مذاکرات اور سنگین سزائیں، سب کیسے چلے گا؟

بانی تحریک انصاف پر یقینا کڑا وقت چل رہا ہے، ایسا کڑا وقت کہ شاید ہی انہوں نے اپنی زندگی میں اس سے برا وقت دیکھا ہو.... ابھی گزشتہ روز اُسی کیس میں اُن کو سزا ہوگئی جس کے بارے میں ڈیڑھ سال قبل راقم نے لکھا تھا کہ القادرٹرسٹ کیس میں اگر عمران خان نے اپنی پوزیشن واضح نہ کی تو یہ کیس اُن کے لیے آنے والے دنوںمیں مسائل کھڑے کرے گا۔ یعنی اس کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاﺅنڈ ریفرنس کا فیصلہ آگیا، جسے احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے سنا یا۔فیصلے کے مطابق پہلے ہی سے اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کو 14 سال جبکہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔اس کے علاوہ جرمانے کی سزا بھی سنائی اور القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا گیا۔بشریٰ بی بی کو بھی عدالت کی حدود سے تحویل میں لے کر اڈیالہ منتقل کر دیا گیا ۔ ویسے تو اس کیس کے حوالے سے سبھی جانتے تھے کہ یہ کبھی بھی تحریک انصاف کے حق میں نہیں آسکتا، مگر مذاکرات کے تیسرے دور کے اختتام اور تحریک انصاف کی قیادت کی آرمی چیف سے ملاقات کے فوری بعد اس فیصلے کا آنا یقینا پریشان کن بھی ہے اور ملک میں سیاسی استحکام کی اُمید کرنے والوں کے لیے پریشان کن بھی ہے۔ خیر آگے چلنے سے پہلے اس کیس کے حوالے سے بتاتا چلوں کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر الزام تھا کہ انہوں نے 190 ملین پاو¿نڈ پاکستان منتقل ہونے سے قبل ’ایسٹ ریکوری یونٹ‘ کے سربراہ شہزاد اکبر کے ذریعے ایک پراپرٹی ٹائیکون سے خفیہ معاہدہ کیا جسے اپنے اثر و رسوخ سے وفاقی کابینہ میں منظور بھی کروا لیا۔پھر شہزاد اکبر نے 6 دسمبر 2019ءکو نیشنل کرائم ایجنسی کی رازداری ڈیڈ پر دستخط کیے۔ بانی پی ٹی آئی پر الزام تھا کہ انہوں نے خفیہ معاہدے کے ذریعے 190 ملین پاو¿نڈ کو حکومتِ پاکستان کا اثاثہ قرار دے کر سپریم کورٹ کا اکاو¿نٹ استعمال کیا۔بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نے اپنی خاص ساتھی فرحت شہزادی کے ذریعے موضع موہڑہ نور اسلام آباد میں 240 کنال اراضی حاصل کی اور پھر ذلفی بخاری کے ذریعے پراپرٹی ٹائیکون سے 458 کنال اراضی القادر یونیورسٹی کے لیے حاصل کی۔اور اس یونیورسٹی میں 90فیصد طلبافری تعلیم بھی حاصل کررہے ہیں۔ اور ابھی گزشتہ روز ہی برطانوی میڈیا نے ہمارے وزیر اطلاعات کی باتوں کو یکسر مسترد کردیا ہے کہ القادر یونیورسٹی میں سرے سے تعلیمی سرگرمی ہی نہیں ہوتی، بلکہ غیر ملکی میڈیاکا دعویٰ ہے کہ وہاں ابھی بھی 200سے زائد طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں، جو فنڈز کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ اور طلبہ شدید قسم کے ذہنی دباﺅ کا شکار ہیں۔ درحقیقت یہ یونیورسٹی عمران خان نے اپنے دور میں خالص اسلامی تعلیمات کے لیے بنائی تھی ۔ اور کہا تھا کہ اس یونیورسٹی میں نہ صرف تعلیم دی جائے گی بلکہ آکسفورڈ ریذیڈینشل کالج کی طرز پر طلبہ کو مینٹورز بھی اسائن کیے جاتے ہیں، جو نہ صرف کلاس ختم ہونے کے بعد بھی طلبہ کے ساتھ ہوتے ہیں بلکہ ان کی اخلاقی اور روحانی تربیت بھی کرتے ہیں۔ اس جامعہ میں ایسا نظامِ تعلیم وضع کیا گیا ہے جس میں طلبہ و طالبات کو جدید علوم قرآن و سنت کی روشنی میں نہ صرف سکھائے جارہے تھے بلکہ اصل روح کے مطابق ان تعلیمات پر عمل کرنے کی تربیت بھی دی جارہی تھی۔قصہ مختصر کہ یہ ادارہ بھی بالکل اُسی طرح کا پراجیکٹ تھا جس طرح شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کو کامیابی سے چلایا جا رہا ہے۔ یہ اس وقت اسلام آباد کے قریب سوہاوہ(جہلم) میں واقع ہے۔ جو اسلام آباد سے 85کلومیٹر دور ہے۔ بہرحال تعلیمی ادارہ تو یہ ہے ہی مگر خان صاحب نے جانے انجانے میں شاید غلطیاں بھی کی ہوں گی مگر اس حوالے سے ایک بات نے خاصا پریشان کیا ہو ا ہے کہ تمام ادارے اس پراپرٹی ٹائیکون کے خلاف کیس کرنے کی بات کیوں نہیں کرتے؟ جو اس کیس کی بنیاد بنا ہے؟ کوئی اُس پر مقدمہ دائر کرنے کی جسارت نہیں کرتا،اور نہ ہی جن لوگوں نے ان سے ماضی میں استفادہ کیا ہے ، اُنہیں بھی کوئی نہیں پوچھ رہا، سب کے علم میں ہے کہ لاہور کا بلاول ہاﺅس کہاں سے آیا اور کس نے تحفہ دیا۔ لیکن دوسری جانب اس کیس میں نیب عدالت نے محض خان صاحب اور اُن کی اہلیہ کو سزا دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ اصل مسئلہ القادر ٹرسٹ نہیں بلکہ یہ دونوں ہیں۔ خیر اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت تحریک انصاف پر کڑا وقت چل رہا ہے،پھر مذاکرات کا عمل بھی دوبارہ بڑی مشکل سے شروع ہوا تھا،جبکہ آرمی چیف اور تحریک انصاف کی قیادت سے ملاقات بھی پہلی مرتبہ ہوئی ہی تھی اور ریاست نے ماں کا کردار ابھی ادا کرنے کے لیے قدم بڑھایا ہی تھا کہ مذکورہ بالا کیس میں بانی تحریک انصاف کوسزا ہوگئی،،،جس کے بعد ہمیں ایسے کیوں لگ رہا ہے کہ انتقام کی سیاست کا ابھی اختتام نہیں ہوا ۔ میرے خیال میں حکومت اور ادارے بھی ایک پیج پر دکھائی نہیں دے رہے، ایک طرف حکومت نے اتوار والے دن جیل کھول کر تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کی بانی تحریک انصاف سے ملاقات کروا دی تا کہ تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل میں موجود تعطل کو ختم کیا جا سکے۔کہاں معمول کے دنوں میں ملاقات نہیں کروائی جا رہی تھی۔ کہاں یہ کہا جا رہا تھا کہ جیل مینوئل اس قسم کی ملاقات کی اجازت نہیں دیتا۔ دوسری طرف چھٹی والے دن جیل کھول کر ملاقات کروا دی گئی۔ کسی کو سمجھ نہیں آرہی کہ یہ ملاقات معمول کے دن کیوں نہیں کروائی جا سکتی تھی۔یہاں بھی شک پیدا ہوا کہ اداروں کا آپس میں اتفاق بھی نہیں ہو رہا۔ مطلب! کوئی تو چاہ رہا ہے کہ مذاکرات کامیاب نہ ہوں،،،یہ ن لیگ کے اندر کا طبقہ بھی چاہ سکتا ہے جو شہباز شریف کے ساتھ ہے،،، اور یہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر کے لوگ بھی ایسا چاہ سکتے ہیں۔ کیونکہ نواز شریف ہر گز نہیں چاہے گا کہ کہیں سے بھی سیاسی ماحول خراب ہو۔ بلکہ وہ تو تحریک انصاف سے بات چیت کا عندیہ بھی دے چکے ہیں۔ لہٰذااگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ مذاکرات کامیاب نہ ہوں، نہ حکومت ہی کوئی لچک دکھائے اور نہ ہی تحریک انصاف ۔۔ اور نہ ہی ادارے۔۔۔ تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ ملک سیاسی استحکام کی طرف جائے گا؟ یا کیا آپ کو یہ لگتا ہے کہ مذاکرات کسی صورت کامیاب ہوسکتے ہیں؟ حالانکہ بے شک تحریک انصاف کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ سزا کے اعلان کے باوجود مذاکرات جا ری رکھے جائیں گے۔ لیکن یہ بات مان لیں کہ سزا کا مذا کرات پر اثر ضرور ہوگا۔ اورمیری رائے میں سزا کے بعد رویے سخت ہو جائیں گے۔ بہرکیف ریاست ماں کا کردار ادا کرے اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کھڈے لائن لگانے سے پرہیز کرے۔ اور اگر بیک چینل کہیں مذاکرات ہو رہے ہیں تو اُس میں کہیں خان پلس یا مائنس کی بات نہ کی جائے، اور نہ ہی یہ کہا جائے کہ یہ ایم کیو ایم کی طرح کی سیاسی جماعت ہے جسے نکڑے لگا دیا جائے گا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بلکہ یہ چاروں صوبوں کی جماعت ہے، ایسا کرنے سے ہمیں پرانے سانحات کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ اس لیے اگر بیک چینل مذاکرات ہو رہے ہیں، تو جب وہاں کوئی بات طے ہو جائے تو اُس پر بغلیں بجانے سے گریز کریں۔ کیوں کہ اس کیس نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ جانا ہے اور وہاں سے یقینا یہ ریورس ہوگا۔ لیکن اُس کے بعد اگر پھر سے مذاکرات زیرو سے سٹارٹ کریں گے تو یہ بھی ایک المیے سے کم نہیں ہوگا؟ بہرحال سوال یہ ہے کہ ایک طرف مذاکرات کی ناکامی کا منظر نامہ ہے۔ دوسری طرف سز اکا منظر نامہ ہے۔ دونوں اکٹھے مل کر پاکستان کے سیاسی منظر نامہ پر کیا اثر ڈالیں گے۔ یہ دونوں صورتحال پاکستان تحریک انصاف کے لیے خوش آئند نہیں ہیں۔کیا اس صورتحال سے تحریک انصاف دباو¿ میں نہیں آئے گی۔ میں سمجھتا ہوں تحریک انصاف ایک طرف مذاکرات سے ناکامی اور دوسری طرف سزا سے دباو¿ میں آگئی ہے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ وہ اس دباو¿ سے نکلنے کے لیے کیا کر سکتی ہے۔کیا دوبارہ سڑکیں گرم کی جائیں گی۔ کیا ہم دوبارہ اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دیکھیں گے۔ کیا پھر اسلام آباد پر چڑھائی ہو گی۔یا سول نافرمانی کے تحت بیرون ملک پاکستانیوں کو وطن عزیز میں پیسہ بھیجنے سے منع کریں گے۔ یا ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیران کو خطوط لکھے جائیں گے، اور بتایا جائے گا کہ پاکستان میں اُن کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے۔لہٰذاان سب سے بچنے کے لیے ریاستی ادارے اپنا کردار ادا کریں،،، ہمیں اس بات پر بھی خوشی ہوئی تھی کہ آرمی چیف نے اپوزیشن سے ملاقاتیں کی ہیں،،، اور ریاست کے سیکیورٹی معاملات پر بھی وہ بذات خود پشاور پہنچے ہیں۔ لیکن ہماری یہ خوشی ادھوری رہ گئی۔ کیوں کہ جب تک ملکی استحکام نہیں ہوگا تب تک نہ تو ملک میں امن ہو سکتا ہے، نہ معاشی طور پر ہم مضبوط ہو سکتے ہیں اور نہ ہی پارا چنار جیسے خوبصورت علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کروا سکتے ہیں۔۔۔ کیوں کہ آج ہی پارہ چنار میں قافلے پر ایک اور بڑا حملہ ہوا ہے جس میں تادم تحریر 12سے زائد افراد اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں.... لیکن یہ خبر دب گئی ہے یا دبا دی گئی ہے،،، کیوں کہ اس میں ریاست کی ناکامی کی داستان رقم ہے!