بنگلہ دیشی انقلاب سے سبق سیکھیں!

عوام کے صبر کا پیمانہ جب لبریز ہوتا ہے تو وہی ہوتا ہے جو بنگلہ دیشی حکمرانوں کے ساتھ ہوا ہے، ایک عرصے تک مخالفین کو دبانے کے جو نتائج وہاں دنیا نے دیکھے ہیں شاید ہی اس کی مثال ہمیں دور حاضر میں میسر آسکے۔ رواں سال جنوری میں جبکہ بنگلہ دیش میں الیکشن ہوئے اور شیخ حسینہ کھلی دھاندلی کے ساتھ جیت گئی تو میں اُسی وقت سوچ رہا تھاکہ ایک خاتونپندرہ سال سے اقتدار میں ہے تو وہ کس قدر مضبوط ہو چکی ہوں گی، ہر ادارے میں اُن کے اپنے بندے ہوں گے،،، (بعد میں یہ بات ثابت ہوئی کہبنگالی آرمی چیف کی اہلیہ حسینہ واجد کی کزن ہیں) ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اُن کے خاندان کے افراد کئی اداروں میں موجود ہوں گے، تبھی وہ نیم ڈکٹیٹر شپ قائم کیے ہوئی تھی اور خاص طور پر جماعت اسلامی کے لیے قہر بن کر ٹوٹ رہی تھیں، انہوں نے جماعت اسلامی کے 80، 80سالہ قائدین کو پھانسیاں دیں، اُن پر الزام یہ لگایا گیا کہ 1971میں جب بنگلہ دیش بنا اُس وقت انہوں نے مغربی پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ خیر مجھے تجسس یہ تھا کہ آخر کیسے حسینہ واجد کی حکومت ختم ہو سکتی ہے، جب وہ ہر طرف سے مضبوط دکھائی دے رہی ہیں۔ لیکن وہاں کے عوام نے یہ ثابت کر دیا کہ جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں کیا کچھ ہو سکتا ہے؟ شیخ حسینہ پہلے بھی وزیر اعظم رہی تھیں، مگر اس بار اُن کا اقتدار 2009ءسے جاری تھا۔ انہوں نے اپنی بڑی سیاسی حریف بیگم خالدہ ضیا کو قید میں رکھا۔(یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو پاکستانی حکومت نے قید میں رکھا ہوا ہے )جیسا کہ میں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی قیادت کا ظالمانہ طریقے سے صفایا کردیا۔ امیر جماعت اسلامی مولانا غلام اعظم کو نوے سال کی عمر میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ ایک سال بعد مولانا کا انتقال جیل میں ہی ہوا۔ پاکستان کی نیشنل اسمبلی کے سابق سپیکر فضل القادر چودھری کے بیٹے صلاح الدین چودھری کو 1971ءکے ”جرائم“ کی پاداش میں سزائے موت دی گئی حالانکہ وہ 1971ءمیں مشرقی پاکستان میں موجود ہی نہیں تھے۔ یہ سارے ظلم بھارت کے ایما پر ڈھائے گئے۔شیخ حسینہ واجد کے خلاف حالیہ تحریک کچھ عرصہ پہلے ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کو ختم کرنے کے لیے شروع ہوئی تھی۔ یہ کوٹہ سسٹم 1972ءمیں شیخ مجیب الرحمن نے شروع کیا تھا۔ اس کوٹہ کی بنیاد کی بنا پر نصف سے زیادہ سیٹیں 1971ءکی جنگ میں حصہ لینے والے عوامی لیگ کے ورکرز اور ان کے بچوں کو ملتی تھیں، صرف 44 فیصد نوکریاں میرٹ کے لیے مختص تھیں۔ گویا”فریڈم فائٹر“ کا نام استعمال کرکے عوامی لیگ کے ورکر اور اس کے اہل و عیال مقابلے اور میرٹ سے بے نیاز ہو کر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے لگے تھے۔ 2018ءمیں کوٹہ سسٹم کے خلاف تحریک چلی اور نوکریوں کی یہ بندر بانٹ بند کر دی گئی لیکن بعد میں بنگلہ ہائیکورٹ نے اس کوٹہ سسٹم کو بحال کر دیا۔ چند ہفتے قبل اس کوٹہ سسٹم کے خلاف پھر تحریک چلی تو بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے بپھرے ہوئے عوامی جذبات کو دیکھ کر حکم دیا کہ 93 فیصد نوکریاں میرٹ پر ملیں گی۔ 1971ءکے فریڈم فائٹرز کے خاندانوں کو پانچ فیصد کوٹہ ملے گا جبکہ ایک فیصد معذوروں اور ایک فیصد خواجہ سراﺅں کے لیے مختص کیا گیا لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔ طالب علم حسینہ واجد کی ون پارٹی فاشسٹ حکومت کے تسلسل کے خلاف تھے۔ جوں جوں مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی گئی‘ تحریک میں مزید شدت آتی گئی۔ سوموار کے روز جب حسینہ واجد نے ڈھاکہ سے راہِ فرار اختیار کی‘ اس دن سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم کا خیال تھا کہ وہ فوج کی مدد سے مظاہرے کنٹرول کر لیں گی لیکن فوج کا صائب موقف تھا کہ ہم اپنے لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کریں گے۔ ویسے تو یہ ماننے والی بات ہے کہ حسینہ واجد کے دور میں بنگلہ دیش نے ترقی کی، ایکسپورٹ بڑھائیں،بنگلہ دیش کی ایکسپورٹ پاکستان سے کہیں زیادہ ہیں، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دیا۔ مگر آپ ایک طرف اپوزیشن کو دبائیں، عوام کو دبائیں تو دوسری طرف گڈ گورننس کا دعویٰ بھی کریں تو دونوں چیزیں کبھی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔ آپ پاکستان کو دیکھ لیں، یہاں بھی ایسا ہی ماڈل پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہاں بھی دھاندلی زدہ الیکشن کے بعد عوامی مینڈیٹ کو بزور قوت دبانے کی کوششیں جاری ہیں، یہاں بھی ریٹائرڈ افراد کو من پسند سیٹیوں سے نواز کر فائدے اُٹھائے جا رہے ہیں۔ جبکہ میرٹ سڑکوں پر خوار ہو رہا ہے۔ بہرحال عوام کے صبر کا پیمانہ جب لبریز ہوتا ہے تو اُس وقت کچھ نہیں بچتا، عوام ملک کو خود سنبھال کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں بلکہ اُن کا اپنا ہے۔ تبھی ہمارے والوں کو بھی سمجھ جانا چاہیے ، ہمارے والوں نے نہ تو عیاشیاں ختم کی ہیں، نہ ریٹائرڈ افراد کی مراعات ختم کی ہیں، بلکہ ریٹائرڈ افراد کو اُن کے اپنے عہدے میں ایکسٹینشن کے بجائے کسی دوسرے ایسے ادارے میں بھیجا جاتا ہے جس کا اُس سے دور دور کا تعلق نہیں ہوتا۔ حالانکہ میرے خیال میں ایکسٹینشن کا خیال ہی ختم کر دینا چاہیے،اس پر پابندی لگنی چاہیے، کیوں کہ اس سے موجودہ سرکاری آفیسرز میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے، اس سے دوسروں کی حق تلفی ہوتی ہے، میرٹ ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس یہاں ہر وہ کام کیا جا رہا ہے جو کسی انقلاب کو دعوت دینے کے لیے کافی ہے۔ اس وقت حکمران نہ سرکاری دورں پر یہ عیاشیاں ختم کرنے کو تیار ہیں، اور نہ ہی اسمبلیوں،وزیر اعظم ہاﺅس، گورنر ہاﺅس، صدارتی ہاﺅس کا بجٹ کم کر نے کو تیار ہیں۔بلکہ حالیہ دنوں میں تو مہنگائی کی وجہ سے ان کے بجٹ میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔اور پھر ہم نے تو اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے میں ڈھائی سال ضائع کر دیے ہیں، ہم انہیں پکڑ پکڑ کر جیلوں میں تو ڈال رہے ہیں مگر مجال ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے کسی کا کوئی موڈ ہو۔آئی پی پیز کے حوالے کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ، نہ اُن کے خلاف کارروائی کا کوئی حکومتی ارادہ ہے، کسانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، مزدور طبقہ پہلے ہی پس چکا ہے، اور تنخواہ دار طبقہ بھی اب سڑکوں پر آنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ اور تو اور رہی سہی کسر حالیہ اسمبلی سے پاس ہونے والے بل نے نکال دی ہے جس کے مطابق آزاد امیدوار مخصوص مدت کے بعد کسی اور سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا۔آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 میں آزاد امیدواروں کو دوبارہ کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ مجوزہ مدت کے اندر مخصوص نشستوں کی فہرست جمع نہ کرانے والی جماعت مخصوص نشستوں کی اہل نہیں ہوگی۔ بل میں کہا گیا ہے کہ جس امیدوار نے ریٹرننگ افسر کے سامنے جماعت سے وابستگی کا بیان حلفی جمع نہ کرایا ہو اسے آزاد تصور کیاجائے گا۔ الیکشن کے بعد پارٹی وابستگی ظاہر کرنے والا امیدوار کسی سیاسی جماعت کا امیدوار نہیں سمجھا جائیگا اور الیکشن کا دوسرا ترمیمی بل 2017سے نافذ العمل ہوگا۔حالانکہ تحریک انصاف کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے حق ملا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کس طرح ہمیں اس حق سے محروم کرسکتے ہیں۔لیکن جابر حکومت نے اس کا بھی حل تلاش کر لیا اور معاملہ پارلیمنٹ میں لے گئے۔ جس کے بعد اب یہ معاملہ ایک بار پھر سپریم کورٹ میں آچکا ہے۔ لہٰذاعوامی انقلاب نکلنے میں محض ایک اشارہ اور چنگاری ہی درکار ہوتی ہے، یعنی جب یہ ساری پریشانیاں اکٹھی ہو جاتی ہیں تو پھر انقلاب آتے ہیں۔ جس کے بعد کچھ ہاتھ نہیں آتا بلکہ پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے۔ لہٰذایہ بات سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ دھاندلی زدہ الیکشن سے جیتی ہوئی حکومت دیرپا نہیں ہوتی۔ ہم پاکستان میں یہ 2013ئ، 2018ءاور اب 2024ءمیں دیکھ چکے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے مسائل کا حل آزاد اور شفاف الیکشن ہیں۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اقتدار کی طاقت اور ریاستی جبر کے ذریعے عوام کو دبانے سے گریز کیا جائے۔ عوامی فلاح و بہبود کی بجائے جو حکمران اپنے اقتدار کو مخالفین کو دبانے کے لئے استعمال کررہے ہیں، وہ اپنے انجام سے بھی باخبر رہیں۔ اس کے علاوہ میرے خیال میں نوجوان اس دور کی اصل طاقت ہیں اور کسی جگہ اگر نوجوانوں کی اکثریت کچھ کرنے کی ٹھان لے تو انہیں روکنا ناممکن ہوتا ہے ، ہم بھی جوانی میں ہر چیز سے بے خبر کچھ کر گزرنے کی تگ و دو میں رہتے تھے۔ اگر اُس وقت بھی ہمیں بہتر سٹوڈنٹ لیڈر شپ نصیب ہو جاتی تو ہم ضیا ءکی آمریت کے خلاف اس سے بڑے جلوس نکال سکتے تھے۔ لیکن پھر وہی بات کی بات کہ ایسی چیزیں پنپنے کے لیے محض ایک چنگاری کی ضرورت ہے، جو حالات کی بہتری کے لیے کسی بھی وقت سب کچھ بدل سکتی ہے!