مذاکرات ختم: لگتا ہے حکومت کے ہاتھ بندے ہوئے ہیں!

دنیا بھر میں مذاکرات کا ایک سنگل لائن فارمولا ہوتا ہے کہ ”کچھ لو اور کچھ دو!“ لیکن پاکستان میں اس سنگل لائن کو بدل دیا گیا ہے،،، یعنی ”سب کچھ دو، مگر مانگو کچھ نہ“ ۔ تبھی تحریک انصاف نے حکومتی ”کاوشوں“ کو بھانپتے ہوئے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے،،، اور کہا کہ ”بانی پی ٹی آئی نے عدالتی کمیشن کے قیام میں تاخیر کے باعث حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو یکسر ختم کر دیا ہے،،، ہم نے حکومت کو سات دن کا وقت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر جوڈیشل کمیشن کا اعلان اس دوران نہیں ہوتا تو مذاکرات کے مزید ادوار نہیں ہوں گے۔ہماری خواہش تھی کہ مذاکرات ہوںاور معاملات آگے چلیں لیکن شاید اختلافات کی ٹھنڈک اتنی زیادہ ہے کہ برف پگھل نہیں رہی۔“ اب بھلا بتایا جائے کہ جوڈیشل کمیشن اگر بنا دیا جاتا،،، تو اس میں کیا ہی مسئلہ تھا؟ مطلب! اگر حکومت نے کوئی بات ہی نہیں ماننی تو پھر ان مذاکرات کا کیا مقصد ہے؟اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ حکومت اپنی شرائط پر مذاکرات کرنا چاہ رہی ہے،،، تو کیا کبھی مذاکرات ون سائیڈڈ بھی ہو سکتے ہیں؟،،، ہٹلر سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ اپنے مخالفین سے مذاکرات کرنا چاہیں گے؟ تو اُس نے کہا ہاں ضرور! مگر میری شرائط پر .... اب دنیا جانتی تھی کہ ہٹلر کی شرائط کیا ہو سکتی تھیں؟ اور ویسے آپ تاریخ پڑھ لیں، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اُس نے جب جرمنی کی حکومت سنبھالی تب بھی اُس نے موجودہ حکومت کی طرح ہی جھوٹ کا سہارا لیا تھا،،، وہ بھی اپنے آپ کو اس قدر محب وطن سمجھتا تھا کہ اُسے سننے والے آنکھیں بند کر کے اُس پر یقین کر لیتے تھے۔ اپنی اسی شعلہ بیانی کے باعث وہ 1920میں قائم ہونے والی نازی پارٹی کا سرکردہ لیڈر بن گیا۔ تین سال بعد اس نے جرمن حکومت گرانے اور نازی پارٹی کا تسلّط جمانے کا منصوبہ بنایا۔ دوہزار سر بہ کف انقلابی تیار کئے گئے۔ منصوبے کا آغاز 8نومبر1923کو میونخ کے ایک بڑے روایتی شراب خانے سے ہوا جہاں ہٹلر کے باغیانہ خطاب نے ہزاروں لوگوں پہ سحر طاری کردیا۔ انقلابی جتھے شراب خانے سے نکلے تو مسلح پولیس سے سامنا ہوا۔ پہلی ہی جھڑپ میں سولہ انقلابی ہلاک ہوگئے۔ ہٹلر زخمی ہوا۔ دو دِن روپوش رہنے کے بعد پکڑا گیا۔ بغاوت کا مقدمہ چلا۔ وہ ہر روز عدالت میں آگ اُگلتا۔ اُس کے عشّاق کی تعداد بڑھتی گئی۔ عدلیہ کے بعض ججوں کے دلوں میں بھی ہٹلر کا عشق سلگنے لگا۔ اُسے بغاوت جیسے سنگین جرم میں بھی صرف پانچ سال قید کی سزا ہوئی۔ ایک جج نے فیصلے میں لکھا۔ ”بغاوت کے حوالے سے متعلقہ قوانین کا اطلاق کسی ایسے شخص پر نہیں ہونا چاہئے جس کے جذبات واحساسات ایک محبّ وطن جرمن شہری جیسے ہوں۔ جس کی سوچ ایک سچے جرمن جیسی ہو۔ جیسا کہ ایڈولف ہٹلر کی ہے۔“ ابھی صرف نوماہ ہی گزرے تھے کہ نیک چلنی اور اچھے روّیے کی بنیاد پرہٹلر کو رہائی کا پروانہ مل گیا۔جس کے بعد اُسے گوئبلز (GOEBBELS) جیسا ساتھی میسّر آگیا جو بے سروپا الزامات اور جھوٹ پر مبنی فریب کارانہ بیانیہ تراشنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ 1933کے انتخابات میں ہٹلر کی خطیبانہ حشرسامانیوں اور گوئبلز کے جذبات انگیز بیانیوں نے رنگ دکھایا۔ ایڈولف ہٹلر جرمنی کا چانسلر بن گیا۔ویسے آج کل بھی بہت سے گوئبلز آپ کو حکومت میں نظرآئیں گے،،، جو اپنے ”حکمرانوں“ کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہوں گے۔۔۔