پارلیمنٹ میں نقاب پوش اہلکاروں کی آمد: یہ تو ہونا ہی تھا!

یوں تو ہر روز کوئی ایسا حادثہ ضرور سامنے آتا ہے جس سے سیاسی و سماجی ہلچل بنی رہتی ہے اور لوگوں میں بحث و مباحثہ کا ماحول گرم رہتا ہے لیکن ان ہی حوادث میں کچھ ایسے شرمناک واقعات بھی ہوتے ہیں جن کا تذکرہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ میں رونما ہونے والا واقعہ اس کی تازہ مثال ہے، جس کے سبب ایک بار پھر دنیا کے سامنے ہماری جمہوریت کا سر شرم سے نیچا ہو گیا۔ حالانکہ یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے،اس سے پہلے بھی کئی بار پارلیمان کا استحقاق مجروح ہوا ہے لیکن اس بار تو حد ہی ہوگئی۔ ہوا کیا ہے؟ اس پر تو بعد میں بات کریں گے مگر یہاں یہ بتاتا چلوں کہ آج کل پارلیمنٹ میں اس حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے۔ اور کچھ اچھی باتیں بھی ہو رہی ہیں اور کچھ بری بھی ،،، جیسے بلاول کی تقریر ملاحظہ فرمائیں کہ ”آئین کی بالادستی کے بغیر پارلیمنٹ سمیت کوئی ادارہ نہیں چل سکتا، اگر آج آپ حکومت میں ہیں تو کل آپ اپوزیشن میں ہوں گے، پھر وہی چیزیں دہرائی جائیں گی جو آج ہو رہی ہیں، سیاست اپنی جگہ لیکن ہمیں ورکنگ ریلیشن شپ رکھنا ہے،عوام نے اپنے نمائندوں کو منتخب کیا، ہم نے سیاست کو گالی بنادیا ہے۔ اسمبلی کی گیلریز میں اس وقت طلبا جو ملک کا مستقبل ہیں ، وہ بیٹھے ہیں، ہم نے اسی سیاست سے عوام کو تحفظ، ریلیف دیناہے،ہم باہر جوسیاست کریں وہ ہمارا مسئلہ ہے، لیکن ایوان کے اندر ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، آئین کی بالادستی کے بغیر پارلیمنٹ سمیت کوئی ادارہ نہیں چل سکتا، سیاست اپنی جگہ لیکن ہمیں ورکنگ ریلیشن شپ رکھنا ہے۔ ہمیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں، حکومت کاکام آگ بجھانا ہے، مزید آگ لگانا نہیں، اپوزیشن کا بھی یہ کام نہیں کہ ہر وقت گالی دے، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو دیکھنا ہوگا،انہیں نبھاناہوگا، اگر حکومت یہ سوچے گی کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہے تو یہ ایک دن کی خوشی ہوگی، اگلے دن آپ بھی اسی جیل میں ہوں گے، اگر ہم آپس کی لڑائی میں لگے رہے تو ملک کیسے آگے بڑھے گا۔ ہمیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں۔“ سوال یہ ہے کہ ایسی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس سوال کے جواب کے لیے 2، 3دن پیچھے چلتے ہیں جب 9اور 10کی درمیانی رات پارلیمنٹ سے 10کے قریب اراکین اسمبلی اُٹھائے گئے،،، ہوا کچھ یوں کہ 8ستمبر کو تحریک انصاف نے اسلام آباد میں جلسہ کیا، اور وہاں تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرین سے چند” سنگین“غلطیاں ہوگئیں۔ پہلی یہ کہ جلسے کے اوقات کار 7بجے شام تک کے تھے، لیکن انہوں نے حسب روایت جلسہ لیٹ کر دیا، اور اسی پر پولیس اور شرکاءمیں مدبھیڑ ہوگئی۔ پھر درمیان میں پارٹی کے لیڈران نے دو گھنٹے کا مزید وقت لیا اور جلسہ دوبارہ شروع کیا گیا۔ اتنے میں پشاور سے وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور بھی قافلے کے ہمراہ جلسے کے مقام پر پہنچے تو وہاں انہوں نے جوش خطابت میں تقریر کی اور اداروں، صحافیوں اور حکمرانوں کو رگڑا لگا دیا۔ جس پر سب سے پہلے اُنہیں مبینہ طور پر 8گھنٹے کے لیے ”غائب“ کیا گیا ،،، ایسا میں نے اس لیے کہا کیوں کہ اُنہی کے مشیر بیرسٹر سیف نے اُسی وقت خود کہا کہ علی امین سے رابطہ نہیں ہو پارہا ، لہٰذاخدشہ ہے کہ اُنہیں گرفتار کر لیا گیا ہے وغیرہ ۔ اس کے بعد اگلی رات یعنی پیر کی رات کو پارلیمنٹ سے درجن بھر اراکین کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گرفتاریاں بھی ڈرامائی انداز میں ہوئیں،،، یعنی بعض صحافیوں کی رپورٹس کے مطابق ہوا کچھ یوں کہ 9ستمبر کی شام پولیس نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے گیٹ پر ناکہ لگا لیا اور تحریک انصاف کے اراکین کو گرفتار کرنے کا فیصلہ جو پہلے ہی ہو چکا تھا ،،، کیا گیا۔ اس سے پہلے شیر افضل مروت سمیت دیگر رہنماﺅں کو بھی گرفتار کیا جا چکا تھا۔ اخبارات میں شائع رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر نقاب پوش افراد داخل ہوئے، تو پارلیمنٹ لاجز میں موجود کئی ایم این اے اپنے اپارٹمنٹس کی بالکونیوں میں آگئے اور موبائل فون کے کیمروں سے فلمیں بنانے کی کوشش کرنے لگے، لیکن نقاب پوشوں کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے عملے کی طرف سے مکمل تعاون فراہم کیا جا رہاتھا۔اس تعاون کے نتیجے میں اچانک پارلیمنٹ ہاﺅس کی عمارت اندھیرے میں ڈوب گئی۔ پھر جوبھی ہوا اندھیرے میں ہوا اور کیمروں کی آنکھیں انسانی جسموں کی بجائے کچھ سیاہ سائے ہی دیکھ پائیں۔ ان سیاہ سایوں نے 10ستمبر کو ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ سیاہ سائے ارکان پارلیمنٹ کو گھسیٹ کر اپنی سیاہ گاڑیوں تک لائے اور صبح کی روشنی نمودار ہونے سے پہلے ہی اندھیروں میں گم ہوگئے۔ اس تاریخی کارروائی پر پارلیمنٹ کے ارکان کی اکثریت رنجیدہ ہے۔ اس پر ایک دوست ایم این اے سے میری بات ہوئی تو وہ کہنے لگے، کہ اب تو ہمیں پارلیمنٹ سے بھی خوف آنے لگا ہے، حالانکہ ایک ایم این اے کو صرف اور صرف اسی ایوان کا پاس ہے کہ ہم اس کا تحفظ کر رہے ہیں اور یہ ہمارا تحفظ کرے گی۔ لیکن حکومت نے سب کچھ ختم کر دیا۔ اُنکی ایسی باتوں سے میں نے اُن سے کہا کہ یہ کام تو تحریک انصاف کے دور میں بھی ہوا تھا۔ تب بھی احتجاج ہونا چاہیے تھا؟ اور قانون کو حرکت میں آنا چاہیے تھا۔ انہوں نے رنجیدہ لہجے میں کہا کہ ہوا اُس وقت بھی غلط تھا، اور ہوا اب بھی غلط ہے۔ لیکن ان سب چیزوں سے بڑھ کر مسئلہ ”سپرمیسی“ کا ہے۔ کہ جن اداروں کو پارلیمان نے بنایا ہے ، آج وہی ادارے اس پر چڑھائی کر رہے ہیں۔ خیر مختصراََ یہ کہ تحریک انصاف کے ایم این اے صاحبان رنج والم کی حدود پھلانگ کر انتقام کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ بالکل اُسی طرح کہ جب تحریک انصاف کی حکومت تھی تو مسلم لیگ (ن) والوں پر غلط مقدمے بنے اور انہیں جیلوں میں ڈالا گیا۔ مسلم لیگ (ن) والے بھی یہی کچھ کر لیتے تو حساب برابر ہو جاتا لیکن انہوں نے تو پی ٹی آئی کی عورتوں اوربچوں کو بھی نہیں بخشا بلکہ اب تو انتہا یہ ہے کہ پارلیمنٹ ہاﺅس کے اندر سے گھسیٹ گھسیٹ کر گرفتار کیا ہے۔لہٰذااب جب دوبارہ کبھی تحریک انصاف کی حکومت آئی تو کیا اُس کے ایم این اےز آج کے وزراءیا ایم این ایز کو معاف کریں گے؟ کبھی نہیں! فکر انگیز بات یہ ہے کہ یہ غلط روایت قائم ہورہی ہے،،، اور یہ سب اسی لیے ہو رہی ہے کہ ہمارے سیاستدان غلط ہاتھوں میں چلے گئے ہیں۔ ورنہ تو گزشتہ سال ”توہین پارلیمنٹ“ کا قانون بنا تھا جس کے مطابق پارلیمان کی توہین کرنے والے یا اسکا استحقاق مجروح کرنے والے کو کم از کم 6ماہ قید اور 10لاکھ ہوگی۔ اس سزا کا فیصلہ پارلیمنٹ کی ایک خصوصی کمیٹی کر سکتی ہے۔ اس کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا۔ کمیٹی کو سول عدالت کے اختیارات حاصل ہوں گے۔کمیٹی توہین پارلیمنٹ کے کسی بھی ملزم کو طلب کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اس کمیٹی کے سامنے جھوٹ بولنا بھی توہین پارلیمنٹ کے زمرے میں آئے گا۔ کمیٹی کے فیصلوں پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعہ عملدرآمد ہو گا۔اس کمیٹی کے فیصلوں کیخلاف اپیل بھی اسپیکر یا چیئرمین سینٹ سنے گا۔ قانون موجود ہے تو پھرا سپیکر قومی اسمبلی کو 10ستمبر کے واقعے کی تحقیقات کیلئے پولیس کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں۔ توہین پارلیمنٹ کی کارروائی کیلئے کمیٹی بنائیں اور اپنے بنائے ہوئے قانون کو خود آزمائیں۔ اس قانون کے مطابق تو پارلیمان بڑے سے بڑے سرکاری افسر کو بھی کام کرنے سے روک سکتی ہے، جیسے بل کی شق چار کے مطابق اگر ایوان کی جانب سے استحقاق کمیٹی کی رپورٹ پر پیش رفت کی جاتی ہے تو توہین کے مرتکب فرد کو توہین کی کارروائی کے خاتمہ تک کوئی بھی سرکاری کام کرنے سے روک دیا جائے گا۔ بہرحال جو بھی ہوا،،، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اس پر مٹی ڈالنے کی بھرپورکوشش کی، یعنی انہوں نے آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کو فوری طلب کیا جو ان کے چیمبر پہنچے۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اس واقعے پر بہت رنجیدہ ہوں نہ آپ پارلیمنٹ ہاو¿س سے کسی کو گرفتار کر سکتے ہیں نہ پارلیمنٹ لاجز سے۔‘انہوں نے اُسی وقت گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے اور اُنہیں جمعرات کے روز اسمبلی میں پیش کیا گیا،اس کے علاوہ انہوں نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی کی ناکام پر سارجنٹ ایٹ آرمز سمیت پانچ اہلکاروں کو معطل کردیااور 16رکنی کمیٹی بھی بنا ڈالی۔ لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق اسپیکر کی یہ کارروائی آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ کیوں کہ جب پارلیمنٹ کے اندر کارروائی ہو رہی تھی اور نقاب پوش ٹارچر کے ذریعے اراکین کو تلاش کر رہے تھے تو دیگر اراکین اسمبلی کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اُس وقت ثبوت مانگ رہے تھے۔ ہو سکتا ہے ایسا ہی ہوا! کیوں کہ اب اس ملک میں کچھ بھی ناممکن نہیں رہا۔ کل کلاں سپریم کورٹ پر بھی ایسی کارروائی ہوئی تو دیکھنے کیسے زلزلہ آتا ہے،،، لیکن یہ پارلیمنٹ ہے، اگلوں کو بھی پتہ ہے کہ ان میں آپس میں قطعاََ کوئی سلوک نہیں ہے،،، سب کو پتہ ہے یہ کچھ نہیں کر سکتے ،،، اگر یہ کچھ کر سکتے ہیں تو صرف اور صرف پریس کانفرنس ،،،یا ایک آدھ مذمتی قرارداد ۔ اس سے زیادہ یہ کچھ نہیں کر سکتے۔ بہرکیف دنیا بھر میں پارلیمان کا وقار اتنا ہی ہے جتنا ہم اپنی مذہبی عبادت گاہوں کا کرتے ہیں۔ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ اس ادارے کو پاکستان میں سپریم ہونے کا درجہ حاصل نہیں۔ پاکستان کے آئین کی رو سے پارلیمنٹ ایک سپریم ادارہ ہے جس کے بنائے ہوئے قوانین اور اصولوں کے تحت عدالتیں اپنے فیصلے دیتی ہیں۔لیکن جب پارلمنٹیرینز جب گھگو گھوڑے بن جائیں تو پارلیمنٹ کی بالادستی کی جنگ کوئی اور کیوں لڑے گا؟کیا مقتدرہ کرے گا؟ پارلیمنٹ کی بالادستی پارلیمنٹیرینز کے کردار و عمل کے ساتھ منسلک ہے، اپنے بنائے ہوئے قوانین کا تحفظ کرنا پارلیمنٹیرینز کا فرض اولین ہیں اور ایسا کرنے سے ہی پارلیمنٹ کی بالادستی کا تصور عملی شکل اختیار کرسکے گا۔ پاکستان میں موجودہ سیاسی انارکی کے دور میں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کو ملک کے آئین اور پارلیمنٹ کے کردار کی کوئی فکر نہیں ہے۔سیاسی ناپختگی ، انا اور ذاتی مفادات کے بوجھ تلے دبی ہوئی سیاست اور جمہوریت سڑکوں پہ بھٹکتی پھر رہی ہے یا عدلیہ کے سامنے سائل بن کر کھڑی ہے، اس وقت ہماری سیاسی قوتوں کا انتشار بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور کوئی ایسی صورت نظر نہیں آرہی جو ریاست کو اس بحرانی کیفیت سے نکال سکے۔اس سارے منظر نامے میں ملک کے 24 کروڑ عوام بے چارگی کی تصویر بنے ہوئے ہیں، انھیں روزانہ ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں جو ان کا رہا سہا خون بھی خشک کر دیتی ہیں، جس کے بعد سوال پھر وہی ہوتا ہے کہ اس ملک کا کیا بنے گا؟