کرغستان: ہمارے پریشان طلبہ اور حکومتی بے حسی!

”سفارت خانے کے عملے نے اُن سمیت کسی بھی طالبہ کا حال تک نہیں پوچھا۔ مگر جب وہ لاہور ایئرپورٹ پہنچی تو اُنہیں یہ احساس دلانے کی کوشش کی گئی کہ سب کچھ حکومت میں شامل لوگوں نے کیا ہے۔“.... ”میں نے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لیٹ کر اپنے فلیٹ سے ایئرپورٹ تک کا سفر کیا۔ میں بہت زیادہ خوف زدہ ہوا تھا۔ مجھے میرے فلیٹ مالک نے اپنی کالے شیشوں والی گاڑی میں انسانی ہمدردی کے تحت ایئر پورٹ پہنچایا۔ 13 مئی سے پاکستان پہنچنے تک میں سویا نہیں تھا۔ بشکیک میں مقامی افراد کی جانب سے پیغام پھیلایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی سانولے رنگ کا فرد نظر آئے تو اُسے گولی مار دو۔“....”مقامی مظاہرین ان کے فلیٹ کے باہر پہنچے تو فلیٹ مالک نے کہا کہ یہاں کوئی غیر ملکی نہیں رہتا۔ مگر ساتھ والے فلیٹس میں مظاہرین غیر ملکی طلبہ کو یوں مار رہے تھے جیسے کوئی فلم کی عکس بندی ہو رہی ہے یا کوئی ویڈیو گیم کھیلی جا رہی ہے جس سے ا±ن سمیت دیگر طلبہ بہت زیادہ ڈر گئے۔“....”مقامی پولیس نے مشتعل افراد کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ البتہ پیرا ملٹری فورس اور فوجی دستوں نے صورتِ حال زیادہ بگڑ جانے پر شہر میں گشت شروع کیا جس کے بعد جہاں جہاں سے فوجی قافلہ گزرتا تھا وہاں امن ہو جاتا تھا۔ مگر اُس کے بعد پھر مقامی افراد جمع ہوتے اور غیر ملکی طلبہ پر تشدد شروع کر دیتے۔“....”ہم چار لڑکیاں ایک کمرے میں موجود تھیں، تین دِن سے نو لوگ ایک فلیٹ پر بند رہے۔ ہم نے پاکستانی سفارت خانے میں متعدد مرتبہ فون کیا۔ مگراُن کی جانب سے ایک بھی فون کا جواب نہیں دیا گیا۔ہمارے پاس کھانے پینے کا سامان ختم ہو چکا تھا۔ہر گھنٹے بعد مشتعل افراد ٹولیوں کی صورت میں اُن کے فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتے تھے جس سے اُنہیں یوں لگتا تھا کہ اب اُن کا آخری وقت آ گیا ہے۔“....”جب تک ہماری بورڈنگ مکمل نہیں ہوئی ہمیں ایئرپرٹ پہنچانے والے ایک خاندان کے لوگ ایئرپورٹ کے باہر ہی موجود رہے۔ہر فرد بڑی مشکل سے اپنی جان بچا کر بشکیک سے لاہور پہنچا ہے۔“ یہ الفاظ کسی اور کے نہیں بلکہ ہمارے بچوں کے ہیں جو کرغزستان کے مختلف میڈیکل کالجز میں زیر تعلیم ہیں،،، اور جان بچا کر پاکستان پہنچے ہیں،،، یہ طلبہ پاکستان کے انتظامات کا بانڈا پھوڑ رہے ہیں،،، آگے چلنے سے پہلے یہاں کرغستان کے بارے میں بتاتا چلوں کہ یہ ملک وسط ایشیا میں واقع ایک ترکستانی ریاست ہے۔ اس کے شمال میں قازقستان، مغرب میں ازبکستان، جنوب میں تاجکستان اور مشرق میں عوامی جمہوریہ چین واقع ہیں۔ اس کا دار الحکومت اس کا سب سے بڑا شہر بشکیک ہے۔ اس کا رقبہ تقریبا 2لاکھ مربع کلومیٹر ہے اور آبادی ساٹھ لاکھ کے قریب ہے جس میں سے اکثریت (90 فیصد) مسلمان ہیں۔ کرغیز کے علاوہ یہاں روسی، ازبک، ایغور اور زونگار بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔”کرغیز“کے معنی ہیں ”ہم چالیس“ جس سے مراد کرغز کے وہ چالیس قبیلے ہیں جو ترک روایت کے مطابق زمانہ قدیم میں متحد ہو کر ایک قوم بن گئے تھے۔ کرغیزستانی جھنڈے پر اس اتحاد کی نشان دہی چالیس کرنیں ہیں۔ جبکہ درمیان میں دائرہ مقامی خیمے، مرکز کی نشان دہی کرتا ہے۔