خواجہ سعد رفیق : دیر آئید درست آئید!

اصل سیاستدان وہ ہوتا ہے، جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے، آپسی لڑائیاں ختم کرکے عوام کے بارے میں سوچے، مخالفین کو ڈرانے دھمکانے اور جیل میں دھکیلنے میں اپنی انرجی ضائع نہ کرے،اور نہ ہی مخالفین کو دبانے کے لیے ”بڑوں“ کی خدمات لے۔ کیوں کہ جب سیاستدان ایک دوسرے سے لڑتے ہیں توعوام پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کوئی ترقی نہیں ہوتی، کوئی کارخانہ نہیں لگتا، کوئی سڑک تعمیر نہیں ہوتی۔ بدترین اندھیرا اورغربت چھائی رہتی ہے۔ صرف گنتی کے لوگ ترقی کرتے ہیں یا خوشحال ہوتے ہیں۔ آپس کی لڑائیاں، عام آدمی کا استحصال، معاشی اور سماجی ترقی سے بیگانگی ہے۔ پاکستان کا مسئلہ بھی یہی ہے، کہ یہاں سیاستدان خود پر پڑی مصیبتوں سے کچھ سیکھنے کے بجائے بدلے کی آگ اپنے اندر بسا لیتے ہیں۔ اور شاذ و نادر ہی کوئی سیاستدان ہوتا ہے جو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتا ہے۔ جیسے گزشتہ روز میری نظر ایک خبر پر پڑی جس میں خواجہ سعد رفیق فرما رہے ہیں کہ ”مشکل میں صرف وہ نہیں جو جیل میں ہیں بلکہ سب مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں، نہیں چاہتا جو ہمارے ساتھ ہوا ہمارے کسی مخالف کے ساتھ بھی ہو۔وہ مزید کہتے ہیں کہ سیاست، جمہوریت ، ساکھ، اسٹیبلشمنٹ کے رول پر بڑا غور کیا ، تجزیہ کیا، جیل بڑی تکلیف دہ چیز ہے مگر اس کے فائدے بھی ہیں،جیل کاٹنے والوں کو ایک کندن بنا کر رکھ دیتی ہے، ان کا کہنا تھا انسان جو اپنے لیے سوچتا ہے ، رحمان اس سے بڑھ کر اچھا سوچتا ہے، جیل میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنا ہے، میں نے کوشش کی تھی کہ الیکشن نہ لڑوں، میرے الیکشن نہ لڑنے کی سوچ کے پیچھے بہت سے عوامل تھے ، میں نہیں چاہتا جو میرے ساتھ ہوا وہ کسی او ر کے ساتھ ہو،سب کو پیغام جانا چاہیے، جو خرابی کریگا وہ خرابی بھگتے گا، سیاست دانوں کو سبق سیکھنا چاہیے، جھوٹ بول بول کر لوگوں کو مسلسل گمراہ کیا گیا۔“ خواجہ سعد رفیق کی طرز سیاست سے مجھے کبھی بھی اتفاق نہیں رہا، لگتا یہی ہے کہ وہ اب برے دنوں کی سیاست سے بہت کچھ سیکھ کر کندن بن گئے ہیں۔اُن کی گفتگو اُن کی سیاسی پختگی کا ثبوت ہے، وہ اپنی پارٹی میں بھی اختلاف رائے رکھنا شروع ہوگئے ہیں، وہ اپنی پارٹی کے فیصلوں سے اختلاف کرنا شروع ہوگئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مخالفین پر اتنا ظلم کریں جتنا کل کو یہ برداشت بھی کر سکیں۔ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سیاست میں کوئی مائنس نہیں ہوتا، اور نہ ہی کوئی ایسی گھناﺅنی حرکت کی کوشش کی جائے۔ وہ اپنی ہی حکومت کے خلاف بات کر رہے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ پیکا ایکٹ حکومت وقت کے گلے پڑ جائے گا۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ پارٹی میں موروثیت ختم ہونی چاہیے، میرٹ کو یقینی بنا کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔چلیں شکر ہے کسی نے ایسی باتیں کی تو سہی۔ ورنہ سینئر سیاستدان بھی یہاں خوش آمدکرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ سچ کو سچ نہیں کہتے بلکہ پارٹی لیڈران سے ڈرتے ہیں، اور اپنی کوئی رائے نہیں دیتے۔ جبکہ اس کے برعکس خواجہ صاحب غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہہ رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک اچھا تاثر ہے۔اگر سبھی سیاستدانوں کا طرز عمل خواجہ سعد رفیق جیسا ہو جائے تو سارے مسئلے ہی ختم ہوسکتے ہیں۔نہ سیاسی ڈیپارٹمنٹ میں اسٹیبشلمنٹ اپنا کردار ادا کر سکتی ہے، اور نہ ہی اُس کو ایسی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے، بلکہ وہ وہی کام کرے گی جو دنیا بھر کی سکیورٹی فورسز کرتی ہیں، مطلب امن و امان کی بحالی اور بارڈرز کی حفاظت۔ لیکن ہمارے سیاستدان جھوٹ، نفاق اور خوشآمد کا سہارا لے کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے تیسری قوت فائدہ اُٹھاتی ہے۔ حدتو یہ ہے کہ کوئی بھی سیاستدان حقیقت کو دیکھنے کے باجودزیرک اور اصل سیاستدان بننے کی کوشش نہیں کرتا۔ اور زیرک سیاستدان جس کی اپنی پارٹی، ملک و قوم اور اپنے حلقے کے لیے خدمات ہوں وہ کبھی موروثیت پر یقین نہیں رکھتا۔ اور سعد رفیق کا بھی یہی معاملہ ہے کہ وہ اپنے سے بہت زیادہ جونیئر مریم نواز کی تقلید کیوں کرے؟ یعنی بغیر کسی قابلیت کے صرف اس وجہ سے جونیئر کی عزت کی جائے کہ وہ نواز شریف کی بیٹی ہے، آپ اُس کی کوالیفیکیشن دیکھ لیں، کیا یہ کسی منجھے ہوئے سیاستدان کے شایان شان ہے؟کیا وہ اندرا گاندھی، مارگریٹ تھیچر، بے نظیر بھٹو یا محترمہ فاطمہ جناح کو کاپی کر رہی ہے؟ وہ تو مہوش حیات کو کاپی کر کے عوام میں مقبولیت حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔ کیا یہ جمہوری رویہ ہے؟ بلکہ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ باقی لوگ یہ تقلید کیسے کر رہے ہیں؟ شاہد خاقان عباسی کو یہ چیز پسند نہیں تھی اس لیے وہ بھی پارٹی سے نکل آئے۔ مفتاح اسماعیل کو یہ چیز پسند نہیں وہ بھی پارٹی سے نکل آئے۔ اور پھر ہم تو بڑی دیر سے یہ بات کہتے آرہے ہیں کہ موروثی پارٹیوں کے ساتھ سیاست کوئی غیرت مند شخص نہیں کر سکتا۔ اور پھر آپ پیپلزپارٹی کو دیکھ لیں، اُس میں بھی ایسی ہی بے شمار خرابیاں ہیں ۔ یہ بڑی سیاسی پارٹی بھی موروثیت اور غلط فیصلوں کی وجہ سے تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے۔ اس کی وجہ پارٹی میں موروثیت ہے، باپ نے اگر حکومت کی ہے تو بیٹے کو بغیر قابلیت کے یہ آگے لے آئے ہیں، مبینہ طور پر پیسے دے کر ٹرمپ کے ناشتے پر بھیجا جا رہا ہے، جہاں پاکستان کی عزت کو ٹکا ٹوکری کیا جا رہا ہے۔ یہ اپنے علاوہ پارٹی کے دوسرے رہنماﺅں کو آگے نہیں آنے دیتے۔ بلکہ پارٹی کے رہنماﺅں کا آگے آنا تو دور یہ لوگ خاندان کے دیگر افراد کے حوالے سے بھی خاصے معتصب ہیں۔ یعنی اتنا برا حال ہے، کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے اور مرتضیٰ بھٹو کے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو(جونیئر) کو ڈی جی خان بار نے مدعو کیا تو پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر نے اُن کا بھرپور استقبال کیا، جس وجہ سے پارٹی قیادت نے اُنہیں شو کاز نوٹس جاری کیے اور کہا کہ بتایا جائے کہ ایسا کیوں کہ کیا گیا؟ بلکہ اُنہیں انتباہ بھی کیا گیا کہ تسلی بخش جواب نہ ملنے کی صورت میں آپ کو پارٹی سے فارغ کردیا جائے گا ۔ مطلب پیپلزپارٹی میں موروثیت کی انتہا دیکھیں کہ یہ لوگ اپنے علاوہ کسی کو برداشت نہیں کرسکتے۔ شاید زرداری گروپ ان سے خوفزدہ ہے، یا بادی النظر میں یہ لوگ متعصب ہونے کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔ بہرحال اگر سیاستدانوں نے اس ملک کو سنوارنا ہے یا اس ملک کی صحیح معنوں میں باگ ڈور سنبھالنی ہے تو اُنہیں خواجہ سعد رفیق کے رویے کو اپنانا ہوگا۔ ورنہ وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ آج سیاسی جماعتیں تبھی کمزور ہیں کہ وہ سیاست کو عبادت سمجھ کر نہیں بلکہ کاروبار سمجھ کر چلا رہی ہیں،،، ابھی بھی انہیں کوئی پوچھنے والے نہیں ہے کہ انہوں نے 7ماہ میں ساڑھے چار ارب ڈالر کا قرض کیوں لیا ہے؟ کہاں لگایا گیا ہے؟ کس کے دیے ہیں؟ کونسا نیا پراجیکٹ لگایا ہے،،، لیکن جب یہ اقتدار سے اُتریں گے تو اُس وقت ہوشربا قسم کے سکینڈلز منظر عام پر آئیں گے اور تب یہ لوگ جیل میں ہوں گے، اور جیل والے اقتدار میں ہوں گے،،،ا ور نتیجہ یہ نکلے گا کہ یہ سب مزید کمزور ہوں گے اور تیسری قوت کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوں گے۔ بہرکیف ہمیں کسی سیاستدان پر کوئی اعتراض نہیں، بس سیاست کو عبادت سمجھ کر آگے آئیں اور صحیح معنوں میں عوام کی بھلائی کے کام کریں،،، ہمیں موروثیت پر بھی کوئی اعتراض نہیں،،، اور نہ ہی مریم بی بی سے کوئی اعتراض ہے ، نہ ہی بلاول سے یا نہ ہی مونس الٰہی سے ہے۔ لیکن خدارا محنت کرکے آگے آئیں۔ برطانوی شاہی خاندان کے لوگوں کو دنیا کی کسی چیز کی کمی نہیں ہے، عوام اُن کی ویسی عزت کرتے ہیں جیسی ہم اپنے پیروں فقیروں کی کرتے ہیں۔ مگر مجال ہے کہ برطانوی شہزادوں کی اندھی تقلید کے حوالے سے عوام کو پابند کیا جائے۔ اُن کی اولاد عام آدمی جیسی زندگی گزارتے ہیں اور اُنہیں محض ایک ملازم ملتا ہے۔ اُن کی اولاد کے لیے تعلیم حاصل کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر اُنہیں جنگی تربیت کے اصول سمجھائے جاتے ہیں۔ اُنہیں پائلٹ بننے کی تربیت سے لے کر جنگی میدان میں بندوق چلانے کے طریقے تک سکھائے جاتے ہیں۔ اور دنیا بھر میں کسی نہ کسی محاذ پر بھی بھیجا جاتا ہے۔ تب لوگ اُن کی عزت کرتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس بقول آغا شورش کاشمیری میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو گِھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں آغا شورش کاشمیری کا یہ شعرانہ تبصرہ اس وقت کا ہے جب سیاست ’سربازار می رقصم‘ کا منظر پیش کررہی تھی، پھر ہوا یوں کہ تماشا دیکھنے اور تالیاں پیٹنے والے اس رقاصہ جلوہ فروش کے جلوے میں ا±س بازار کے زینے تک جا پہنچے جہاں پاپوش سے پہلے پوشاک اور اس سے قبل عزت اتر جاتی ہے۔ ایسے میں اگر آج آغا صاحب زندہ ہوتے تو اپنے کہے کو کافی نہ پاتے اور پکار اٹھتے ’کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیان کے لیے‘۔ بہرحال خواجہ سعد رفیق کے حوالے سے ہم خوش ہیں کہ دیر آئید درست آئید کے مصداق یہ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئے ہیں.... اللہ کرے مزید سیاستدان بھی ان کی تقلید کریں!