خیر اپنی حکومت میں اُس نے ایک کروڑ دس لاکھ یہودیوں کے بارے میں سخت فیصلے کرنے تھے،،، 20جنوری 1942ءمیں 15عہدیدار ایک جگہ اکٹھے ہوئے،،، اور فیصلہ ہوا کہ ان کا خاتمہ کرنا ہے،،، دنیا بھر میں پریشانی بڑھ رہی تھی،،، اُس وقت مسئلے کے حل کو مذاکرات سے حل کرنے کے لیے کہا گیا مگر ہٹلر نے کہا ”یہ میری شرائط پر ہوں گے“۔ اُس کے بعد اُس نے اُس نے اپنی قوم کا اگلے 6سال تک جو حشر کیا اُس سے آج تک خوف آتا ہے۔۔۔ لیکن جب ہٹلر کواندازہ ہوا کہ وہ جنگ ہار رہا ہے،، تو اُس وقت اُس نے بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں مذاکرات کرنے کی کوشش کی،،، مگر وقت گزر چکا تھا،،، پھر ہٹلر ہار گیا۔اُس نے گوئبلز کو اپنا جانشیں نامزد کیا اور ایک تہہ خانے میں اپنی محبوبہ کے ہمراہ خودکشی کرلی۔ تاریخ کا سب سے بڑا دروغ باف اور بیانیہ ساز گوئبلز صرف ایک دِن جرمنی کا حکمراں رہا۔ ہٹلر کی خود کشی کے اگلے دِن گوئبلز اور اس کی بیوی نے اپنے اکلوتے بیٹے اور پانچ بیٹیوں کو زہر دے کر ہلاک کردیا اور پھر دونوں نے خود کشی کرلی۔ آپ زیادہ پیچھے نہ جائیں،،، حالیہ اسرائیلی اور حماس کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو دیکھ لیں،،، جس میں 50ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں اور غزہ میں اتنا نقصان ہوا ہے کہ اس کا ملبہ اُٹھانے میں ہی کم و بیش 21سال کا عرصہ لگے گا۔لیکن نہ تو حماس ختم ہوئی اور نہ ہی اسرائیل اپنے یرغمالی چھڑوا سکا۔ تبھی دونوں فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھے ،،، حماس نے مغویوں کی رہائی کے بدلے اپنے قیدی چھڑوانے کا کہا،،، فہرستوں کاتبادلہ ہوا، اور بالآخر ڈیڑھ سال سے جاری جنگ کو سٹاپر لگ گیا۔ مطلب! اگر آپ صدق دل سے مذاکرات کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آتا ہے،،، حکومت نے تحریک انصاف کی توجہ احتجاج سے ہٹانے کے لیے مذاکراتی عمل کی دعوت دی، جسے تحریک انصاف نے چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کر لیا۔۔۔ جس پر ہم نے لکھا کہ حکومت یہ مذاکرات صرف وقت کو دھکا دینے اور تحریک انصاف کی احتجاجی حکمت عملی کو کمزور کرنے کے لیے کر رہی ہے،،، اور یہ بھی لکھا کہ ان مذاکرات کی بیل منڈے چڑھتی نظر نہیں آرہی، ،، پھر ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ مذاکرات بغیر کسی تیاری کے شروع ہوئے ہیں،،، اور اَب جس طرح انہیں ختم کیا گیا ہے وہ بھی کوئی سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔تو پھر سب نے دیکھا کہ ایسا ہی ہوا۔ لیکن میں ایک بات پر حیران ہوں کہ حکومت کو جوڈیشل کمیشن بنانے میں اعتراض کیوں ہے؟ اب تو تحریک انصاف والے اپنے قائدکی رہائی سے بھی دستبردار ہو گئے ہیں،،، وہ تو کہتے ہیں کہ بس ہمیں انصاف ملنا چاہیے،،، لیکن حکومت ہے کہ مسئلے کو کسی صورت حل کرنے کو تیار نظر نہیں آرہی،،، ڈیڑھ سال سے زیادہ ہو چکا ، مگر کسی قائد کو ابھی تک نہ تو سزا ہوئی ہے اور نہ ہی اُنہیں رہا کیا جا رہا ہے ،، بلکہ ہزاروں گرفتار افراد میں سے چند افراد ایسے ہوں گے، جنہیں سزا ہوئی،،، باقیوں کو انہوں نے ڈراوے کے لیے رکھا ہواہے،،، یا یہ کہہ لیں کہ شاید حکمرانوں نے بلیک میلنگ میں استعمال کرنے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ آپ خود دیکھ لیں، کہ یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، شاہ محمود قریشی سمیت کسی رہ نما کو ابھی تک کوئی سزا نہیں ہوئی،،، نہ اُن پر ابھی تک کوئی مناسب چالان پیش کیا گیا ہے،،، لہٰذااس کا سادہ سا حل ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنائیں اور عوام کو اس اُلجھن سے نکالیں۔ چلیں ہم مان لیتے ہیں کہ اگر 9 مئی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے تو اس واقعے کو ہونے سے روکنے میں ناکام رہنے والی انتظامیہ سزاو¿ں اور عہدوں سے برطرفی کے حق دار ہیں مگر ان کو تمغوں سے کیوں نوازا گیا؟چلیں یہ الزامات ہی سہی مگر آپ کو کمیشن بنانے میں مسئلہ کیا ہے؟ کیا سقوط ڈھاکہ کے بعد کمیشن نہیں بنا؟ کیا مارشل لاﺅں پر کمیشن نہیں بنے؟ کیا سانحہ پشاور پر کمیشن نہیں بنا؟ تو اس میں مسئلہ کیا ہے؟ کیا تحریک انصاف والوں کا یہ مطالبہ جائز نہیں؟قصہ مختصر کہ شاید حکومت سنجیدہ مذاکرات نہیں چاہتی،،، یا پھر ان میں طاقت نہیں!اگر ایسا ہے تو پھر خان صحیح کہتا تھا کہ میں ان سے مذاکرات نہیں کروں گا،،، بلکہ اُن سے کروں گا جو اصل فیصلہ کرنے والے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ ان کے پلے کچھ نہیں ہے۔ اگر میری یہ بات درست نہیں ہے تو آپ خود دیکھ لیں،، جیسے ہی مذاکرات شروع ہوتے ہیں ن لیگ کے وزراءکو ئی نہ کوئی ایسا بیان دے دیتے ہیں جس سے مذاکراتی عمل کی غیر سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے اور سارا عمل یک دم رُک جاتا ہے۔ بہرکیف یہ سنجیدہ مذاکرات نہیں تھے،،، ان مذاکرات کا فریقین کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔ یہ صرف گیند کو ایک دوسرے کی طرف پھینک رہے تھے،،، لہٰذااگر مذاکراتی عمل کو سنجیدگی سے آگے نہیں بڑھایا گیا تو پی ٹی آئی کو عدالتوں کی طرف دیکھنا ہو گا یا پھر احتجاج کا کوئی اور طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ پی ٹی آئی دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کر سکتی ہے۔دونوں صورتیں ہی ملک کے لیے اور حکومت کے لیے نقصان دہ ہوں گی۔ جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف کوبھی چاہیے کہ وہ آپسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر بہتر حکمت عملی کے ساتھ میدان عمل میں اُتریں۔ کیوں کہ ویسے بھی 2025 کا سورج پی ٹی آئی کیلئے نیک شگون لے کر طلوع نہیں ہوا۔ عمران کی رہائی ہوئی اور نہ ہی پی ٹی آئی کو کوئی بڑا ریلیف ملا، حکومت پی ٹی آئی کے مطالبات کسی طور پر قبول کرنے پر تیار نہیں جس کی وجہ سے عمران خان نے یک طرفہ طور مذاکرات کا کھیل ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے نتیجے میں عمران خان کی رہائی کیلئے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں جو عملی طور ممکن نظر نہیں آرہا تھا۔ قبل اس کے کہ حکومت پی ٹی آئی کے مطالبات کو مسترد کرتی عمران خان نے 23 جنوری کی شب تک جوڈیشل کمیشن قائم نہ ہونے کی صورت میں مذاکرات کے چوتھے دور کے انعقاد سے قبل ہی مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ جس رد عمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے سیاسی ماحول میں بہتری آنے کی بجائے مزید خرابی آئے گی جو ملک کو سیاسی عدم استحکام کی طرف لے جائے گی۔ لہٰذامیرے خیال میں اگر حکومت کے پاﺅں بندھے نہیں ہیں تو اُسے ساری چیزوں کو بالائے طاق رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے،،، اس کے لیے اگر خان کی رہائی کا مسئلہ بھی آڑے آتا ہے تو اُس قبول کرنا ہوگا،،، ورنہ دونوں عیدین کے درمیان بھرپور حکمت عملی سے احتجاج کی منصوبہ بندی بھی تحریک انصاف کی جانب سے کی جا رہی ہے،،، اور لگ یہی رہا ہے کہ یہ وار شاید خالی نہ جائیں!