عدلیہ بحران : ملک کو سسٹم دیں ورنہ بھاگنا مقدر!

آج عدلیہ کی تاریخ کا ایک نیا عہد شروع ہونے جا رہا ہے، 26ویں آئینی ترامیم کے بعد نئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اگلے تین سال کے لیے منتخب ہوئے ہیں، بری خبروں میں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ نئے چیف جج ، پہلے جج ہیں جن کا تعلق خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے سے ہے۔ان کا تعلق کوہاٹ ضلع کے آفریدی قبیلے سے ہے (جو پہلے وفاقی انتظامی قبائلی علاقوں میں شامل تھا)، وہ کوہاٹ کی سب ڈویژن (موجودہ درہ آدم خیل تحصیل) کے بابری بانڈہ کے رہائشی ہیں۔جبکہ اگر ہم سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بات کریں تو موصوف کا 13ماہ کا دور تنازعات سے بھرا ہوا رہا۔ حالانکہ جب موصوف چیف جسٹس بنے تو اُس وقت میں نے بہت سے لوگوں سے اختلاف کیا کہ جس جماعت کی اُن پر چھاپ ہے، وہ قطعاََ اُن کے حق میں فیصلے نہیں دیں گے، کیوں کہ اس سے پہلے انہوں نے فیض آباد دھرنا کیس میں بہت زیادہ بولڈ فیصلہ سنایا تھا، اور انہوں نے ایجنسیوں کو مداخلت سے بھی روکا تھا۔ جس پر اُس وقت کے جنرل باجوہ کو بھی شدید غصہ تھا اور ایک حلقے میں اُن کے خلاف کوئی اچھی رائے نہیں پائی جاتی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اُنہوں نے بولڈ فیصلے کیے، جس کے بعد اُن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی دائر ہوا، اور موصوف اُس میں کلیئر بھی ہوئے۔ لیکن جیسے ہی اُنہوں نے چیف جسٹس کا منصب سنبھالا معذرت کے ساتھ عدالت عظمیٰ کے ججز میں ایسی گروپ بندی ہوئی کہ مجھے اپنا سکولنگ کا دور یاد آگیا، جس میں ”مانیٹر“ کا الگ گروپ ہوا کرتا تھا، پڑھنے لکھنے والے بچوں کا الگ گروپ اور بیک بینچرز کا الگ گروپ ہوا کرتا تھا۔ یہ ماحول تو ہم نے مشرف کے دور میں پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججز کا نہیں دیکھا تھا تو کیسے ممکن ہو گیا کہ آج ججز کی لڑائیاں زبان زد عام اور کورٹس سے نکل کر باہر آنے لگیں۔ بقول چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے کہ قاضی صاحب کی طبیعت میں مزاح بھی تھا مگر اُن کے غصے سے اللہ بچائے۔ آپ کا غصہ آپ کی شخصیت کا عکاس ضرور ہوتا ہے، مگر جب آپ کسی اعلیٰ منصب پر فائز ہوتے ہیں تو یہ سب چیزیں ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ ویسے میں بسا اوقات اپنے کالموں میں ”اسلامی ٹچ“ دینے سے اجتناب کرتا ہوں ، لیکن جہاں ضروری ہو وہاں دینے میں ہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں کرتا۔ مثلاََ حضرت عمر فاروقؓ کو جب خلیفہ منتخب کیا گیا تو بعض حلقوں کا خیال تھا کہ اُنہیں غصہ زیادہ آتا ہے، کبھی کبھار اُن کا اپنے اوپر بھی اختیار نہیں رہتا۔ لیکن سب نے دیکھا کہ جیسے ہی وہ خلیفہ بنے۔ وہ عالم اسلام کے سب سے نرم مزاج اور ہر ایک کی بات سننے والے اور مسائل حل کرنے والے حکمران بنے۔ مطلب! جیسے ہی اللہ تعالیٰ آپ کو اختیارات سے نوازتا ہے تو اُس وقت آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ آپ میرٹ پر فیصلے کرنے کے اخلاقی طور پر بھی پابند ہوتے ہیں اور ادارے کی عزت بھی آپ کے ذمہ ہوتی ہے۔ لیکن ایک بار پھر معذرت کے ساتھ آپ سے چیف جسٹس بننے کے بعد بہت سے غلط فیصلے بھی ہوئے، جن کی وجہ سے تاریخ شاید آپ کو برے الفاظ میں یاد رکھے گی۔ مثلاََ چیف جسٹس بننے کے بعد قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا کیس میں اپنے فیصلے کی خود ہی خلاف ورزی کی اور وہ خفیہ اداروں کی سیاست میں مداخلت کے سہولت کار بن گئے۔ وہ برے وقت میں بھاگ بھاگ کر عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت کیلئے لاہور پہنچتے تھے۔ چیف جسٹس بنے تو عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت کی دعوت کو رعونت سے ٹھکراتے ہوئے کہا کہ جج تقریریں نہیں کرتے بلکہ فیصلے لکھتے ہیں۔ قاضی صاحب 13ماہ چیف جسٹس رہے لیکن اس مختصر عرصے میں زیادہ وقت وہ اپنے ساتھی ججوں سے اور ساتھی جج ان سے لڑتے رہے۔ ان کے دور میں ہائی کورٹس کے ججوں کے ساتھ وہی کچھ ہوتا رہا جو سابقہ ادوار میں ہوتا رہا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس بننے کے بعد پاکستان کی تاریخ کے سب سے متنازعہ الیکشن کمیشن کو تحفظ فراہم کیا جس نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے متنازعہ الیکشن کرایا۔میرے خیال میں اس کی بازگشت کئی دہائیوں تک سنائی دی جاتی رہے گی۔ قاضی صاحب کا تعلق بلوچستان سے تھا لیکن پچھلے 13ماہ میں بلوچستان سے جتنے نوجوان لاپتہ ہوئے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور غیر علانیہ سنسر شپ میں اضافہ ہوا۔ قاضی صاحب ان معاملات پر ناصرف خاموش رہے بلکہ انہوں نے صحافیوں پر ایسے ایسے بے بنیاد الزامات لگائے جن کا ان کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا۔ ان کا اصل کردار مبارک ثانی کیس میں سامنے آیا جس میں وہ اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ہوئے اور اسی کیس کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن نے آئینی عدالت نہ بننے دی تاکہ قاضی صاحب آئینی عدالت کے چیف جسٹس نہ بن جائیں، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مسائل رہے جن کا تذکرہ اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔ بلکہ موضوع یہ ہے کہ ہم آخر کا شخصیات کے ارد گرد کیوں گھومتے ہیں؟ پاکستان ہمیشہ شخصیات کا متقاضی کیوں رہتا ہے؟ہم پاکستان کو سسٹم کیوں نہیں دے پار ہے؟ ہم جب من پسند شخصیات سے من مرضی کے فیصلے کرواتے ہیں تو پھر بعد میں اُنہی فیصلوں پر پچھتاوا ہمارا مقدر بنتا ہے تو پھر ہم سر پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں۔ یعنی ہماری عادت بن گئی ہے کہ ہم اپنے الزامات انہی شخصیات پر تھونپتے ہیں اور باز بھی نہیں آتے۔ ہم جسٹس منیر سے شروع ہوتے ہیں، پھر جسٹس ملک قیوم، جسٹس افتخار چوہدری، جسٹس ثاقب نثار، وغیرہ وغیرہلیکن اس کے برعکس آج ہم کیا کررہے ہیں؟ آج بھی ہم وہی غلطیاں کر رہے ہیں۔ بادی النظر میں اگر جسٹس منیر نے مارشل لاﺅں کے راستے کھولے یا وہ اچھے جج نہیں تھے۔ تو آپ کو چاہیے کہ آپ اُن کی پیروی نہ کریں۔ افتخار چوہدری، یا ثاقب نثار نے غلطیاں کی ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اُن کی پیروی نہ کریں۔ پاکستان کی آب و ہوا کے مطابق ہم ماسک پہنتے ہیں، ویسے تو ہمیں ضرورت نہیں ہوتی، اسی طرح کرکٹ کھیلتے ہوئے ہم ہیلمٹ پہنتے ہیں، عام روٹین میں تو نہی پہنتے۔ یعنی ہمیں اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے، ہمیں تو پھر وہی کرنا چاہیے، باقی سب چیزوں کو نظر انداز کردیں، اگر ہمیں اس وقت سسٹم کی ضرورت ہے تو ہمیں سسٹم دیا جانا چاہیے، ہمیں سسٹم کو بہتر بنانا چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ جب بھی کوئی شخصیت آئے وہ نظریہ ضرورت ، مزید ضرورت، اُس کی ضرورت ، میری ضرورت، فلاں ضرورت یا کسی اور کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ترامیم کر دی جائیں۔ تو ایسے میں سسٹم کہاں ہے؟ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اس وقت ان 26ترامیم میں کتنی ترامیم ایسی کی گئی ہیں جو صرف اور صرف عدلیہ کے پر کاٹنے کے لیے کی گئی ہیں، جی ہاں جناب! 26میں سے 10 ترامیم تو صرف اور صرف عدلیہ کے اختیارات کو کم کرنے کے لیے کی گئیں۔ اور پھر شاید یہ بھی کسی کو علم نہیں کہ 26ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے اسندر ایک نئی عدالت بنا کر دونوں سپریم کورٹ یعنی آئینی سپریم کورٹ اور غیر آئینی سپریم کورٹ کی تقسیم پیدا کر دی ہے۔ اس ابہام کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے مقدمات جیسے ٹیکس کی اپیلیں‘ ملازمت میں دیے گئے شوکاز نوٹس‘ سرکاری نوکری سے برخاست کرتے وقت مناسب انکوائری کا نہ ہونا اور ہر طرح کے وہ کیسز جن کے اندر کسی لیول کا آئینی سوال طے کرنا ہے‘ وہ سارے مقدمات اب نئے آئینی بینچ کے پاس جائیں گے۔ جس کے لیے اس غریب قوم کے خرچے پر نئے سٹاف بھرتی ہوں گے‘ نئے جج لگیں گے کیونکہ جج تو ہر صوبے سے آنے ہیں۔ اس لیے وہ نہ نہ کرتے ہوئے بھی آٹھ یا دس تو ہو ہی جائیں گے۔ چونکہ آئین کے آرٹیکل نمبر ایک میں چار صوبوں کے ساتھ وفاقی دارالحکومت ایک علیحدہ سے اکائی ہے۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کو ہم نے عبوری صوبہ قرار دے کر وہاں اسمبلی بنا دی اور صوبائی حکومت کا ڈھانچہ کھڑا کر دیا۔ ظاہر ہے انہیں بھی عبوری صوبے کے طور پر وفاقی آئینی عدالت میں لازماً نمائندگی دینی ہو گی۔ یاد دہانی کے لیے عرض ہے کہ گلگت بلتستان کو آئینی اداروں میں نمائندگی دینے کے حق میں دو فیصلے سپریم کورٹ آف پاکستان کے بڑے بینچز نے کر رکھے ہیں۔ اب آئیے ان آئینی بینچوں کی تشکیل کی طرف‘ جو پانچ صوبائی ہائیکورٹس میں بنیں گے اور ایک بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان میں معرضِ وجود میں لایا جائے گا۔ اتنی بڑی آئینی عدالتی ریفارم کے نام پر ادھیڑ ب±ن پچھلے 77 سال میں پہلے کبھی بھی نہیں ہوئی۔ 26ویں آئینی ترمیم کے تقاضے پورے کرنے کے لیے غریب قوم کے پیسے سے آئینی پریکٹس کرنے والے اور آئین کی Interpretationکرنے کا ریکارڈ رکھنے والے وکلا ان عدالتوں کے لیے لاءآفیسرز بھرتی کیے جائیں گے۔ اب جس فیکٹری میں 26ویں آئینی ترمیم کی کھچڑی پکی ہے اس کا کمال دیکھیے کہ پانچ ہائیکورٹس میں آئینی بینچ اور سربراہ جبکہ سپریم کورٹ میں آئینی ججز کا انتخاب سیاسی جماعتوں کے ''کوٹہ سسٹم“ سے منتخب ہونے والے کمیشن کی سفارشات کے ماتحت ہو گا۔ اس سارے پراسیس کے بگ باس کا نام ہے قبلہ شہباز شریف۔باقی آپ سمجھدار ہیں! بہرکیف پاکستان سسٹم کا بھوکا ہے، شخصیات کا بھوکا نہیں ہے۔ ہمیں صرف یہ سوچنا چاہیے کہ عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ عوام کی بہتری کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ یہ سب اپنے بچاﺅ کی لڑائی لڑ رہے ہیں، آپ اسٹیبلشمنٹ کو دیکھ لیں، کیا وہ Survivalکی جنگ نہیں لڑ رہی؟ اور پھر کیا ریاست کے یہ تینوں ستون ان دنوں بری طرح ایکسپوز نہیں ہوئے؟ لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو اگر کچھ دینا ہے تو سسٹم دیں، اُس دھونس، لالچ ، ڈی میرٹ سسٹم وغیرہ نہ دے کر جائیں کہ آنے والی نسلیں یہاں بعد میں پیدا ہوں پہلے اُنہیں یہاں سے بھاگنے کی پڑ جائے، ویسے بھی تو 80فیصد پاکستانی اس ملک عظیم کی نیشنلٹی چھوڑنا چاہ رہا ہے۔ آگے آپ خود حساب بھی لگا لیں!