مذاکرت میں اپوزیشن نہیں ، حکومت سنجیدگی دکھائے !

اللہ اللہ کرکے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے جس کا پہلے دور گزشتہ روز ہوا جبکہ اگلا دور نئے سال میں یعنی 2جنوری کو ہوگا۔ ویسے تو ان مذاکرات کے حوالے سے عام رائے پائی جاتی ہے کہ اس کی کامیابی کے 20فیصد جبکہ ناکامی کے 80فیصد امکانات ہیں، اسکی وجوہات کو تو آگے چل کر ڈسکس کریں گے مگر یہاں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ ابھی سے ہی ڈیڈ لاک کے آثار نظر آرہے ہیں کیوں کہ تحریک انصاف کی پہلی شرط یہی ہے کہ بانی تحریک انصاف اور اسیرانِ 9مئی کو رہا کیا جائے۔لہٰذایہ مشکل ہوگا، لیکن ناممکن بھی نہیں ہے!اور پھر مذاکرات کی100فیصد کامیابی اس لیے بھی نہیں ممکن کیوں کہ دونوں اطرف سے نہ تو نوابزادہ نصراللہ یا میرغوث بخش بزنجو جیسے لوگ موجود ہیںاور نہ ہی مولانا کوثر نیازی یا مولانا مفتی جیسے لوگ موجود ہیں۔ بلکہ حکومتی سائیڈ سے جو مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اُن میں نمایاں نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، سینیٹر عرفان صدیقی، رانا ثنااللہ، نوید قمر ، راجا پرویز اشرف اور فاروق ستار، جب کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اسد قیصر، اعجاز چوہدری، حامد رضا اور علامہ راجا ناصر عباس شامل تھے۔پہلی میٹنگ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے لیے قائم کمیٹی میں اعجاز الحق اور خالدمگسی کو شامل کیا۔جبکہ اپوزیشن کی جانب سے عمر ایوب، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین، سلمان اکرم راجہ بوجوہ شرکت نہ کر سکے۔ اب حکومتی مذاکراتی ٹیم میں چند لوگ ایسے بھی ہیں جن کا میں نام نہیں لوں گا مگر آپ سمجھ جائیں گے کہ جو مذاکرات کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ لہٰذاکیا ہی اچھا ہوتا کہ ان مذاکرات میں حکومت کی جانب سے خواجہ سعد رفیق، قمر زمان کائرہ، خورشید شاہ اور اپوزیشن کی جانب سے فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی اور شاہ محمود قریشی موجود ہوتے، جن کو جیل سے لایا جا سکتا تھا۔ویسے تو ایاز صادق بھی اپنے نرم رویے کی وجہ سے خاصے مشہور ہیں مگر مذکورہ بالا شخصیات کا ماضی دیکھا جائے تو یہ لوگ ہمیشہ مدلل گفتگو کرتے ہیں۔ اور ویسے بھی کسی مذاکرات کی کامیابی کے لیے دونوں اطراف سے بہترین ٹیموں کا انتخاب ہی آپ کے مذاکرات کی کامیابی پر مہر بن جاتا ہے، جیسے آپ 1977ءکے سخت سیاسی ماحول میں حکومتی اور اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیموں میں دیکھ لیں کہ کتنے بڑے بڑے نام تھے۔ یعنی ایک طرف خود اُس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اوراُس وقت کے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ اور مولانا کوثر نیازی تو دوسری طرف پروفیسر غفور، مولانا مفتی محمود اور نوابزادہ نصراللہ جیسے سیاسی اکابر۔ حکومتی ٹیم کو کسی سے مشورہ لینے کی ضرورت نہیں تھی جبکہ اپوزیشن کی مشکل یہ تھی کہ پاکستان قومی اتحاد 9جماعتوں پر مشتمل تھا۔ اس سب کے باوجود وہ مذاکرات کامیاب ہونے لگے تو ملک میں مارشل لا لگا دیا گیا ۔لیکن تمام سیاسی جماعتیں اس بات سے آج بھی متفق ہیں کہ اُس وقت مذاکرات کامیاب ہو چکے تھے۔ لہٰذاکیا آج مذاکراتی ٹیم میں دونوں اطراف سے میاں نواز شریف، صدر آصف علی زرداری، عمران خان ، مولانا فضل الرحمن ، شاہ محمود قریشی وغیرہ جیسی شخصیات کا ہونا ضروری نہیں تھا؟لیکن کیا کریں ہمارے درمیان 9مئی جو آجاتا ہے، لگتا ہے ہم نے اُسی پر ہی کھیلنا ہے، اور اوپر سونے پر سہاگہ یہ کہ سانحہ 26نومبر بھی ہو چکا ہے، لہٰذاہم ان سے باہر نکلیں گے تو کچھ کر سکیں گے۔ ویسے ہٹ دھرمی تو یہ ہے کہ 9مئی کے کئی ملزمان کے ابھی تک چالان بھی عدالت میں پیش نہیں کیے گئے۔ لہٰذااُن کو تو آپ ضمانت پر رہا کردیں۔ ابھی تک 9مئی پر آزاد جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا گیا، ابھی تک کسی صورت شفاف انکوائری نہیں کی جاسکی۔ آپ اس پر جوڈیشل کمیشن بنا دیں، ویڈیوز باہر لے آئیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ میں پھر یہی کہوں گا کہ حکمراں اتحاد خاص طور پر مسلم لیگ (ن) 9 مئی کے پیچھے چھپی نظر آتی ہے جبکہ پی ٹی آئی کا مطالبہ 9مئی پر عدالتی کمیشن کاہے۔ حکومت کہتی ہے 26نومبر کو پی ٹی آئی کے احتجاج کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے پانچ جوان شہید ہوئے پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے اُن کے 12کارکن شہید ہوئے اور یہاں بھی اُن کا مطالبہ ہے عدالتی کمیشن کا لیکن مذاکرات کا اصل محور 8 فروری 2024ءکے انتخابات ہیں اور ”مینڈیٹ“ کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا ہے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ اُسکا مینڈیٹ ”چوری“ ہوا ہے جو اُسے واپس دیا جائے یعنی موجودہ حکومت کا کوئی قانونی جواز نہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کا دعویٰ ہے کہ اگر بات مینڈیٹ سے ہی شروع کرنی ہے تو پھر ابتدا 2018 ءسے کرنی ہوگی یعنی دونوں سمجھتے ہیں کہ اپنے اپنے وقت میں ا±ن کا الیکشن چوری ہوا البتہ ”کس نے کیا“، اس پر بات دبے الفاظ میں یا پھر آف دی ریکارڈ ہی کی جاتی ہے۔ اور پھر اندھوں کو بھی علم ہے کہ بانی تحریک انصاف پر جو مقدمات قائم کیے گئے ہیں اُن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ لہٰذاتحریک انصاف کا یہ مطالبہ تو اپنی جگہ بجا ہے ۔ آپ اپنی طرف سے ہر گز یہ شرط قائم نہ کریں کہ جن لوگوں نے تحریک انصاف کے خلاف پریس کانفرنس کی، وہ بڑے سے بڑا ملزم بھی تھا تو اُسے رہا کر دیا گیا۔اگر آج یاسمین راشد پریس کانفرنس کردے تو آپ اُس کے تمام گناہ معاف کر کے اُسے رہا کر دیں گے۔ یا اعجاز چوہدری پریس کانفرنس کر دے تو آپ کہیںگے کہ اس سے اچھا تو بندہ ہی نہیں ہے۔ یعنی جو آپ کی بات نہ مانے ، وہ حق سچ پر اڑے رہے، وہ آپ کی نظر میں غدار ہیں۔ حالانکہ میرے خیال میں وہی اصولی اور ملک کے لیے بہترین سیاستدان ہیں۔ جو بکے نہیں اور نہ ہی اپنے اصولوں سے منحرف ہو سکے۔ تو کیا اُنہیں ”خالص“ ہونے کی سزا دی جا رہی ہے؟ بلکہ میرے خیال سے تو آپ اُنہیں مستقبل کا ہیرو بنا رہے ہیں۔ لہٰذاریلیف دینا حکومت کا کام ہے، اپوزیشن کا کام نہیں ہے، اور پھر اگر تحریک انصاف کو مذاکرات کی طرف واقعی لانا چاہتے ہیں تو اُنہیں گرین سگنل بھی دیں۔سیاسی اسیران کو رہا کریں، اس وقت پوری دنیا ہماری آرمی کورٹس کے حوالے سے سوال اُٹھا رہی ہیں کہ جمہوری دور میں کیسے ممکن ہے کہ آرمی کورٹس میں سویلینز کو سزائیں دی جائیں۔ لیکن آپ ٹس سے مس نہیں ہو رہے اور ضد لگائے بیٹھے ہیں۔ بہرحال ہم تو پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ مذاکرات شروع کیے جائیں اور اگر یہ مذاکرات آج سے 2، ڈھائی سال پہلے شروع ہو جاتے تو اتنا نقصان نہ ہوتا۔ اور پھر جب سب کو علم ہے کہ آنا سب نے مذاکرات کی میز پر ہی ہے تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ کیا مذاکرات سے بڑے بڑے مسائل حل نہیں کیے گئے۔ کیا مصر اسرائیل مذاکرات سے اُن کی آپسی لڑائی ختم نہیں ہو گئی؟ کیا کیمپ ڈیوڈ معاہدہ مذاکرات کا شاخسانہ نہیں ہے؟ اور پھر جرمنی فرانس کی ڈیڑھ سو سالہ لڑائی کو مذاکرات کے ذریعے ختم نہیں کیا گیا؟ کیا ترکوں کا مذاکرات کے بعد ”معاہدہ لوزان“کسی کو یاد نہیں کہ جب عثمانی دور ختم ہوا تو اسی معاہدے کے ذریعے ہی ترکوں کی لڑائی ختم ہوئی تھی۔ آپ دور نہ جائیں پاک انڈیا مذاکرات ہی کو دیکھ لیں کہ معاہدہ تاشفقند دیکھ لیں، معاہدہ شملہ دیکھ لیں۔ ہماری کئی آپسی جنگیں مذاکرات کے ذریعے ہی ختم ہوئی تھیں۔ لہٰذایہ بات تو طے ہے کہ جتنی بڑی سے بڑی جنگ ہو مذاکرات کے بعد ختم ہو ہی جاتی ہے۔بلکہ این آر او بھی مذاکرات ہی تھے۔ اس لیے مذاکرات قائم کریں اور صدق دل سے کریں۔ کسی فریق کی نیت میں کھوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ بہرکیف مذاکرات میں حکومت سنجیدگی دکھا ئے اور اپنی بی ٹیم کے بجائے اے ٹیم بھیجے اور اُدھر سے بھی اے ٹیم کی رہائی کے لیے اپنا بڑا پن دکھائے۔ کیوں کہ مذاکرات ہوتے ہی ایک مشکل صورتحال سے نکلنے کیلئے ہیں۔ اگر عمران اور نواز شریف ہی اپنی اپنی ”سیاسی انا“ کو ایک طرف رکھ کر ملک کو ایک ”ہائبرڈ نظام“ سے باہر لا کر ایک مضبوط جمہوری نظام کی طرف جانے کی کوشش کریں تو شاید معاملات ایک نئے ”میثاق جمہوریت“ کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ 1977ءمیں مذاکرات کا آغاز ہوا تو ہڑتال اور احتجاج روک دیا گیا۔ یہاں بھی پی ٹی آئی کو ابھی ”سول نافرمانی“ کی کال کو جو ایک انتہائی اقدام ہوگا روک دینا چاہئے کیونکہ وہ خود بھی جانتے ہیں 24نومبر کی ”فائنل کال“ سے انہیں خود کتنا نقصان ہوا۔ دوسری طرف حکمران اتحاد کو بھی سیاسی رویہ دکھانا ہوگا جس کی ابتدا ا±ن سیاسی کارکنوں کی رہائی سے ہو سکتی ہے جن پر سنگین الزامات نہیں ہیں۔ آخر میں ہمیں محترمہ بے نظیر بھٹو کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے جن کی کل 17ویں برسی ہے، وہ ہمیشہ ڈائیلاگ پر یقین رکھتی تھی، وہ حکومت میں رہ کر بھی مثبت سیاست کرتیں۔ محترمہ بے نظیر کی سیاست میں انقلاب اور جذبات بھی نظر آتے ہیں، 1979ءسے 1986ءتک سکھر جیل سے لے کر کراچی سینٹرل جیل تک، کارکنوں کو وال چاکنگ اور پمفلٹ لکھنے کی تربیت سے لے کر جام ساقی کیس میں فوجی عدالت کے روبرو بائیں بازو کی سیاست کے دفاع تک، لاٹھی چارج بھی برداشت کیااور آنسو گیس بھی۔ دوسرا دور 1988ءسے 2006 ءتک بار بار مینڈیٹ چوری ہوا پھر بات چوری کرنے والوں سے بھی کی اور چوری کرانے والوں سے بھی۔ محترمہ کی شہادت کے بعد سیاست ایک بار پھر ”بند گلی“ میں چلی گئی ہے اور اب اسے باہر لانا اس لئے بھی زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ دونوں فریق اپنی اپنی سیاسی اسپیس کھو چکے ہیں اور ایک ”ہائبرڈ نظام“ کو قبول کر چکے ہیں۔ اس لیے ہمیں محترمہ کے وژن کو آگے بڑھانا ہوگا ورنہ ہم مزید بند گلی میں داخل ہو جائیں گے!