امریکی الیکشن اور اس کے پاکستان پر اثرات !

دنیا بھر کے ممالک کی نظریں اس وقت سپرپاور (امریکہ) میں صدارتی انتخاب پر ہے، جہاں الیکشن کی گہما گہمی اپنے عروج پر ہے، متعدد سروے اور پولز کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس اپنے حریف ریپبلکن اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے آگے دکھائی دیتی ہیں، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ٹرمپ کے جیتنے کا امکان نہیں۔بلکہ چند حلقے جن میں کاروباری شخصیات نمایاں ہیں ، ٹرمپ کو ہر صورت اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور پھر امریکی الیکشن کا طریقہ کار کافی منفرد ہے۔ امریکی انتخابی نظام یا الیکٹورل سسٹم مجموعی ووٹوں کی تعداد کی بجائے الیکٹورل کالج سسٹم پر منحصر ہے جس میں کل 538 ووٹ ہیں جنھیں تمام ریاستوں میں ان کی آبادی کے تناسب سے بانٹا گیا ہے۔یعنی امریکہ میں جب لوگ ووٹ ڈالتے ہیں تو وہ اپنے من پسند امیدوار کے لیے براہ راست ووٹ نہیں ڈال رہے ہوتے۔تکنیکی لحاظ سے وہ ”الیکٹر“ کو منتخب کرتے ہیں جوکہ الیکٹورل کالج کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ الیکٹر پھر صدر کو منتخب کرتے ہیں۔ الیکٹورل کالج ریاست سے ریاست تک کا نظام ہے جو نمائندگان پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں الیکٹرز کہتے ہیں۔ ان الیکٹرز کا انتخاب ہر ریاست میں الیکشن کے نتیجے میں عمل میں آتا ہے۔ امریکی آئین ساز چاہتے تھے کہ قومی ووٹ کے بجائے صدر علاقائی انتخابات جیتیں تاکہ وہ ملک کے مختلف مفادات کی نمائندگی کر سکیں۔ دو کے علاوہ تمام ریاستوں کے سارے الیکٹر جیتنے والے امیدوار کے حق میں جاتے ہیں، چاہے جیت کا مارجن کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ الیکٹرز کی کل تعداد 538 ہے۔ یہ تعداد ہمیشہ اتنی ہی ہوتی ہے۔اس تعداد میں ایوان نمائندگان کے 435 ممبران، ایک سو سینیٹرز اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سے تین ارکان شامل ہیں۔کامیابی حاصل کرنے کے لیے کسی امیدوار کا 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔اب سوال یہ ہے کہ یہ 270ووٹ ڈونلڈ ٹرمپ کے حصے میں جائیں گے یا کمیلا ہیرس کے۔ یہ تو پانچ نومبر کی ووٹنگ ہی بتا سکتی ہے، مگر یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس وقت پاکستان کے عوام کو بھی اس الیکشن کے نتائج کا بے صبری سے انتظار ہے۔ ایسا کیوں؟ ظاہر ہے یہاں ایک سیاسی جماعت یعنی تحریک انصاف ڈونلڈکو اقتدار میں دیکھنا چاہتی ہے، کیوںکہ وہ سمجھتی ہے، کہ پاکستان میں اُس پر لگنے والی پابندیوں اور زیادتیوں کا اگر کوئی مداوا کر سکتا ہے تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی ہے۔ تحریک انصاف والے شاید ایسا اس لیے بھی سوچتے ہیں کیوں کہ 2018ءمیں جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو اُس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت تھی اور اس جماعت کے کارکن دونوں لیڈران یعنی عمران خان اور ٹرمپ میں بھی خاصی مشابہت پر یقین رکھتے ہیں۔ ا س لیے تحریک انصاف والے اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کو دل و جان سے چاہتے ہیں۔ اور پھر سونے پر سہاگہ تو جناب مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے ڈالا انہوں نے رواںسال کے وسط میں یہ بات کہی کہ عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا چاہیے، اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ امریکا میں انتخابات جیت کر کہیں کہ انہیں رہا کردیں۔