جدید تاریخ کے مطابق 1876ءمیں، کرغزستان روسی سلطنت کا حصہ بن گیا اور 1936ءمیں، کرغیز سوویت سوشلسٹ جمہوریہ کو سوویت یونین کا ایک جزوی جمہوریہ بننے کے لیے تشکیل دیا گیا۔ سوویت روس میں میخائل گورباچوف کی جمہوری اصلاحات کے بعد، 1990ءمیں آزادی کے حامی امیدوار عسکر آکایف صدر منتخب ہوئے۔ 31 اگست 1991ءکو کرغزستان نے ماسکو سے آزادی کا اعلان کیا اور ایک جمہوری حکومت قائم ہوئی۔ کرغزستان نے 1991ءمیں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ایک قومی ریاست کے طور پر خود مختاری حاصل کی۔ کرغیزستان سات صوبوںباتکین، چوئی، جلال آباد، نارین، اوش، تالاس اور ایسیک کول میں مقسوم ہے جو اوبلاست کہلاتے ہیں ۔ رواں ماہ 13 مئی کو سوشل میڈیا پر کرغزستان کے شہر بشکیک میں مقامی افراد کی جانب سے غیر ملکی طلبہ پر تشدد کی ویڈیوز سامنے آئی تھیں جن میں مشتعل افراد کمروں میں گھس کر کچھ لوگوں پر تشدد کر رہے تھے۔ ان حملوں میں دیگر غیر ملکیوں کے علاوہ 14پاکستانی طالب علم بھی زخمی ہوئے تھے۔رپورٹس کے مطابق صورتحال کرغز اور مصری باشندوں میں لڑائی کے بعد خراب ہوئی جس کا غصہ جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے طالب علموں پر اتارا گیا۔ خیر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے طلبہ کی ایک بڑی تعداد جو 15ہزار سے 20ہزار بتائی جارہی ہے، کرغستان یا اس قسم کے ممالک میں میڈیکل کی تعلیم کے لیے کیوں منتخب کرتے ہیں،،، ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ یہ یورپ اور امریکہ کے مقابلے میں انتہائی کم اخراجات میں ایم بی بی ایس کی ڈگری دیتی ہیں، دوسرا یہاں کے میڈیکل کالجز کا میرٹ 91فیصد سے زیادہ ہوتا ہے،،، جبکہ کرغستان میں ان طلبہ کو 60فیصدی نمبروں پر بھی میڈیکل میں داخلے کی سہولت ہوتی ہے،،، تیسرا اطلاعات یہ بھی ہیں کہ چند پاکستانیوں کی جانب سے ’کرغزستان میں میڈیکل کالجز کھولے گئے ہیں یا ان میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ وہ ڈالر میں ہی فیس لیتے ہیں ، مطلب ہمارے سرمایہ داروں کو یہ علم ہو چکا ہے ، کہ یہاں کے طلبہ سے کس طرح پیسہ کھینچ کر اُنہیں دوسرے ممالک میں بھیج کر دوہری کمائی کرنی ہے۔ حالانکہ پانچ سال قبل پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے کرغستان کی بہت سی یونیورسٹیوں کو بلیک لسٹ بھی کر دیا تھا، جس کے بعد ریاست کرغستان اور پاکستان کے مابین مذاکرات کے بعد محض 9میڈیکل یونیورسٹیوں کو ڈگری جاری کرنے کی اجازت ملی تھی۔ جبکہ ساتھ ہی ان شرائط میں بھی توثیق کر دی گئی کہ اگر کوئی بھی پاکستانی طالب علم کسی بیرون ملک سے میڈیکل یا ڈینٹسٹری کی تعلیم حاصل کر کے آتا ہیں اور ملک میں پریکٹس کرنے کے لیے پی ایم ڈی سی سے اسے نیشنل رجسٹریشن ایگزمینشن (این آر ای) کے تحت ٹیسٹ پاس کرنا لازمی اور اس میں 50 فیصد نمبر حاصل کرنا ہوتے ہیں۔جبکہ اگر کوئی بیرون ملک میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طالب علم کو کسی بھی وجہ سے پاکستان واپس آنا ہو اور یہاں کسی ادارے میں بقیہ تعلیم حاصل کرنا ہو کسی بھی وجہ سے تو اس کے لیے اسے نیشنل ایکولینس بورڈ کا امتحان پاس کرنا لازمی ہے۔