حکومت سیاسی سرگرمیاں روکنے سے باز رہے!

تحریک انصاف کو ایک عرصے بعد لاہورمیں جلسہ کرنے کی اجازت ملی مگر وہ جلسہ کیا تھا بس پولیس اور کارکنوں کا شو آف تھا۔ کہ اتنی نفری لاہورمیں کبھی کسی جلسے پر تعینات نہیں کی گئی، جتنی اُس جلسے پر کی گئی تھی، اور پھر ہوا کچھ یوں کہ لاہوریوں نے جب تک جلسہ کرنا تھا، تب تک کیا، اور پھر ”وقت“ ختم ہوگیا اور پولیس کی طرف سے سب کچھ گول کر دیا گیا۔ اسی اثنا میں آدھا پنڈال خالی ہوگیا، اور پھر عوام کی بھیڑ کے ساتھ کے پی کے سے آنے والا وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی زیر قیادت قافلہ جو تاخیر کا شکار تھا جیسے تیسے کرکے جلسہ گاہ میں پہنچا تو مختصر خطاب کے بعد جلسہ ختم کردیا گیا۔ جس سے کارکنوں میں خاصی بے چینی پائی گئی۔ پھر گزشتہ ہفتے کو تحریک انصاف کی جانب سے جلسہ کے بجائے احتجاج کی کال دی گئی اورتمام کارکنوں کو راولپنڈی لیاقت باغ پہنچنے کو کہا گیا، مگر یہاں بھی کرفیو جیسے حالات تھے، پنجاب کے کارکن تو پہنچے مگر باہر سے آنے والے کارکنوںکو پنڈی شہر کنٹینر شہر جیسا لگا، تبھی کے پی کے سے آنے والا قافلہ برہان انٹرچینج پر پولیس کے شیلنگ کا سامنا کرتے ہوئے وہیں رک گیا، اورپھر وہیں علی امین گنڈا پور نے خطاب کیا۔ اور کارکنان مایوسی کے عالم میں واپس چلے گئے۔ کیاجمہوری ملکوں میں ایسا ہوتا ہے؟ کیا احتجاج کسی کا حق نہیں ہے؟ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟ کیا کے پی کے کے لوگ انڈیا سے آرہے ہیں؟ حکومت ایک طرف تو کہتی ہے کہ تحریک انصاف کی مقبولیت ختم ہوگئی ہے، جبکہ دوسری طرف اُنہیں جلسوں میں آنے کی اجازت نہیں دی جاتی، بڑے بڑے کنٹینر لگا کر راستے بند کر دیے جاتے ہیں، بلکہ جلسے جلوس سے دو دن پہلے ہی متعلقہ شہر میں کرفیو کا ماحول بنا دیا جاتا ہے۔ سمجھ سے باہر ہے کہ حکمران کیوں سیاسی سرگرمیوں کے مخالف ہیں، حکومت کیوں چاہتی ہے کہ کوئی دوسری پارٹی یہاں کام نہ کرے، صرف انہی کی اجارہ داری ہو، صرف یہی لوگ اپنی لوٹ مار مچائی رکھیں۔ بات چل نکلی ہے تو پھر آپ ان کی لوٹ مار کی صرف دو بڑی مثالیں سن لیں کہ پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدہ تو آپ نے سن رکھا ہوگا، کیا صدرزرداری عوام کو مطمئن کر سکتے ہیں کہ انہوں نے اس معاہدے پر دستخط کرتے وقت صرف ملک اور عوام کا بھلا سوچا تھا۔ ایران اس گیس پائپ لائن معاہدے کی خلاف ورزی پر اب اٹھارہ ارب ڈالر کا ہرجانہ مانگ رہا ہے جو صدر زرداری نے 2008ءمیں ایرانیوں سے طے کیا تھا۔ اس طرح کیا نواز شریف اور شہباز شریف اس بات کا حلف دے سکتے ہیں کہ انہوں نے 2013-18 کے درمیان ملک میں جو پاور پلانٹس لگائے تھے‘ ان میں عوام اور ملک سے زیادہ ان کے اپنے مفادات نہیں تھے اور ان کے اپنے رشتہ دار اور عزیز اس کھیل سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل نہیں تھے۔ آصف علی زرداری نے اُس وقت ایران سے گیس پائپ لائن معاہدہ کیا جب ایران عالمی پابندیوں کا شکار تھا۔ پاکستان کو علم تھا کہ امریکہ یہ ڈیل پوری نہیں ہونے دے گا‘ لیکن پھر بھی صدرِ مملکت نے ایران سے ڈیل سائن کی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہم ایران کو بزنس دے کر فیور کررہے تھے کیونکہ وہ عالمی تنہائی کا شکار تھا، لیکن اس معاہدے کے تحت ایران نے پاکستان کو گیس بھی مہنگی دی اور یہ معاہدہ طے کرنے والوں نے بڑی ”سمجھداری“ سے ایران کو یہ ہتھیار بھی دے دیا کہ اگر پاکستان اس سے گیس نہ لے سکا تو ہرجانہ دے گا اور اس کی ثالثی فرانس میں ہو گی۔ یعنی اُس معاہدے میں‘ جو پاکستان ایران کو فیور دینے کیلئے کر رہا تھا‘ سب شرائط ایران کی مانی گئیں۔ لگتا ہے کہ ہم عالمی پابندیوں کے شکار ایران سے گیس لینے نہیں گئے تھے بلکہ ایران پاکستان پاس آیا تھا اور اس نے اپنی مرضی کی شرائط پر ہمیں گیس بیچی۔ پاکستان میں ایرانی گیس سے ایک چولہا تک نہیں جلا اور ایران نے اس گیس کے اٹھارہ ارب ڈالرز مانگ لیے ہیں۔ یہ تھی ہمارے حکمرانوں کی دور اندیشی کہ انہوں نے اس معاہدے سے حکومت اور عوام کے ہاتھ باندھ دیے۔ اب ذرا آئی پی پیز کو دیکھ لیں۔ لگتا ہے اس ملک میں ڈالروں کی مشینیں لگ گئی ہیں‘ جو اٹھتا ہے وہ ڈالروں میں ادائیگی کے معاہدے کرتا ہے اور پھر یہ ادائیگیاں کرنے کے کیلئے آئی ایم ایف‘ چین‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے سود پر ڈالرز لیتا ہے۔ اب آئی پی پیز معاہدوں کو ہی دیکھ لیں کہ کیسے فی یونٹ قیمت کو ڈالر سے جوڑ دیا گیا جیسے بینک آف امریکہ ہم سے ڈالر چھپواتا ہو۔ ایک تو ٹیرف زیادہ دیا اور پھر اوپر سے اس ملک میں جتنی بجلی کی مانگ تھی اس سے سترہ ہزار میگا واٹ زیادہ کے پلانٹس لگوا دیے۔ اس پر بھی بات ختم نہیں ہوئی بلکہ ساتھ معاہدوں میں یہ شق بھی لکھوا دی کہ اگر ان بجلی گھروں سے بجلی نہ خریدی گئی تو بھی ادئیگی پوری ہوتی رہے گی جسے کپیسٹی چارجز کا نام دیا گیا۔ یوں اس ملک میں جہاں گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ ضرورت 25‘ 26 ہزار میگا واٹ ہے وہاں 42 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے کارخانے لگوا دیے گئے۔ اب ان پلانٹس کے مالکان سترہ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کیے بغیر پیسے لے رہے ہیں۔ اب بتائیں ایسے معاہدے جن حکمرانوں اور افسران نے مخصوص خاندانوں کی خوشنودی اور اپنی پوسٹنگ‘ ٹرانسفر کے لالچ میں کرائے ‘ کیا وہ اس ملک اور عوام کے دوست اور سگے ہیں؟ یہ اندھیروں کو روشنیوں میں بدلنے کا نعرہ لگانے والے اپنے کسی ذاتی کارخانے کیلئے ایسا معاہدہ کریں گے کہ وہ کسی پلانٹ کو اربوں کی ادائیگی کرتے رہیں چاہے وہ انہیں سروس کوئی نہ دے؟ کیا یہ لوگ اسی قسم کی دیہاڑیاں لگانے کی غرض سے کسی کو آگے نہیں آنے دیتے، کیا انہیں یہ علم نہیں ہے کہ کل کو یہ بھی اپوزیشن میں ہوں گے، ان کی بھی پکڑ دھکڑ ہوسکتی ہے، ان کے بھی جلسے جلوسوں پر پابندی لگ سکتی ہے، ان کے گھروں پر بھی پولیس بھیجی جا سکتی ہے، ان سے بھی 9مئی جیسا کوئی واقعہ رونما کروایا جا سکتاہے، ان کے کارکنوں کو بھی اذیتیں دے دیے کر جیلوں میں رکھا جا سکتا ہے، ان کے کاروباروں کو بھی بند کیا جا سکتا ہے، ان پر بھی نیب کو کھلا چھوڑا جا سکتا ہے، ان کے فنڈز بھی بند کیے جا سکتے ہیں، ان کے مرضی کے افسران بھی کھڈے لائن لگائے جا سکتے ہیں، ان کے مخالف افسران کو اچھی پوسٹیں دی جا سکتی ہیں تاکہ وہ ان پر بھی قہر بن کر ٹوٹیں۔ ان کی پارٹی پر بھی پابندی لگائی جا سکتی ہے، ان کا انتخابی نشان بھی ان سے چھینا جا سکتا ہے، ان سے بھی مکمل الیکشن چھینا جا سکتا ہے، اور پھر یہی نہیں بلکہ آئین میں مرضی کی ترامیم کروا کر انہیں بھی مستقل ٹھکانے لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ لوگ سب کچھ بھولے ہوئے ہیں بقول شاعر انہیں خود سوچنا چاہیے کہ دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے، سجناں وی مرجانا بہرکیف فرض کریں کہ 2024ءکا الیکشن حکومت بالکل ٹھیک جیتی ہے، تو کیا اپوزیشن پارٹیوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اگلے الیکشن کی تیاریاں کریں۔ کبھی آپ جلسوں کی اجازت نہیں دیتے، کبھی آپ احتجاج کا حق بھی نہیں دیتے، کبھی آپ کارنر میٹنگ سے بندے اُٹھا کر لے جاتے ہیں، کبھی آپ گھروںمیں چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرکے کارکنوں کو اُٹھا کر لے جاتے ہیں۔ اگر آپ کو عدلیہ کے کہنے پر بندوں کو چھوڑنا پڑے تو ساتھ ہی آپ دوسرے مقدمے میں اُس کی گرفتاری ڈال کر دوبارہ پابند سلاسل کر دیتے ہیں۔ کبھی آپ کو عدلیہ کے کہنے پر جلسے کی اجازت دینا پڑے تو لاہور سے باہر کاہنہ کاچھا کی طرف اجازت دیتے اور فکس ٹائمنگ رکھ دیتے ہیں۔ مطلب! آپ کسی بھی واقعے کو خود طول دیتے ہیں اور پھر خود ہی مدد مانگتے ہیں۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ حکومت کے پی کے میں خود بنگلہ دیش والے حالات پیدا کررہی ہے، وہاں کے عوام کو متنفر کر رہی ہے، اگر وہ لاہور یا پنڈی میں جلسہ کرنا چاہ رہے ہیں تو کرنے دیں، آپ بھی کے پی کے میں جلسہ کرکے شوق پورا کرلیں۔ کیا وہاں آپ کی پارٹی existنہیں کرتی؟ کیا وہاں ن لیگ کے جلسے جلوس نہیں ہوتے رہے؟ میرے خیال میں جمہوری ملک کو جمہوری ہی رہنے دیں، تو بہتر ہے، مارشل لاءوالے حالات پیدا کرکے کچھ نہیں بچے گا۔ آپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ فیڈرل حکومت آپ کے پاس ہے، پنجاب حکومت آپ کے پاس ہے، تمام ادارے آپ کے پاس ہیں، تو پھر ڈر کس بات کا ہے۔ لہٰذاسیاسی سرگرمیوں کو روکنا ملک میں انتشار کا باعث بنے گا۔ ملک میں تیسری قوت کو آنے سے روکے گا، ملک میں ایک خاصے طبقے کو متنفر کرے گا۔ آپ سیاسی سرگرمیوں کو روک کر شاید تھوڑی دیر کے لیے کامیاب بھی ہو جائیں، مگر یہ کامیابی دیر پا نہیں ہوگی۔ آپ روک روک کر تھک جائیں گے، مگر مظلوم کو جیسے ہی موقع ملے گا یہ دوبارہ اُٹھیں گے، اور زیادہ شدت کے ساتھ Reactکریں گے۔ اور پھر بنگلہ دیش یا سری لنکا جیسی صورتحال پیدا ہوتے ہوئے دیر نہیں لگے گی۔