انہوں نے اُس وقت مزید کہا تھا کہ ہماری جماعت کو پنجاب میں اتنا بڑا دھچکا لگا ہے، 30 سال کی سیاست 8 فروری کو ملیا میٹ ہو گئی، اگر آپ اپنے گڑھ میں اپنے گھر میں ہار جائیں اور نامعلوم افراد سے ہار جائیں، گمنام لوگوں سے ہار جائیں تو کچھ سبق سیکھنا چاہیے کہ ہوا کا رخ کس طرف ہے۔اس لیے جس کا مینڈیٹ ہے اُسے دے دینا چاہیے کہ ورنہ تحریک انصاف کے حامی ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلا کام یہی کریں گے!!! اب یہ باتیں اُنہوں نے نہ جانے کس Contextمیں کہیں تھیں مگر کچھ نہ کچھ تو پس پردہ کہانی چل رہی ہو گی۔ لیکن بادی النظر میں امریکا میں مضبوط پالیسیاں چلتی ہیں، امریکی مفادات اگر عمران خان کے ساتھ جڑے ہوئے تو ضرور امریکی حکومت مدد کرے گی، البتہ اگر مفادات نہ جڑے ہوئے تو وہاں کی اسٹیبلشمنٹ کی آنکھیں ماتھے پر ہوں گے۔ خیر آگے چلنے سے پہلے یہاں یہ بتاتا چلوں کہ امریکا میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ڈیموکریٹک خالص جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں جبکہ ریپلیکن قدامت پسند ہیں۔ اب رہی بات کہ پاکستان پر امریکی الیکشن کے کیا اثرات مرتب ہوں گے تو گزشتہ 75سالی کی امریکی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے توہر دفعہ امریکی الیکشن کے بعد پاکستان کے لیے نئی سے نئی پالیسیاں ہی بنیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ ہمارے لیے ڈیموکریٹک بہتر ہے، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ ہمارے لیے ری پبلکن۔ لیکن تاریخ پڑھ لیں ہمارے ساتھ تو دونوں کے ادوار میں ہی” ظلم“ ہوتا رہا، جیسےپاکستان کے پہلے فوجی آمر جنرل ایوب خان کو بھی امریکی ڈیمو کریٹک پارٹی کے دو صدور جان ایف کینیڈی (1961ءتا 1963ء) اور (لنڈن بی جانسن) کی مکمل حمایت حاصل رہی اور پاکستان کو امریکا کے عالمی فوجی اتحادوں سیٹو اور سینٹو کا سب سے اہم رکن بنانے پر ایوب خان ان امریکی ڈیمو کریٹ صدور کی آنکھوں کا تارا تھے۔پھر 4 اپریل 1979ءکو جب منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو امریکا میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدر جمی کارٹر (1977ءتا 1981ء) برسر اقتدار تھے۔یہ جمی کارٹر ہی تھے جنہوں نے جنرل ضیاءکا امریکا میں پرتپاک استقبال کرکے اُنہیں روس امریکا جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے پر آمادہ کیا اور جہادی تیار کروائے۔ جنرل ضیاءالحق کے بعد پاکستان میں 1988ءسے 1999ءتک ایک جمہوری وقفہ میسر آیا۔اس دوران امریکی ڈیمو کریٹک پارٹی کے ایک اور صدر بل کلنٹن دو مرتبہ منتخب ہوئے اور وہ 1993ءسے 2001ءتک اقتدار میں رہے۔ اس عرصے میں کوئی بھی جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت مکمل نہ کر سکی۔ تین جمہوری حکومتیں صدر پاکستان کے حکم پر ختم کی گئیں اور ایک دوسرے فوجی آمر پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کے ایک اور صدر باراک اوباما ( 2009 ءتا 2017ء) کے دور میں پاکستان میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نہ صرف اپنے عہدے سے برطرف ہوئے بلکہ وہ پرائم منسٹر ہاﺅس سے جیل منتقل ہو ئے۔ آپ ری پبلکن صدور کو دیکھ لیں، یعنی امریکی ری پبلکن صدر جارج بش سینئر (1989ءتا 1993ئ)کے دور میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت ختم کر دی گئی اور ایک اور ری پبلکن صدر جارج بش سینئر کے بیٹے جارج ڈبلیو بش جونیئر ( 2001 تا 2009ء) کے دور میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا قتل ہوا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہونے والے ان افسوس ناک اور اندوہناک واقعات کے تناظر میں ہو سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو امریکی ری پبلکن پارٹی سے کوئی اچھی توقعات نہ ہوں لیکن ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدور کے ادوار میں جمہوری اور سیاسی قوتوں کو زیادہ نقصان ہوا۔ بہرحال حالیہ الیکشن میں بھی اگر ری پبلکن اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ کامیابی پاکستان میں کسی مخصوص جماعت کے لیے بہتر ثابت ہوگی؟ اس بارے میں آپ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ کیوں کہ اس کا سارا دارومدار اور انحصار اس پر ہے کہ حالات کس کروٹ بیٹھتے ہیں۔ اگر امریکا کو عمران خان کی اس خطے میں ضرورت ہوئی تو وہ ضرور اُسے بچائے گا۔ لیکن اگر موجودہ حکومت ہی امریکا کے سارے کام کردے تو پھر امریکا کیوں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے برخلاف کسی مخصوص سیاسی پارٹی کو سپورٹ کرے گا؟ اور پھر ہمیں یہ بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ امریکا ایک سپر پاور ہے اور عالمی سامراجی طاقتوں کا سرخیل۔ اس کی اسٹیبلشمنٹ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی محافظ بھی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ ری پبلکن پارٹی اور ڈیمو کریٹک پارٹی بالترتیب دائیں اور بائیں بازو کی جماعتیں ہیں۔ اول الذکر امریکی اسٹیبلشمنٹ کے زیادہ قریب سمجھی جاتی تھی اور موخر الذکر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی بعض سخت گیر پالیسیوں کی نقاد ہے لیکن اب میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا ”مغرور“ شخص امریکا کا صدر بنے۔ کیوں کہ اسٹیبشلمنٹ خواہ کسی ملک کی بھی ہو، وہ ایسے شخص کو کم ہی پسند کرتی ہے جسے ”جی حضوری“ کی عادت نہ ہو۔ بہرکیف امریکا کے ہر نئے الیکشن کے بعد دنیا مزید اُلجھ جاتی ہے، جیسا سوچا ہوتا ہے ویسا ہوتا نہیں ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے جب جب امریکا سے فائدہ لینے کے مواقعے سامنے آتے رہے، ہم نے اپنے ملک کے ساتھ کیا کیا؟ سب کو یاد ہوگا کہ جب پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا تھا تو اُس وقت کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر کہتے ہیں کہ وہ فکرمند تھے کہ بدلے میں پاکستان ناجانے کس چیز کا مطالبہ کر سکتا ہے، لیکن وہ اس بات پر حیران ہوئے کہ یہاں کے سیاستدانوں نے صرف ذاتی مفادات کی باتیں کیں۔ خیر یہ تو ایک لمبی فہرست ہے، مگر ہم بطور قوم جب قوم ہی نہیں ہیں تو کیسے شکوے اور شکایات؟ اور رہی بات تحریک انصاف کی تو یہ بات ابھی تک کسی کو نہیں بھولی کہ عمران خان دور میں جب نومنتخب صدر جوبائیڈن کو موصوف کال کرتے رہے مگر انہوں نے جواب دینا پسند نہیں کیا تو یہ بات بانی تحریک انصاف کے خلاف گئی تھی۔ اور پھر یہ بات بھی زبان زد عام رہی ہیں کہ ٹرمپ کی بیوی عمران خان کو بطور سیاستدان بالکل اسی طرح پسند کرتی ہیں جس طرح جومہاتیر محمد کی بیوی اُنہیں پسند کرتی تھی۔ لیکن میں پھر کہوں گا کہ حالات کس کروٹ بیٹھیں گے، یہ اگلے سال ہی کنفرم ہوگا جب نئے امریکی صدر حلف اُٹھائیں گے،،، کوشش کروں گا اگلا کالم بھی اسی پر ہو تاکہ پاک امریکا تعلقات کے شوشوں پر مزید گفتگو کر سکوں!