صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فی الوقت ہماری ضرورت نہیں!

متعدد مقدمات کی جنگ لڑتے، امریکی پارلیمنٹ پر حملے اور خود پر حملے سے بال بال بچ کر دوسری بار امریکی صدر بننے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے کر دکھایا کہ انسان اگر ٹھان لے اور ہمت نہ ہارے تو کچھ بھی کر سکتا ہے۔ گزشتہ سال کے آغاز تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکی صدر منتخب ہوں گے،،، لیکن گزشتہ روز انہوں نے امریکا کے47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اُٹھایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ”میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں ایمانداری کے ساتھ امریکی صدر کے عہدے پر عمل کروں گا اور اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق امریکی آئین کی حفاظت، حفاظت اور دفاع کروں گا۔“۔ان جملوں کے بعد اب وہ کم از کم 4سال تک دنیا ئے سیاست کے اُفق پر چھائے رہیں گے، اور پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک کے بارے میں لکھی گئی تقدیروں پر دستخط کرتے رہیں گے۔۔۔ کیوں کہ ہم جیسے 100سے زائد ممالک کی ”تقدیریں“ تو پنٹاگون ہی لکھتا ہے،،، جہاں 10ہزار سے زائد اعلیٰ الذہن افراد ہر ملک کے لیے الگ الگ لابنگ کر رہے ہوتے ہیں۔ خیر ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے کے بعد ہمارے ہاں سوال اب یہ اٹھایا جائے گا کہ ان کے دورِ اقتدار میں پاک امریکہ تعلقات کا کیا عالم رہے گا؟ویسے میں بتاتا چلوں کہ یہ سب سے پہلے تو یہ دیکھا جائے گا کہ پاکستان امریکا کی ترجیحات میں ہے بھی یا نہیں ۔ یا ہم محض نعرے بازی اور خود کو اپنے تئیں اہمیت دینے کے لیے اپنی اہلیت کو بڑھانے کی کوشش کرر ہے ہیں،،، ویسے بھی ٹرمپ کے پہلے دور میں ہماری باری 2سال بعد آئی تھی جب انہوں نے 2018میں سوشل میڈیا پر یہ الفاظ تحریر کیے تھے کہ ”امریکہ نے گزشتہ 15 برسوں میں انتہائی بیوقوفانہ طور پر پاکستان کو امداد کی مد میں 33 ارب ڈالر دیے اور پاکستان نے بدلے میں ہمارے رہنماو¿ں کو جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا۔ جن دہشتگردوں کا ہم افغانستان میں شکار کر رہے ہیں یہ (پاکستان) انھیں محفوظ پناہ گاہیں دیتے ہیں۔“اس بیان کے بعد ایسا لگا کہ اب شاید اگلے چند سال تک پاکستان امریکا تعلقات ایک پیج پر نہیں آسکیں گے،،، لیکن غیر متوقع طور پر اگلے ہی برس پاکستان کے اُس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے امریکا کا دورہ کیا،،، اور حالات نارمل ہوگئے۔قارئین کو یاد ہوگا کہ اُس وقت کے بڑے بڑے اخبارات نے خان کو خوب پذیرائی دی تھی، جیسے امریکا کے مشہور اخبار بوسٹن گلوب نے یہ ہیڈلائن لگائی تھی کہ ”The Real Visit of America “ ، یہی حال مغربی ممالک کے دیگر میڈیاکا بھی تھا ،،، ویسے کیسا کمال کا دورہ تھا، ساری دنیا کی توجہ حاصل کر گیا، پاکستانی اعلیٰ قیادت کو اس قدر عزت و شہرت شاید ہی ملی ہو.... امریکا پہنچ کر شاید ہی ہمارے کسی لیڈر نے کشمیر ایشو پر بات کی ہو، شاید ہی کسی لیڈر کے لیے اتنا کراﺅڈ جمع ہوا ہو، شاید ہی کسی لیڈر کو امریکی سینیٹ میں اس قدر عزت ملی ہو، شاید ہی کسی نے امریکی صدر سے یہ کہنے کی جرا¿ت کی ہو کہ افغانستان میں آج تک کوئی جنگ نہیں جیت سکا، شاید ہی کسی نے امریکا کو یاد کروایا ہو کہ سر! ہم نے 20سال آپ ہی کی جنگ لڑی ہے، بدلے میں ہم نے 70ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، اور کھربوں ڈالر گنوائے ہیں، شاید ہی کسی نے براہ راست ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے بات کی ہو، شاید ہی کسی نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے پراعتماد ہو کر اور سینہ ٹھوک کر کہا ہو کہ اگر امریکا کو پاکستان کے ہتھیار نہیں ملے تو یقینا دنیا کی کوئی طاقت بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتی کہ ہتھیار کہاں ہیں، شاید ہی کسی امریکی صدر نے اپنے میڈیا کے سامنے پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا ہو.... ماضی کے جھرونکے میں تو ہمیں ایسے ایسے ’دانشور‘ قسم کے وزیر اعظم سے پالا پڑتا رہا جنہیں صدر باراک اوبامہ سے اوول آفس میں ملاقات کا موقع میسر آیا تو اُن کے ہاتھ پاﺅں پھولے ہوئے تھے۔ کاغذوں کی تھدّی ہاتھ میںاُٹھائی ہوئی تھی اوراُن کاغذوں کو آگے پیچھے کررہے تھے۔ رسمی سی ملاقات تھی اورچند جملے ہی انہوں نے ادا کرنے تھے ،لیکن کاغذوں کی مدد کے بغیر وہ مشق اُن سے ہونہیں رہی تھی۔ خیر بات ہو رہی تھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تو یقینا اُن کے سامنے بڑے بڑے مسائل ہیں،،، مسئلہ فلسطین، اسرائیل، روس ، یوکرین، شمالی کوریا، چین، ایران، سعودی عرب، یمن، حوثی، افغانستان، عراق، کینیڈا ، میکسیکو، پانامہ و گرین لینڈ وغیرہ جبکہ ان کے علاوہ امریکا کی اپنی 50ریاستوں کے مسئلوں کے بعد کہیں پاکستان جیسے ممالک کی باری آتی ہے،،،، اس لیے میرے خیال میں تحریک انصاف کو قطعاََ ڈونلڈ ٹرمپ سے اُمید نہیں باندھنی چاہیے۔۔۔ اور ویسے بھی امریکا کے ہر نئے الیکشن کے بعد دنیا مزید اُلجھ جاتی ہے، جیسا سوچا ہوتا ہے ویسا ہوتا نہیں ہے،یہ صرف ہمارے ہاں ہی ہوتا ہے کہ آرمی چیف بدلنے سے یہ ہوگا، چیف جسٹس کے بدلنے سے یہ ہوگا، یا نیا چیف الیکشن کمشنر ہمارے فائدے کا ہوگا وغیرہ وہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ ہم امریکا سے فائدے کیسے لے سکتے ہیں، اور ویسے بھی آپ پاکستان امریکا کی 77سالہ تاریخ کا جائزہ لیں، ہر دفعہ امریکی الیکشن کے بعد پاکستان کے لیے نئی سے نئی پالیسیاں ہی بنیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ ہمارے لیے ڈیموکریٹک بہتر ہے، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ ہمارے لیے ری پبلکن۔ لیکن تاریخ پڑھ لیں ہمارے ساتھ تو دونوں کے ادوار میں ہی” ظلم“ ہوتا رہا، ،،، آپ دور نہ جائیں جوبائیڈن کے دور کو دیکھ لیں،،، موصوف نے اپنے چار برس کے دورِ صدارت میں کسی بھی پاکستانی رہنما سے ٹیلی فونک گفتگو تک نہیں کی اور نہ ہی کسی اُن کے وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے اس پوری مدت میں پاکستان کا رُخ کیا۔صدر بائیڈن کے ہی دورِ صدارت میں ایک بار پھر پاکستان کا لانگ رینج بیلسٹک میزائل سسٹم پابندیوں کی زد میں آیا جس پر اسلام آباد کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا اور مذمتی بیانات بھی جاری کیے گئے۔ اور اسی دوران امریکہ میں صدارتی انتخاب کی مہم شروع ہو گئی اور دونوں صدارتی امیدواروں یعنی کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مہمات کے دوران تقریباً ہر موضوع پر بات کی لیکن پاکستان کے حوالے سے پالیسی دونوں ہی امیدواروں کی تقاریر اور مباحثوں میں جگہ حاصل نہ کر سکی۔ لیکن جوبائیڈن نے اپنی آخری تقریر میں تقریباََ نااُمیدی کا اظہار کیا، اس وقت مجھے امریکا کے پاکستان جیسے حالات ہی لگے، انہوں نے اپنی تقریر میں گراﺅنڈ لیول کے خدشات کا اظہار کیا۔ جیسے انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں دنیا کیا سے کیا ہونے والی ہے اور چند زیادہ ذہین لوگ اب دوسروں کی زندگیوں کو نہ صرف کنٹرول کریں گے بلکہ اپنی مرضی کی نئی دنیا بنائیں گے جو ان کی خواہشات پر چلے گی۔ اس تقریر میں جو بائیڈن نے آنے والی دنیا کا نقشہ کھینچا اور دنیا بالخصوص امریکہ کو مستقبل کے ممکنہ خطرات بارے خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے وقت میں امیر لوگوں کے علاوہ سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی بھی آزاد صحافت اور جمہوریت کیلئے بڑے خطرات بن کر اُبھر رہے ہیں۔ جوبائیڈن نے اپنی تقریر میں دراصل ٹویٹر/ ایکس کے مالک ایلون مسک اور فیس بک کے مالک مارک زکر برگ پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا سے اب دنیا بھر میں آزادی صحافت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے سب سے اہم بات یہ کہی کہ اب ایڈیٹرز کا کردار ختم ہورہا ہے جو کسی بھی اخبار یا میڈیا کے ادارے کیلئے ہمیشہ اہم رہا ہے۔ ایڈیٹر ایک ایسا ادارہ ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وہ مستند ہو اور جھوٹ نہ چھپے۔ لیکن اب سوشل میڈیا نے اس اہم ادارے کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں آپ کو کچھ چیک کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ بس جو آپ کی خواہش ہے اسے خبر بنا کر چھاپ دیں۔ یہ وہی خدشات ہیں جن کا اظہار آج کل پاکستان میں بھی کیا جا رہا ہے،،، بقول شاعر بے رنگ شفق سی ڈھلتی ہے ،بے نور سویرے ہوتے ہیں شاعر کا تصور بھوکا ہے ،سلطان یہاں بھی اندھے ہیں بہرکیف اگر چاہتے، نا چاہتے ہوئے بھی امریکی نائب مشیروں میں سے کسی کی جانب سے خان کی رہائی کے حوالے سے اگر کوئی احکامات ملتے ہیں تو ہمیں ہٹ دھرمی کے بجائے حکمت سے کام لینا ہوگا،،، کیوں کہ امریکا سے خراب تعلقات ہمارے کسی کے مفاد میں نہیں ہوں گے۔ اور یہ ہم کیسے بھول جاتے ہیں کہ آج بھی تمام ترقی یافتہ ممالک امریکا کے ساتھ ہیں،دنیا کی بڑی طاقتیں خصوصاََ برطانیہ، جرمنی، پورا یورپ اور اس جیسے کئی ممالک بھی امریکا کے ساتھ ہیں۔ اور پھر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے ہزاروں طالب علم وہاں زیر تعلیم ہیں، اور لاکھوں پاکستان وہاں مقیم ہیں.... تعلقات خراب ہونے کی صورت میں اُن کا مستقبل داﺅ پر لگ جائے گا.... ویسے بھی فیصلے کرنے والے، حکمران، ججز اور بیوروکریسی وغیرہ اس چیز کو اچھی طرح سمجھتی ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات سیٹ رکھنے ہیں،،، کیوں کہ ان کی اولادیں بھی وہیں ہیں اور بعض تو وہاں کی نیشنلٹی بھی لیے بیٹھے ہیں،،، اس لیے فکر تو نہیں کرنا چاہیے کہ یہ امریکا کو ناراض کریں گے،،، اور رہی بات امریکی دھمکیوں کی تو یہ واضح رہے کہ امریکی مصنف گراہم گرین نے The Ugly Americans نامی ایک ناول لکھا تھا جس پر بعدازاں فلم بھی بنائی گئی جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ دنیا کے بارے میں امریکا کی پالیسیوں کی اس کے تمام عوام بھی حمایت نہیں کرتے کیونکہ یہ پالیسیاں ان کی خواہشات کی ترجمان نہیں ہوتیں۔ بہرحال ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر بن چکے، اُن کے پاس اختیارات آچکے، اُمید کہ یہ پاکستان کے لیے بھی بہتر ثابت ہوں، اگر امریکا کواس خطے میں ہماری ضرورت محسوس ہوئی تو وہ دیکھے گا کہ اُس کے لیے کون مفید ہے کون نہیں؟ اس مقصد کے لیے وہ اکثر ڈکٹیٹرز کو چننے میں بھی دیر نہیں لگاتا۔۔۔ بس اللہ رحم کرے اور ہم سب کو اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کی توفیق عطافرمائے (آمین)