محمد علی درانی ، مفاہمت کا منبع !

دوست احباب کی محفل میں یا کسی تقریب میں۔ ہر جگہ آپ چلے جائیں وہاں چند ایک سوال آپ کا انتظار کر رہے ہوں گے کہ کیا پاکستان کے حالات بہتر ہوں گے؟ پاکستان کا کیا بنے گا؟ یا کیا پاکستان میں کبھی سیاسی استحکام آئے گا؟ وہاں آپ سوال پوچھنے والوں کے چہروں کے تاثرات دیکھ کرآپ کو لگتا ہے کہ وہ آپ سے مزید بری خبروں کی توقع کر رہے ہیں، وہ ایسی توقع رکھتے بھی اسی لیے ہیں کہ کہیں کوئی اچھی خبر سننے کو نہیں ملتی۔ کبھی مہنگائی کے بڑھتے مسائل، کبھی بڑھتے جرائم، کبھی امن و امان کی خراب صورتحال، کبھی بے روزگاری، کبھی خودکشیاں، کبھی پارلیمنٹ پر حملہ، کبھی وزیر اعلیٰ کئی گھنٹوں کے لیے غائب، کبھی مقتدرہ کا اوپن ہینڈڈ سیاست میں عمل دخل، کبھی ہمسایہ ممالک کی طرف سے مداخلت، کبھی ہمسایوں کی ہرزہ سرائی، کبھی بلوچ علیحدگی پسند تحریکوں کی کارروائیاں، کبھی ملک کی سب سے بڑی پارٹی پر پابندی کے فیصلے، کبھی مبہم ، پوشیدہ اور خطرناک قانون سازی، کبھی عدلیہ کی آپسی لڑائی، کبھی ججز کا جھکاﺅ، کبھی فیصلے کے خلاف حکمرانوں کا سخت ری ایکشن اور پھر بڑھتی کرپشن کے مسائل جیسی گھمبیرتاﺅں کے درمیان کیسے ممکن ہے کہ عوام کسی اچھی خبر کی توقع رکھے۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان مسائل کا کیا کبھی حل نکلے گا بھی یا نہیں؟ تو میرے خیال میں ان مسائل کا حل صرف اور صرف ڈائیلاگ میں پنہاں ہیں۔ یہ ڈائیلاگ قومی سطح پر بھی ضروری ہیں، مقامی سطح پر بھی اور ہمارے محلوں کی صورت میں بھی۔ یقینا اس کا کہیں نہ کہیں فائدہ ضرور چھپا ہوتا ہے۔ ورنہ کبھی بھی امریکا جیسے ملک میں صدارتی انتخاب سے پہلے صدارتی اُمیدواروں کے درمیان مباحثے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ آج بھی وہاں کمیلا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تاریخی مباحثہ ہوا ہے جہاں ملکی مسائل پر بات چیت بھی ہوئی اور ایک دوسرے کی سیاسی پارٹی پر الزامات بھی لگائے گئے۔ مگر یہ الزامات تخریبی نہیں بلکہ تعمیری ہوتے ہیں۔ خیر راقم بھی اسی 25کروڑ عوام کا حصہ ہے، جواس وقت انہی مسائل سے نمٹ رہے ہیں، لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم صحافی بھی ہیں، یہ اور طرح کی مخلوق ہوتی ہے، ہمارے پاس بسا اوقات جواب دینے کے دو آپشن ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ دوستوں کے برعکس انہیں جواب دیا جائے ، یا دوسری بات یہ کہ مایوسی پھیلائی جائے۔ اور پھر عمومی طور پر صحافی کے پاس ویسے بھی کوئی خیر کی خبر نہیں ہوتی اس لیے آپ یہ تو بھول جائیں کہ وہ آپ کو کوئی اچھی خبر دے گا۔ اس لیے پھر وہی کام رہ جاتا ہے کہ ملک کے ایکسپرٹ لوگوں کے ساتھ جنہیں ان مسائل کا ادراک ہے، خواہ وہ جرائم کی دنیا سے جڑے ہوں یا سیاست کی اندھیر نگریوں سے ۔ اُنہیں بلا کر اُن سے ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے پر بات چیت کرنی چاہیے، تبھی راقم اور اُسکی ٹیم نے ایک فورم کا آغاز کیا ہے جس کا نام ”لیڈرز فورم“ رکھا ہے۔ اس فورم کا سلوگن ہے۔ Come and Dabate to Build the Nation اس فورم میں ہر اُس شخصیت کو مدعو کریں گے، جنہوں نے اعلیٰ ترین عہدوں پر وقت گزارہ ہو، یا گزار رہے ہوں۔ اس دفعہ ہمارے ساتھ جو شخصیت موجود تھیں وہ محمد علی درانی (سابق وزیر اطلاعات ) تھے۔ اور آجکل موصوف اپوزیشن ، مقتدرہ اور حکومتی ایوانوں کے درمیان پل کا کر دار ادا کر رہے ہیں، آپ جب بھی اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی بات سنیں گے تو آپ محمد علی درانی کو ان کے درمیان میں موجود پائیں گے۔ یہ ان کی شخصیت کا کمال ہے یا کچھ اور،،، یہ میں کالج کے زمانے سے آج تک نہیں جان سکا۔ بہرحال اُنہوں نے فورم سے خطاب میں کہا کہ انہوں نے جب بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی کوششیں شروع کیں، حکومت وقت نے درمیان میں روڑے اٹکانے شروع کردیے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں آئین اور قانون کوعزت نہیں دی گئی ہمیشہ ایسے مفادات کو ترجیح دی گئی، جس میں کسی کا ذاتی فائدہ ہو۔ انہوں نے فروری میں ہونیوالے انتخابات کے نتائج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اب عوام بہت باشعور ہوچکی ہے عوامی طاقت کو اہمیت دینا ہوگی صرف ان ممالک نے دنیا میں ترقی کی جہاں عوام کو اہمیت دیتے ہوئے جمہوری روایات کو فروغ دیا گیا، پاکستان کو اس وقت ہر محاذ پر چیلنجز کا سامناہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہم عوام کو یکسر نظر انداز کررہے ہیں آئین کی دھجیاں ا±ڑانا اب بند ہوناچاہیے عوام کی طاقت کو ماننا چاہیے، اس کے لیے ضروری ہے کہ بلدیاتی نظام کو مضبوط کیا جائے حالیہ بحران سے نکلنے کا واحد حل فوری انتخابات ہیں جس میں کسی کی بھی مداخلت نہ ہو صرف اور صرف عوام کی رائے اور ووٹ کو اہمیت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں واحد شخص تھا جس نے 18ویں ترمیم کی مخالفت کی تھی ، پاکستان میں شفاف اور منصفانہ انتخابات اسی صورت میں ممکن ہیں کہ ایک ہی دن میں بلدیاتی ،قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوں انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ 1947ءسے لیکر آج تک جس انداز میں تبدیلی لائی گئی اسکا اتنا نقصان ہی اٹھانا پڑا۔ میں نے 8فروری کے انتخابات سے قبل مفاہمت کا فارمولا پیش کرتے ہوئے ایک قومی حکومت کے قیام کیلئے عملی جدوجہد کی تھی اس سلسلے میں میرے تمام جماعتوں کے رہنماﺅں سے تفصیلی مذاکرات بھی ہوتے تھے تاہم ن لیگ مذاکرات کی کامیابی میں آڑے آئی کیونکہ اسے یقین ہوچکا تھا کہ انتخابات کے بعد حکومت اسے ہی ملے گی ۔ اب بھی مفاہمت کی سیاست میں ن لیگ سب سے بڑی مخالف ہے ۔محمد علی درانی نے مزید کہا کہ فوج کو خواہ مخواہ سیاست میں نہ گھسیٹا جائے یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت اور فوج ایک پیج پرہیں فوج کا اپنا کام ہے حکومت کا اپنا کام ہے۔ 8فروری کے انتخابات تو منعقد ہونے سے پہلے ہی متنازع ہوچکے تھے، جب ایک ہی جماعت کے امیدواروں کو گرفتار کیاجارہاتھا ان کا انتخابی نشان چھین لیا گیا اسکے ووٹررزاور سپورٹرز کو ہراساں کیاجارہاتھا ،ان تمام حربوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ کیے جاسکے جب فارم 45پر گزارہ نہ ہوا تو فارم 47کا سہارا لیکر حکومت بنائی گئی موجودہ حکومت فارم 45کے تحت بھی بنائی جاتی تو یہ ناقابل قبول اور متنازعہ ہوئی انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی بھی جمہوریت بلدیاتی انتخابات کے بغیر ممکن نہیں بدقسمتی سے ہمارے ہاں بلدیاتی نظام کو کچلا جاتاہے پاکستان میں بااثر مضبوط وڈیروں نے ہمیشہ اقتدار حاصل کیا۔ اس لیے عام عوام نے کبھی اقتدار کی شکل نہیں دیکھی موروثی سیاست کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیاہے کہ آل پارٹیز کانفرنس کی بجائے اپوزیشن پارٹیز کا نفرنس ہونی چاہیے عوام کی رائے اور طاقت کو اہمیت دینی چاہیے یہاں بدقسمتی سے عوام کی بجائے اپنے مفادات کی ڈیل کی جاتی ہے۔ جب مفادات پورنے نہ ہوں تو حکومت ٹوٹ جاتی ہے ۔ بہرحال محمد علی درانی نے بہت سی بولڈ اور تعمیری باتیں کیں۔ ان سیانی باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ اگر واقعی درانی صاحب جیسے لوگ اقتدار میں آجائیں تو کم از کم وہ موجود ہ حکومت کے برعکس جیتی ہوئی جنگ میں بم پھینکنے کے بجائے مفاہمت کو فروغ دیں گے اور کم از کم ہمارا ایک ادارہ اور وہ بھی سیاسی ادارہ تنقید سے بچ جائے گا کہ اس میں کبھی استحکام آہی نہیں سکتا۔بہرکیف راقم کا یہ تجربہ نہایت شاندار رہا، کہتے ہیں کہ اگر آپ پوری قوم کو ٹھیک نہیں کر سکتے تو کم از کم اُس کے ٹھیک ہونے کی داغ بیل ضرور ڈال سکتے ہیں۔۔۔ اور پھر ایسا بھی نہیں ہے کہ مسائل کے حل موجود نہ ہوں،،، دنیا میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس کا حل موجود نہ ہو،،، مسئلہ صرف وہاں آتا ہے کہ ہم اُس مسئلے کو ڈسکس کرنے سے ہی گریز کرتے ہیں۔ ایک انگریزی کہاوت ہے کہ “A problem well stated is a problem half solved.” یعنی آدھا مسئلہ تو اُسی وقت حل ہو جاتا ہے جب وہ موضوع بحث بنتا ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ہم سب کو ایسی سوچ رکھنی چاہیے تاکہ ہم بھی ملک و ملت کی تعمیر میں حصہ ڈال سکیں!(اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو)۔