کیا ”وفاق“ واقعی صوبوں کے پیسے کھا رہاہے؟

آج کل اکثر ٹی وی آن کریں تو یہی سننے کو ملتا ہے، کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواعلی امین گنڈا پور یا اُن کی کابینہ میں سے کوئی وزیر یا کے پی کے کا کوئی بھی رکن اسمبلی پنجاب گرڈ اسٹیشن داخل ہوگیا ہے اور وفاق کی مرضی کے برخلاف بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو ختم کردیا ہے۔ اس میں کے پی کے صوبے کا بھی قصور نہیں ہے، کیوں کہ قیامت خیز گرمی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے خیبر پختونخوا کے عوام بلبلا اُٹھے ہیں۔تبھی وزیر اعلیٰ گنڈا پور نے ایک بار پھر نیشنل گرڈ اسٹیشن کو بجلی بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ جبکہ دوسری طرف وزیر توانائی اویس لغاری نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو خط لکھ کر گرڈ اسٹیشنوں پر پیش آنے والے واقعات پر مدد مانگ لی ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعلیٰ گنڈا پور نے ڈی آئی خان گرڈ اسٹیشن میں داخل ہو کر بجلی بحال کرائی تھی ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے 22گھنٹے کی لوڈشیڈنگ میں کمی کرنے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ اب کسی فیڈر پر 12 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔ تمام پارلیمنٹیئرین اپنے علاقوں میں خود نگرانی کرکے اس شیڈول کو یقینی بنائیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاق کے ذمے ہمارے 16سو ارب روپے واجب الادا ہیں۔ اس نے ڈیڑھ ماہ کا وقت مانگا تھا جو پورا ہوگیا اب ہم ہر اقدام کے لئے آزاد ہیں۔ صوبے کا پیسہ چاہئے ورنہ آئی ایم ایف کو بتا دوں گا کہ حکومت جیبیں بھرتی ہے۔ ایم پی اے فضل الٰہی نے بھی پیسکو گرڈ اسٹیشن میں داخل ہو کر زبردستی چار فیڈر چالو کرائے۔اس سے پہلے بھی انہوں نے پشاور کے رحمان بابا گرڈ اسٹیشن میں داخل ہو کر 10 فیڈرز کی بجلی بحال کرائی تھی جس پر پیسکو حکام کے مطابق 26لاکھ 40 ہزار روپے کا نقصان ہوا تھا۔ چلیں مان لیا کہ خیبر پختونخوا کے وزراءکا یہ رویہ قابل قبول نہیں ہے،،، لیکن وفاق یا تو کسی صوبے کو اتنی ڈھیل نہ دے کہ وہ من مرضیاں کرے اور اگر دی ہے تو پھر برداشت بھی کرے۔ یعنی کے پی کے میں اس وقت 70سے 80فیصد بجلی چوری ہو رہی ہے،،، اور وہاں کے عوام کا موقف ہے کہ چونکہ یہ بجلی اُن کے صوبے میں بن رہی ہے ، اس لیے اس پر اُن کا حق ہے۔ پھر وفاق ایک عرصے سے بجلی چوری کے حوالے سے خاموش رہا۔ بلکہ کے پی کے میں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں شام کے بعد واپڈا کے اہلکار نفری کے ہمراہ بھی جانے سے ڈرتے ہیں۔ تو اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ایسے علاقوں میں 22، 22گھنٹے تک بجلی بند رکھی جائے تاکہ پیسکو کو کم سے کم نقصان ہو۔ اگر بجلی کے نظام کے ادارے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے قانون پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عام آدمی تک بجلی کی تقسیم اور ترسیل والی کمپنیوں کو نقصانات کے بدلے لوڈ شیڈنگ کے کوئی قانونی اختیارات حاصل نہیں۔ پھر بھی اگر یہ کمپنیاں ایسا کرتی ہیں تو پھر نیپرا باقاعدہ ان پر جرمانے عائد کرتا ہے۔ لیکن حالات اس سے مختلف ہیں،،، یہ تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے محلے میں ایک شخص چوری کرے اور سزا پورے محلے کو دی جائے۔ یعنی آپ قصور وار کو پکڑنے سے قاصر ہیں اور جس نے چوری نہیں کی اُس کو بھی اُلٹا سزا دے رہے ہیں۔ الغرض اگر ایک آدمی بھی قانون پر عمل پیرا ہے تو اسے دوسروں کی غلطی کی سزا کیوں دی جا رہی ہے۔ خیر یہ سب چیزیں ایک طرف مگر اب یہ لڑائیاں شدت اختیار کر تی جا رہی ہیں جس سے یقینا بھارت اور افغانستان فائدہ اُٹھا کر ان علاقوں میں شورش پیدا کروا سکتے ہیں۔ ان لڑائیوں کے بعد اب ہوگا یہ کہ وہاں صوبائی تعصب کے نعرے لگائے جائیں گے،،، جو ملک کو غلط سمت میں بدل دیں گے،،، اور یہ صوبہ تو پہلے ہی اپنے لیڈر کی رہائی کے حوالے سے خاصے تحفظات رکھتا ہے،،، اور پھر یہ وہی نعرے ہیں جو 1971سے پہلے اور بعد میں بھی لگا کرتے تھے، جنھیں اس وقت کے حکمران سنجیدہ نہیں لیتے تھے۔ لیکن آجکل حالات اُس نوعیت کے تو نہیں ہیں مگر آنے والے وقت میں اس میں پیچیدگیاں بڑھانے کے لیے کئی قوتیں اس میں اُمڈ سکتی ہیں۔ لہٰذاہمیں اس حوالے سے ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے صوبوں اور وفاق کے درمیان لڑائی ختم ہو۔اور پھر یہ مسئلہ صوبہ کے پی کے کا ہی نہیں بلکہ سندھ ، بلوچستان کا بھی ہے،،، بلوچستان چاہتا ہے کہ گوادر پر وفاق کا کنٹرول ختم ہو جائے اور اُس سے حاصل ہونے والی آمدنی صرف بلوچستان اور مقامی آبادی کو دی جائے۔ سندھ چونکہ اس لیے خاموش ہے کہ وہاں پی پی پی کی حکومت ہے اور پی پی پی وفاق میں ن لیگ کی اتحادی جماعت ہے۔ خیر آگے چلنے سے پہلے صوبوں ور وفاق کے درمیان اس تقسیم کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ہم این ایف سی ایوارڈ کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر یہ ہے کیا؟ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کا قیام آئین کے آرٹیکل (1)160 کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔ اس شق کے مطابق ”یوم آغاز سے چھ ماہ کے اندر ،اور اس کے بعد ایسے وقفوں سے جوپانچ سال سے متجاوز نہ ہوں صدر ایک قومی مالیاتی کمیشن تشکیل کرے گا جو وفاقی حکومت کے وزیر مالیات(وزیر خزانہ)، صوبائی حکومتوں کے وزرائے مالیات (وزرائے خزانہ) اور ایسے دیگر اشخاص پر مشتمل ہو گا جنھیں صدر صوبوں کے گورنروں سے مشورے کے بعد مقرر کرے۔“ اس کمیشن کا بنیادی کام ملک بھر کی محصولات کی خالص آمدنی کو وفاق اور صوبوں میں تقسیم کرنا اور وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو امدادی رقوم دینا اور بنیادی مقصد صوبوں کی مالی حالت کو مستحکم کرنا ہے۔ اگر آسان الفاظ میں بیان کیاجائے تو یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو پورے ملک کی حاصل شدہ آمدنی وفاق اور صوبوں میں طے شدہ فارمولہ کے تحت تقسیم کرتاہے۔ جبکہ وزیر خزانہ قومی مالیاتی ایوارڈ کا چیئرمین ہوتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد دسمبر 1947میں صوبوں میں محاصل کی تقسیم کا فارمولاسر ”جیریمی ریزمین“ نے ترتیب دیا جو 1952میں باقاعدہ طور پر اختیار کر لیا گیا۔ اس ایوارڈ کے تحت سیلز ٹیکس کا 50 فیصد حصہ وفاقی حکومت کو دیا گیا۔1955 پاکستان کو ون یونٹ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کا نام دیا گیا تو 1961 اور1964کے دو ایوارڈز میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں اس پروگرام کے تحت ہی محصولات تقسیم ہوئے۔ 