آئینی ترامیم کا مسودہ چھپانا قومی جرم !

آخر کار ترامیم کو حتمی شکل دے ہی دی گئی ، پیپلزپارٹی اور مولانا فضل الرحمن نے اتفاق رائے سے ایک ”مبہم“ مسودے کو حتمی شکل دے دی۔ جس پر ن لیگ کے صدر نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کی ملاقات کے بعد اسے مزید حتمی مراحل سے گزارا جائے گا، اور یہ ایک قانون بن جائے گا۔ اس کے لیے ایک 17اکتوبر کا قومی اسمبلی کا اجلاس بھی بلا لیا گیا ہے اور بیرون ملک ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں سے کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے، اور تو اور سنا ہے، احتیاط کے طور پر تحریک انصاف کے بھی دو چار رہنما اس حوالے سے رابطے میں ہیں اور وہ اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس پر مولانا فضل الرحمن فرماتے ہیں کہ ہم آج بھی اُس بات پر قائم ہیں کہ ہم نے حکومت کا پہلا مسودہ مسترد کر دیا ہے۔ حالانکہ پہلے مسودے کے مطابق ایک آئینی عدالت کا قیام اور چیف جسٹس کی موسٹ سینئر ججز میں سے تقرری کا اختیار وزیر اعظم کو دینا تھا۔ لیکن اس بار تو مسودے کی کسی جگہ سے بھنک بھی نہیں پڑنے دی گئی ۔ تو کیا یہ قانونی جرم نہیں؟ کہ جس قانون کو جس رعایا کے ملک میں نافذ کرنے کا ارادہ کیا جارہا ہے، اُسی سے یہ قوانین چھپائے جا رہے ہیں۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ اپوزیشن جس کا حق ہے کہ مسودہ اُس کے ساتھ شیئر کیا جائے، اُس سے تو ایسے چھپایا جا رہا ہے کہ جیسے آسمانی صحیفہ ان کے ہاتھ لگ گیا ہو۔ حالانکہ آپ کو یادہوگا کہ اٹھارویں ترمیم کے دوران 8ماہ تک مسودے پر بحث ہوئی تھی ، تبھی اس کے حق میں 292 ووٹ اور مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہ پڑا۔ حالانکہ اس ترمیم میں آج بھی کئی خامیاں موجود ہیں،یعنی اتنی بحث کے بعد بھی اُس میں خامیاں ہیں تو حساب لگا لیں کہ جس بل کو بحث کے لیے ہی نہیں لایا گیا، اُس کا کیا حال ہوگا۔ آپ 1973ءکے آئین کو دیکھ لیں۔ جس کا مسودہ منظوری سے ایک سال پہلے اپوزیشن کو دیا گیا تھا، یعنی 17اپریل1972 کو صدر ذوالفقار علی بھٹو نے وزیرقانون عبدالحفیظ پیرزادہ کی سربراہی میں ایک پچیس رکنی آئینی کمیٹی تشکیل دی جس میں پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کے نمائندے موجود تھے ، دو فروری 1973کو آئین کا مسودہ بحث کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ، اور تین ماہ تک اس پر بحث جاری رہی آخرکار10 اپریل 1973کو پارلیمنٹ نے آئین کی منظوری دی جس پر 137 ارکان نے دستخط کرکے عہد کیا کہ اب پاکستان کا نظام اسی آئین کے تحت چلایا جائے گا۔اس آئین کی منظوری کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا کہ قوم کو آئین مل گیا ہے ، یہ آئین عوام کا ہے ، عوام کی ملکیت ہے اور عوام اس آئین کی حفاظت خود کرے گی۔ وہ الگ بات ہے کہ 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاالحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ آئین کی محافظ سپریم کورٹ کے ججوں نے پی سی او پر حلف اٹھا کر آئین کی بجائے جنرل ضیاالحق کی آئین شکنی کو تحفظ فراہم کیا۔ لیکن اس آئین کے ساتھ کئی مرتبہ راتوں رات بھی کھلواڑ کیا جاتا رہا ہے، خاص طور پر ڈکٹیٹرز کے دور میں ایسا ہوا، جیسے آٹھویں ترمیم کے حوالے سے مشہور ہے کہ یہ راتوں رات پاس کروائی گئی۔ یعنی کیا کسی کے علم میں ہے کہ آٹھویں ترمیم 1985ءمیں رات کو پونے چار بجے منظور کروائی گئی۔ نہیں علم میں تو میں بتاتا چلوں کہ اس ترمیم کا لب لباب یہ تھا کہ پانچ جولائی 1977 سے لے کر اُس تاریخ تک جو اقدامات مارشل لا کی جانب سے ہوئے ان سب کی ہم توثیق کرتے ہیں اور جب تک مارشل لا اٹھایا نہ جائے، جس کی کہ کوئی تاریخ نہیں تھی، اس وقت تک بھی مارشل لا کے تحت جو کچھ ہوتا رہے گا ہم اس کی بھی توثیق کرتے ہیں۔اس بل میں مزید یہ تھا کہ اس ترمیم کی رو سے حکومت پاکستان پارلیمانی طرز حکومت سے جزوی صدارتی طرز حکومت میں تبدیل ہوجانی تھی اور صدر پاکستان (جنرل ضیاءالحق ) کو کئی اضافی اختیارات اور آئینی طاقت میسر آ نے تھے۔ ویسے یہ انتہائی مضحکہ حیز قانونی مسودہ تھا۔ اسے غالباََ ستمبر 1985ءمیں پیش کیا گیا، مگر اُس وقت کے اپوزیشن لیڈر حاجی سیف اللہ خان نے اعتراض اُٹھایا اور بالکل آج ہی کی طرح کہا کہ آپ سب سے پہلے قانونی مسودہ شیئر کریں باقی باتیں بعد میں ہوں گی۔ حاجی سیف اللہ خان نے پے در پے نکات اٹھا کر وہ بل اس روز پیش ہی نہ ہونے دیا حالانکہ اجلاس رات 11 بجے تک جاری رہا۔ دوسری صبح انھوں نے بل رائے عامہ کے لیے مشتہر کرنے کی تحریک پیش کر دی۔ آئینی اور قانونی نکات پر مشتمل ان کی رکاوٹیں اتنی کارگر ثابت ہوئیں کہ حکومت نے اجلاس 20 دن کے لیے ملتوی کر دیا۔ لیکن جنرل ضیاءاس آئینی ترمیم کے لیے بضد تھے، انہوں نے آج کی حکومت کی طرح بہت ہاتھ پاﺅں مارے، تمام سیاسی جماعتوں کو مارشل لاءکے فضائل بھی گنوا ئے ، صدر ضیا الحق کی سوچ یہ تھی کہ وہ مستقبل کے وزیر اعظم کو صدر مملکت کے ہاتھوں میں اس انداز میں یرغمال بنا دیں گے کہ وہ صدر مملکت کی خوشنودی کو اپنی کابینہ بلکہ پارلیمنٹ سے بھی بڑھ کر مقدم رکھے۔خیر بات ہو رہی تھی آٹھویں ترمیم کے مسودے کی منظوری کی تو اُس وقت بھی پہلی دفعہ منظوری نہ ہونے کے بعد حکومت کی طرف سے مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ بل پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے، اس وقت تک حکومتی پارٹی او پی جی (آفیشل پارلیمانی گروپ) اور اپوزیشن آئی پی جی (انڈیپینڈینٹ پارلیمانی گروپ) کہلاتی تھیں۔خیر قومی اسمبلی کا اجلاس جو ملتوی کیا جا چکا تھا 20 دن کے وقفے کے بعد 16 اکتوبر کو دوبارہ شروع ہوا جس میں حکومت نے پہلا آئینی مسودہ واپس لے کر ایک دوسرا مسودہ ایوان میں پیش کر دیا لیکن تشویش کی بات یہ تھی کہ متنازع دفعات دوسرے بل میں بھی شامل تھیں، جو کہ معاہدے کی سراسر خلاف ورزی تھی۔عام بحث کے بعد شق وار بحث شروع ہوئی اور اسمبلی توڑنے تک کی شقیں حکومت منظور کرواتی چلی گئی۔صدر کو اسمبلی توڑنے کا اختیار دینے کی شق پیش ہوتے ہی اپوزیشن نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا، یہ شام کا وقت تھا۔ اسی اثنا میں اٹارنی جنرل اور ڈاکٹر محبوب الحق جنرل ضیا کا پیغام لے کر آئے۔ جنرل ضیا الحق کا کہنا تھا کہ آٹھویں ترمیم کا بل آج رات منظور نہ ہوا تو پھر نتائج کی ذمہ داری آپ لوگوں پر ہو گی پھر اس کا ذمہ دار میں نہیں ہوں گا۔اپوزیشن لیڈر حاجی سیف اللہ نے کہا کہ ’ہم لوگ بدستور اپنے مطالبے پر قائم رہے اور دھمکی کی پرواہ نہیں کی۔ رات تین بجے تک معاملہ چلتا رہا، تین بجے جنرل ضیا الحق رضامند ہوئے کہ اسمبلی توڑنے کا اختیار صوابدیدی نہیں ہوگا بلکہ 48 (2) کے تحت حاصل اختیار پر عدلیہ کو مکمل اختیار ہوگا کہ وہ اس اقدام پر اپنا فیصلہ صادر کر سکے۔ اس کے لیے انھیں آمادہ کیا گیا کہ آئین میں یہ جملہ لکھ دیا جائے کہ ”اگر حکومت کے لیے آئین کے تابع کام چلانا ممکن ہی نہ رہے۔“یہ بات بھی آرٹیکل 270 الف میں لکھ دی گئی کہ 30 ستمبر 1985 کے بعد مارشل لا کا کوئی ضابطہ سوائے مارشل لا اٹھانے کے جاری نہیں ہو گا، یعنی اس طرح عملی طور پر مارشل لا اسمبلی نے اس رات ختم کر دیا۔ اس رات پونے چار بجے آٹھویں آئینی ترمیم کا بل منظور ہوا اور اس کے ساتھ یہ شرط بھی طے کی گئی کہ بل منظور ہونے کے اگلے روز صدر مملکت قومی اسمبلی سے خطاب کریں گے اور مارشل لا کے خاتمے کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔لیکن صدر ضیاءالحق نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے کسی قسم کی تاریخ دینے سے اجتناب کیا، اور پھر اسی طرح 1985ءوالی حکومت کو توڑنے کے لیے سب سے پہلے صدر جنرل ضیاءالحق نے ہی اختیارات کا استعمال کیا اور اسمبلی کو معطل کردیا۔ حاجی محمد سیف اللہ خان نے اسے چیلنج کر دیا، گو کہ اس کا فیصلہ جنرل ضیا الحق کی 17 اگست طیارے کے حادثے میں موت کے بعد آیا لیکن چیف جسٹس محمد حلیم کی قیادت میں سپریم کورٹ نے جونیجو کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دیا۔ لیکن چونکہ انتخابی عمل شروع ہو چکا تھا اس لیے مقتدر قوت کی خواہش پر حکومت بحال نہیں کی گئی۔یعنی کہنے کا مطلب ہے کہ آٹھویں ترمیم تو چلیں ڈکٹیٹر شپ کے دور میں ہو رہی تھیں، تو آج جمہوری دور میں ایسی کیا ضرورت آن پڑی کہ مسودہ ہی نہیں دکھایا جا رہا؟ کیا ایسی ہوتی ہیں جمہوری حکومتیں؟ بہرکیف حکومت نے جہاں 17اکتوبر یعنی آج ہی کے دن قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا ہوا ہے، وہیں تحریک انصاف بھی بھرپور احتجاج کا ارادہ رکھتی ہے، تحریک انصاف کو چاہیے کہ اب جبکہ وہ احتجاج اور جلسے جلوسوں سے تھک چکی ہے تو اُسے چاہیے کہ حاجی سیف اللہ کی طرح قومی اسمبلی میں ڈٹ جائے، وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردے، ایسا کرنے سے یقینا اُسے کچھ دن مزید مل جائیں گے۔ ورنہ تو حکومت نے مرضی کی ترامیم لا کر اپنی حکومت کو مزید طول دینا ہے، اور یہ طول اتنا لمبا بھی ہو سکتا ہے، کہ یہ پانچ سال اور اگلے پانچ سال بھی ان کا مزید قیام کا ارادہ ہے۔ اور رہی بات عوام کی تو اُن پر جس مسودے یا بل کو مسلط کیا جانا ہے ، اُس کا اُسے علم ہی نہیں ہے، لہٰذاپھر میرا بھی بطور پاکستانی یہ مطالبہ ہے کہ مجھے بھی آئینی مسودہ دکھایا جائے ، ورنہ ہم اسے قومی جرم کے سوا کچھ نہیں سمجھیں گے!