حکمران چاہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ حکومت کریں!

حکمران یہ چاہتے ہیں کہ تمام قانون سازی ایسی ہو، کہ ہم ہمیشہ اقتدار میں رہیں، الیکشن میں بے ایمانی کر سکیں، مخالفین کو آسانی سے دبا سکیں، عدلیہ میں اپنے ججز ہوں، صحافی بھی ان کی زبان بولیں،پارلیمنٹ بھی ان کی اپنی ہو، اپوزیشن بھی ان کی اپنی ہو،مرضی کی آئینی ترامیم بھی کروا سکیں، سکیورٹی اداروں کے سربراہ بھی ان کے اپنے ہوں، یہ مرضی کے فیصلے کروا سکیں، مرضی کے ٹھیکیداروں سے کام کروا سکیں، کھربوں کی کرپشن کر سکیں ، اور سب سے بڑھ کر یہ چاہتے ہیں کہ دنیا بھر میں ان کی نیک نامی کا امیج بھی بنا رہے۔ ایک سپریم کورٹ رہ گیا تھا جہاں ان کی اجارہ داری نہیں چلتی تھی، انہوں ایسی قانون سازی کی کہ اُس کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا، ہائیکورٹس رہ گئی تھیں، اُن میں سے چند کو اپنے مطابق کیا ہی تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹس سے ان کے خلاف آوازیں اُٹھنے لگیں، ان کے مخالفین کو وہاں سے ریلیف ملنے لگاہی تھا اور میرٹ پر فیصلے ہو ہی رہے تھے کہ اب انہوں نے وہاں پر بھی ”قبضہ“ کرنے کی ٹھان لی ہے۔ یہ اپنی مرضی کے ججز لگا رہے ہیں یعنی اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق ہیں، جن کے بعد سینئر ترین جج محسن اخترکیانی تھے، جنہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ بننا تھا، لیکن بادی النظر میں وہ ان کے ”مزاج“ کے نہیں تھے، لہٰذاحکومت نے لاہور ہائیکورٹ سے سردار محمد سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ ٹرانسفر کردیا(ویسے یہ کل تین ججز ہیں جنہیں بلوچستان، سندھ اور پنجاب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں لایا گیا ہے ) جس سے وہاں کے ججز میں ایک عجیب سی ہلچل مچ گئی۔ حالانکہ اس سے ایک دن پہلے ہی دارلحکومت کی بڑی کورٹ کے ججز نے یہ خطرہ بھانپ لیا تھا اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام ایک خط لکھا تھا کہ کسی دوسری ہائیکورٹ سے جج نہ لایا جائے اور نہ ہی چیف جسٹس بنایا جائے۔خط میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 سینیئر ججوں میں سے ہی کسی کو چیف جسٹس عدالت عالیہ بنایا جائے، انھوں نے سرکار کو متنبہ کیا کہ دیگر ہائی کورٹوں سے ججوں کو لے کر اسلام آباد تعینات کرنا ’آئین کے ساتھ فراڈ‘ ہوگا۔ خط لکھنے والے ججز مں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل تھیں۔ ابھی اس خط کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ اُسی شام صدر مملکت کے دستخطوں سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے ایک نہیں تین نئے ججوں کی تعیناتی یقینی ہوگئی۔ اسی ”کارروائی “ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی سینیارٹی کے معاملے پرسنیارٹی لسٹ کے خلاف ریپریزنٹیشن چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھیج دی ہے، جبکہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو بھی ججز ریپریزنٹیشن کی کاپی ارسال کی گئی ۔ جس میں کہا گیا کہ جج جس ہائیکورٹ میں تعینات ہو اُسی ہائیکورٹ کے لیے حلف لیتا ہے، آئین کی منشا کے مطابق دوسری ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے پر جج کو نیا حلف لینا پڑتا ہے۔