1974 میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں پہلے این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کا حصہ 20فیصد تھا جب کہ صوبوں کا حصہ 80فیصد رکھا گیا۔ اگلے تین این ایف سی ایوارڈ میں یہ حصہ تبدیل نہیں کیاگیا اور بغیر کسی کمی بیشی کے اس فارمولے پر عملدرآمد جاری رہا۔1997کے این ایف سی ایوارڈ میں نگران وزیر اعظم ملک معراج خالد نے صوبوں کا حصہ کم کردیا اور وفاق کے حصے کو بڑھادیا گیا۔ اس ایوارڈ میں وفاق کا حصہ42.5فیصد بڑھا دیاگیا، جب کہ صوبوں کے حصہ80فیصد سے کم کرکے 37.5 فیصد کر دیا گیا۔ 2009 میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں ایک بار پھر قومی مالیاتی کمیشن نے وفاق اور صوبوں کے حصوںمیں ردوبدل کیاجس کے بعد وفاق کے حصے میں واضح کمی کی گئی اور صوبوں کو بڑا حصہ کر دیا گیا۔ خیر ہر قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کے بعد وفاق اور صوبوں کے حصوں میں اکثر اوقات اختلافات سامنے آتے رہے۔اس کمیشن کی تشکیل سے اب تک دوبار بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی جس میں ایک بار وفاق اور ایک بار صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت 2010 میں ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے موقع پر ہوئی۔ جو صوبائی خود مختاری کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت تھی کیونکہ اس میں پہلی بار وسائل میں سے وفاق کے حصے میں خاطر خواہ کمی لا کر صوبوں کا حصہ بڑھایا گیا۔اس سے قبل وسائل کا سب سے بڑا حصہ وفاق کو جا رہا تھا اور صوبوں کو شکایت ہوتی تھی کہ ان کے پاس عوامی منصوبوں اور امور مملکت چلانے کے لیے مالی وسائل ہی نہیں ہوتے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں طے کیا گیا تھا کہ پاکستان کی کل آمدنی اگر سو روپے ہوگی تو اس میں سے وفاق کا حصہ 42 روپے پچاس پیسے ہوں گے جب کہ باقی کے 57 روپے اور پچاس پیسے پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے پاس جائیں گے۔اس اقدام سے چونکہ وفاق کو زیادہ فائدہ نہیں ہورہاتھا ، اس لیے اب وفاق بسا اوقات صوبوں کے پیسے روک لیتا ہے اور یہی اصل لڑائی ہے۔ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان ہم آہنگی کبھی نہیں رہی، دونوں حکومتوں کے عہدیدار ایک دوسرے کے خلاف کافی عرصے سے بیانات آرہے ہیں۔ وفاقی حکومت کا کے پی کے ساتھ ہی مسئلہ نہیں بلکہ یہ کئی بار سندھ میں گورنر راج کی دھمکی بھی د ے چکی ہے لیکن جاری سیاسی حالات میں حکومت کی اتحادی پیپلزپارٹی ہے،،، اس لیے وفاق ایسا نہیں کرے گا۔ اور رہی بات کے پی کے کی تو اس وقت لگ تو یہی رہا ہے کہ مذکورہ صوبے اور وفاق کے درمیان ساس بہو والی لڑائی چل رہی ہے۔ لہٰذابقول وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کے اگر وفاق نے 1600ارب روپے کے پی کے کے دینے ہیں تو اس حوالے سے پیش رفت ہونی چاہیے، کیوں کہ وسائل کی تقسیم کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پالیسی سازوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ ان مسائل کا اصل حل کیک کا سائز بڑھانا بھی ہے یعنی کہ ملک کے مجموعی وسائل اور آمدنی میں اضافہ کریں تاکہ سب کا حصہ بڑھ جائے، اور ملک افراتفری اور صوبائی تعصب سے باہر نکل آئے۔ورنہ بقول شخصے کچھ نہیں بچے گا!