ریاست غلطیوں پر غلطیاں نہ کرے!

ملک میں سب اچھا نہیں ہے، نہ ہی سب روٹین کے مطابق ہے۔ حالات پہلے سے بھی بدتر ہو چکے ہیں، فرق یہ ہے کہ پہلے یہ چیزیں میڈیا پر آجاتی تھیں مگر آج پیکا ایکٹ اور دیگر قوانین کے ذریعے سب کو چھڑی سے ہانکا جا رہا ہے۔ پہلے بھی پورا بلوچستان ہمارا نہیں تھا، آج بھی وہاں جب دل چاہتا ہے دہشت گرد پنجابیوں کو اتار کر قتل کر رہے ہیں اور ریاست خاموش ہے۔ ابھی گزشتہ روز بسوں میں سے بلوچستان سے لاہور کی طرف سفر کرنے والوں کے شناختی کارڈ چیک کرکر کے قتل کر دیا گیا، پھر کرم کے حالات سب کے سامنے ہیں، کوئی قافلہ محفوظ نہیں ہے،،، صرف 14کلومیٹر کی سڑک کو ہم محفوظ نہیں بنا پا رہے۔ اور اوپر سے خیبرپختونخوا حکومت نے کرم میں دہشت گردوں کے سروں کی قیمتیں مقرر کردی ہیں، 14دہشتگردوں کے سروں کی قیمت 13کروڑ 30 لاکھ روپے طے کی گئی ہیں۔بھلا اگر سروں کی قیمتیں رکھنے سے حالات پر قابو پایا جاسکتا تو آج کچے کے علاقے بھی حکومتی کنٹرول میں ہوتے۔ پھر معیشت کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے،،، تو جو معاشی ترقی عمران خان کے دور میں 6.1تھی آج منفی میں چلی گئی ہے۔ حکومت نے اس معاشی سال 2024-25کے پہلے سات ماہ میں 5ارب ڈالر کا قرضہ لے لیا ہے۔ اور پھر یہی نہیں ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ پاکستان ترقی کر رہا ہے۔ حالانکہ اس کے برعکس ذرا دیکھیے یہ ترقی کہہ کسے رہے ہیں؟ پاکستان عالمی جسٹس سسٹم میں تقریباً 150ویں رینکنگ رکھتا ہے۔ گلوبل انٹرنیٹ سپیڈ رینکنگ میں پاکستان کی پوزیشن198ویں ہے۔ پاکستان کا سبز رنگ پاسپورٹ، جنگ زدہ یمن کے برابر کی رینکنگ پرلڑھک آیا ہے۔ ایشیا کے ملکوں کی ترقی پذیر ی کی شرح نمو میں پاکستان ٹاپ پر ہے۔ آپ درست سمجھے ہیں۔ رینکنگ کی اُلٹی گنتی یعنی نیچے سے اوپر کی رینکنگ میں ہم ہیں ٹاپ سکورر۔ سالِ نو میں انجمنِ بندگانِ شکم نے کئی نئے عالمی ریکارڈ بنائے ہیں۔ ان میں سے تقریری اور تصویری مقابلے پر بات کو ادھار رکھ چھوڑتے ہیں۔ بلکہ اداکارہ مہوش حیات کو کاپی کرکر کے حکومتیں چلائی جا رہی ہے۔ خدارا فیصلے کرنے والے صرف یہ بات سوچ لیں کہ اب غلطی کی گنجائش نہیں ہے، ابھی بھی ہاتھ ہولا کر دیں، اسی میں سب کی بھلائی ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے قومی غلطیوں کی فہرست لمبی ہے، دہرانے سے کیا فائدہ؟ ایک مثال دینا ہی کافی ہے۔ 1971ءمیں انتخابی نتائج اور آئینی تقاضوں سے روگردانی کی گئی۔ عوامی لیگ اور مشرقی پاکستان کے عوام کو اُن کا حق نہ دیا گیا اور قوم کو خانہ جنگی کے راستے پر ڈال دیا گیا۔ 1971ءمیں جو حالات مشرقی پاکستان میں پیدا ہوئے‘ وہ خانہ جنگی کے زمرے میں آتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے اُس المیے سے کچھ سیکھا؟ جتنا بھی کریدیں‘ یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ بطورِ قوم اور بطورِ مملکت ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ 1971ءکے تجربے کے بعد کم از کم ایک بات پر تو قومی اتفاقِ رائے بننا چاہیے تھا کہ جو بھی ہو، جیسے بھی ملک میں حالات رونما ہوں، ملک کسی طالع آزمائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن 1977ءکا سیاسی تعطل بنا تو طالع آزمائی کا ایک ایسا تجربہ شروع ہوا جس نے قوم اور قومی مزاج کو سو سال پیچھے دھکیل دیا۔ اُس دورِ طالع آزمائی کے اثرات آج تک قوم پر موجود ہیں۔ ہچکولے کھاتے ہوئے جمہوریت کا سفر پھر سے شروع ہوا تو 1999 کی طالع آزمائی پر ختم ہوا۔ وہ دور گزرا تو شوقِ سیاسی انجینئرنگ ختم نہ ہوا۔لولی لنگڑی ہی سہی جمہوریت تو تھی اور اس جمہوریت کا پہلا تقاضا یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھے اور مختلف محکموں کو توسیع کی مہلک بیماری سے پاک رکھا جائے‘ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔دیگر بحران اپنی جگہ مگر آج جس بحران کا ملک کو سامنا ہے اُس کی ایک بڑی وجہ قمرجاوید باجوہ کی توسیع تھی۔ توسیع حاصل کر چکے تو ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے لگے۔ ایسی ٹانگ اڑائی کہ اب تک وہ اوپر ہیں اور سیاستدان نیچے سے نیچے تک جا چکے ہیں۔ آج 9مئی کا بہانہ بنا کر تحریک انصاف کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا جا رہا ؟ آپ یقین مانیں اس 9مئی کی آڑ میں پولیس نے عوام پر وہ وہ ظلم کیے ہیں کہ جس کی تلافی رہتی دنیا تک نہیں ہوسکتی۔ لیکن ہم نے اپنی چھوٹی چھوٹی ضدوں کو اناﺅں کا نام دے دیا ہے۔ اربابِ اختیار ایک سوال کا جواب تو دیں۔ کہ یہ 8فروری سمیت جو کچھ بھی کیا گیا ہے ایک سیاسی پارٹی کوکچلنے کے لیے نہیں کیا گیا؟ پولیس کی من مانیاں اپنے عروج پر نظر آتی ہیں۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس ہوا میں اُڑ چکا ہے۔ خواتین کی عزت کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ وہ زمانے بھی تھے جب جوڈیشل ریمانڈ کا کچھ بھرم تھا، اب تو جو اٹھائے جا رہے ہیں، بہت سے ہیں جن کو نامعلوم مقامات پر لے جایا جاتا ہے۔ ان سب واقعات کے پیچھے کون ہے؟ پولیس سٹیٹ اور کسے کہتے ہیں؟ یہ ساری روشیں جو پیدا ہو چکی ہیں، بڑی خطرناک ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بربریت کا ایک نیا عنصر پیدا ہو رہا ہے۔ایسے ہتھکنڈوں سے حاصل کیا کرنا ہے؟ اور رہی بات کہ ہمارے سیاستدان جو اس وقت خان کے خطوط کا مذاق بنا رہے ہیں،،، کل کو یہ جیل میں بیٹھ کر یہی خطوط لکھ رہے ہوں گے اور ہم ان پر ہنس رہے ہوں گے۔ حالانکہ ان کو یہ علم نہیں ہے کہ جیل میں بیٹھ کرمزاحمت کا پہلا زمانہ قدیم یونان اور روم کی سلطنت میں افلاطون اور سیسرو جیسے لافانی فلسفی لیڈروں کا تھا، جنہوں نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے کھلے خطوط جیل سے باہر بھجوا کر دنیا بھر کی اقوام کے لیے بھڑکتے ہوئے معاشرتی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھائی۔ نہ صرف تاریخ ساز آواز اٹھائی بلکہ ان مسائل کے حل تجویز کیے۔ وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہ کر حریت پسند اہلِ علم و قلم کو ہر حال میں مزاحمت کا نیا راستہ دکھا گئے۔ ان دونوں عالی دماغوں کے کھلے خطوط کو نایاب عالمی ادب کے نمونے مانا جاتا ہے۔ ایک اور رومن فلسفی بوئتھیس ہیں‘ جنہوں نے ایامِ اسیری میں ”کونسلیشن آف فلاسفی“ کے عنوان سے پانچ کتابوں کی شاہکار سیریز تحریر کردی۔ اسے صدیوں کا ادب کہا جاتا ہے۔ جیل میں بیٹھ کرمزاحمت کا دوسرازمانہ: قیامِ پاکستان سے پہلے ابو الکلام آزاد نے غبارِ خاطر لکھی۔ قیام پاکستان کے بعد مولانا مودودی نے تفہیم القران تحریر کی۔ مولانا محمد علی جوہر نے شاعری لکھی‘ مائی لائف کتاب لکھی۔ فیض احمد فیض نے دشتِ صبا کا بڑا حصہ اسیری میں لکھا۔ فیض کا ’زندان نامہ‘ ان کی قید کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حبیب جالب‘ احمد ندیم قاسمی‘ علی سردار جعفری نے جیل میں بیٹھ کر شاعری کی۔ میرے گرائیں راجہ انور نے جیل میں قید کے دوران 'چھوٹی جیل سے بڑی جیل تک‘ کے عنوان سے کتاب لکھی۔نیلسن منڈیلا کی رابن آئی لینڈ پر قید کے دوران فریڈم ٹو لانگ واک ‘ مہاتما گاندھی کےخطوط‘ فیڈل کاسترو کی کیوبا قید میں تحریر کتاب ، مارٹن لوتھر کِنگ جونیئر کے خطوط، فاشسٹ اٹلی کے سیاسی قیدی انتانیو گرامسی کی کتاب اور وِکٹر فرینکل نے آشوٹز نازی جرمنی کے حراستی کیمپ میں کتابلکھی۔ اور اب جیل میں بیٹھ کر بانی تحریک انصاف خطوط لکھ رہے ہیںیہ عہدِ عمران ہے جو جیل میں جانے کے بعد ایک دن کے لیے بھی نہ ہسپتال گیا‘ نہ ”جہاز کو عزت دو“ کا مطالبہ کیا اور نہ ہی لوگوں کے دل‘ ڈنڈے سے کھرچنے کے باوجود اسے نکالا جا سکا۔ عمران خان نے اپنے خطوط میں اپنے لیے کچھ نہیں مانگا۔ سیسرو اور افلاطون کی طرح وہ قوم کے معاشرتی حقوق اور ریاستِ پاکستان کے آئینی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہا ہے۔ بہرکیف سب کے علم میں ہے کہ کون چور ہے، کون سادھو ہے، اور کون فراڈیا۔ لہٰذاآنکھیں بند کرنے سے کچھ نہیں ہو گا، ابھی بھی وقت ہے، حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور کسی بھی سیاسی جماعت کو توڑنے سے گریز کریں۔ خیر لفظ چور حکومت سے مجھے یہاں ایک واقعہ یاد آیا کہ بھارت کے ایک غیر سیاسی مسلم شاعر راحت اندوری مرحوم نے ایمرجنسی کے زمانے کا واقعہ سنایا۔ جب راحت نے کہا: سرکار چور ہے‘ تو دوسرے دن پولیس ا±نہیں تھانے لے گئی۔ افسر نے پوچھا: رات مشاعرے میں آپ نے کہا سرکار چور ہے۔ راحت بولے: جی کہا‘ سرکار چور ہے۔ لیکن یہ نہیں بولا کہ ہندوستان‘ پاکستان‘ امریکہ یا برطانیہ‘ کون سی سرکار چور ہے۔ پولیس افسر مسکرایا اور بولا: راحت جی! ہمیں بے وقوف مت سمجھیں‘ کیا ہمیں معلوم نہیں کہاں کی سرکار چور ہے۔لہٰذاسب کو علم ہے کہ اس وقت کہاں کہاں بڑی بڑی وارداتیں ہو رہی ہیں،،، سٹیل ملز کی زمینوں کو اونے پونے بیچا جا رہا ہے، جنگلات کے سودے ہو رہے ہیں،،، سوسائیٹیوں کی کٹنگ کے لیے چھوٹے زمینداروں پر تشدد ہو رہے ہیں،،، اغوا ہو رہے ہیں اور وہ سب کچھ ہو رہا ہے جو کسی ریاست کو ناکام کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس لیے ہوش کے ناخن لیں اور صحیح فیصلے کریں جس میں سب کی بھلائی ہو!