آپریشن عزم استحکام ،،، کیا واقعی ضروری ہے یا؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ وطن عزیز میں ایک اور ”آپریشن “ عزم استحکام کی ”منظوری“ ہو چکی ہے، اس آپریشن کا ویسے تو مفہوم ہے کہ ”مضبوطی کا عزم“ یعنی ملکی استحکام کا عزم! یہ ویسے تو پارلیمنٹ میں نہیں لایا گیا لیکن اس کی کابینہ سے منظوری لے لی گئی ہے۔ کابینہ سے منظوری کا مطلب ہے کہ من مرضی کا آپریشن ہوگا جس کے نتائج حوصلہ افزاءنہیں ہوں گے! یہ سب کچھ اُس وقت ہوا جب ہمارے ہاں چینی مہمان لیو جیان چاﺅ یہاں تشریف لائے ۔ جی ہاں! یہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے منسٹر اور پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن لیو جیان چاﺅ ہیں،،، جب ہم عید کے فوری بعد تک چھٹیاں انجوائے کر رہے تھے، یہ اُس وقت پاکستانی حکام کو حکم صادر فرما رہے تھے ۔ یہ دو روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے،،، ویسے تو جیان چاﺅ کی شہرت ایک کامیاب سفارتکار اور کامیاب سیاستدان ہونے کے علاوہ ان کا شمار کمیونسٹ پارٹی کے اہم ترین لوگوں میں ہوتا ہے۔ ان کا یہ دورہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین میں طے پانے والے امور کا فالواپ قرار دیا جا رہا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کا نمائندہ ہونے کے ناطے وہ پاکستان میں غیرسرکاری لوگوں سے بھی ملے۔ جو شاید اندر کے حالات معلوم کرنا چاہتے تھے۔ ان شخصیات میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، ڈاکٹر ملیحہ لودھی، سہیل محمود (سابق سیکرٹری خارجہ)، نغمانہ ہاشمی (چین میں پاکستان کی سابق سفیر)، ڈاکٹر ظفر نواز جاسپال وغیرہ شامل تھے۔ جیان پاﺅ ان سب سے کھلے انداز میں اور غیرروایتی انداز میں گفتگو کر رہے تھے، جس میں مزاح بھی شامل تھا۔ یعنی اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شاید ہمارے لوگوں سے وہ اندر کی باتیں نکلوا رہے تھے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہوتا ہے ، جیسے صحافتی زبان میں آپ کسی سے Formal اور In-Formalگفتگو کرتے ہیں۔ فارمل گفتگو میں آپ ٹو دی پوائنٹ بات کرتے ہیں جبکہ ”ان فارمل“ گفتگو میں آپ مہمان یا میزبان سے گھل مل جاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اُن کو بھی وہاں خوب سنا گیا اور انہوں نے بھی خوب سنائیں! خیر آگے چلنے سے پہلے میں یہاں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ اس وقت موجودہ صورتحال کے مطابق سی پیک کے دوسرے مرحلے پر ابھی تک کام کا آغاز نہیں ہو سکا۔ جبکہ اس کی وجہ سے پاکستان میں چہ مگوئیاں پائی جارہی ہیں کہ شاید چین نے پاکستان سے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سی پیک کو رول بیک کر دیا ہے یا جیسے ہے جہاں ہے کی پالیسی کے تحت کام روک دیا گیا ہے۔ شہبازشریف کا چین کا دورہ بھی شاید اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی ،،، مگر ان ابہام کو جیان پاﺅ نے سختی سے رد کیا ہے کہ اور کہا ہے کہ ” چینیوں کی ایک سوچ ہے کہ پاکستان ایک آزمودہ اور ہر موسم کا دوست ہے۔ چین میں پاکستان کے بارے میں تین امور کا ذکر ہوتا ہے۔ پہلا یہ ہے کہ پاکستان ایک بااعتماد دوست اور اسٹرٹیجک پارٹنر ہے۔ دوسرا یہ کہ وہاں امن وامان کی صورت حال تسلی بخش نہیں اور تیسرا وہاں سرمایہ کاری ایک رسکی کام ہے لیکن ان سب حقائق کے ہوتے ہوئے ہم نے سی پیک کا آغاز کیا ہے اور پاکستان کے ساتھ مل کر اس منصوبے کو بہ ہر صورت آگے بڑھائیں گے۔ یہ مشکلات اپنی جگہ ہیں لیکن ہمیں معلوم ہے کہ کہاں کہاں سے یہ مشکلات کھڑی کی جارہی ہیں۔ ان مشکلات کے ہوتے ہوئے ہم نے سی پیک کا آغاز کیا تھا اور اسی اسپرٹ کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔سی پیک یا پاکستان سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاوغیرہ وغیرہ۔ چینی منسٹر کی یہ باتیں یقینا وطن عزیز کے لیے نہایت خوش آئند ہیں، اور یہ پاکستان کے بقاءکی ضامن ہیں مگر انہوں نے جوباتیں کیں وہ شاید دبا لی گئی ہیں کہ ملک استحکام کے لیے سیاسی استحکام نہایت ضروری ہے،،، انہوں نے پھر کہا کہ اپنے ہاں پہلے سکیورٹی کا ماحول ٹھیک کیجئے‘ نہیں تو آپ کے حالات دیکھتے ہوئے چینی انویسٹر اب ڈر گئے ہیں۔ ان میں سے ”سیاسی استحکام“ والی بات شاید ہم پی گئے ہیں جبکہ دوسری بات چینی سیکیورٹی کے حوالے سے ہم نے زیادہ ہی سنجیدہ لے لیا ہے۔ یعنی ہم نے فوراً ہی اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کیااور میٹنگ کے بعد عزم سے بھرا اعلان یہ ہوا کہ دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور آپریشن شروع ہو رہا ہے اس عزم کے ساتھ کہ دہشت گردی کو ختم کرنا ہے۔ آپریشن کو ایک روح پرور نام بھی دیا گیایعنی” عزمِ استحکام“۔یہ اعلان ہونا تھا کہ قومی اسمبلی میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور خاص طور پر کے پی سے تعلق رکھنے والے ممبران نے پرزور طریقے سے اس مبینہ آپریشن کی مخالفت شروع کر دی۔ جو مقرر کھڑا ہوا اُس نے کہا کہ ہم فاٹا اور کے پی میں بڑے آپریشن دیکھ چکے ہیں اور ان آپریشنوں سے سابقہ فاٹا کا علاقہ بدحال ہو چکا ہے اور لوگوں میں کوئی گنجائش نہیں رہی کہ کسی نئے آپریشن کو برداشت کر سکیں۔ اس لیے اس آپریشن کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ شور اتنا اُٹھا کہ پیر کو وزیراعظم آفس سے ایک اعلان جاری ہو گیا کہ نہیں‘ نہیں! آپریشن عزمِ استحکام اُس قسم کا آپریشن نہیں ہو گا۔ یہ جو کارروائیاں جاری ہیں انہی کو تھوڑا تیز کیا جائے گا۔ قارئین اگر مذکورہ آپریشن کی بات کی جائے تو پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اگر پچھلے 40 نہیں تو کم از کم 22، 24 برس سے دہشت گردی کے خلاف کوئی نہ کوئی فوجی آپریشن چل رہا ہے۔ اگرچہ ہمارے ملک میں آپریشنز کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن ماضی میں بلوچستان میں کیے گئے آپریشنز کا مقصد مختلف تھا۔ آج بھی بلوچستان میں یہ آپریشن جاری ہیں بلکہ یوں کہہ لیں کہ کبھی رکے ہی نہیں۔ جب بھی کوئی ایسا آپریشن شروع کیا جاتا ہے تو حکومت کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ اب کی دفعہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی جائے گی‘ ملک کو امن کا گہوارا بنادیا جائے گا۔ جب دو تین سال بعد یہ آپریشن ختم ہوتا ہے تو اعلان کیا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا سر کچل دیا گیا ہے‘ ا±ن کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ اور پھر کچھ ہی دنوں بعد پتا چلتا ہے کہ دہشت گردی نئے سرے سے سر اٹھا رہی ہے۔ پھر سے ہمارے فوجی جوان اور شہری شہید ہو رہے ہیں۔ تب پھر سے وہی بیانات دہرائے جاتے ہیں کہ کمر توڑ دیں گے‘ سر کچل دیں گے۔ 20‘ 22 برسوں میں اب تک سات فوجی آپریشنز ہو چکے ہیں جو پرویز مشرف‘ اشفاق پرویز کیانی‘ راحیل شریف اور قمر جاوید باجوہ کے ادوار میں کیے گئے تھے۔ ”عزمِ استحکام“اس نوعیت کا آٹھواں آپریشن ہو گا۔ چلیں یہ بات مان لی جائے کہ یہ آپریشن وقت کی ضرورت ہے ،،، کیوں کہ شورش تو کہیں نہ کہیں پائی جاتی ہے،،، جیسا کہ اے این پی کے صدر ایمل ولی خان نے چونکا دینے والی بات کی کہ جنوبی کے پی میں ٹی ٹی پی کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے اور اب اُن کی نظریںشمال کی طرف ہیں اور اندیشہ یہی ہے کہ حسبِ سابق اُن کا کنٹرول مالاکنڈ ڈویژن پر پھر سے ہو جائے گا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے جس ویٹرنری ڈاکٹر سید غضنفر شاہ کو اغوا کیا گیا تھا اُسے ٹی ٹی پی نے رہا کر دیا ہے۔ اس بیا ن کے ساتھ کہ ڈاکٹرکو تاوان کیلئے نہیں اٹھایا گیا بلکہ اُس پر شک تھا کہ وہ اداروں کیلئے جاسوسی کر رہا ہے۔ جب ثابت ہوا کہ اس الزام سے وہ بے قصور ہے تو اُسے رہا کر دیا گیا۔ اب کوئی بتائے کہ یہ رِٹ آف دی سٹیٹ یا رِٹ آف ٹی ٹی پی ہے؟ جو ہمارا صحافی بھائی خلیل جبران لنڈی کوتل میں مارا گیا، سڑک پر اُس کی لاش دو گھنٹے پڑی رہی اور کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ لاش کے قریب جائے۔ یہ وہاں کے حالات ہیں اور ہم فرما رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے جو بچے کھچے عناصر ہیں بس اُن کو ختم کرنا باقی رہ گیا ہے۔ اور پھر ایک اور خبر یہ بھی ہے کہ شمالی وزیرستان میں میر علی کے قریب ایک کانوائے پر گرنیڈ پھینکے گئے جس سے سات راہگیر زخمی ہوئے۔ یعنی دیدہ دلیری دیکھئے کہ کانوائے جا رہی ہے اور ہینڈ گرنیڈ جوکہ ہاتھ سے پھینکے جاتے ہیں‘اُس پر داغے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ خبریں بھی ہیں کہ لوئر دیر میں افغانستان سے آئے ٹی ٹی پی کے جنگجوﺅں اور سکیورٹی فورسز میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔ یہ سارے واقعات ایسے صوبے میں ہو رہے ہیں جہاں بجلی کی بندش کی وجہ سے ویسے ہی افراتفری اور لاقانونیت پھیلی ہوئی ہے۔ اور کے پی اسمبلی ممبران کھل کے کہہ رہے ہیں کہ آپریشن ہوا تواُس کی مخالفت کی جائے گی۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ایسی زبان کبھی پہلے استعمال کی گئی ہو۔ بہرکیف 2007-2008میں جب سوات میں آپریشن ہوا اور 2014ءمیں جب وزیرستان آپریشن ہوا تب ملکی حالات بالکل مختلف تھے۔ جسے قومی وحدت کہا جا سکتا ہے‘ نظر آتی تھی۔ ایک ہی نکتے پر سب کھڑے تھے۔ آج صورتحال یکسر مختلف ہے۔ تفصیل میں جانا مشکل ہے یہ بتانے کیلئے کہ کس کس لحاظ سے یہ صورتحال مختلف ہے۔ ایسے میں کیسا آپریشن اور کون سا آپریشن؟ جو کھینچا تانی ہو رہی ہے اسے تو پہلے ختم کیا جائے۔ جہاں محاذ آرائی باہر کے عناصر سے ہونی چاہیے محاذ آرائی اندرونی شکل اختیارکر چکی ہے۔ آپس میں ہم لگے ہوئے ہیں اور اس اندرونی محاذ آرائی کی زد میں عدلیہ جیسے ادارے بھی آ رہے ہیں۔ یہ بھی پہلے تعین کر لیا جائے کہ دشمن کون ہے اور ترجیحات بھی طے کر لی جائیں‘ پھر ہی عزم اور استحکام کی باتیں ہو سکتی ہیں۔ لہٰذاحکومت ہوش کے ناخن لے اور کوئی نیا آپریشن شروع کرنے سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملائے، اس آپریشن کی منظوری قومی اسمبلی سے کرائے،،، پھر اسے سینیٹ میں ڈسکس کیا جائے تب ہی چینی بھی سوچتے ہوں گے کہ کن سے پالا پڑا ہے۔ چینی مہمان کے ارشادات کے بعد ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک نئے عزم سے ہر چیز کی جائے گی۔ لیکن مہمان کی نصیحتوں کا اثر ہم پر دو تین روز سے زیادہ نہ رہا۔ اس میں کوئی اچنبھے کی بات بھی نہیں کہ ہمارے عزم کی داستانیں اتنی مختصر رہتی ہیں کیونکہ قومی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو ہر چیز بکھری ہوئی نظر آتی ہے۔ چینی مہمان قومی اتفاقِ رائے کی بات کر گئے لیکن یہاں کوئی اتفاقِ رائے نام کی چیز نظر آتی ہے؟ ہر فریق دست وگریباں ہے۔ معیشت کا حال تو اب بچہ بچہ جانتا ہے۔ سیاست کا حال بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ فارم 47 کا مسکا لگا کر اسمبلیاں بھری گئی ہیں اور پھر ان مانگے کی اسمبلیوں سے حکومتیں بنائی گئی ہیں۔ اب ایسی حکومتوں سے توقع رکھنا کہ کسی جادو سے قوم میں عزم اور استحکام کی روح پھونک دیں گی‘ کسی خام خیالی سے کم ہے؟ جو جتوائے گئے ہیں ا±ن کے چہرے بتاتے ہیں کہ کون سی مہربانیوں سے وہ اسمبلیوں اور حکومتوں میں آئے ہیں۔ بیچارگی اور لاچاری چہروں سے عیاں ہے‘ ایسے لوگوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ لیکن شعبدہ بازی میں ہم سے کوئی آگے ہو سکتا ہے؟ اعلان کرنا تھا وہ کر دیا۔ دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں‘ روزکی بنیاد پر حملے ہو رہے ہیں‘ لیکن دہشت گرد اپنا کام کریں اور ہم نے اعلان کرنا تھا وہ ہو گیا۔ محاورہ کیا ہے‘ اللہ اللہ خیر سلا۔