حالیہ بارش میں لاہور کی تباہی کی ذمہ دارمریم نواز گورنمنٹ نہیں؟

لاہور میں حالیہ بارش نے 44سالہ ریکارڈ توڑ دیا، مگر جس سپیڈ سے لاہور کی بیشتر سڑکوں سے پانی نکالا گیا اُس کی مثال نہیںملتی۔ اس لیے بلاوجہ کی تنقید میرے خیال میں کسی نومنتخب حکومت کے لیے درست عمل نہیں ہوسکتا۔ ہاں اگر تنقید ہی کرنی ہے کہ پانی کھڑا ہی کیوں ہوا، یا پانی گھروں میں داخل ہی کیوں ہوا تو اُن پر تنقید کرنی چاہیے جنہوں نے یہاں دہائیوں حکومت کی۔ جیسے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس صوبے پر 12سال حکومت کی(جبکہ پنجاب پر ن لیگ نے کم و بیش 20سال حکمرانی کی)، یعنی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بعد وہ واحد حکمران ہیں جنہیں پنجاب کی خدمت کا سب سے زیادہ موقع میسر آیا۔ اُس کے بعد نمبر آتا ہے، چوہدری پرویز الٰہی یا عثمان بزدار کا ۔ انہوں نے بھی ڈرین سسٹم کی بہتری کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ اس لیے اگر آج پنجاب میں کوئی انتظامی مسئلہ ہے تو اس کے ذمہ دار مریم نواز گورنمنٹ نہیں بلکہ سابقہ حکومتیں ہیں۔ جن کی ترجیحات دکھاوا کرنے کی رہیں۔ جیسے اورنج ٹرین زمین سے سو فٹ ”اوپر“ (جو سب کو دکھتی ہے) جبکہ سیوریج سسٹم زمین کے ”نیچے“ ہوتا ہے، تبھی ترجیحات میں اورنج ٹرین کو پہلے رکھا گیا اور ڈرین سسٹم کو بعد میں۔یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے ہمارے سابقہ حکومتوں کی ترجیحات اور اُن کے ”نظریات“ کی۔ کہ جو چیز لانگ ٹرم چلنی ہے، جس سے کروڑوں افراد کا فائدہ ہونا ہے، آنے والی نسلوں کو فائدہ ہونا ہے، ہم اُسے اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کے بجائے اُن پراجیکٹس پر اربوں روپے خرچ کر دیتے ہیں جو ”کاسمیٹکس“ ہوتے ہیں۔ جن کا جھومر تو نظر آتا ہے مگر وہ فراڈاور دکھاوے کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ اب آپ خود دیکھ لیں کہ لاہور سمیت دیگر شہروں میں ہر سال مون سون کی بارشیں ہوتی ہیں، جیسے گزشتہ روز لاہور میں بارش ہوئی تو نہ صرف ہماری سڑکیں،گھر ، ورکنگ ایریاز پانی میں ڈوب گئے بلکہ ہسپتالوں کے اندر ایمرجنسیاں بھی تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ اس میں قصور مریم نواز حکومت کا نہیں بلکہ اُن کا ہے جنہوں نے اپنے ادوار میں فضول پراجیکٹس پر پیسے ضائع نہ کیئے ہوتے تو، صرف لاہور کا سیوریج سسٹم ہی ٹھیک کر دیا ہوتا تو آج لاہور کے ہسپتال دریا نہ بنتے۔ لیکن ایسے کام تو دور اندیش اور مخلص لیڈر کرتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ہمارے حکمرانوں کا ایک ہی ٹارگٹ رہا ہے کہ مال بناﺅ اور وہ انہوں نے خوب بنایا ہے۔ آپ خود دیکھ لیں کہ سابقہ پنجاب حکومتوں نے میٹرو اور اورنج ٹرین جیسے بڑے بڑے پراجیکٹس بھی شروع کیے مگر اسی بوسیدہ ڈرین سسٹم پر بھروسہ کیا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ واسا(پانی اور صفائی کا ایک سرکاری ادارہ ہے جو پانی کی فراہمی اور سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کی منصوبہ بندی، ڈیزائننگ، ترقی اور دیکھ بھال، مرمت اور آپریشنز کا ذمہ دار ہے۔ یہ ادارہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 1976 ءمیں قائم کیا تھا ۔) نے چیخ و پکار نہیں کی۔ واسا کے ایک سابقہ آفیسر نے نام نہ لینے کی شرط پر بتایا کہ شہباز شریف کے دور حکومت میں اُنہیں علم ہی نہیں ہوتا تھا کہ فلاں پراجیکٹ کب اور کیسے شروع کر دیا گیا، پہلے کام شروع کرکے بعد میں منظوریاں لی جاتی تھیں، اور ہم لوگ دستخط کرنے کے ”پابند“ ہوتے تھے۔ جو آفیسر بضد ہوتا کہ یہ کام رولز اینڈ ریگولیشن کے خلاف کیا جا رہا ہے اُسے کھڈے لائن لگا دیا جاتا۔ آپ گلبرگ ایریا ہی کو دیکھ لیں، اس کا سیوریج سسٹم محض 8لاکھ افراد کے لیے بنایا گیا تھا۔ جب یہ ایریا بنایا گیا اُس وقت لاہور کی آبادی زیادہ نہیں تھی، اس لیے یہاں زیادہ بڑے بڑے گھر تھے، جن میں بمشکل دو چار افراد رہتے تھے، جن کے لیے یہاں کا سیوریج سسٹم بہترین تھا۔ اس کے بعد جیسے جیسے مافیاز نے ان گھروں کو کمرشل مارکیٹس اور پلازوں میں تبدیل کیا ، یہاں کی آبادی آٹھ لاکھ کے بجائے 80لاکھ کے قریب جا پہنچی ہے، مگر مجال ہے کہ یہاں کے ڈرین سسٹم کو اپ گریڈ کیا گیا ہو۔ تبھی 100ملی میٹر بارش کے بعد ہی پورا گلبرگ تالاب کا منظر پیش کر رہا ہوتا ہے۔ اور تاجروں و رہائشیوں کا ہر سال کروڑوں کا نقصان ہو جاتا ہے۔ اور ایسا نہیں ہے کہ واسا کے افسران نے سرکار کو پروپوزل نہیں دیے، بلکہ کئی پراجیکٹس کے پی سی ون تیار کیے گئے مگر معاملات کھٹائی میں صرف اس لیے ڈال دیے جاتے کیوں کہ یہ پراجیکٹ عوام کو ”نظر“ نہیں آئیں گے۔ پھر آپ اورنج ٹرین بنانے کے دوران اداروں کی چپقلش ملاحظہ فرمائیں کہ اورنج لائن بناتے وقت جب واسا کے انجینئرز کی ایک نہ سنی گئی تو انہوں نے اورنج ٹرین کے سیوریج سسٹم کوٹیک اوور کرنے سے انکارکر دیا۔حالانکہ چھ ارب روپے کی لاگت سے ایل ڈی اے نے سیوریج سسٹم بچھایا تھا،گندے اور برساتی پانی کی نکاس کے لئے دو ٹرینیں بچھائی گئی جو بے کار ہو گئیں۔پھر جی ٹی روڈ پر ایلیویٹر ٹریک کے نیچے سیوریج سسٹم ناکارہ ہونا شروع ہو گیاتھا۔ پھر جی ٹی رودڈ پرپاکستان منٹ گیٹ کے سامنے سیوریج لائن اوور فلو ہو گئی تھی۔تبھی واسا نے اسے ٹیک اوور کرنے سے انکار کردیا تھا۔ کیوں کہ ہر سال ہونے والی بارشوں میں واسا، لیسکو، لاہور ویسٹ مینیجمنٹ اتھارٹی اور دیگر حکومتی اداروں کی کارکردگی بے نقاب ان سیاستدانوں اور حکمرانوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ قصہ مختصر کہ اورنج ٹرین کے نام پرصرف 27کلومیٹر پر 165 ارب روپے خرچ کیے گئے اور ہر اسٹیشن کا خرچہ تقریباً 6ارب روپے سے زیادہ ہے۔ انجینیئرز کا کہنا ہے کہ اگرسیوریج سسٹم کے بدلنے کے لیے اورنج ٹرین کے لیے مختص کی گئی رقم کا کچھ حصہ بھی خرچ کیا جاتا تو پورے لاہور کا سیوریج سسٹم نیا ہوجاتا۔ اب وہی بات کی بات کہ انجینئرز کو کون سمجھائے کہ اورنج ٹرین زمین کے اوپر چلتی ہے جو سب کو نظر آتی ہے جبکہ سیوریج سسٹم زمین کے اندر ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا۔ بہرحال تباہی در تباہی یہ ہے کہ اس وقت ہم لاہور میں دہائیوں پرانا سیوریج سسٹم استعمال کررہے ہیں یعنی اگر ہم بات کریں لاہور کے سیوریج سسٹم کی تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، پہلا حصہ اندرون لاہور کا ہے جس کا ڈرین سسٹم کم و بیش 2سو سال پرانا ہے، البتہ گوروں نے 1920 کے لگ بھگ لاہور میں سیوریج کا نظام قائم کر دیا تھا ، کوٹھیوں میں سرکاری پانی آنا شروع ہو گیا تھا۔سب سے دلچسپ طریقہ لاہور کے تیرہ دروازوں میں پانی پہنچانے کا گوروں نے شروع کیا تھا۔ تیرہ دروازوں میں سرکاری پانی اور سیوریج کا نظام شہر کے دوسرے علاقوں سے ذرابعد میں آیا۔آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ پورے کینٹ میں 1990ءتک سیوریج سسٹم نہیں تھا بلکہ غرقیاں ہوتی تھیں۔خیر لاہور کا دوسرا حصہ ، جس میں گلبرگ، ماڈل ٹاﺅن، جوہر ٹاﺅن، اقبال ٹاﺅن ، بادامی باغ، فیصل ٹاﺅن، اسلام پورہ، راج گڑھ وغیرہ جیسے علاقے آتے ہیں، یہاں کا ڈرین سسٹم 40سال پرانا ہے۔ یعنی آپ یوں کہہ لیں کہ لاہور شہر کا سیوریج سسٹم 40لاکھ لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ابتدائی طور پر بنایا گیا تھا لیکن اب اس کی آبادی ڈھائی کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے لیکن ڈرین سسٹم وہی بوسیدہ ہے۔ یعنی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر برسات میں نکاسی آب کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے۔ بہرکیف لاہور کا سیوریج کا نظام انتہائی بوسیدہ ہوچکا ہے۔ شہرکے انسانی پھیلاو¿ کو دیکھتے ہوئے ماہرین اور انجینئرز کو سیوریج سسٹم کی فرسودگی کاخاتمہ کرکے شہری ضروریات کے تحت اسے جدید بنانا چاہیے تھا، آبادی میں اضافہ اور ہزاروں لاکھوں عمارات کی تعمیر کے ساتھ ہی سیوریج سسٹم کی تبدیلی اور توسیع ناگزیر تھی، مگرکوئی کام نہیں ہوا، آج زیر زمین پانی کی سطح میں کمی بھی تشویشناک ہوچکی ہے،ایک گھنٹے کی بارش سے لاہور اورکراچی میں تالاب کا سماں ہوجاتا ہے، سیوریج سسٹم درست اور فنکشنل نہیں ہوگا وہ شہرکی ضروریات پوری نہیں کرسکے گا، شہر میں غلاظت اورکوڑے کے ڈھیر لگ جائیں گے۔جبکہ دوسری جانب بڑھتی ہوئی آبادی، بغیر پلاننگ کے بنائی گئی کالونیاںاور بغیر نقشہ منظور ی بنائے گئے مکانات نے سیوریج کے مسائل میں مزید اضافہ کیا۔کچھ اہلِ علاقہ کو بھی سیوریج کے صحیح استعمال بارے مو¿ثر آگاہی نہ ہونا بھی ایک وجہ ہے ۔اور پھر نہلے پر دہلا یہ ہے کہ ملک کی اکثریت کو پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں کے بستر اُن مریضوں سے بھرے رہتے ہیں جو مضر صحت پانی استعمال کرتے ہیں۔ کراچی اور لاہور میں گٹرکے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ اس سیوریج نظام کی ٹوٹ پھوٹ سے اہلیان لاہور گٹروں کا گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ لاہور میں سیوریج سسٹم تباہ ہونے کے باعث لوگ یرقان، دل اور جگر کے امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔آپ یہی نہیں بلکہ یہ بھی دیکھیں اور حیران ہوں کہ یہاں لاہور میں صاف پانی کا منصوبہ انگریز نے 1881ءمیں ہی شروع کر دیا تھا، جو اس قدر صاف پانی فراہم کرتا تھا کہ یہ واٹر پمپنگ اسٹیشن 1970ءتک کام کرتا تھا البتہ پانی والا تالاب آج بھی موجود ہے جو ز مین سے ایک سو تیس فٹ بلند ہے وہاں سے آج بھی لاہور کے تیرہ دروازوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے لاہور میڈیکل اسکول (اب کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج) کے پرنسپل ڈاکٹر بسٹن براﺅن ہر سال لاہور کے کنوﺅں، نہر اور دریائے راوی کے پانی کا تجزیہ کرکے رپورٹ دیتے تھے۔ آج کون پوچھتا ہے کہ پانی میں نمکیات، کلورائیڈ، سوڈیم، پوٹاشیموغیرہ کی کتنی مقدار پانی میں ہے ؟ لہٰذاپنجاب حکومت کو چاہیے کہ انفراسٹرکچر کے بڑے بڑے منصوبوں کی بجائے اَربن پلاننگ کو بہتر بنائے۔اگر یہ نہیں بہتر ہوگی تو کلائیمیٹ چینج کی وجہ سے آنے والے دنوں میں زیادہ تباہی والی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے بعد لاہور جیسے شہروں میں سیلابی کیفیت پیدا ہوجائے گی اور نظام زندگی شدید متاثر ہوگا۔