، وہ اس لابنگ کو استعمال کرکے بعد از ریٹائرمنٹ اپنی تعیناتی ایسی جگہ پر کروانے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہ جس کے ساتھ اُس کا دور دور کا تعلق واسطہ ہی نہیں ہوتا۔ ایسا کرنے سے ہوتا یہ ہے کہ ایک تو یہ دوسروں کی حق تلفی ہوتی ہے،،، دوسرا آپ اُس ادارے کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہیں،،، تیسرا اُن افسران کا کیا قصور ہے، جو وہاں پر پہلے سے کام کر رہے ہیں،، اور اپنی ترقی کی اُمید لگائے زندگی کی کئی دہائیاں گزار چکے ہیں۔ یعنی اگر آپ نے بعد از ریٹائرمنٹ کسی کو نوکری دینی ہے، پھر اُسی ایریا میں دیں، جہاں اُس کا تجربہ ہے۔ جہاں اُس نے زندگی کے قیمتی تیس پینتیس سال گزارے ہیں۔ اور پھر اگر واقعی اُس ریٹائرڈ افسر کو آپ نے جاب دینی ہی ہے تو یا جس کی بھرپور سفارش آچکی ہے، تو پھر آپ اُسے اُس کے اپنے محکمے میں جاب کا Tenure بڑھا دیں، جہاں اُس کا تجربہ رہا ہے۔ لیکن اگر ایک شخص بعد از ریٹائرمنٹ چیئرمین واپڈا لگنا چاہتا ہے تو ایسا کیوں؟ اگر ایک سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب اگلی حکومت میں وزیر داخلہ بن جاتا ہے،،،( ویسے پہلی بات تو یہ ہے کہ نگران سیٹ اپ ہوتا ہی الیکشن کروانے کے لیے ہے،،، یہ کہیں نہیں لکھا کہ اگلی حکومت میں اُس کا بھی حصہ رکھا جائے گا۔)تو وہ ساتھ یہ ڈیمانڈ کیوں کرتا ہے، کہ اُسے پی سی بی کا چیئرمین لگا دیا جائے؟ کیا یہ سیاسی سیٹ ہے؟ یہ تو خالصتاََ کرکٹر کی سیٹ ہے،جسے کرکٹ کے بارے میں نالج ہو۔ لیکن اگر آپ صرف اس لیے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بننا چاہتے ہیں کہ وہاں روپے پیسے کی فراوانی ہے، چمک دمک ہے، بیرون ملک مفت کے دورے ہیں، چھوٹا موٹا کمیشن بھی بن جاتا ہے،،، تو پھر آپ وہاں ملک کی خدمت کرنے نہیں بلکہ بادی النظر میں ہاتھ صاف کرنے جا رہے ہیں۔ پھر یہی نہیں آپ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سابق صدر کو دیکھ لیں،،، موصوف کی تعیناتی 2004ءمیں مشرف کے دور میں ہوئی تھی،،، اور انہوں نے اب چند ماہ قبل اپنا استعفیٰ پیش کیا ہے،،، وہ بھی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ صحت کی ”پریشانیوں“ کی وجہ سے اُن کا استعفیٰ آیا ہے،،، حالانکہ اس دوران پاکستان نے اولمپکس میں کسی قسم کا کوئی نمایاں میڈل حاصل نہیں کیا۔ تو کیا یہ اس عہدے کے ساتھ زیادتی نہیں ہے؟ پھر آپ پنجاب پبلک سروس کمیشن کو دیکھ لیں،،، وہاں حال ہی میں ایک صاحب کی بطور چیئرمین 3سال کے لیے تعیناتی ہوئی ہے، موصوف کی ماہانہ تنخواہ ایم پی ون پے پیکیج ہوگی جو کہ نو لاکھ روپے ماہانہ سے زائد ہوتی ہے۔کیا اُس ادارے میں کوئی مسئلہ سامنے آیا تھا؟ کہ جو اس قسم کے اقدامات اُٹھانا ناگزیر ہوگئے تھے۔ اگر کہیں کوئی مسئلہ سامنے آیا تھا، تو ہمیں اُس مسئلے کی نشاندہی کرکے درست کرنا چاہیے ناکہ کسی دوسرے محکمے سے بندوں کو لا کر بٹھا دیا جائے ،،، جس سے ادارے عدم تحفظ کا شکار ہوجائیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کو سویلین پر نہیں بلکہ سفارشیوں پر اعتبار ہے۔ اور پھر جب آپ کسی کو تعینات کر رہے ہیں تو کیا اس کے لیے اُس ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹر کی منظوری لی جاتی ہے،،، یا یہ منظور برائے نام ،،، بعد از تعیناتی ، بالکل اُسی طرح لی جاتی ہے، جیسے ہمارے وزیر خزانہ کا شناختی کارڈ بعد از وزارت خزانہ بنایا گیا تھا تاکہ، اُنہیں بھی ایک محب وطن شہری ڈکلیئر کیا جائے۔ یہاں تو عام پریکٹس ہے کہ گریڈ 17کا آفیسر تعینات کرنے کے لیے آپ کو پچاس مراحل سے گزارا جاتا ہے، لیکن گریڈ 22کی تعیناتی کے لیے محض ایک دستخط ہی کافی ہیں؟ کیا ملک ایسے چلتے ہیں؟اب آپ جس افسرکوپنجاب پبلک سروس کمیشن کا چیئرمین لگاتے ہیں، تو اُسے پہلے ایک سال تو علم ہی نہیں ہوتا کہ اُس نے کرنا کیا ہے؟ اُتنی دیر میں ادارہ کئی نقصان اُٹھا چکا ہوتا ہے۔ لہٰذاجس چیز کا اُسے تجربہ ہے، آپ وہی اُس سے کروائیں،،، تو اس میں مسئلہ کیا ہے؟ میں یہ باتیں ہوا میں نہیں کر رہا ، بلکہ آپ خود دیکھ لیں کہ کس کس ادارے میں ایسا ہے،،، یعنی پتہ لگا لیں کہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین کون ہیں؟ ، چیئرمین پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کا عہدہ چند ماہ تک کس کے پاس تھا؟ ، سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کون ہیں؟ یہ بھی پتہ کریں کہ واپڈا کے چیئرمین کا نام اور بیک گراﺅنڈ کیا ہے؟ پھر یہ بھی آپ چھوڑ دیں ، آپ دیکھیں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ کتنے عرصے سے کس کے پاس ہے؟ پھر ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے سربراہ کا عہدہ بھی ضرور چیک کریں کس کے پاس ہے۔ پھر پنجاب پبلک سروس کمیشن کا ذکر تو میں کر ہی آیا ہوں ،،، اس کے ساتھ ساتھ دو مزید ریٹائرڈ افسران بھی اس کمیشن کے رکن ہیں۔پھر آپ کراچی پورٹ ٹرسٹ کو دیکھ لیں۔ اور پھر آخرمیں آپ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ ) کے چیئرمین کے عہدے پر تعیناتیوں کو چیک کر لیں، جہاں حاضر سروس افسران کی تعیناتیوں کو قانون شکل دے دی گئی ہے، جس پر تنقید کا ایک طوفان برپا ہے۔ تاہم ہماری سویلین حکومتیں اس کا بھی بھرپور دفاع کر رہی ہے۔ الغرض اگر ان کی تعیناتی کا تجربہ اتنا ہی کامیاب ہوتا تو میرے خیال میں اسٹیل مل، واپڈا اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کبھی خسارے میں نہ جاتے۔ پھر یہی نہیں مجھے رہ رہ کر ادارے یاد آرہے ہیں کہ آپ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی سربراہی بھی چیک کر لیں کہ یہ کس کے پاس ہے۔ الغرض نیا پاکستان ہاو¿سنگ پراجیکٹ جن کی نگرانی میں چل رہا ہے ، اُنہیں بھی چیک کر لیں۔ پاکستان کی تباہی انہی چیزوں سے تو ہو رہی ہے،،، تباہی اور کس کو کہتے ہیں؟ کیا یہاں پر عہدے لوگوں کی خواہشات کے مطابق دیے جائیں گے؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ایسا کرنے سے ملک میں رہے سہے منافع بخش اداروں کی بھی بربادی ہو رہی ہے۔ قصہ مختصر کہ ہم اس بات سے انکاری نہیں ہیں کہ یہ لوگ قابل نہیں ہوں گے،،،یہ ضرور اپنے آپ میں ماہر لوگ ہوں گے،،، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان کو اُن اداروں میں یا شعبہ جات میں کھپایا جائے جہاں ان کی ساری زندگی گزری ہے،،، ہم اس بات سے بھی انکاری نہیں ہیں کہ سویلین افراد کرپٹ بھی ہو سکتے ہیں اور نااہل بھی ،،، لیکن یہ انہی کاکام ہے،،، انہیں ہی کرنے دیں۔ ہم اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ پی آئی اے جیسے ادارے کو ایک اسی طرح کے افسر نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا تھا،،، لیکن ایسے کیس شاذو نادر ہی دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ میرے خیال میں ان تعیناتیوں سے زیادہ کچھ نہیں تو سول افسران کے مورال پر بلاشبہ فرق پڑتا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سول افسران کے کام کرنے کی آزادی کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ اُنہیں اینٹی کرپشن، قومی احتساب بیورو (نیب) اور میڈیا کا خوف رہتا ہے، ایسے میں وہ بڑے فیصلے لینے سے کتراتے ہیں۔اور پھر میری اس حوالے سے ایک دو دوستوں سے بات ہوئی جو سول افسران تھے،،، اُن کے مطابق جب وہ کسی جگہ پھنستے ہیں تو حکومت بھی کئی معاملات میں اُن کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ لہذٰا ایسے فیصلے جن میں بھاری رقوم خرچ کرنے کا معاملہ ہو یا جارحانہ فیصلے لینا مقصود ہو تو سول افسران اس سے گریز کرتے ہیں۔ البتہ فوری ”تعینات“ افسران کو اپنے ادارے کی حمایت حاصل ہوتی ہے، لہٰذا وہ بلا خوف و خطر کام کرتے ہیں اور بڑے فیصلے لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ آپ اس کی مثال سابق وزیرِ اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد اور پنجاب کے ایک سینئر بیورو کریٹ احد چیمہ کو دیکھ لیں،،، جنہوں نے بڑے فیصلے کیے ، مگر بدلے میں اُنہیں کئی ماہ تک جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی۔ پھر یہی نہیں بلکہ کئی سول افسران کو ریٹائرمنٹ کے کئی سال بعد کسی معاملے پر پوچھ گچھ کے لیے بلانا بھی عام ہو چکا ہے۔ لہذٰا موجودہ افسران بھی یہ ساری چیزیں ”فوری تعینات“ افسران پر ڈال دیتے ہیں اور خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذامیرے خیال میں حکومتوں کو اپنی ”بیڈ گورننس“ پر بھرپور توجہ دینا ہوگی، بیوروکریسی کا ایک لیول ہے،،، اُسے اُس لیول سے نیچے رہ کر کام یا خدمات نہیں سرانجام دینی چاہیے۔ ایک دوربھٹو کا بھی تھا جس میں مجال ہے کہ کسی افسر کی کسی سویلین ادارے میں تعیناتی ہوجائے۔ لیکن اس کے برعکس اب بلکہ اب تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اب پاکستان میں ہائبرڈ نظام ہے، جس میں ایک طبقہ ریاست کے تمام اکائیوں پر مسلط ہیں، چاہے وہ معیشت ہو، پبلک ادارے ہوں یا سیاست۔“اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تعیناتیاں مقابلے کے امتحان کے بغیر ہی ہوتی ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس سویلین اداروں کو چلانے کے لیے بیوروکریٹس کو بہت سخت ٹریننگ دی جاتی ہے اور ان کا وسیع تجربہ ہوتا ہے۔ حالانکہ ان اداروں میں سربراہان کی تعیناتی کا طریقہ کار یہ ہے یعنی قانون یہ کہتا ہے کہ پہلے اشتہار دیا جائے، امیدوار تمام شرائط پر پورا اتریں، پھر سلیکشن کمیٹی تین امیدواروں کے ناموں کی سفارش کرے اور پھر تقرر کیا جائے۔جبکہ ایسی تقرریوں پر کسی قسم کے قانون تقاضے پور ے نہیں کیے جاتے۔ میرے خیال میں یہ ایک لمحہ فکریہ ہے ، جس پر اگر توجہ نہ دی گئی تو میرے خیال میں ہم تاقیامت خسارے میں ہی رہیں گے اور ترقی کا سوچ بھی نہیں سکیں گے!