26ویں آئینی ترامیم : تاریخی دن یا ”سیاہ رات“

یہ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ اپریل 2022ءمیں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے سے لے کر آج تک جتنے بھی ”غیرمرئی “ کام ہوئے ہیں، وہ ”سیاہ رات“ میں ہی ہوئے ہیں۔ آپ خود دیکھ لیں پی ٹی آئی کے خلاف”تحریک عدم اعتماد“ رات گئے منظور ہوئی اور جس کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت آئی۔ پھر تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان رات گئے سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں واپس لیا، جس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوا کہ تحریک انصاف کے کامیاب اُمیدوار آزاد تصور ہوں گے۔ پھر 8فروری کے الیکشن کے بعد کی ”راتیں “ کسے بھول سکتی ہیں؟ آپ آگے نہ جائیں محض 8اور 9فروری کی درمیانی رات کو ہی دیکھ لیں، جب کئی بڑے بڑے برج اُلٹ رہے تھے، مگر اُسی رات اُنہیں ”سیدھا“ کردیا گیا اور اُن کی یقینی شکست کو جیت میں بدل دیا گیا، جس کا عذر الیکشن کمیشن نے یہ دیا کہ الیکشن مینجمنٹ سسٹم بند ہو گیا ہے، تو نتائج ہاتھ سے لکھے جا رہے ہیں۔ پھر ہم گزشتہ ماہ اور رواں ماہ کی راتوں کو تاریخ کیسے بھول سکتے ہے، جب 26ویں آئینی ترامیم جو محض شخصیات کو بچانے کے لیے اور من پسند کے لوگوں کو اوپر لانے کے لیے تھی، پر کام شروع ہوا۔ یہ تو مولانا فضل الرحمن کا بھلا ہو جنہوں نے گزشتہ ماہ حکومت کو ایسا کرنے سے باز رکھا۔ اور پھر اُس مسودے میں تبدیلیاں ہوئیں، پھر روزانہ کی بنیاد پر رات گئے تک ملاقاتیں جاری رہیں اور بالآخر 20اور 21اکتوبر کی پوری رات میں ایک طرف وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، وہیں اُسی دن سینیٹ اجلاس میں ترامیم پیش کی گئیں اور پھراُسی رات 12کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جو صبح 5بجے تک جاری رہا اور اسی دوران مسودے کی دونوں ایوانوں سے منظوری بھی ہوئی، پھر اُسی وقت وزیر اعظم نے اس پر دستخط بھی کیے، اور باقاعدہ قانون بننے کے لیے رسمی طور پر صدر کو بھجوا دیااور پھر صدر نے بھی دستخط کر دیے، اور پھر یہ ایک مکمل قانون بن گیا۔ یہ سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا، کہ اس وقت سبھی حیران ہیں، کہ آخر حکومت اتنی پھرتیاں کیوں دکھا رہی ہے۔ لیکن صاف ظاہر ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی 25اکتوبر کو ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس منصور کے چیف جسٹس بننے سے پہلے پہلے یہ سارا عمل کرنا تھا، جو انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر کر لیا۔ خیر آگے بڑھنے سے پہلے اب ذرا ایک نظر ترامیم پر ڈالتے ہیں کہ آخر یہ ترامیم ہیں کیا؟ بل کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیئر جج کو بطور چیف جسٹس تعینات کرنے کے بجائے تین نام اس پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے اور 12 رکنی کمیٹی ان ناموں میں سے ایک کو بطور چیف جسٹس تعینات کرنے کی سفارش کرے گی۔ جس کے بعد وزیر اعظم اس ضمن میں صدر کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کی سفارش کریں گے۔ پھر بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے عہدے کی مدت تین سال کے لیے ہو گی اور اگر کوئی چیف جسٹس اس عرصے کے لیے اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر یعنی 65 سال تک نہیں پہنچتا تو پھر بھی اسے بطور چیف جسٹس تین سال کی مدت پوری ہونے کے بعد ہی ریٹائر سمجھا جائے گا۔ترمیمی بل میں سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی سے متعلق آرٹیکل 175 اے میں تبدیلی کی گئی ہے جس کے مطابق سپریم جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس کے علاوہ سپریم کورٹ کے چار سینیئر ججز سمیت چار اراکین پارلیمنٹ بھی ہوں گے، جن میں سے ایک سینٹر اور ایک رکن قومی اسمبلی کا نام وزیر اعظم جبکہ ایک سینیٹر اور ایک رکن قومی اسمبلی کا نام قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف دیں گے۔ اس بل کے مطابق ججز کی تقرری سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے 12 ارکان ہوں گے جن میں سے آٹھ کا تعلق قومی اسمبلی جبکہ چار کا تعلق سینیٹ سے ہو گا۔ مذکورہ قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ہائیکورٹ کے کسی جج کی کارکردگی بہتر نہیں تو سپریم جوڈیشل کونسل اس جج کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے وقت دے گی اور اگر مقررہ مدت سے مذکورہ جج اپنی کارکردگی کو بہتر نہیں بناتا تو پھر یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل ہی دیکھے گی جبکہ کونسل ججز کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے الگ سے بھی قواعد وضوابط تشکیل دے سکتی ہے۔اس بل میں سپریم کورٹ کے از خود نوٹس لینے کے اختیار سے متعلق موجود قانون 184 کی سب کلاز 3 میں ترمیم کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کسی بھی معاملے میں نہ کوئی نوٹس لے سکتی ہے اور نہ ہی کسی بھی ادارے کو کوئی ڈائریکشن دے سکتی ہے۔اس قانون میں یہ بھی کہا گیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی سپریم کورٹ کے ججز کی تین رکنی کمیٹی نوٹس لینے یا نہ لینے کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔مزید یہ کہ اگر سپریم کورٹ سمجھے کہ کسی ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہور ہے تو وہ یہ مقدمہ کسی دوسری ہائیکورٹ میں بھی منتقل کر سکتی ہے۔مزید یہ کہ ہائیکورٹ کسی بھی معاملے پر نہ کوئی از خود نوٹس لے سکتی ہے اور نہ کسی ادارے کو کوئی ہدایت دے سکتی ہے۔اسی طرح آئین کے آرٹیکل 203 ڈی میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت کسی بھی ایپل کو متعلقہ اعلیٰ عدالت 12 ماہ کے اندر نمٹانے کی پابند ہے۔مزید یہ کہ 26ویں آئینی ترمیم میں آئین کی آرٹیکل 191 اے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ آرٹیکل آئینی بینچوں کی تشکیل سے متعلق ہے۔یعنی آئینی بینچوں کی تعداد اور ان کی مدت کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کمیشن کرے گی۔ جوڈیشل کمیشن ان آئینی بینچوں میں تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے ججز کی برابر نمائندگی کو یقینی بنائے گا۔اس آئینی بینچ کے پاس موجود اختیارات کسی دوسرے بینچ کو تفویض نہیں کیے جا سکتے۔اس ترمیم میں یہ بھی کہا گیا کہ ججز کی تعیناتی سے متعلق جوڈیشل کمیشن میں ہونے والی کارروائی ان کیمرا ہو گی تاہم اس ریکارڈ رکھا جائے گا۔ قصہ مختصر کہ اس آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد ایسا انتظام کرنے کی کوشش ہے کہ سپریم کورٹ کے علاوہ سپریم کورٹ کا ایک ایسا آئینی بینچ ہو جس کو بلانے اور رکھنے کے اختیارات جوڈیشل کمیشن کے پاس ہوں۔اس کے علاوہ وہ مرضی کے چیف جسٹس کو لگا سکیں۔ اور پھر اس مسودے کی اہم بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے پیپلزپارٹی کے لیے راہیں ضرور ہموار کی ہیں، کیوں کہ اگر یہ مسودہ پہلے پاس ہو جاتا تو یقینا ن لیگ کو آپ اگلے دس سال بھی اقتدار سے باہر نہیں کر سکتے تھے، لیکن اب اگلے الیکشن تک اگر تحریک انصاف کمزور ہوگئی تو پھر اقتدار پیپلزپارٹی کو ہی ملے گا۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مولانا نے پیپلزپارٹی کا مقدمہ لڑا ہے۔ بہرحال اس وقت اس ملک کے لیے یہ کسی المیے سے کم نہیں ہے، بلکہ تاریخ میں اس ترمیم کو” سیاہ ترمیم“ کے نام سے بھی یاد کیا جائے گا، اور رہی بات عدالت کی کارکردگی اور اُس کے اختیارات کم کرنے کی تو ہم اس وقت جو پہلے ہی دنیا بھر کی عدالتوں میں انصاف کے حوالے سے 144ویں نمبر پر ہیں، یقینا ہم آئندہ ہونے والی رینکنگ میں اس سے بھی پیچھے چلے جائیں گے۔ کیوں کہ اس آئینی ترمیم کے بعد اب یہ تاثر بین الاقوامی سطح پر بھی ڈسکس ہو رہا ہے کہ حکومتی جماعت اپنے پسندیدہ ججز کو آگے لانا اور زیادہ طاقتور دیکھنا چاہ رہی ہے، بلکہ بادی النظر میں یہ بدقسمتی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں تقسیم کا ایک ایسا تاثر پایا جاتا ہے کہ ’یہ ہمارے جج ہیں اور یہ آپ کے جج ہیں۔‘ اور پھر حکومت اس حوالے سے بھی کامیاب ہوئی ہے کہ اگر آئینی عدالت کا قیام ممکن نہیں ہو پاتا تو کم از کم ایک آئینی بینچ کے ذریعے ایک ایسا نظام بنایا جائے جو آئینی معاملات کو دیکھے اور اس کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے اختیارات سے کسی حد تک باہر نکال دیا جائے۔ بہرحال ہم کہتے تھے ، بلکہ کالموں میں ہر تین سال بعد لکھا کرتے تھے کہ آرمی چیف کی تقرری سپریم کورٹ کی طرز پر ہونی چاہیے، تاکہ اس اہم ترین ادارے میں آرمی چیف سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ سینیارٹی کی بنیاد پر آگے آئے۔ لیکن لگتا ہے اسے بھی ریورس گیئر لگ گیا ہے، اور سپریم کورٹ بھی اب تین سال کے لیے چیف جسٹس بنا کریں گے۔ اور ان کا انتخاب ”سیاسی“ ہوا کرے گا۔ یہ یقینا سیاہ دن ہے، جس سے بچنے کے لیے کسی جماعت نے سرتوڑ کوشش نہیں کی۔ البتہ تحریک انصاف نے ہاتھ پاﺅں ضرور مارے مگر یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ اکیلا عمران خان ہی تحریک انصاف ہے، باقی تمام قیادت میں فیصلے کرنے کی وہ قوت نہیں ہے جو ہونی چاہیے تھی، یہ نہ تو قومی اسمبلی میں ٹف ٹائم دے سکے، نہ سڑکوں پر اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کو کسی بات پر قائل کر سکے۔ حالانکہ انہیں علم تھا کہ موجودہ حالات میں اُن کی جماعت کے اسٹیبشلمنٹ کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں، لیکن پھر بھی تعلقات کی بہتری کے لیے اور اُنہیں دلائل سے قائل کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہ کیے گئے۔ ہاں علی امین گنڈا پور نے ایس سی او کانفرنس سے پہلے خان صاحب کی ہدایا ت پر احتجاج ضرور کیا مگر وہ بھی ”زخموں“ کی تاب نہ لا سکے۔ بہرکیف ترامیم ہوگئیں، لیکن ایک بات ضرور لکھ لیں، کہ اگر کل کلاں ن لیگ کی حکومت ختم ہوتی ہے، تو یہی ترامیم ان کے گلے کی ہڈی بن جائیں گی۔ لہٰذابقول شاعر دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے سجناں وی مر جانا اور پھر اب یہ روایت بن جائے گی کہ جس کا دل چاہے گا سپریم کورٹ کافیصلہ تسلیم کرے، اور جس کا دل کرے گا وہ اسے تسلیم کرنے سے انکار کردے۔ بالکل ایسے ہی جیسے الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں کے حوالے سے فیصلہ ماننے سے انکاری ہے۔لہٰذااداروں کا مضبوط ہونا ہمیشہ قوم کے مفاد میں ہوتا ہے۔ جبکہ اُنہیں کمزور کرنا ہمیشہ دشمن کو فائدہ دیتا ہے!