مذاکرات میں سنجیدگی دکھائیں ورنہ !

”مذاکرات“ کا لفظ دنیا کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، کئی کئی جنگیں ان مذاکرات کے ذریعے ٹل جاتی ہیں، کئی کئی بحرانوں پر قابو پالیا جاتا ہے، پہلی اور دوسری جنگی عظیم بھی ہتھیاروں سے ختم نہیں ہوئی بلکہ مذاکرات سے ہی ختم ہوئی تھیں، حالیہ ادوار میں بھی مذاکرات ہی کی وجہ سے دنیا کے کئی بحران حل ہوئے۔ لیکن جب انہی ”مذاکرات“ کا ذکر پاکستان کے حدود اربعین میں داخل ہوتا ہے تو ساتھ ہی اس کا مطلب بھی بدل جاتا ہے۔ اس میں ملاوٹ، منافقت، وقت گزاری اور دیگر برائیاں شامل ہو جاتی ہیں۔ جیسے ہم آگے چل کر بھٹو کے دور میں ہونے والے مذاکرات کا بھی ذکر کریں گے لیکن فی الوقت بتاتا چلوں کہ دیرآئید درست آئید کے مترادف خبریں آرہی ہیں کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کیلئے رابطے شروع ہوگئے ہیں اور اس باب میں پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کیا جائے گا۔ ملاقاتوں سمیت رابطے کی دوسری صورتیں بھی اختیار کی جارہی ہیں لیکن معاملات کی نوعیت ایسی ہے کہ دونوں فریقوں کے قریب آنے میں وقت لگے گا۔ متضاد اور متصادم دعوے سامنے آرہے ہیں اور مزید سامنے آنے کے امکانات نظرانداز نہیں کئے جاسکتے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بعد المشرقین کی موجودہ کیفیت میں بات ایک دم آگے بڑھنے کی امید معجزے کی توقع کے مترادف ہے مگر ملکی حالات متقاضی ہیں کہ بحرانوں پر قابو پانے اور آگے بڑھنے کیلئے غیریقینی کیفیت کو ختم کیا جائے۔ اس کیلئے مذاکرات نہ صرف ضروری ہیں بلکہ فریقین میں اس کی خواہش بھی پائی جاتی ہے۔ کشیدگی کی شدید کیفیت میں اگرچہ یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ کل ہی سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا، جبکہ 24نومبر کا واقعہ بھی حال ہی سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت حکومت دو ٹولوں میں بٹی ہوئی ہے، ان میں سے ایک ٹولہ شاہی ہے، جو ہر گزمذاکرات نہیں چاہتا۔ یہ ٹولہ شہباز شریف گروپ ہے جو اقتدار کے مزے لے رہا ہے، جبکہ دوسرا ٹولہ نواز شریف ٹولہ ہے، یہ اقتدار میں تو نہیں ہے مگر حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔ یہ کسی حد تک تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو بھی تسلیم کرتا ہے لیکن حالات کے ہاتھوں مجبور ہے، جیسے نواز شریف نے جیسے ہی اپوزیشن سے مذاکرات کا قصہ چھیڑا اُن کے لیے حالات تنگ ہونا شروع ہوگئے۔ جیسے حال ہی میں سپریم کورٹ نے عادل بازئی کو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، الیکشن کمیشن نے عادل بازئی کی قومی اسمبلی کی رکنیت بحال کر دی۔اس پر سپریم کورٹ بھی الیکشن کمیشن پر خاصی برہم نظر آئی ۔ سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے عادل بازئی کی قومی اسمبلی سے ڈی سیٹ کئے جانے کیخلاف درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوالات بھی اُٹھائے ۔جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ عادل بازئی کیس میں حقائق جانچنے کیلئے کمیشن نے انکوائری کیا کی؟ جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بس بڑے صاحب کا خط آگیا تو بندے کو ڈی سیٹ کر دو یہ نہیں ہو سکتا۔اس دوران عدالت نے ڈی جی لا الیکشن کمیشن کو روسٹرم پر بلا لیا۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ کے پاس دو بیان حلفی آئے تھے، ایک جیتنے والا کہہ رہا ہے میرا ہے دوسرا وہ کہتا ہے میرا نہیں، آپ نے کس اختیار کے تحت بغیر انکوائری ایک بیان حلفی کو درست مان لیا؟ کیا الیکشن کمیشن یہ کہہ سکتا ہے کہ بس ایک بیان حلفی پسند نہیں آیا دوسرا آگیا؟دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن ملک کی تمام عدالتوں سے بالاتر ہے؟ آپ کو کسی چیز کی پرواہ ہی نہیں، کیا آپ کسی کو نہیں مانتے۔یہاں یہ بتاتا چلوں کہ عادل خان بازئی کی نااہلی کا ریفرنس پارٹی صدر ن لیگ نواز شریف نے اسپیکر کو بھجوایا تھا، انہوں نے بجٹ سیشن کے دوران پارٹی ہدایت کی خلاف ورزی کی تھی۔جس کے بعد عادل بازئی حکومتی بینچز سے اٹھ کر اپوزیشن بینچز پر بیٹھ گئے تھے۔عادل خان بازئی بطور آزاد امیدوار قومی اسمبلی کے حلقے 262 سے قومی اسمبلی کے رکنِ منتخب ہوئے تھے۔18 فروری کو ن لیگ کا جبکہ 20 فروری کو سنی اتحاد کونسل کا عادل بازئی کی پارٹی شمولیت کا سرٹیفکیٹ جمع کرایا گیا تھا۔میرے خیال میںاس فیصلے کے بعد نواز شریف مشکل میں نظر آرہے ہیں اور اگلا فیصلہ اُن کے خلاف بھی آسکتا ہے۔ خیر مذاکرات کے لیے سب سے ضروری تو یہ بات ہے کہ کیا آپ مذاکرات کے لیے سنجیدہ بھی ہیں یا نہیں، یا پھر حکومت محض ٹوپی ڈرامہ کھیل رہی ہے، اور اسے فیصلہ کرنے والی قوتوں کی سپورٹ بھی حاصل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ14دسمبر کی تاریخ کو گزارنا چاہ رہی کہ جب تحریک انصاف نے سول نافرمانی تحریک کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے بھٹو دور کے آخری سالوں یعنی اگرہم 1977کی پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کا جائزہ لیں تو اس میں شک وشبہ کی مطلق کوئی گنجائش نہیں ہے کہ عوام کی ایک غالب اکثریت اس تحریک میں شامل تھی۔اس تحریک کو فوج اور امریکہ کی آشیر باد حاصل تھی اس پر کوئی دو رائے نہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام نے اس تحریک میں بھر پور حصہ لیا تھا۔انتخابی دھاندلی ایک بہانہ تھا جس کی آڑ میں ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے کا منصوبنایا گیا تھا۔ذوالفقار علی بھٹو نے 1977کے انتخابات بڑی واضح برتری کے ساتھ جیتے تھے لیکن اپوزیشن نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ مقصدذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے الگ کرنا تھا اور اس کا ایک ہی طریقہ تھا کہ ان انتخابات کو متنازع بنا دیا جاتا۔ پاکستان قومی اتحاد نے دھاندلی کے نام پر تحریک کا آغا ز کردیا جو دن بدن متشدد ہو تی چلی گئی۔اپوزیشن راہنماﺅں نے ذولفقار علی بھٹو کوہالہ کے پل پر پھا نسی دینے کا اعلان کر دیا۔قومی اتحاد کسی بھی صورت میں ذولفقار علی بھٹو کی جان بخشی کرنے کیلئے تیار نہیں تھا۔اپوزیشن نے بھٹو مخالف جذبات کو اس حد تک بھڑکایا تھا کہ وہ تحریک گھیراﺅ جلاﺅ کی تحریک میں بدل گئی۔ذوالفقار علی بھٹو کی ذات پر ایسے رکیک حملے کئے گئے جو کسی بھی لحاظ سے سیاسی دائرے میں نہیں آتے تھے۔ایک جنگ تھی جو دو طبقوں کے درمیان تھی اور اس میں ایک طبقے کی ہار یقینی تھی۔ذولفقار علی بھٹو اب بھی پا کستان کے مقبول ترین راہنما تھے لیکن یہ کریڈٹ اپوزیشن کو دیا جانا ضروری ہے کہ اس نے اتنے طلسماتی اور سحر انگیز راہنما کے خلاف عوام کو بر انگیختہ کر دیا۔دونوں جماعتیں ایسی انتہاﺅں پر کھڑی تھیں جہاں پر ان کے درمیان مذاکرات اور بات چیت کے سارے امکانات معدوم ہو چکے تھے۔پاکستان قومی اتحاد کے جنرل سیکرٹری اور تحریک کے انتہائی موثر راہنما رفیق باجوہ نے اس پر تشدد ماحول میں امن کی ممکنہ راہ کی تلاش کی خاطر حکومت سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو اسے قومی اتحادسے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیااور اس کے بعد انھیں انتہائی رسوا کن طریقے سے سیاست سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بے دخل کر دیا گیاجو یہ ثابت کرنے کیلئے کافی تھا کہ اپوزیشن صرف حکومت کی برخاستگی چاہتی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو اپوزیشن کے عزائم اور عالمی سازشوں سے بخوبی آگاہ تھے ، جیسے آجکل عمران خان بھی پوری طرح آگاہ ہیں، لہٰذا انھوں نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ ا پنانے کا فیصلہ کیا۔