تحریک انصاف کیلئے تمام دروازے بند نہیں!

امریکی مصنف ڈینل مارک اپنی کتاب No Exit from Pakistan میں لکھتے ہےں کہ ”پاکستان اور پاکستانی فوج پر نظر رکھنے کے لئے ہم پاکستان کے ساتھ مربوط رہیں گے، ہم نے7دہائیاں قبل یہ فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان کو ترقی کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ہم پاکستان کو دنیائے اسلام کو لیڈ کرنے نہیں دیں گے،پاکستان کو اتنا رکھیں کہ ہم مینج کر سکیں، ہم بوقت ضرورت پاکستانی لیڈرز کو خریدتے ہیں، سیاستدان، جرنلسٹ، جرنل، میڈیا ہاو¿س وغیرہ۔ پاکستانی لیڈرز اپنے آپ کو بہت تھوڑی قیمت میں بیچ دیتے ہیں، اتنی کم قیمت کہ انہیں امریکی ویزہ یا بچوں کی اسکالر شپ مل جاتی ہے تو چار سالہ بیچلر ڈگری ملنے تک مکمل بک چکے ہوتے ہیں۔“یہ باتیں امریکی مصنف اپنی سات اکتوبر 2013ءکو چھپنے والی کتاب میں کہہ رہا تھا جسے کیمبریج یونیورسٹی پریس نے آج سے تقریبا دس سال قبل شائع کیا لیکن آج پاکستان کا بچہ بچہ اب ان باتوں کو عملی ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔کہ واقعی ہمارے سیاستدان غیر ملکی طاقتوں کے سامنے محض کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔ اُنہیں نہ تو عوام کی فکر ہے، نہ ملک کی اور نہ اپنے وقار کی۔ یعنی پنجاب حکومت ہو یا وفاقی ہمارے سیاسی حالات آج کل ایسے چل رہے ہیں کہ ہر کام کو آخری سمجھ کر کیا جا رہا ہے،، نہ پنجاب والوں کو علم ہے کہ کل کیا ہوگا اور نہ مرکز والوں کو۔ اگر حالات ایسے ہوں گے تو بتائیں بھلا کون ”فکرعوام“ میں مشغول ہوگا؟میں نے گزشتہ روز ایک سرکاری ادارے میں کام کی غرض سے دوست کو فون کیا، اُس نے وہ لیگل کام کرنے سے انکار کر دیا۔ اُس نے کہا بھائی جان ہمیں آجکل خود علم نہیں کہ کل کیا ہو جائے گا؟ اس لیے تھوڑا انتظار فرما لیں۔ اب یہ انتظار نہ جانے حکومت کے ختم ہونے کا کیا جارہا ہے؟ تحریک انصاف کے مکمل نکڑے لگنے کا کیا جا رہا ہے، یا خاکم بدہن دیوالیہ ہونے کا یا مارشل لگنے کا کیا جارہا ہے۔۔۔ لیکن ہر طرف افراتفری کا عالم ہے،،، تبھی ہر ادارے میں حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں۔ ہمارا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے لیے ہم نے تمام سیاسی راستے بند کیے ہوئے ہیں۔ جہاں آئینی اور سیاسی شاہراہیں کھلی ہونی چاہئیں ہم نے اُن پر روڈ بلاک کیے ہوئے ہیں۔ انتخابات کرائے جاتے ہیں تو فارم 47 کی نذر ہو جاتے ہیں۔ عدلیہ کا آئینی کردار ہے تو وہ ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں۔ وحدتِ عدلیہ بھی ہمارے لیے قبول نہیں‘ اسی لیے اعلیٰ عدلیہ کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ دوسرا المیہ ہمارا یہ ہے کہ جس بند گلی میں ہم نے اپنے آپ کو بند کر دیا ہے اس سے نکلنے کی کوئی تدبیر نہیں۔ ہمیشہ سے کسی بند گلی میں کوئی رہ سکتا ہے؟ لیکن یہاں سوچ یہی ہے کہ جیسا بھی ہے کام چلائے جاﺅ بعد میں دیکھا جائے گا۔ یعنی تکیہ اسی پر ہے کہ رام بھلی کرے گا۔ لیکن کوئی تو تدبیر ہو‘ آئندہ کیلئے کوئی روڈ میپ ہو۔ کہ اگر ابھی تمام سڑکیں بند ہیں اور ان پر بڑے بڑے پتھر رکھے ہوئے ہیں تو چھ ماہ یا سال میں یا دو سال میں یہ پتھر ہٹ جائیں گے اور سیاسی معاملات کا راستہ صاف ہو جائے گا۔ لیکن ایسی کوئی سوچ نہیں‘ کوئی عندیہ نہیں۔ یہ نہایت ہی مایوس کن صورتحال ہے۔ لیکن بدلے میں یہ نہ تو روش بدل رہے ہیں اور نہ ہی کام میں یکسوئی لا رہے ہیں،،، اور پھر یکسوئی کہاں سے آئے جب دھیان بٹا ہوا ہے۔ دہشت گردی کا سامنا ہے اور سیاسی محاذ بھی کھلے ہوئے ہیں۔ معیشت کا وہ حال ہے کہ آئی ایم ایف شرطیں منوائی جا رہا ہے اور آئی ایم ایف پروگرام شروع نہیں ہو رہا،، اور ہم مشرق وسطیٰ کے دو بینکوں سے مہنگے قرضے حاصل کرکے وکٹری کا نشان بنا رہے ہیں۔ کرم کے سانحہ کا ذکر کیا کِیا جائے کیونکہ الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔ جس طرف نظر اٹھتی ہے بیڑہ غرق ہی نظرآتا ہے۔بظاہر تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں لیکن یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ان مذاکرات سے کیا نکل سکتا ہے۔ بلکہ 190ملین پاﺅنڈ کیس میں سزا کے بعد تو اب شاید یہ لگتا ہے کہ یہ بھی ختم ہو جائیں ،،، لیکن عقل یا کامن سینس کی بات کی جائے تو لچک دکھانا پڑتی ہے۔ لچک دکھانا پڑے تو قیدی نمبر فلاں جیل سے باہر آ جاتا ہے۔ لیکن یہ دھڑکا بھی لگا ہوا ہے کہ ایسا ہوتا ہے تو حالات کنٹرول میں رہیں گے یا بے قابو ہو جائیں گے؟ تبھی تو یہ اسے توڑنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں،،، جس میں ابھی تک انہیں خاطر خواہ کامیابی بھی نہیں ملی۔ بلکہ بانی تحریک انصاف کو کمزور کرنے کی خاطر اُن کی جماعت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کے دوران درجنوں بااثر رہنماﺅں اور فعال ورکرز کو پارٹی سے انحراف کی راہ دکھائی گئی لیکن یہ مساعی بھی کارگر ثابت نہ ہوئی۔ ماضی قریب میں فوج کے ترجمان نے مختلف پریس کانفرنسوں میں پی ٹی آئی کے ساتھ کسی قسم کے رابطوں کی تردید کرتے ہوئے 9 مئی کے ماسٹر مائنڈز سے مفاہمت کے امکان کو مسترد کیا لیکن پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بدھ کے روز اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ”ہاں ، میں نے چند دن قبل آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کرکے پارٹی کی فوج کے خلاف دو سالوں پہ محیط مزاحمت کا احاطہ کیا ہے لیکن فی الحال میرے لئے ایسی ملاقاتوں کی تفصیل ظاہر کرنا ممکن نہیں ،،، اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ کیا چل رہا ہے۔ بہرحال امر واقعہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی پوری قیادت کی طرف سے دباﺅ کے باوجود عمران خان مفاہمت پہ تیار نہیں کیونکہ انہوں نے مارٹن لوتھر کی طرح اپنی سیاست کی بنیاد مخالفین پہ جھوٹے الزامات عائد کرکے ہمہ وقت انہیں رائے عامہ کے سامنے جوابدہ ٹھہرانے اور پھر اُن ”کرپٹ“ لوگوں سے بات چیت اور مفاہمت کو مسترد کرنے کے اصول پہ رکھی تھی، ویسے جو اصولی بندے ہوتے ہیں وہ کبھی اصولوں پر سودا نہیں کرتے، وہ ظاہراً تھکتے ہیں، مرجھاتے ہیں مگر پچھتاتے نہیں ہیں، وہ لڑتے ہیں مرتے ہیں مگر کبھی ہار نہیں مانتے۔ وہ ہدف تک پہنچنے کے لئے آگے دوڑتے ہیں کبھی پیچھے ہٹتے بھی ہیں مگر ہدف سے کبھی منہ موڑتے نہیں ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے بانی تحریک انصاف کا شمار بھی انہیں لوگوں میں ہوتا ہے۔دنیا گواہ ہے کہ عمران خان شروع سے اب تک ایک ہی نعرے پر گامزن رہا۔ ایک ہی ایجنڈے کے لئے کوشش کرتا رہا، وہ ایجنڈا تھا پاکستان کو آزاد و خودمختار ملک بنانا۔ عمران خان نے چاہا کہ آئی ایم ایف سے ملک کو آزادی دلائیں لیکن یہ ملک اتنا مقروض ہوچکا تھا کہ وہ کچھ نہیں کرسکا۔ عمران خان جیسا خوددار بندہ سعودی شاہ سے کہتا رہا کہ وہ اتنا قرضہ اور امداد دیں کہ دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی نوبت ہی نہ آئے لیکن افسوس غیر اتنے مخلص کہاں ہوتے ہیں۔ عمران خان اسلامی بلاک کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے کوشش کرتے رہے۔ 18 دسمبر 2019ءکو کوالالمپور سمٹ اس کا آئیڈیا عمران خان نے مہاتیر محمد کو دیا تھا تاکہ اسلامی دنیا کا الگ بلاک بنایا جاسکے۔ اس کانفرنس سے چار دن پہلے سعودی عرب نے عمران خان کو طلب کیا، 14 دسمبر کو عمران خان کو ہنگامی طور پر سعودی عرب جانا پڑا۔ سعودی ولی عہد نے دو آپشن رکھ دیئے۔ ملائیشیا سمٹ کانفرنس میں شرکت سے انکار کریں نہیں تو ہمارا قرضہ واپس کریں وگرنہ پاکستانی مزدوروں کا مستقبل بھی خطرے میں پڑے گا۔ تنگ دست، مقروض ملک کا خوددار وزیراعظم سرجھکا کر یوں رہا جیسے ہارے ہوئے لشکر کا بہادر سپاہی ہو۔ عمران خان کی نگاہ میں وہ چار لاکھ پاکستانی آئے جن کے بارے میں پہلے ہی عمران خان سعودی شہزادے سے کہا تھا کہ ”یہ مزدور میرے دل کے بہت قریب ہیں ان کا بہت خیال رکھیں“ آخر عمران خان نے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کیا۔ بے حس و بے بصیرت لوگ اس پر عمران خان کو یوٹرن خان کہتے رہے۔ عمران خان کی غیرت نے اس راز کو دل میں دفن کرنے سے انکار کیا تو 21 جنوری کو ڈیوس میں طیب اردگان سے ملاقات میں اس راز کو فاش کردیا تو ترک صدر نے اس بات کو عالمی میڈیا تک پہنچادیا۔ بہرحال اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ سیاسی بیانیہ کے میدان میں عمران خان مقتدرہ سمیت اپنے سیاسی حریفوں کو شکست فاش دے چکے ہیں،اخلاقی مفاسد اور بدعنوانی کے الزامات میں سزاﺅں کے باوجود ان کی مقبولیت بڑھتی گئی ،عالمی سطح پر اپنے سیاسی مفادات کی خاطر قومی سلامتی کے اساسی اصولوں اور اسلام کے اعلیٰ ترین مقاصد کے خلاف پوزیشن لیکر بھی وہ ملکی رائے عامہ کی بھرپور حمایت انجوائے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ریاستی مقتدرہ کی طرف سے عوام کی نظروں میں انہیں غدار ، ملک دشمن ، بد کردار اور بدعنوان ثابت کرنے کے روایتی ہتھکنڈے بیکار ثابت ہوئے حتیٰ کہ منبر و محراب کے فتاوی اور ایوان عدل کی تعزیر بھی خان کو غیر مقبول بنانے کی مشق بھی ناکام رہی۔ لہٰذااس لیے تحریک انصاف والوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں،،، سدا حالات ایک جیسے نہیں رہتے۔ اور نہ ہی سیاست میں کبھی کوئی حرف آخر ہو سکتا ہے۔اس کی تازہ مثال ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں ہم سب کے سامنے ہے،،، کہ اُس نے دومرتبہ اقتدار میں آنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی دونوں خواتین اُمیدواروں کو شکست دی۔ لیکن شکر ہے وہاں پر ووٹ کو عزت دی جاتی ہے،،، ورنہ ٹرمپ آج دو سو سے زائد کیسوں میں اندر ہوتے۔ جبکہ دوسری جانب ہمارے حکمران اس وقت ایک سیاسی ، سماجی و معاشی بھونچال میں پھنس چکے ہیں،،، تبھی میرے ہم وطن جیسے تیسے کرکے، جان جوکھوں میں ڈال کراور سمندر برد ہونے کے خطرے کے باوجود وہ اس ملک کو چھوڑکر جانا چاہ رہے ہیں،،، ہماری عمر بہت ہو چکی ہے۔ بہت کچھ ہم دیکھ چکے ہیں لیکن خدا گواہ ہے جو صورتحال آج کی ہے‘ پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ دیکھنا تو دور کی بات ہے ایسی صورتحال کا کبھی تصور بھی نہ کر سکتے تھے۔ لیکن قوم کی یہ صورتحال اور حالات کی سنگینی ہمارے سامنے ہے۔ بیک وقت ہم نے بہت سی چیزوں میں اپنے ہاتھ پھنسائے ہوئے ہیں اور نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ کوئی ایک کام بھی ہم سے ٹھیک سے نہیں ہو رہا۔اُمید ہے حکمران اور فیصلہ کرنے والے بھی اس چیز کو سمجھیں گے اور ہٹ دھرمی چھوڑ دیں گے!