میچ ہارنا، کوئی پی سی بی سے سیکھے!

جب پورا پودا ہی سوکھ چکا ہو تو کیسے ممکن ہے کہ ایک شاخ ہری بھری ہوگی،،،جب پورے ملک کے ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں، تو کیسے ممکن ہے کہ کوئی ایک ادارہ میرٹ کے مطابق کام ہو رہا ہو۔جی ہاں ہم پی سی بی کی بات کر رہے ہیں، پاکستان کا امیر ترین ادارہ ہے، جس کی چیئرمینی کے لیے سب کی رالیں ٹپک رہی ہوتی ہیں،،، کوئی وزیر ہو، ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہو، صحافی ہو، جج ہو، جرنیل ہوسب اسی کی چیئرمینی کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر کبھی اس عہدے کے لیے کسی بڑے سیاستدان کا قریبی دوست چیئرمین لگ جاتا ہے، کبھی کسی جرنیل کا رشتہ دار یا کوئی ایسا بندہ جس کا کرکٹ سے دور کا تعلق بھی نہیں ہوتا۔ اور پھر پی سی بی میں اس وقت کم و بیش ایک ہزار بندہ کام کر رہا ہے، سمجھ سے با ہر ہے کہ اتنے زیادہ لوگ اور اتنا بڑا سسٹم کس لیے ہے؟ کیا یہ صرف پیسے کھانے کے لیے ہے، یا اسٹیڈیم بنا کر کمیشن کھانے کے لیے ہے۔ لیکن ٹیم کیسے بنانی ہے؟ کسی کو علم نہیں ۔ تبھی یہ عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہوئے فیصلے کرتے ہیں۔ جیسے چمپئن ٹرافی اللہ اللہ کرکے ہمارے ملک میں آئی ہی ہے تو ہم اُس میں اس قدر ذلیل و خوار ہوئے کہ ابتدائی دونوں میچ ہار کرٹورنامنٹ سے ہی باہر ہوگئے۔ اور پھر یہ بھی نہیں کہ ہم لڑ کر ہارے ، بلکہ ہم نے یک طرفہ شکست کھائی۔ پہلے نیوزی لینڈ کے ہاتھوں لگاتار تیسری مرتبہ شکست کھائی اور پھر انڈیا کے ہاتھوں دبئی میں شکست سے دوچار ہوئے۔ میچ دیکھتے ہوئے ایسے لگ رہا تھا جیسے ہمارے کرکٹرز کھیلنا ہی بھول گئے ہیں۔ اور وہ جدید کرکٹ کو اپنانے کے بجائے 1990کی کرکٹ سے باہر آنے کو ہی تیار نہیں ہیں۔ حالانکہ پچھلے پورے سیزن میں ہماری ٹیم بہت اچھا پرفارم کر رہی تھی، آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں ہرایا، ساﺅتھ افریقہ کو ساﺅتھ افریقہ میں ہرایا، زمبابوے کو زمبابوے میں ہرایا۔ لیکن جب یہی ٹیم پاکستان آئی تو اس میں آپ نے تبدیلیوں کے انبار لگا دیے ہیں، پرچیاں کھیلنا شروع کردیں، یعنی وننگ کمبی نیشن کو بریک کر دیا۔ ویسے اگر پرچیاں ہی کھیلانی ہیں تو اس کے لیے آپ کو پی ایس ایل جیسا بڑا پلیٹ فارم دیاہوا ہے، وہاں کھلا لیں،،، کیوں کہ سب کو علم ہے کہ وہاں بڑے لیول پر جوا کھیلا جاتا ہے۔ ٓاور پھر صرف کھلاڑی ہی پرچیوں پر نہیں آتے بلکہ یہاں عہدوں کی بندر بانٹ بھی سارا سال جاری رہتی ہے۔ نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ ہمارے بیٹنگ کوچ جناب شاہد اسلم صاحب ہیں،،، جن کا بین الاقوامی کرکٹ سے کوئی لینا دینا ہی نہیں رہا، اُنہیں صرف اس لیے یہ عہدہ دیا گیا ہے تاکہ اُن کی نوکری بچی رہے۔ اور موصوف کو عاقب جاوید کی سفارش پر ہی کوچ مقرر کیا گیا ہے، وہ ماضی میں کئی سال تک ٹیم کے سپورٹ اسٹاف میں شامل تھے ، پھر آپ بالنگ کوچ دیکھ لیں،،، عبدالرحمن اسپن بالنگ کے کوچ ہیں،،، نہ جانے یہ موصوف حضرت بھی کون سی انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔ لیکن سپین بالنگ کا معیار بھی آپ نے اس ٹورنامنٹ میں دیکھ لیا۔ کہ جہاں تمام ٹیمیں چار سے پانچ سپنرز کے ساتھ میدان میں اُتر رہی ہیں، وہیں ہم ایک فل ٹائم اسپنر کے ساتھ میدان میں اُتر رہے ہیں۔ پھر اسی طرح آپ فیلڈنگ کوچ مسرور احمد کا کرئیر بھی ضرور دیکھیے گااور بتائیے گا کہ موصوف کہاں بیسٹ فیلڈر پائے گئے ہیں۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ آپ سلیکشن کمیٹی دیکھ لیں۔ ایسے ایسے لوگ نوازے گئے ہیں کہ آپ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں۔ جیسے حسن نواز جن کا کرکٹ کے ساتھ دور کا تعلق نہیں ہے، اُنہیں صرف اس بنیاد پر سلیکشن کمیٹی میں رکھا گیا ہے کہ وہ ڈیٹا اینالسٹ ہیں۔ موصوف پی ایس ایل کی فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ کے اسٹریٹجی منیجر ہیں۔ یہ صاحب کوئی ٹیسٹ میچ وغیرہ نہیں کھیلے ہوئے،،، جبکہ ان کی وجہ شہرت یہ ہے کہ یہ صاحب فٹ بال پر پروگرام کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ٹیم کے ڈاکٹرز فزیشین تک دیکھ لیں ،،، ہر جگہ سے ایمانداری ختم ہو گئی ہے، آپ ان کوچز کی بات کر رہے ہیں، آپ سلیکٹرز کو دیکھ لیں، حتیٰ کہ کھلاڑیوں کو دیکھ لیں، ہر جگہ سے ایمانداری ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ جبکہ آپ دوسری جانب خود دیکھ لیں کہ ہم بھارت کے خلاف باتیں کرتے نہیں تھکتے،،، لیکن وہاں کی سلیکشن کمیٹی کا حال دیکھ لیں،،، کہ جب چمپئن ٹرافی اور ہوم سیریز کے لیے بھارتی ٹیم کا اعلان ہوررہا تھا تو سلیکشن کمیٹی کے سامنے2 نام تھے کلکتہ کے ایک کسان کابیٹادھرو جریل اور دوسری طرف لٹل ماسٹر سچن ٹنڈولکر کا بیٹا ارجن ٹنڈولکر۔ لیکن سلیکشن کمیٹی نے ڈومیسٹک سیزن میں دونوں کی پرفارمنس کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیااور کسان کے بیٹے دھرو جریل کو ٹیم میں شامل کرلیا اور کہا کہ ارجن فخرِ بھارت سچن ٹنڈولکر کا بیٹا تو ہے لیکن میرٹ پر پورا نہیں ہے لہٰذا جب میرٹ پر پورا آجائے اور اس کے مقابلے میں دوسرے لڑکے کا میرٹ ارجن سے کم ہوگا تو پھر اس کو ٹیم میں جگہ ملے گی۔ یہ بھارت کے عوام کی ٹیم ہے کسی خاص فرد کی نہیں ہے،آج اگربھارت کی کرکٹ ہم سے بہت آگے نکل گئی ہے تو اس کے پیچھے میرٹ پر سلیکشن ہے۔ رکشے والے کا بیٹا محمد سراج آج اگر بھارت کا مین باﺅلر بن گیا ہے، گول گپے فروخت کرنے والے کا بیٹا جیسوال اگر بھارت کی ٹیسٹ کرکٹ میں بڑے بڑے ناموں کو پیچھے چھوڑ کر ٹیم انڈیا کا کامیاب اوپنگ بلے باز بن گیا ہے تواس کے پیچھے صرف اور صرف میرٹ ہے۔ ہمارے ہاں مصباح الحق کا بیٹا فہام الحق بغیر میرٹ کے 2 مہینے قبل انڈر 19کی ٹیم میں سلیکٹ ہوگیا اور اس کے مقابلے میں میرٹ پر پورا اترنے والے4 لڑکے پیچھے رہ گئے۔ معین خان کا بیٹا اعظم خان 100 کلو وزن کے ساتھ جو کرکٹ کے لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے لیکن وہ T20ورلڈکپ جیسا بڑا ایونٹ کھیل گیا۔جبکہ غریب کا بیٹا سفیان مقیم چیمپئنز ٹرافی کے اسکواڈ سے باہر ہوگیا ، فہیم اشرف اچانک ٹیم میں شامل ہوگیا۔ پھر ہم سوال کرتے ہیں کہ ہماری کرکٹ پیچھے جارہی ہے۔ کرکٹ کیسے آگے بڑھے گی جب ٹیم سلیکشن انصاف ہی پر نہ ہو۔ یہاں تو 6، 8 کھلاڑیوں کا ٹولہ ہے جو گروپنگ کرتا ہے، انہیں کپتانی کا نشہ ہے، یہ وہ کھلاڑی ہیں جو نوجوانوں کو آنے نہیں دیتے۔ چلیں آپ پاکستان ٹیم کو ایک طرف رکھیں، آپ ڈومیسٹک میں جاکر دیکھیں کہ غریب کے بچوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ اتنے اچھے اور پروفیشنل کھلاڑی موجود ہیں لیکن ان کے پاس کوئی سفارش نہیں ہے، وہ جو لوگ بولتے ہیں نہ کہ انٹرنیشنل ٹیم میں پرچیاں نہیں چلتیں؟ وہ خود دیکھ لیں کہ پاکستان کی ٹیم کا حال کیا ہوگیا ہے؟ بہرکیف پھر وہی سو باتوں کی ایک بات کہ جب تک میرٹ نہیں ہوگا، قابل لوگ آگے نہیں آئیں گے تو اُس وقت تک ہمارے ادارے ایسے ہی پستے رہیں گے اور عوام مزید مایوسی کی دلدل میں جاتی رہے گی۔ میری رائے میں ایوب خان کے دور تک ہمارے ہاں میرٹ کی بہرحال قدر کی جاتی تھی۔ سب سے پہلے میرٹ کی درگت ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی حکومت کے دور میں بنی جس کے بعد ہم آج تک سنبھل نہیں پائے۔ بھٹو صاحب کے دور میں ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر کی تیس کے قریب اسامیوں کا تمام بڑے اخبارات میں اشتہار دیا گیا۔ پاکستان بھر سے ہزاروں کی تعداد میں امیدواروں نے درخواستیں دیں۔ پانچ شہروں یعنی اسلام آباد‘ کراچی‘ لاہور‘ پشاور اور کوئٹہ میں ان امیدواروں کے تحریری امتحانات لیے گئے۔ سب کے پرچے چیک کرنے کے بعد کوئی چھ یا سات سو امیدواروں کو انٹرویو کا اہل قرار دیا گیا۔ بھرتی کے اس سارے عمل میں چار ماہ صرف ہوئے۔ ہوا یہ کہ ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل اجلال حیدر زیدی نے منتخب ہونے والے تیس امیدواروں کی فہرست وزارت اطلاعات و نشریات‘ کوحتمی منظوری کے لیے بھجوا دی۔ اس دور میں مولانا کوثر نیازی وزیر اطلاعات و نشریات تھے۔ اجلال حیدر زیدی کو غالباً اس ضمن میں سیاسی حکومت کا پہلا تجربہ تھا کیونکہ قبل ازیں ایوب خان اور یحییٰ خان کا دور وہ دیکھ چکے تھے اور جیسا میں نے ذکر کیا کہ ان ادوار میں بہرحال میرٹ کی اتنی بے قدری نہیں تھی۔ تو جناب ہوا یہ کہ اجلال حیدر زیدی صاحب کی بھجوائی گئی فہرست کے جواب میں وزارت اطلاعات و نشریات سے ایک بالکل نئی فہرست موصول ہوئی، اس حکم کے ساتھ کہ ان افراد کو تقرر نامے جاری کر دیے جائیں۔ زیدی صاحب ازحد پریشان ہوئے لیکن انہوں نے نئی فہرست کے مطابق تقرر نامے بھی جاری نہ کیے۔ بہرحال آخرکار فیصلہ یہ ہوا کہ آدھے میرٹ پر رکھے جائیں گے اور آدھے سیاسی بنیادوں پر۔ قصہ مختصر کہ اُس وقت محض تین پروڈیوسر میرٹ پر بھرتی ہو سکے۔ بقیہ ستائیس پروڈیوسروں کی بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر ہوئیں۔ 70کے بعد آپ کسی سرکاری محکمے میں تحقیق کر لیں۔ آپ کو یہی نکتہ ملے گا جس کا میں نے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ضیاءالحق کے دور میں بھی یہی کچھ جاری رہا پھر میاں نوازشریف اور بے نظیر کے ادوار میں تو میرٹ ڈھونڈنے سے نہیں ملتا تھا۔اور ان کے ادوار میں تو چیئرمین پی سی بی کے عہدوں کی بولیاں تک لگائی جاتی رہیں۔ قصہ مختصر کہ سفارشی کلچر، میرٹ کا قتل عام،نااہل، نکمے، خود غرض، بددیانت، نالائق اور قبضہ گروپ نے پاکستان کرکٹ کا بیڑہ غرق کردیا، ان سے جیت کی امید کھسرے سے بچہ پیدا کرنے کی امید رکھنے کے برابر ہے، جاہلوں نے پاکستانی کرکٹ تباہ کردی، ،، لہٰذاجب تمام معاملات اسی طرح چلائے جا رہے ہوں تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ان سب میں سے پی سی بی بہتر پرفارم کرے؟ لہٰذااگر کامیاب ہونا ہے تو میرٹ کو بنیاد بنائیں سب کچھ خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہو جائے گا۔اگر میرٹ نہیں ہوگا تو کچھ ہاتھ نہیںآئے گا حتیٰ کہ ہاکی ، سکوائش کی طرح ہم کرکٹ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور ہمارے آباد ہوئے سٹیڈیم ویران ہو جائیں گے !