مفاد پرست ، پاکستان میں مفاہمت نہیں چاہتے!

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سینئر رہنما رﺅف حسن پر ”خواجہ سراﺅں“ کا اسلام آباد میں حملہ اور دارالحکومت میں ہی گزشتہ رات مذکورہ جماعت کے مرکزی آفس کو سیل کر دینے جیسے واقعات سے یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں ایک مفاد پرست ٹولہ ہر وقت موجود رہتا ہے جو کسی صورت یہاں امن نہیں دیکھنا چاہتا۔ ہم پہلے رﺅف حسن پر حملے کی بات کرتے ہیں تو یہ انتہائی بھونڈے انداز میں کیا گیا۔ تازہ تازہ خبر آئی تو میں سمجھا کہ یہ شاید اتفاقاََ واقعہ ہو ، مگر جیسے جیسے خبر میچور ہوتی گئی ، اور اس حملے کی گتھیاں سلجھتی گئیں تو حملہ آور خواجہ سراﺅں کے بارے میں یہ واضع ہوگیا کہ یہ حملہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیاہے ۔ ملزمان اتنے ”بہادر“ تھے کہ انہوں نے کیمروں کی بھی پروا نہیں کی، دیکھنے والوں نے بتایا کہ یہ سب کچھ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے حملہ کرنے والوں کو کسی نے شہہ دی ہو کہ قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ قانون کی یہ بے بسی میرے لیے ہمیشہ حیران کن رہی کہ اسلام آباد جیسے شہر میں مجرم سزا کے خوف سے بے پروا ہو کر واردات کرتے ہیں۔اور پھر ایسا کہاں ہوتا ہے کہ کسی ہیجڑے نے بھیک نہ دینے پر کسی پر حملہ کر دیا ہو۔ پھر کیمرے کی گواہی یہ ہے کہ حملہ کئی افرادکی طرف سے کیا گیا، جو پہلے سے پوزیشن لے کر تیار کھڑے تھے اور ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ قانون کو اس امتحان سے کامیابی کے ساتھ گزرنا ہو گا‘ اگر اس کی بالادستی افسانہ نہیں‘ حقیقت ہے۔ پھر دوسرا واقعہ دیکھ لیں جو اسلام آباد میں ہی ہوا کہ تحریک انصاف ہی کے مرکزی دفتر کو سی ڈی اے نے گرا بھی دیا اور سیل بھی کر دیا۔ اگر اسلام آباد کے مرکزی دفتر کی کہیں تھوڑی بہت خلاف ورزی ہوئی بھی ہے تو مجھے بتائیں پورے ملک میں ماسوائے چند سوسائیٹیوں کے کہاں پر بلڈنگ لاز کی پابندی کی جاتی ہے؟ اور پھر تمام بلڈنگز میں سے صرف مخصوص پارٹی کے دفاتر کو ہی نشانہ کیوں بنایا گیا ؟ اگر آپ اتنے سالوں سے اسے نظر انداز کر رہے تھے،، تو اب ایسی کونسی قیامت ٹوٹ پڑی تھی کہ سیاسی جماعتوں کے دفاتر کو ہی توڑنا شروع کر دیا ہے۔ چلیں مان لیا کہ یہ بلڈنگ غلط تھی،،، تو کیا اُن افسران کو بھی کوئی سزا ہوئی ہے ، جن کے دور میں یہ بلڈنگ بنائی گئی تھی؟ اور اسلام آباد جیسے شہر میں تو ویسے ہی ممکن نہیں ہے کہ آپ بغیر اجازت نامے کے بلڈنگ تو دور کی بات ایک منزل بھی مزید بنا لیں۔ مطلب! کیا یہ مذاق ہے؟ کہ ریاست مخالفین کو دبانے کے لیے ہمیشہ مشینری کا استعمال کرتی رہے گی؟ دنیا مریخ پر جانے کی تیاریاں کر رہی ہے،،، آرٹیفشل انٹیلی جنس پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہے، ممالک آپسی روابط قائم کرکے دنیا کو شکست دے رہے ہیں، دنیا میں ٹیکنالوجی کے جھکڑ چل رہے ہیں ،،، مگر ہم ہیں کہ وہی بھینس چوری کے مقدمات، وہی عدت نکاح کیس، وہی توشہ خانے اور وہی ٹیریان کیس میں پھنسے ہوئے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ریاستی ہتھکنڈے بہت پرانے ہو چکے ہیں، اب عوام ان چیزوں سے متاثر نہیں ہوتے، ان کو کم از کم اپ ڈیٹ تو کریں،،،تاریخ گواہ ہے کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت حسین کے والد چوہدری ظہور الہیٰ کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھینس چوری کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا۔ پھر 90 کی دہائی پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کے خلاف کلاشنکوف لہرانے پر درج ہوا تھا۔ شیخ رشید کئی ٹی وی انٹرویوز میں کہہ چکے ہیں کہ وہ کھلونا کلاشنکوف تھی لیکن 10 فروری 1995کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کلاشنکوف برآمد ہونے پر شیخ رشید احمد کو سات سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔پھر سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر اور سابق صدر فاروق لغاری کے بیٹے اویس لغاری پر پانی چوری کے مقدمات بنائے گئے اور انہیں گرفتار بھی کیا گیا۔پھر غلام مصطفی کھر کا نام ایک اور انوکھے کیس میں بھی آتا ہے اور وہ یوں کہ 2016 میں ان کی اہلیہ نیلوفر کھر کو اس الزام میں گرفتار کر لیا گیا کہ ان کے پاس دو شناختی کارڈ کیوں ہیں۔ پھر جب ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان سے راہیں الگ کیں تو 1968 میں ان پر ایک کیس بنایا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے سرکاری ٹریکٹر اپنی ذاتی زمینوں پر استعمال کر کے قومی خزانے کو دو لاکھ 13 ہزار روپے کا نقصان پہنچایا۔پھر یہی نہیں سابق وزیراعظم کے مشیر اور نامور کالم نگار عرفان صدیقی کو گذشتہ دنوں اپنے بیٹے کے مکان کا کرایہ نامہ تھانے میں جمع نہ کرانے پر کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا گیا۔ الغرض اب مقدمات کا تھوڑا بہت موڈ ہی تبدیل کر دیا جائے،،، یعنی اب تک ان کی عادتیں تبدیل نہیں ہوسکیں۔ اب تو لوگ ان کیسز اور اقدامات پر ہنستے ہیں،،، ایسا کرنے والوں کا مذاق اُڑاتے ہیں، ،،دنیا میں ہر چیز تبدیل ہو چکی ہے،،، حالات بدل چکے ہیں،،، رہن سہن بدل چکا ہے،،، لیکن ہم ہیں کہ انتشاری سیاست کی طرف جا رہے ہیں ،،، بلکہ یوں لگ رہا ہے جیسے ریاست خود امن نہیں چاہتی،،، اچھا بھلا سب کچھ ٹھیک چل رہا ہو تا ہے تو یہ کون ہے؟ جو سب کچھ خراب کر رہا ہے؟ اُس کی نشاندہی ہونی چاہیے۔ حالانکہ یہ باتیں حکومت کو کرنی چاہیے کہ امن قائم کریں لیکن حکومتی ہتھکنڈے دیکھ کر خود اکثریت والی لیکن مظلوم پارٹی بول اُٹھی ہے کہ خدارا بس کردیں،،، ظلم کو بند کریں،،، اور سیز فائر کریں۔ بہرکیف لگ ایسے رہا ہے کہ بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ چھوٹے پن پر اُتر آئے ہیں، جو آج رﺅف حسن کے ساتھ ہوا ہے وہ کل کو ان کے ساتھ بھی ہو گا جن پر یہ شک کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے چار مردوں کو خواجہ سراﺅں کے روپ میں بھیجا اور ایک عمر رسیدہ شخص پر حملہ کرایا جس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس کے جواب میں پریس کانفرنس کی اور تلخ لہجے میں اعلان کیا کہ انکی جماعت پچھلے سال 9مئی کے واقعات کی ذمہ دار نہیں ہے لہٰذا ان واقعات پر کوئی معافی نہیں مانگے گی۔ اس پریس کانفرنس کے بعد رﺅف حسن کے کچھ ساتھیوں کا خیال تھا کہ انہیں محتاط رہنا چاہئے۔اور پھر سب نے دیکھا وہی کچھ ہوا جس کا ڈر تھا۔ ہم نے تواس قسم کے واقعات کی اُس وقت بھی مذمت کی تھی جب 2018ءمیں خواجہ محمد آصف جو اس وقت کے وزیر خارجہ تھے اور ان پر دباﺅ تھا کہ وہ نواز شریف سے اعلان لاتعلقی کر دیں۔ خواجہ صاحب نواز شریف کا ساتھ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں تھے لہٰذا سیالکوٹ میں مسلم لیگ ن کے ایک ورکرز کنونشن میں ان کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی۔ مقصد صرف یہ پیغام دینا تھا کہ اگر ہماری بات نہیں مانو گے تو تمہاری سیاست پر سیاہ دھبے لگا دیں گے۔ اس واقعے سے اگلے ہی روز لاہور میں ایک تقریب کے دوران نواز شریف پر جوتا پھینکا گیا، ان دونوں واقعات کی ذمہ داری ایک مذہبی تنظیم پر ڈالی گئی۔ کچھ دنوں بعد اس وقت کے وزیر داخلہ احسن اقبال کو نارووال میں گولی مار دی گئی۔ گولی ان کے بازو کو چیرتی ہوئی پیٹ میں پیوست ہو گئی۔ انکی جان بچ گئی لیکن ان کا بازو آج بھی نارمل نہیں ان پر حملہ کرنے والے نوجوان کا تعلق بھی ایک مذہبی تنظیم سے بتایا گیا۔ الغرض رﺅف حسن پر حملے نے بھی اسٹیک ہولڈرز کو پریشان کر دیا ہے اور وہ ایک دوسرے کی طرف سوال بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ رﺅف حسن پر حملے کا فائدہ کسے ہوا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ سیاسی جماعتوں کو اداروں سے لڑا کر کچھ لوگ اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش میں ہیں؟تبھی تو دو دن پہلے ایک گاڑی نے اسرائیلی مظالم پر احتجاج کرنے والے دو نوجوانوں کو کچل ڈالا اور پھر موقع واردات سے غائب بھی ہو گئی۔ کہتے ہیں کہ مجرم پکڑا گیا مگر اس کی ولدیت صیغہ راز میں رکھی جا رہی ہے۔ مطلب کہیں تو کوئی غلط کر رہا ہے،،، جو مفاہمت نہیں ہو نے دے رہا،،، یہی مفاد پرست طبقہ چاہتا ہی نہیں ہے کہ ملک میں استحکام آئے، لہٰذاپاکستان پر رحم کریں، آپ کی جائیدادیں تو ملک سے باہر ہیں،،، آپ کو تو ملک چھوڑ کر جانے میں محض چند منٹ لگیں گے،،، لیکن ہم نے یہیں رہنا ہے،،، ہماری زندگی یہیں ہے،،، میں پھر یہی کہوں گا کہ مفاد پرست لوگ مفاہمت نہیں چاہتے کیوں اُن کی دیہاڑیاں بند ہو جانی ہیں،،، حالانکہ اس کے برعکس پاکستان کا ہر شہری پاکستان کا survivalچاہتا ہے،،، پاکستان میں امن چاہتا ہے،،، لیکن اگر پاکستان کا کوئی بھلا نہیں چاہتا تو یہی مفاد پرست ٹولہ ہے،،، انہیں سوچنا چاہیے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں،،،