2024ءبدترین آئینی ترامیم کا سال!

ہر سال جیسے جیسے گزرتا ہے، ہم بطور قوم مزید نااُمیدی کی طرف چلے جا تے ہیں۔ 80ءکی دہائی کے بعد تو شاید ہی ہم کبھی بہتری کی طرف گئے ہوں ۔ کبھی افغان جنگ میں ہمیں دھونس دیا جاتا رہا تو کبھی اندرونی خانہ جنگی کی طرف۔ کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر کھڑا کردیا گیا تو کبھی طالبانائزیشن کی صفوں میں شامل کر دیاگیا۔ کبھی کرپشن کے سمندر میں گرا دیے گئے تو کبھی کبھی ایسے خواب دکھائے گئے کہ عوام کو ناک سے لکیریں نکالتے دیکھا گیا۔ کبھی چوروں کو اقتدار سے نکال باہر کیا گیا، تو کبھی چوروں کو شایان شان طریقے سے دوبارہ واپس لا کر تماشا دیکھا گیا، جس کے بعد اب ہر گزرتے دن یہی فکر رہتی ہے کہ ہم دیوالیہ نہ ہو جائیں ۔ بلکہ ایسی صورتحال ہو چکی ہے کہ ہر کاروباری دن کے شروع ہوتے ہیں ٹی وی دیکھنا پڑتا ہے کہ کہیں خدا خیر کرے کہ کوئی بری معاشی خبر نے تو نہیں آن گھیرا۔ سال 2024ءہی کو دیکھ لیں، یہ سال بھی اس ملک کے لیے ایک ڈراﺅنے خواب جیسا تھا۔ایک ایسا خواب جسے دیکھتے ہوئے دل ڈوب ڈوب گیا اور جاگنے پر آنکھوں کوتعبیر کے کانٹے چننے پڑے۔جب شب وروز ایک جیسے اندھیرے اوڑھ لیں تو امید کا ٹمٹاتا دِیا بھی تھک کر کسی کونے میں بیٹھ جاتا ہے۔ سال شروع ہوا تو الیکشن کا زور تھا، فروری آیا تو سب کچھ بدل گیا، عوام نے اپنی کن انکھیوں سے دیکھا کہ کیسے مینڈیٹ چوری کیا گیا، یعنی آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ 2024ءکے حوالے سے کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ اتنا خوفناک سال ہوگا جو ہمارے برسوں کے فخروانبساط اور چین وقرار کو نیست و نابود کردے گا۔ ہم جو سمجھتے تھے کہ جمہوریت ڈکٹیٹر شپ کو ختم کر دیتی ہے، وہ سب کچھ جھوٹ نکلا، چلیں خیر اُس کو تو چھوڑیں ،،،8فروری کے الیکشن سے پہلے ہی دھاندلی کی تیاریاں اس انداز میں کی گئیں کہ الیکشن کمیشن پوری طرح ایکسپوز ہوا۔ نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ سال کے آغاز میں ہی تحریکِ انصاف بلے کے انتخابی نشان سے محروم ہوئی، 13 جنوری 2024 کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ نے 13 گھنٹے کی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو اس کے انتخابی نشان بلے سے اس بنا پر محروم کیا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا کوئی ثبوت عدالت میں جمع نہ کرا سکی۔ حالانکہ دیگر جماعتوں کے پاس بھی اس قسم کا کوئی ثبوت نہیں تھا لیکن پھر بھی نشانہ ایک مخصوص جماعت رہی۔ پھر پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی حق دار ٹھہری، سپریم کورٹ کے 13 رکنی فل کورٹ نے 12 جولائی کو مخصوص نشستوں کے کیس میں فیصلہ دیا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی حق دار ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ’انتخابی نشان کا نہ ملنا کسی جماعت کو انتخابات سے نہیں روکتا۔ تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت تھی اور ہے۔ عدالت نے کہا اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تحریک انصاف نے پہلے درخواست دائر کیوں نہ کی اور اس سے قبل ہی اسے ریلیف کیوں دے دیا گیا۔ مخصوص نشستوں کے لیے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ آٹھ ججز نے پی ٹی آئی کے حق میں اکثریتی فیصلہ دیا، جو جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا۔ خیر فروری گزرا تو حکومت اُنہیں ملی جن کا مینڈیٹ ہی نہیں بنتا تھاپھر اس حکومت نے آئین کے ساتھ جو کھلواڑ کیا، وہ بھی تاریخ کا سیاہ دور سمجھا جائے گا۔ ایسی ایسی آئینی ترامیم کی گئیں کہ 1973ءکے آئین کی اصل روح پر ہی گرہن لگ گیا۔ مثلاََسال 2024 عدالت عالیہ سے عدالت عظمیٰ تک عام سائلین کے مقدمات کم ہی سنے گئے، جب کہ سیاسی مقدمات کی بھرمار رہی۔ اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ اور نئے چیف جسٹس کی تعیناتی اور آئینی عدالت کا قیام بھی سال 2024 کی اہم عدالتی تبدیلیاں رہیں، جب کہ فوجی عدالت سے بھی اہم فیصلے سامنے آئے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی 25 اکتوبر کو ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس یحییٰ آفریدی 30 ویں چیف جسٹس آف پاکستان بنے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی مستعفی ہوئے، جن میں اولاذکر سینیارٹی میں دوسرے نمبر پہ تھے اور انہوں نے جسٹس عیسیٰ کی سبکدوشی کے بعد اس سال اکتوبر میں چیف جسٹس بننا تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن کے استعفیٰ کے بعد جسٹس منصور علی شاہ سینیئر ترین جج بن گئے۔ لیکن 26 ویں آئینی ترمیم میں چیف جسٹس کی تعیناتی کا طریقہ کار تبدیل ہونے کے باعث وہ بھی عدالت عظمیٰ کے سربراہ نہ بن سکے اور خصوصی کمیٹی نے ان کے بجائے جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس آف پاکستان مقرر کیا۔ یہ سب کچھ ایک خاص جماعت کو کارنر کرنے کے لیے کیا گیا۔ پھر سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 کرنے کا بل منظور کیا گیا اور آئینی مقدمات کی سماعت کے لیے آئینی بینچ تشکیل دیا گیا۔ کیسز کا بوجھ کم کرنے کے لیے جسٹس طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم کو سپریم کورٹ میں ایک سال کے لیے ایڈہاک ججوں کے طور مقرر بھی کیا گیا۔اس کے علاوہ 2024 کا سب سے اہم فیصلہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی عدالت سے سامنے آیا، جس میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر سیاسی انتشار اور حلف کی خلاف ورزی کے الزامات کی بنا پر آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت فرد جرم عائد کی گئی، جس کے بعد اب ٹرائل کی کارروائی آگے بڑھے گی۔پھر فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق فیصلہ کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس میں فوجی عدالتوں کو سویلینز کے کیسز کا فیصلہ سنانے کی اجازت دی۔ پھر اسی سال سیاست دانوں کی تاحیات نااہلی ختم ہوئی، سپریم کورٹ نے رواں برس جنوری میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سیاست دانوں کی تاحیات نااہلی ختم کی۔ پھر سال 2024ءمیں اڈیالہ جیل موضوع بحث رہی، کیوں کہ بانی تحریک انصاف وہاں پابند سلاسل تھے۔ یعنی2024 میں عمران خان بشریٰ بی بی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف فیصلے بھی ہوئے اور کچھ میں ضمانتیں بھی ملیں۔ عمران خان اور شاہ محمود قریشی ضمانتوں کے باوجود زیر حراست ہیں اور انڈر ٹرائل قیدی ہیں جبکہ بشری بی بی کو ضمانت مل چکی ہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عام انتخابات سے قبل 31 جنوری کو توشہ خانہ نیب کیس میں عمران خان اور بشری بی بی کو 14-14سال کی قید بامشقت اور عوامی عہدے کے لیے 10 سال کے لیے نااہلی کا فیصلہ سنایا، جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپریل میں توشہ خانہ ون کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزائیں معطل کر کے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔پھر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے 30 جنوری کو عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں 10-10سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔لیکن تین جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں بری کرتے ہوئے خصوصی عدالت سے سنائی گئی سزا کا فیصلہ کاالعدم قرار دے دیا۔ دوسری جانب اسلام آباد کی سول عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدت میں نکاح کا مجرم قرار دیتے ہوئے سات سات سال قید کی سزا سنائی، تاہم ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اس کیس میں بری کر دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے نومبر میں توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانتیں منظور کی، جب کہ دوسری جانب دسمبر میں ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کیے۔ 190 ملین پاو¿نڈ کیس میں بھی عمران خان کی ضمانت منظور ہوئی، جسے نیب نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا، جبکہ اڈیالہ جیل میں اس کیس کا ٹرائل اختتامی مراحل میں ہے۔ خیر معیشت کے حوالے سے دیکھ لیں، ریکارڈ 30ارب ڈالر کے نئے قرضے لیے گئے، یعنی اتنے وسائل، افرادی قوت، سونا اگلتی زمین،معدنیات سے بھرے پہاڑ،بل کھاتے دریا،زرخیز زمین ،لہلاتے کھیت اور خزانوں سے بھرے وسیع سمندر کا مالک ملک ترقی پذیر ی کے حوالے سے مزید نیچے چلا گیا۔ پاک دھرتی کے پاسپورٹ کی مزید تنزلی ہوئی۔ الغرض ہماری معاشی حالت کا مستقبل یہ ہے کہ ہماری ہر صبح کی جبین عالمی بینک کے آگے قرضوں کے ترلے کی ٹرے لئے سرنگوں کھڑی ہوگی۔جبکہ ہماری ترقی پذیر معیشت مصنوعی تنفس کی نالیوں پر زندہ ہوگی۔ بہرحال اسی لیے اس سال کو تاریخ میں ترامیم اور مخالفین کو دبانے کے سال کے حوالے سے یاد رکھا جائے ، اور یہ بھی یاد رکھا جائے کہ اس سال فیصلہ سال گزشتہ 78سالوں میں اتنے ایکسپوز نہیں ہوئے جتنے اس سال ہوئے ہیں۔ خیر واپس آتے ہیں سال 2024ءپر تو یہ اس حوالے سے بھی بدترین سال رہا کہ ہم نے نا تو کرپشن کی روک تھام کے حوالے سے کوئی ترقی کی اور نہ ہی انصاف دینے میں۔ بلکہ ہمارے ملک کے کرپٹ اداروں کے حوالے سے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پولیس سب سے زیادہ کرپٹ ہے، اس کے بعد ٹھیکے دینے اور کٹریکٹ کرنے کا شعبہ اور پھر عدلیہ ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبے بالترتیب چوتھے اور پانچویں کرپٹ ترین شعبے ہیں۔ مقامی حکومتیں، لینڈ ایڈمنسٹریشن اینڈ کسٹم، ایکسائز اور انکم ٹیکس بالترتیب چھٹے، ساتویں اور آٹھویں کرپٹ ترین ادارے ہیں۔ پبلک سروس ڈیلیوری کی ٹرمز کے مطابق عدلیہ میں رشوت کا اوسط خرچ سب سے زیادہ 25 ہزار 846 روپے ہے۔اور پھر یہ سب ادارے دنیا بھر میں بھی پاکستانی سبکی کا سبب اُس وقت بنتے ہیں جب ہمارا ملک دنیا کے ایماندار ملکوں کی فہرست میں 144ویں نمبر پر دیکھا گیا۔ بہرکیف واقعات تو 2024ءکے اور بھی بہت سے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہم ان گھمبیر واقعات سے کیا سیکھتے ہیں؟ یقینا کچھ نہیں سیکھتے، تبھی یہ بار بار ہوتے ہیں اور ملک پیچھے چلا جاتا ہے، ابھی بھی ایک تازہ رپورٹ میرے سامنے میز پر پڑی ہے، جس کے مطابق 9مئی کے واقعات کے بعد پاکستان سے 23ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بیرون ملک منتقل ہوئی۔ اب بتائیں جو ملک ڈیڑھ ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے پورا سال گھٹنوں کے بل کھڑا رہے، وہ کیسے ممکن ہے کہ ان حالات میں بھی ضد پر اڑا رہے اور ملک کو مزید دلدل کی طرف دھکیلے! اس کے لیے سوچیئے گا ضرور! کیوں کہ جب تک ڈسکشن نہیں کریں گے، سوچیں گے نہیں تو معاملات کبھی حل نہیں ہوتے!