ذولفقار علی بھٹو کے بہت سے قریبی دوست مذاکرات کا ڈول ڈالنے کے مخالف تھے کیونکہ سیاست پر ان کی نظر ذولفقار علی بھٹو جتنی گہری اور وسیع نہیں تھی۔پاکستا ن قومی اتحاد نے اپنی حکومت مخالف تحریک میں صرف ذولفقار علی بھٹو کی ذات کو نشانہ بنایا تھا کیونکہ انھیں علم تھا کہ پی پی پی صرف ذولفقار علی بھٹو کی ذات کا ہی نام ہے لہٰذا ذولفقار علی بھٹو کے اقتدار سے ہٹ جانے کے بعد پی پی پی دفا عی پوزیشن میں چلی جائیگی اور پھر ہماری جیت کو کوئی روک نہیں سکے گا۔ پاکستان قومی اتحاد میں بھی مذاکرات کے نام پر سخت اختلافات پائے جاتے تھے کیونکہ ایک گروہ کو جس کی قیادت ائر مارشل اصغر خان کر رہے تھے کو سخت خد شہ تھا کہ مذاکرات سے ذولفقار علی بھٹو زندہ بچ کر نکل جائیگا لہٰذا وہ مذاکرات کے بکھیڑوں میں نہیں پڑنا چاہتے تھے۔وہ اسی تحریک کے زور سے اقتدار پر قابض ہونا چاہتے تھے کیونکہ اس سے بہتر موقع انھیں شائد دوبارہ نہ ملتا۔لیکن دوسرے گروہ نے ان کی رائے کو غیر اہم سمجھ کر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا،کیونکہ جمہوری معاشروں کی پہچان مذاکرات ہی ہوا کرتے ہیں۔ ذولفقار علی بھٹو کو اس بات کا پختہ یقین تھا کہ پاکستان کے عوام ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں لہذا انھیں انتخابات میں شکست دینا اپوزیشن کے بس میں نہیں ہو گا۔ذولفقار علی بھٹو نے اپوزیشن کے سارے مطالبات مان کر دوبارہ انتخابات کی راہ ہموار کر دی تھی یہ جانتے ہوئے بھی کہ انتخا بی دھاندلی کے الزامات انھیں بدنام کرنے کے علاوہ کچھ نہیں حالانکہ سچ یہی ہے کہ اپوزیشن انتخات ہار چکی تھی لیکن اسے تسلیم کرنے سے عاری تھی۔انانیت کی ضد تھی جو اپوزیشن کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہو گئی تھی اور جسے پاٹنا اس کے لئے ممکن نہیں تھا۔چار جولائی1977کو پی پی پی اور اپوزیشن کے درمیان معاہدہ طے پا گیا لیکن اسی شب جنرل ضیالحق نے شب خون مار کر اقتدار پر قبضہ کر لیا کیونکہ عالمی طاقتیں یہ سمجھ چکی تھیں کہ مذاکرات کی میز پر انتخابات کے انعقاد کیلئے راضی ہونا اپوزیشن کی ہار ہے کیونکہ انتخابات میں ذولفقار علی بھٹو کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔ادھر جنرل ضیاا لحق نے اقتدار پر قبضہ کیا اور ادھر وہ ساری جماعتیں جو ذولفقار علی بھٹو سے مذاکرات کر رہی تھیں جنرل ضیا ا لحق کی مارشل لائی حکومت کا حصہ بن گئیں جو یہ ثا بت کرنے کیلئے کافی ہے کہ اپوزیشن ،فوج اور عالمی طاقتیں ذولفقار علی بھٹو کو ہٹانے کے لئے متحد تھیں۔ آج بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں، کہ جو گروہ مذاکرات نہیں چاہتے وہ کبھی انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے، انہوں نے مارکیٹ میں فیصل واﺅڈا، طلال چوہدری ، شیری رحمن یا دوسرے تیسرے رہنماءچھوڑے ہوئے ہیں جو کبھی نہیں چاہیں گے کہ مذاکرات کامیاب ہوں اور پاکستان اور عمران خان سرخرو ہو۔ کیوں کہ مذاکرات اگر سنجیدہ ہوئے تو ملک پھر ہی بحرانوں اور مشکلات سے نکلے گا، اس کے لیے دونوں فریقین مذاکرات میں سنجیدگی دکھائیں ورنہ یہ ملک مزید بحرانوں میں اُلجھتا چلا جائے گا اور ہم سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے!