تحریک انصاف کا جلسہ : اسٹیبلشمنٹ کیا چاہتی ہے؟

جب ”سونامی“ کا نیا نیا شور شروع ہوا، تو اُس وقت پیپلزپارٹی کی حکومت تھی، گیلانی صاحب وزیر اعظم اور زرداری صدر تھے۔ اُس وقت ہر طرف کرپشن کی بازگشت بھی سنائی دیتی تھی، مہنگائی بھی تھی اور عوام دو پارٹیوں کے گھٹن زدہ ماحول سے بھی تنگ آچکے تھے۔ اُس وقت مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ایک کالم لکھا جس میں عوام کا ایک تیسری سیاسی پارٹی تحریک انصاف کی طرف رجحان کو اچھی علامت قرار دیا تھا،اور لکھا تھا کہ اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ عوام ”موروثیوں“ سے نکل کر خود بھی اقتدار کے منصب تک پہنچ سکیں گے، ہر طرف میرٹ ہوگا اور جمہوریت کے بھی حقیقی ثمر عوام تک پہنچائے جا سکیں گے۔ پھر وقت نے دیکھا کہ 2013ءکے الیکشن میں اس مذکورہ پارٹی کو کم و بیش 36سیٹیں ملیں، اور 2018ءکے الیکشن میں تحریک انصاف نے حکومت بنا ڈالی۔ جو ساڑھے تین سال کا عرصہ چلی، اس دوران تحریک انصاف سے چند ایک غلطیاں بھی ہوئیں، جن کا خمیازہ اُنہیں ابھی تک بھگتنا پڑ رہا ہے ، لیکن جن سیاسی پارٹیوں اور مفاد پرستوں کو متوقع نوجوان قیادت سے خطرہ تھا اُنہوں نے جیسے تیسے کر کے پی ٹی آئی کو ساتھ ہی کھڈے لائن بھی لگا دیا ۔ اس جماعت نے اور کوئی کام کیا یا نہیں کیا مگر نوجوانوں کو بیدار کرنے میں یہ سب سے آگے رہے، انہیں شعور دیا، اور بتایا کہ جس ملک میں وہ رہ رہے ہیں وہ اُن کا ہے اور وہ اس پر حکومت کر سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ ملک کا 90فیصد نوجوان تحریک انصاف کے ساتھ کسی نہ کسی طریقے سے جڑا رہا۔ یہ جماعت جلسے کرتی تو ایک بار عوام کا سیلاب اُمڈ آتا۔ نوجوان ہاتھوں میں قومی پرچم اور اپنی پارٹی کا پرچم تھامے خاصے متحرک نظر آتے۔ لیکن ”سانحہ 9مئی“ کے بعد ان نوجوانوں کی اکثریت کو پولیس اور سکیورٹی اداروں کے ذریعے دبا دیا گیا یا اُنہیں پابند سلاسل کر دیا گیا۔ ویسے ابھی تک یہ علم نہیں کہ یہ سانحہ تھا بھی یا نہیں کیوں کہ ابھی تک اس کے اصل کرداروں پر سے ہی پردہ نہیں اُٹھایا جا سکا۔ خیر بات نوجوانوں کی ہو رہی تھی تو اب مذکورہ سانحے کو ڈیڑھ سال ہونے کو ہے، مگر مجال ہے کہ نہ تو حکومت، نہ ہی عدالتیں اور نہ ہی سکیورٹی ادارے کسی نتیجہ پر پہنچ سکے ہیں۔ تبھی ہر ماہ لاکھوں نوجوان مایوسی کے عالم میں ملک سے باہر جا رہے ہیں ، ایک رپورٹ کے مطابق ملک کا پڑھا لکھا طبقہ یا تو ملک سے کوچ کر چکا ہے یا کوچ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ کیوں کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک میں نیم ڈکٹیٹر شپ قائم ہے جو جمہوری آوازوں کو مسلسل دبا رہی ہے۔ نہیں یقین توآپ خود دیکھ لیں کہ سرکار ملک کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف کو ایک چھوٹا سا جلسہ کرنے کی اجازت دینے سے بھی قاصر ہے، اور خوفزدہ ہے کہ پتہ نہیں جلسے کے بعد کونسی قیامت آجائے گی۔ ابھی گزشتہ روز ڈرامائی انداز میں اسلام آباد میں جس طرح تحریک انصاف کے ہاتھوں ہی جلسہ منسوخ کروایا گیا، تاریخ میں اُس کی مثال بھی نہیں ملتی۔ اس حوالے سے آپ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ کی مبینہ آڈیو سن لیں جس میں وہ اعظم سواتی و دیگر رہنماﺅں پر الزام لگا رہی ہیں کہ یہ کس کے بندے ہیں اور کیوں جلسہ منسوخ کروانا چاہتے ہیں۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ فروری میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد سے پی ٹی آئی نے پانچ مرتبہ اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی تاریخ کا اعلان کیا۔ لیکن ایک مرتبہ بھی اعلان کردہ تاریخ پر عوامی اجتماع کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔اس کی وجہ سکیورٹی ادارے ہیں یا حکومت یہ بات تو سب کے علم میں ہے لیکن حکمرانوں کو ایک مرتبہ تو یہ بات سوچنی چاہیے کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے اور اسے خود کو زندہ رکھنے کے لیے سیاسی ضروت ہے کہ وہ عوامی طاقت کا اظہار کریں۔لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ تحریکِ انصاف کے ساتھ کالعدم جماعت جیسا سلوک ہو رہا ہے۔ میرے خیال میں ملک میں سیاسی گہما گہمی ہونی چاہیے، جلسے جلوسوں کی اجازت ہونی چاہیے، اس سے ملک میں جمہوریت کی نرسری پھلتی پھولتی ہے، دنیا میں پاکستان کا مثبت چہرہ سامنے آتا ہے، ورنہ دنیا میں لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو چلانے والے کوئی اور ہیں۔ اور پھر یہ سب چیزیں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں،،،جبکہ موجودہ حکومت کا کردار صرف جی حضوری کا ہے، انہیں صرف اُتنا ہی بولنے کی اجازت ہے جتنا کہا جائے، اس سے زیادہ یہ نہ کچھ بولتے ہیں اور نہ ہی اپنی عقل استعمال کرتے ہیں۔ اس پر تو مجھے ایک قصہ یاد آگیا کہ ایک نوجوان سے کسی لڑکی نے پہلی مرتبہ ملاقات کی ہامی بھری تو نوجوان نے اپنے جہاندیدہ ”ایکسپرٹ“ دوست سے مشورہ کیا کہ اسے ”ڈیٹ “ پر کیا کرنا چاہیے۔ دوست نے جواب دیا کہ اسمارٹ عورتیں عموماً تین موضوعات پر گفتگو کرنا پسند کرتی ہیں، اپنے کھانے کی پسند نا پسند کے بارے میں، گھر والوں کے متعلق اور فلسفہ۔ نوجوان نے یہ بات پلے سے باندھ لی اور اگلے روز ملاقات کیلئے لڑکی کے پاس پہنچ گیا۔ تھوڑی دیر تک دونوں چ±پ چاپ بیٹھے ایک دوسرے کو تکتے رہے، پھر لڑکے نے پوچھا ”کیا تمہیں آلو کے قتلے پسند ہیں؟“ لڑکی نے جواب دیا ”نہیں۔“ لڑکا خاموش ہو گیا، چند لمحے بعد اُس نے دوبارہ پوچھا ”کیا تمہارا کوئی بھائی ہے؟“ لڑکی نے کہا ”نہیں۔“ کچھ سوچنے کے بعد بالآخر لڑکے نے آخری پتہ پھینکا۔ ”اچھا، اگر تمہارا کوئی بھائی ہوتا تو کیا اسے آلو کے قتلے پسند ہوتے؟“ جو مشکل اس نوجوان کو پیش آئی وہی اس وقت موجودہ حکومت کو آتی ہے،،، تبھی یہ چھوٹے موٹے جلسے جلوسوں میں پھنسی نظر آتی ہے۔ ورنہ ایک جلسہ کر نے کی اجازت دے دینے سے بھلا ان کا کیا جائے گا؟ خیر دوسری طرف ”اغلوں“ کا کردار بھی کچھ زیادہ ہی Prominent ہو رہا ہے،،، اُنہیں بھی چاہیے کہ بھیا! پہلے کی طرح اگر یہ کردار چھپ چھپا کے ہو جائے تو بہتر ہے،،، اس سے ہماری جمہوریت کی واٹ نہیں لگے گی اور نہ ہی کوئی اس نام نہاد جمہوریت کا مذاق بنائے گا! اور سب سے اہم ہمارا وزیر اعظم بھی کٹھ پتلی نہیں بلکہ اصل وزیر اعظم لگے گا،،، جو اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوگا۔۔ تب ہی اس کے پاس تحریک انصاف بھی آئے گی،،، اور ملک بھی ترقی کرے گااور ساتھ امن بھی آئے گا۔ اور سب سے بڑی بات کہ جب تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہوں گی تو پھر کچے کے ڈاکو بھی کھلے عام ہمارے پولیس بھائیوں پر راکٹ لانچر سے حملے نہیں کریں گے۔ خیر میں یہاں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ وطنِ عزیز کی سماجی حرکیات تبدیل ہو گئیں‘ نوجوان اکثریت میں ہیں اور وہ مایوس نظر آتے ہیں۔ انہیں مفت لیپ ٹاپ کی رشوت دیں یا سمارٹ فونوں سے نوازیں‘ لگتا نہیں کہ اب وہ دوبارہ موروثیوں کا ساتھ دیں گے۔ تھوڑا سا ٹھنڈے دل سے کچھ ضمیر کی آواز سنیں اور اپنے خاموش لمحوں میں گزشتہ انتخابات کے اصل نتائج پر غور کریں۔ اچھی بات یہ ہے کہ جمہوریت لولی لنگڑی اور کسی حد تک اپاہج ہی سہی‘ رینگ تو رہی ہے اور جب کبھی لگامیں ڈھیلی ہوئیں‘ یہ اپنا رنگ بھی دکھاتی رہی ہے۔ اسی عمل سے نئی قیادت ابھری تھی‘ اور اسی عمل سے وہ اپنے انجام کو بھی پہنچتی اگر کچھ ذاتی مفادات اور بے صبری کے مظاہرے نہ ہوتے۔ لوگوں کی ذہانت اور دانش مندی کے ہم تو قائل ہیں کہ انہیں کبھی بھی زیادہ دیر تک نہ بے وقوف بنایا جا سکتا ہے نہ بے خبر رکھا جا سکتا ہے۔ اس بات پر تو اتفاق ہے کہ ہم نے قیادت کی تشکیل کا عمل عوام پر نہیں چھوڑا۔ یہ سیاسی خاندانوں اور ان کے سرپرستوں نے ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ یہ جو پرانے سیاسی گھرانے ہیں‘ اگر عوام ان کے ساتھ ہوتے تو پھر سامراجی آقاﺅں اور اب مقتدرہ کی سرپرستی کی انہیں کیا ضرورت تھی؟ لیکن اس وقت حالات یہ ہیں کہ جلسے کرنے کے حوالے سے سوچنے پر بھی آپ کو اُٹھا لیا جاتا ہے، آپ پر طرح طرح کے غلیظ مقدمات قائم کر دیے جاتے ہیں ، حالانکہ میرے خیال میں اب مقدمات کا تھوڑا بہت موڈ ہی تبدیل کر دیا جانا چاہیے،،، کیوں کہ اب تو لوگ ان کیسز اور اقدامات پر ہنستے ہیں،،، ایسا کرنے والوں کا مذاق اُڑاتے ہیں، ،،دنیا میں ہر چیز تبدیل ہو چکی ہے،،، حالات بدل چکے ہیں،،، رہن سہن بدل چکا ہے،،، لیکن ہم ہیں کہ انتشاری سیاست کی طرف جا رہے ہیں ،،، بلکہ یوں لگ رہا ہے جیسے ریاست خود امن نہیں چاہتی،،، حالانکہ یہ باتیں حکومت کو کرنی چاہیے کہ امن قائم کریں لیکن حکومتی ہتھکنڈے دیکھ کر خود اکثریت والی لیکن مظلوم پارٹی بول اُٹھی ہے کہ خدارا بس کردیں،،، ظلم کو بند کریں،،، اور سیز فائر کریں۔ میرے خیال میں لوگوں کے اندر پکنے والا لاوا اگر باہر آیا تو پھر کچھ نہیں بچے گا، جس کے بعد آپ کو تو ملک چھوڑ کر جانے میں محض چند منٹ لگیں گے،،، لیکن ہم نے یہیں رہنا ہے،،، ہماری زندگی یہیں ہے،،، میں پھر یہی کہوں گا کہ مفاد پرست لوگ مفاہمت نہیں چاہتے کیوں اُن کی دیہاڑیاں بند ہو جانی ہیں،،، حالانکہ اس کے برعکس پاکستان کا ہر شہری پاکستان کا survivalچاہتا ہے،،، پاکستان میں امن چاہتا ہے،،، اور یہ امن صرف اُسی وقت ممکن ہے جب آپ ملک میںجمہوریت کو پنپنے دیں ورنہ ہمارا اور اداروں کا اللہ ہی حافظ ہوگا!