اگر ہم اس حوالے سے تاریخ کا سرسری جائزہ لیں تونوے کی دہائی میں پاکستانی طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے ویزے کے حصول میں آسانی اور سستی تعلیم کے لیے کرغزستان کا رخ کرنا شروع کیا۔اس سے قبل سوویت دور میں بھی پاکستانی طالب علموں کو وہاں داخلے تو مل جاتے تھے مگر سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد وسطی ایشیا کے ملکوں میں ویزے اور داخلے عام اور سستے ہونے لگے۔ بہرحال اگر پاکستان میں آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں اضافہ نہیں کریں گے تو یہی حال ہو گا کہ پاکستانی طلبہ بیرون ملک فیسیں جمع کروائیں گے،،، پانچ سال تک پاکستان سے پیسے منگوا کر اپنی ڈگری مکمل کریں گے،،، جس سے کروڑوں ڈالر ہم بیرون ملک بھیجیں گے اور پاکستان مزید خسارے میں جائے گا۔ اور رہی بات حالیہ پرتشدد واقعات کی تو یہ کرغستان کا اندرونی معاملہ ہے،،، مگر 13مئی جب 2010ءکے بعد دوبارہ فسادات شروع ہوئے تھے تو ہمارے سفارتخانے کو اُسی وقت اقدامات شروع کردینے چاہیے تھے،، مگر ہم نے 4، 5دن انتظار کیا کہ کوئی بڑا سانحہ ہو، اُس کے بعد ہی کچھ کریں تو میرے خیال میں اس سے بڑی بدیانتی نہیں ہوگی۔ حالانکہ اسی قسم کے واقعات 2010ءمیں بھی ہوئے تھے، جس میں ایک پاکستانی طالب علی ہلاک بھی ہوا تھا۔ اور پھر حالیہ واقعات کے بعد جس طرح پاکستانی سفارتخانے نے ”ذمہ داری“ دکھائی ہے،،، ایسی ذمہ داری سے یقین مانیں ہمارے تمام بیرون ملک لاکھوں پاکستانیوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہوگا۔ جو ان سفارتخانوں کی مرہون منت بیرون ملک زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ابھی تک جتنے بھی طلبہ کرغستان سے واپس آئے ہیں، اُن میں سے کسی ایک نے بھی پاکستانی سفارتخانے کے لیے اچھے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ بلکہ دنیا بھر میں جہاں بھی اس قسم کے واقعات ہو جاتے ہیں تو مجال ہے کہ پاکستانی سفارتخانوں کی ایسی تربیت کی گئی ہو کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکیں۔ میرے خیال میں یہ صرف بھاری رقوم بٹورنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ اور رہی بات ہماری وزارت خارجہ کے بجٹ کی تو ابھی انہوں نے کسی ملک کا دورہ کرنا ہوتو یہ بیسیوں ٹکٹس کا انتظام بھی کریں گے اور اپنے خاندانوں کی باہر سیٹلمنٹ کا بھی۔ لیکن مجال ہے یہ بجٹ بیرون ملک پاکستانیوں پر خرچ کریں۔ بہرکیف پاکستان میں وسائل پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے بجائے اپنے ملک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیں، ایسا کرنے سے یقینا ملک کا زرمبادلہ بھی محفوظ نہیں ہے،،، ظاہر اگر کوئی بچہ خواہش کرتا ہے کہ وہ کرغستان، چین یا کسی اور ملک میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے جانا چاہتا ہے، تو ریاست اُس کا انتظام کرنے کی پابند ہے، نہ کہ زبردستی روکنے کی۔ تو ایسے میں اگر ملک میں میڈیکل تعلیمی اداروں کی تعداد کو بڑھا دیا جائے تو یقین مانیں نہ تو ہمارے طلبہ میں احساس محرومی پیدا ہو اور نہ ہی ہم اس طرح کے کسی معاملے میں پھنسیں اور نہ ہمیں خودغرض پاکستانی سفارتخانوں کی ضرورت پڑے جن کی بے حسی آج پوری دنیا میں ہمارے لیے جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہے!