ہم ”آزادی“ کو سمجھنے میں ہی ناکام رہے!

پاکستان کو قائم ہوئے آج 77برس ہو چکے ، ہمیں قائداعظم کے بعد کوئی ایسا لیڈر نہیں ملا جس نے خالصتاََ پاکستان کے لیے کام کیا ہو، بلکہ جس نے بھی کرنے کی کوشش کی یا تو اُسے پابند سلاسل کر دیا گیا، یا اُسے ابدی نیند سُلا دیا گیا۔ بدلے میں دنیا ہم سے بہت آگے نکل گئی، ہم اپنے ہی ہمسایہ ممالک کی ترقی کی وجہ سے شرمسار ہوئے،ہمارے ہمسائے میں افغانستان ہم سے بہتر حالت میں ہے۔ایک حالیہ خبر ملاحظہ فرمائیں کہ ایک برس قبل دیوالیہ ہونے والا سری لنکا آج ایکسپورٹ میں پاکستان سے آگے نکل گیا ، ایران ساری عالمی پابندیوں کے باوجود اپنے شہریوں کی زندگی آسان کررہا ہے۔ بھارت اپنے تعصبات کے ہوتے ہوئے اپنی جنتا کو معیاری زندگی دے رہا ہے۔ اس کے زر مبادلہ کے ذخائر کہیں زیادہ ہیں۔بنگلہ دیش میں انقلاب آچکا ہے، ملائشیا ہم سے بعد میں آزاد ہوا ہے، مگر مجال ہے کہ اُس نے اپنی ترقی پر کبھی کمپرومائز کیا ہو۔ چین ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا ہے۔ وہ اب دنیا کی دوسری معیشت بن گیا ہے۔لیکن اس کے برعکس یہاں ترقی تو دور کی بات ، نفرتوں کے بیج بو دیے گئے ہیں، آج 77 سال بعد بہت سی مایوسیاں ہیں۔ بے کسی ہے۔ بے بسی ہے۔اور رہی سہی کسر پاکستان کی سب سے مقبول جماعت کو بزور قوت کھڈے لائن لگا کر نکال دی گئی ہے۔سرکار کی کہیں نہ چلی تو اُس نے غریب عوام کو تاریخ کے مہنگے ترین بجلی کے بل تھما دیے ہیں۔ حالانکہ قائداعظم نے آزادی کا مطلب یہ نہیں سمجھایا تھا کہ کسی ملک سے آزادی حاصل کر لی تو اللہ اللہ خیر صلا۔وغیرہ بلکہ انہوں نے 25 اگست 1947ءکو کراچی میونسپل کارپوریشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہمارا مقصد ہر شہری کو ناصرف ہر قسم کی محتاجی اور خوف سے نجات دلانا ہے بلکہ اسے آزادی، اخوت اور مساوات کی نعمتیں بھی مہیا کرنا ہے جس کی تلقین ہمیں اسلام کرتا ہے“۔ قائد اعظم نہ تو کوئی جاگیردار تھے اور نہ ہی بہت بڑے سرمایہ دار تھے۔ انہوں نے اپنی وکالت سے پیسہ کمایا اور سیاست پر لگایا۔ بنیادی طور پر ان کا تعلق مڈل کلاس سے تھا۔ ایک سیلف میڈ انسان تھے جسے برطانوی سرکار نے بھی خریدنے کی کوشش کی اور کانگریس نے بھی بہت ورغلایا۔لیکن وہ نہ تو کبھی بکے اور نہ ہی انہوں نے ذاتی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی۔ 1940ءمیں راج گوپال اچاری نے قائد اعظم کو متحدہ ہندوستان کا وزیر اعظم بنانے کی پیشکش کی جو انہوں نے ٹھکرا دی۔ 1947ءمیں مہاتماگاندھی نے دوبارہ انہیں متحدہ ہندوستان کا وزیر اعظم بنانے کی پیشکش کی لیکن قائد اعظم نے یہ پیشکش دوبارہ مسترد کردی۔ قائداعظم تو ”اداروں “ کی مداخلت کو بھی پسند نہیں کیا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ فوج کے ساتھ ساتھ عدلیہ بھی سیاست سے دور رہے۔بلکہ قائد اعظم تو اداروں کی مداخلت کے اس قدر خلاف تھے کہ سپریم کمانڈر سرکلا وڈآکن لیک کے پرائیویٹ سیکرٹری میجر جنرل شاہد حامد اپنی کتاب ”Disastrous Twilight“ میں آزادی سے چند روز پہلے فوجی افسران سے قائداعظم کی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ3اگست 1947 کو انہوں نے اپنے گھر پر جنرل آکن لیک، بحریہ و فضائیہ کے سربراہان، پرنسپل سٹاف آفیسرزوغیرہ کو مدعو کیا اور قائداعظم کو بھی خصوصی طور پر دعوت دی۔ تقریب میں قائداعظم خوشگوار باتیں کرنے کے موڈ میں تھے۔ وہ صرف اس وقت رنجیدہ و سنجیدہ ہوئے جب ایک فوجی افسر نے پاکستان میں ترقی کے بارے میں سوال کر دیا۔ قائداعظم نے جذباتی ہو کر سوال کرنے والے کو سر سے پاو¿ں تک دیکھا اور کہا: ”آپ مسلمان یا تو آسمانوں سے باتیں کرتے ہیں یا دھم سے نیچے گر پڑتے ہیں۔ آپ متوازن راستہ اختیار نہیں کرسکتے۔ تمام ترقیاں اپنے وقت پر ہوں گی اور پاگل پن سے یا جلد بازی میں نہیں کی جائیں گی۔“ انہی افسران کے ایک اور سوال کا جواب دینے سے پہلے ہی قائداعظم ان فوجی افسران کے ارادے اور خیالات بھانپ گئے اور بڑے دو ٹوک انداز میں فرمایا: ” پاکستان کی منتخب حکومت سول افراد پر مشتمل ہو گی۔ جو بھی جمہوری اصولوں کے برعکس سوچتاہے، اُسے پاکستان کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔“ بہرحال ”آزادی“ کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سب کچھ کرنے میں آزاد ہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہ ریاست ”ویلفیئر “سٹیٹ ہونی چاہیے، جہاں جمہوری لوگ ہی عوام کی خدمت کریں اور پانچ سال بعد کسی دوسرے کو اقتدار میں آنے کا موقع دیں، کیوں کہ خالص جمہوریت ہوگی تو سب کچھ بہترین ہوگا، میں نے پچھلے کالم میں یہ بات برملا کہی تھی کہ جن ملکوں میں جمہوریت ہے وہاں پر اولمپک کے تمغات لینے والے سب سے آگے ہیں۔ مطلب اُن ملکوں میں عوام پر پیسہ لگایا جاتا ہے۔ اُ ن ممالک کا اُٹھنا بیٹھنا سوچنا سب کچھ اپنے عوام کے لیے ہے، جبکہ اس کے برعکس یہاں کے حکمران صرف اور صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں، تبھی یہ پاکستان کے امیر ترین خاندان بن چکے ہیں، یہاں ان کی مخالفت کرنے والوں کو یا تو جیل بھیج دیا جاتا ہے یا اُن پر جھوٹے مقدمات قائم کرکے اُنہیں عدالتوں کے ذریعے خوار کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہاں تو جب ایک پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو دوسری پارٹی کے لوگوں کو چن چن کر جیلوں میں ڈالتی ہے، جبکہ دوسری پارٹی جب اقتدار میں آتی ہے تو پہلی والی پارٹی کے رہنماﺅں سے گن گن کے بدلے لیے جاتے ہیں۔ اور پورے ملک میں غدار غدار کی صدائیں بلند ہونا شروع ہوجاتی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم پاکستان میں نہیں بلکہ غداروں کی سرزمین پر رہ رہے ہیں! میرے خیال میں ہم انہی بدیانتیوں کی وجہ سے آج دنیا میں رسوا ہو رہے ہیں، دنیا کہتی ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو جھوٹ بولنے والوں میں سب سے آگے ہیں، دنیا کہتی ہے کہ یہ انصاف دینے والوں میں سے بھی نہیں ہیں، دنیا کہتی ہے کہ یہ سانحہ ماڈل ٹاﺅں کے شہدا کو آج تک سزا نہ دے سکے،یہ سانحہ ساہیوال کیس میں کسی کو سزا نہ دے سکے۔ بلکہ دنیا کے سامنے ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے بھٹو جیسے لیڈر کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ، ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے قائداعظم کو صحیح علاج معالجہ نہ دے سکے ، ہم شرمندہ ہیں کہ بعض مقدمات میں تو عدالتیں رات 12بجے بھی کھل جاتی ہیں، مگر لاکھوں مقدمات کے فیصلے کئی کئی سال تک نہیں ہوتے، ہم شرمندہ ہیں کہ یہاں عدالتیں بھی چوروں، لٹیروں اور ڈاکوﺅں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ورنہ کسی کی کیا جرا¿ت کہ وہ ایک روپے کی بھی کرپشن کر سکے۔ ہم شرمندہ ہیں کہ کئی بے گناہ جیل میں ہی مر گئے، اور مرنے کے بعد اُن کی رہائی کے احکامات جاری ہوئے، ہم شرمندہ ہیں کہ یہاں چند ہزارروپے کی کرپشن کرنے والے آفیسر کی پروموشن نہیں ہو سکتی مگر کیا انصاف ہے کہ درجنوں مقدمات کا سامنا کرنے والے کو بڑے سے بڑا وزیر بنا دیا جاتا ہے، مطلب جس پر جتنے زیادہ کیسز اُسے اُتنا بڑاا عہدہ مل جاتا ہے۔ اے کا ش کہ ہمارے حکمران بھی دنیا کے لیے بالکل اُسی طرح مثال بن جاتے جس طرح ایک جھوٹ بولنے پر صدر نکسن کو گھر بھجوادیا جائے، جس طرح جھوٹ بولنے پر صدر کلنٹن کا مواخذہ ہو جائے،جس طرح تحفے میں ملی دو عینکیں ڈکلیئر نہ کرنے پر کینیڈین وزیراعظم کی تفتیش ہو، وہ جرمانہ بھرے، جس طرح سلووینیا کا سیاستدان ایک سینڈ وچ چوری کرنے پر پارلیمنٹ کی رکنیت کھو بیٹھے ،جس طرح سرکاری خرچ پر ناشتہ کرنے پر فن لینڈ کی وزیراعظم انکوائریاں بھگتے، جس طرح صوابدید سے زیادہ فنڈز اپنے حلقے میں خرچ کرنے پر برطانوی پارلیمنٹرین کی رکنیت چلی جائے، جس طرح انتخابات میں زیادہ پیسے خرچ کرنے پر فرانسیسی صدر سرکوزی کو سزا ہو جائے ۔لیکن 14اگست ہم تم سے شرمنہ ہیں کہ یہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ یہاں اربوں روپے ڈکارنے کے بعد بھی اقتدار ملتا ہے اور درجنوں قتل کرنے کے بعد بھی وزارتیں مل جاتی ہے اور خان جیسے سیاستدان رگڑے میں آجاتے ہیں کہ وہ ”بے ایمان“ ہیں! واہ رے قسمت! اور واہ رے! آزادی کا غلط مطلب سمجھنے والو!