ریپریزنٹیشن کے مطابق دوسری ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے والے جج کی سینیارٹی نئے حلف کے مطابق طے ہو گی، لیکن بظاہر ابھی تک ان ججز کی شنوائی نہ ہو سکی۔ اور معاملہ یوں بھی لگ رہا ہے کہ جیسے پورے کا پورے اسلام آباد ہائیکورٹ اس وقت سرد جنگ کا گڑھا بنا ہوا ہے۔ حالانکہ اگر ”جمہوریت پسندوں“ کی حکومت ہوتی تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ ججوں کی جانب سے لکھے خطے کے بعد حکومت دیگر ہائی کورٹس سے ججوں کو یہاں تعینات کرنے کے بارے میں ذرا سوچ بچار سے کام لےتی۔ویسے میرے ذہن میں یہ بات بھی آئی کہ اس اتنے بڑے اقدام کے بعد اسلام آباد کے وکلاءدیگر شہروں سے ججوں کو اسلام آباد لانے کے آئیڈیا کی مخالفت میں ڈٹ سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں 2007ءمیں نمودار ہوئی عدلیہ بحالی (آزادی) جیسی تحریک بھی شروع ہوسکتی ہے۔ میرے ذہن میں یہ بھی تھا کہ کالا کوٹ ہی ملک پاکستان کے آئین کی حفاظت کریگا۔ لیکن دورِ حاضر کے ہمارے سلطانوں نے انتظارہی نہیں کیا۔ ’جھٹکے‘ کی صورت ایک نہیں تین نئے ججوں کو دیگر ہائی کورٹس سے اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کردیا گیا ہے۔تاکہ ان کا ”پلڑا “ بھاری ہوجائے۔ قارئین! آپ ہٹ دھرمی کی انتہا دیکھیں کہ سب کو علم ہے کہ انہوں نے سنیارٹی رولز کی غیر اخلاقی اور غیر قانونی طور پر خلاف ورزی کی ۔ اسلام آباد بنچ کو مینج کرنے کیلئے یہ سب ہتھکنڈے استعمال کئے گئے۔حالانکہ ہمارا آئین واضح تشریح کرتا ہے کہ ٹرانسفر ججوں کی سنیارٹی اسی دن سے شروع ہوتی ہے اور ٹرانسفرڈ ججز کو بنچ کا چیف لگانا آئین کے ساتھ بہت بڑا فراڈ ہے۔کیا ان حکمرانوں نے ملک کے آئین کو ٹشو پیپر بنا کر نہیں رکھ دیا؟ کیا یہ مرضی کے فیصلے لینے کے لیے مرضی کے جج نہیں لگا رہے؟سب کچھ ہو رہا ہے مگر ہمارے کالے کوٹ والے بھی آنکھیں موندے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ بہرحال ہم اس کے خلاف نہیں ہیں کہ ٹرانسفر نہ ہوں، بلکہ ایسا ہوتا آیا ہے، مگر اُن ججز کو سامنے لانا جن کی شہرت ہی ان کے حق میں فیصلوں کے حوالے سے رہی ہے، یہ بددیانتی کے سوا کچھ نہیں ہے، ،، ان کی نہ تو نیت صاف ہے، اور نہ یہ جمہوریت اور ملک کا سوچ رہے ہیں،،، بلکہ ان کی نیت یہ ہے کہ ہم ہمیشہ برسراقتدار رہیں۔بانی تحریک انصاف جسے 8فروری کو عوام نے وزیر اعظم منتخب کیا، وہ ہمیشہ جیلوں میں رہے، اور ادارے اور حکمران مل کر ایک ایسا گٹھ جوڑ قائم کریں کہ پنجابی کی ایک مثال ان پر پوری آجائے کہ چور اچکا چوہدری تے غ±نڈی رَن پردھان اورپھر یہ سوچ نئی نہیں ہے، بلکہ پرانی ہے۔ یعنی جنرل ایوب خان نے بھی یہی سوچا تھا، بھٹو نے بھی یہی سوچا تھا، جنرل ضیا ءالحق نے بھی یہی سوچا تھا، پھر جنرل مشرف نے بھی یہی سوچا تھا اور سب سے بڑھ کر دوتہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے والے نواز شریف نے 1997ءمیں بھی یہی سوچا تھاکہ وہ اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے بے ڈھنگے ، غیر اہم اور نامعقول فیصلے کر کے اقتدار کو بچا بھی لیں گے اور لمبی اننگز بھی کھیل لیں گے،،، مگر ان سب کا حشر سب کے سامنے ہے،،، یعنی ان کا حشر وہی ہوتا ہے جو ماضی کی ان جیسی حکومتوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ خیر ان کی سوچ نہیں بدل سکتی، کیوں کہ اس قسم کی حکومت کرنا ان کی فطرت میں رہا ہے۔ لیکن حد تو یہ ہے کہ اس دوران انہوں نے عوام کو یکسر مسترد کر دیاہے، یہ بھول چکے ہیں کہ عوام کون ہے؟ یہ عوام کو خاندان غلاماں کی اولاد سمجھتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ ساری زندگی کے لیے عوام ان کی غلام بن کر رہ جائے۔ اور ان کے سربراہان ہماری آل اولاد میں سے ہو۔ حتی ٰ کہ یہ روایت صرف صف اول کے قائدین کی نہیں رہی بلکہ ہر کونسلر، ایم پی اے ، ایم این اے یہی چاہتا ہے کہ اُس کی اولاد اس سلسلے کو آگے لے کر چلے،،، اور پھر وہ اس کے لیے ہر گند مارتا ہے، ہر وہ برا کام کرتا ہے جس سے وہ شاٹ کٹ طریقے سے آگے نکل سکے۔ اور پھر یہ مسئلہ اب سیاستدانوں تک ہی نہیں رہا بلکہ اس ملک کا ہر طبقہ بشمول اسٹیبلشمنٹ و عدلیہ ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اُس کی اُجارہ داری قائم رہے اور اُس کی حکومت بنی رہے۔ بہرکیف موجودہ حکومت کو آئے ایک سال ہوگیا ہے، مگر یہ اپنے متنازعہ فیصلوں کی وجہ سے آج اتنی ہی غیر مقبول ہے، جتنی اس کے بارے میں پیش گوئیاں کی گئی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک سال پہلے بھی آج ہی کے دن اسی طرح چیزیں Manageکی جارہی تھی جس طرح اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے کی جا رہی ہیں،،، لیکن پچھلے سال انہی دنوںبلے کے انتخابی نشان سے محروم ہوجانے کے باوجود تحریک انصاف کے کارکنوں نے اپنی قیادت کے نامزد کردہ امیدواروں کو جنھیں ’آزاد‘ ٹھہراتے ہوئے مختلف ا نتخابی نشان دیے گئے تھے موبائل فونوں کی مدد سے حیران کن ووٹوں کی حمایت سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں تک پہنچایا تھا۔ دیانتداری سے یہ بات تسلیم کرنے کے بعد میرا ذہن یہی سوال اٹھانے سے مگر باز نہیں رہتا کہ ’8فروری کی انہونی‘ نے تحریک انصا ف اور اس کے قائد کو ٹھوس سیاسی حوالے سے بالآخرفائدہ کیا پہنچایا ہے۔ یہ سوال اٹھاتا ہوں تو حقائق سمجھنے کے لیے میری رہ نمائی کے بجائے شکست خوردہ ہونے کے طعنے دیے جاتے ہیں۔خیر یقین مانیں میں تحریک انصاف کا سپورٹر نہیں ہوں بلکہ میں پاکستان کا سپورٹر ہوں،،، اور اگر آپ پاکستان کے سپورٹر ہوں اور دیکھیں کہ جج سڑکوں پر ہیں، وکلاءسڑکوں پر ہیں، صحافی سڑکوںپر ہیں، اپوزیشن سڑکوں پر ہیں، تو پھر بتائیں کہ آپ کی کیفیت کیا ہوگی؟ لہٰذاحالات یہی رہے تو آئندہ کے لیے بھی آپ کوئی اُمید نہ رکھیں کہ الیکشن چوری نہیں ہوں گے، بلکہ الیکشن چوری بھی ہوں، فارم 45،فارم 47میں بدلیں گے اور اکثریتی جماعت اقلیتی جماعت میں بدلے گی اور اقلیتی جماعت برسراقتدار بھی آتی رہے گی۔ اسی لیے پاکستان کی کریم اس ملک کو چھوڑ کر بھاگ رہی ہے۔ ان اس چیز کا شاید احساس ہی نہیں ہے، یہ چیزوں کو جتنا آسان لے رہے ہیں، ،، شاید سب کچھ اتنا آسان نہیں ہے، ان کو پتہ بھی نہیں چلنا اور انقلاب ان کے دروازے پر ہوگا جو سب کچھ غرق کر دے گا! اور یہ عوام کو ”نتھ“ ڈالنے کے چکروں میں اپنا سب کچھ گنوا بیٹھیں گے!