روس، یوکرین اور امریکا: عالمی تماشہ ہے کیا؟

گزشتہ ہفتے ہونے والا ٹرمپ بمقابلہ زیلنسکی ”مناظرہ“ سب نے دیکھا،،، یہ سفارتی لڑائی نہ تو طے شدہ تھی اور نہ ہی اچانک ہوئی۔ بس! یوکرینی صدر اپنی 4سو ارب ڈالر کی معدنیات امریکا کے حوالے کرنے سے ٹال مٹول کر رہے تھے اور ٹرمپ کی اُمیدوں پر پانی پھر رہا تھا جو فرسٹریشن کی شکل میں دنیا بھر کے کیمروں کے سامنے آگیا۔اور تاریخ میں پہلی بار کسی ریاست کے صدر کو وائیٹ ہاﺅس سے یوں رسوا ہو کر جانا پڑا۔ خیر آگے چلنے سے پہلے ہم روس اور یوکرین کا مختصر جائزہ لیں تو یہ دونوں ہمسایہ ممالک ہیں۔ جن کی آپسی سرحد 23سو کلومیٹر لمبی ہے، جس میں سے 2ہزار کلومیٹر زمینی جبکہ 3سو کلومیٹر سمندری سرحد ہے۔ یوکرین کے رقبے کی بات کریں تو اس کا رقبہ پاکستان کے رقبے سے تھوڑا کم ہے، یعنی اگرپاکستان کا رقبہ ساڑھے 8لاکھ مربع کلومیٹر ہے تو یوکرین کا رقبہ 6لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ لیکن یوکرین پاکستان کی نسبت معدنی طور پر مالا مال ملک ہے جس میں ٹریلین ڈالرز کی ایسی معدنیات چھپی ہیں جس سے الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں سے لے کر موبائل کے سامان تک سب کچھ بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ہم روس یوکرین کشیدگی کی بات کریں تو سوویت یونین میں شامل ہونے سے قبل یوکرین روسی سلطنت کا حصہ تھا۔ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمہ ہوا تو یوکرین سمیت 14 آزاد ریاستیں قائم ہوئیں۔لیکن یوکرین کو علیحدہ ملک کے طور پر تسلیم کرنا کئی تاریخی اسباب سے روس کے لیے مشکل رہا ہے۔ روس اور یوکرین کے تعلق کی تاریخ نویں صدی سے شروع ہوتی ہے، جب کیف(یوکرینی دارالحکومت) قدیم روسی سلطنت کا دار الحکومت بنا تھا اور988 میں شہزادہ ولادیمر نے روس کو آرتھوڈکس مسیحیت سے متعارف کرایا تھا۔1654 میں روس اور یوکرین ایک معاہدے کے تحت زارِ روس کی سلطنت میں متحد ہوگئے تھے اور بعد میں یہ سوویت یونین میں بھی ساتھ رہے۔اس کے بعد روس میں انقلاب کے بعد 1920 سے 1930 کے دوران سوویت آمر جوزف اسٹالن نے یوکرین کے علیحدہ ریاست بننے کے امکانات ختم کرنے کے لیے وہاں کے دانشوروں اور کسانوں کے خلاف دہشت گردی کی منظم کارروائیوں کا آغاز کر دیا تھا۔سوویت دور کے آخری برسوں تک یوکرین کی علیحدہ حیثیت کے حامیوں کے خلاف سخت پالیسیاں نافذ رہیں۔ اس تاریخی پس منظر کی وجہ سے آزادی کے بعد یوکرین نے مغربی ممالک سے اپنے روابط بڑھانا شروع کیے۔ نیٹو نے بھی مشرقی یورپ میں اپنا دائرہ اثر بڑھانے کے لیے کئی ممالک کو دفاعی اتحاد کا حصہ بنانا شروع کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سوویت یونین ایک بالادست قوت کے طور پر ابھری تھی۔ اسی لیے سرد جنگ ختم ہونے کے بعد سوویت یونین کا حصہ رہنے والے یورپی ممالک نے روس کے اثر سے نکلنے کے لیے نیٹو کا ر±خ کرنا شروع کیا۔ یوکرین بھی ان ممالک میں شامل تھا۔ لیکن سوویت یونین میں شامل دیگر ممالک کے مقابلے میں یوکرین کی نیٹو میں شمولیت روس کے لیے ایک حساس معاملہ رہا ہے۔ اور روس ہمیشہ کوشش کرتا رہا ہے کہ یوکرین روس کا حصہ بن جائے، کیوں کہ صدر پیوٹن کے مطابق اگر روس نیٹو ممالک میں شامل ہوگیا تو وہاں روس کے لیے ”میزائل لانچر“ بنے گا جو روس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہوگا۔ اسی لیے روس کبھی نہیں چاہے گا کہ یوکرین مغرب دنیا کے ساتھ جڑ جائے۔ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ صدر پوٹن نے سیاسی طور پر اسے ساتھ ملانے کی کوشش نہ کی ہو۔ اس حوالے سے 2014میں یوکرین کی حکومت ساز گار تھی یعنی روس کی جانب جھکاو¿ رکھنے والے یوکرین کے اس وقت کے صدر وکٹور یانوکووچ نے 2014 میں ماسکو سے تعلقات بڑھانے کے لیے یورپی یونین سے منسلک ہونے کا معاہدہ مسترد کر دیا تھا جس کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا۔اس احتجاجی لہر کے نتیجے میں یانوکووچ کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔جس کے بعد معاملات اتنے خراب ہوئے کہ روس نے اسے اپنے لیے پسپائی تصور کیا اور اس کے ردعمل میں 2014 میں یوکرین کے علاقے کرائمیا پر حملہ کردیا۔ کرائمیا پر روس کے قابض ہونے کے بعد علیحدگی پسندوں نے مشرقی یوکرین میں پیش قدمی شروع کر دی۔جرمنی اور فرانس کی مصالحت سے 2015 میں یوکرین میں جنگ بندی ہوئی لیکن صورت حال کا کوئی سیاسی تصفیہ نہیں ہوسکا اور وقتاً فوقتاً جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔پھر 2020میں مشرقی یوکرین میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو گیا اور اس وقت جنگ کے خطرات منڈلانے لگے جب روس نے یوکرین کی سرحد پر بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دی۔پھر مغربی ممالک کی طرف سے یوکرین کی حمایت جس میں روس کے خلاف اقتصادی پابندیاں اور یوکرین کو فوجی امداد شامل ہیں، نے تنازعے کی پیچیدگی کو بڑھا دیا ہے جس میں متعدد عالمی عوامل اور مفادات شامل ہیں۔صورتحال نے2021کے آخر اور 2022 کی شروعات میں ڈرامائی موڑ لیا۔ روس نے یوکرین کی سرحد کے قریب فوجیں جمع کرنا شروع کردیں اور بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کیں۔اور جنگ کا آغا ز کر دیا جس میں اب تک روس اور یوکرین کی طرف سے کھربوں ڈالر کے اخراجات کیے جا چکے ہیں۔ جوبائیڈن کے دور میں امریکا نے یوکرین کو ساڑھے تین سو ارب ڈالر جنگی امداد دی۔ جبکہ اتنی ہی امداد یوکرین کو یورپ کی طرف سے بھی ملی۔ لیکن جنگ جوں کی توں برقرار رہی ۔ اور اب امریکی کمانڈ تبدیل ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے موجودہ یوکرینی صدر کو مسخرہ قرار دے کر کہا ہے کہ اُس نے فضول میں امریکا کے ساڑھے تین سو ارب ڈالر اس جنگ میں جھونک دیے۔ یاد رہے کہ یہ وہی صدر ٹرمپ ہیں جو پاکستان کو 18سالوں میں دیے جانے والے 35ارب ڈالر کو یاد کرکے خاصے غمزدہ ہوئے تھے اور ساتھ ہی پاکستان پر ڈبل گیم کا الزام بھی لگایا تھا۔ لہٰذاموصوف کیسے ساڑھے تین کھرب ڈالر بھول سکتے تھے۔ لہٰذاانہوں نے اقتدار میں آتے ہی یوکرین کو آڑھے ہاتھوں لیا اور روس کے ساتھ رابطہ کرکے اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے کوششیں شروع کردیں۔ اور ساتھ ہی یوکرینی صدر کو امریکا میں حاضری دینے کا بھی کہا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ اب ذرا اُس دن ہوئی گفتگو کو ملاحظہ فرمائیں کہ اجلاس کے باضابطہ آغاز سے پہلے ہی فضا میں تناﺅ واضح تھا۔ تو مجھے بتاﺅ، ٹرمپ نے بات شروع کی۔ ان کی آواز بھاری تھی۔ ”جنگ کیسی جا رہی ہے؟ اب بھی ٹینکوں اور میزائلوں کی بھیک مانگ رہے ہیں؟“۔ زیلنسکی کا جبڑا سخت ہو گیا۔ اس نے ایک چیلنج کی توقع کی تھی لیکن یوکرین کی بقا کی لڑائی کے صریح خاتمے نے اعصاب کو متاثر کیا۔ جناب صدر! ہم جمہوریت کا دفاع کر رہے ہیں۔ ہم بھکاری نہیں ہیں۔ ہم آزاد دنیا کے لیے محاذ سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ دوسرے ہچکچاتے ہیں۔ ٹرمپ نے نفی میں ہاتھ ہلایا۔ ہاں‘ ہاں‘ جمہوریت! مجھے جمہوریت پسند ہے، جب یہ میرے لیے کام کرتی ہے۔ لیکن آئیے حقیقت پسند بنیں۔ آپ اربوں مانگتے رہتے ہیں جبکہ میرے لوگ گیس کی بڑھتی قیمتوں سے نبرد آزما ہیں اور چیخ رہے ہیں۔ شاید آپ کو مزید ہتھیاروں کا رونا رونے کے بجائے امن مذاکرات کے بارے میں سوچنا شروع کر دینا چاہیے۔ دونوں کی گھبرائی ہوئی آنکھیں چار ہوئیں۔ کیمرے زوم ہو گئے۔ زیلنسکی نے تیزی سے سانس لیا۔ مذاکرات کریں؟ ایک ایسے شخص کے ساتھ جو ہماری سرزمین پر حملہ کرتا ہے اور ہمارے بچوں کو قتل کرتا ہے؟ کیا آپ بات چیت کریں گے اگر واشنگٹن کا محاصرہ ہو؟ اگر نیویارک میں بمباری کی گئی ہو؟ ٹرمپ آگے جھک گیا۔ اگر نیویارک پر بمباری کی گئی تو میں راتوں رات دشمن کو خاک میں ملا دوں گا لیکن آپ،آپ امریکی پیسے کے بہاﺅ کی توقع رکھتے ہوئے اس جنگ کو آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یورپ نے آخری بار کب قدم اٹھایا؟ یا وہ انکل سام کو دوبارہ بل پر آنے دے رہے ہیں؟ زیلنسکی کی مٹھیاں بند ہو گئیں۔ یورپ مدد کر رہا ہے۔ کافی نہیں‘ لیکن وہ کر رہے ہیں۔ اور آپ کا ملک آزاد دنیا کا رہنما رہا ہے، کم از کم ایسا ہوا کرتا تھا۔ اگر آپ اب ہمیں چھوڑ دیتے ہیں تو آپ ہر آمر کو پیغام دیں گے کہ وہ وحشیانہ طاقت سے سرحدیں دوبارہ کھینچ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے قہقہہ لگایا۔ دوست! سرحدیں ہر وقت بدلتی رہتی ہیں۔ میرا مطلب ہے کیا آپ نے تاریخ کو دیکھا ہے؟ اور یہ دکھاوا نہ کریں کہ آپ کی حکومت صاف ستھری ہے۔ کرپشن‘ اولیگارچ‘ سیاسی کھیل‘ آپ کے پاس یہ سب کچھ ہے۔ امریکیوں کو خالی چیک کیوں لکھتے رہنا چاہیے؟ زیلنسکی نے جوابی وار کیا: کیونکہ ہم بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں‘ کیونکہ جب بھی کوئی ظالم بے قابو ہوتا ہے وہ ایک نظیر قائم کرتا ہے۔ آپ کے خیال میں پوتن یوکرین کے ساتھ رک گیا؟ ٹرمپ نے کندھے اچکائے‘ میرے خیال میں پوتن ایک بزنس مین ہے‘ کوئی شریر ذہین نہیں۔ جب وہ کمزوری کو دیکھتا ہے تو حرکت کرتا ہے۔ اور سچ کہوں تو بائیڈن کی انتظامیہ ایک مذاق بنی ہوئی تھی۔ اگر میں عہدے پر ہوتا تو یہ جنگ اتنی دیر تک نہ چلتی۔زیلنسکی کھڑا تھا۔ پھر ثابت کرو۔ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہو جاﺅ ورنہ تاریخ تمہیں ایک ایسے صدر کے طور پر یاد رکھے گی جس نے آزادی کو کھوکھلا ہونے دیا۔ ٹرمپ نے اپنے کف لنکس کو ایڈجسٹ کیا اور پیچھے جھک گیا۔ بات چیت چلتی رہی اور پھر دونوں کے درمیان تلخی ہوئی اور پھر وہاں سے زیلنسکی یورپ پہنچے۔ یہاں یورپین اتحاد نے اُن کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور کہا کہ آپ جنگ لڑتے رہو۔ جہاں تک ہو سکا ہم مدد کرتے رہیں گے۔ لیکن یہ بات یوکرین کے علم میں بھی ہے کہ وہ امریکا کے بغیر یہ جنگ جاری نہیں رکھ سکتا۔ لہٰذایوکرینی صدر نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں امریکا کو ایک بار پھر کہا کہ وہ واشنگٹن آنے کو تیار ہے اور معاہدہ بھی کرنے کو تیار ہے،،، مگر اُس کے لیے میری کچھ شرائط ماننا ہوں گی،،، اب وہ کیا شرائط ہوں گی یہ تو وہ وقت ہی بتائے گا مگر دنیا نے جو تماشا دیکھا ہم اُس سے یہ سبق ضرور حاصل کر سکتے ہیں کہ آپ ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بگاڑ کر ہزاروں کلومیٹر دور سے جب مدد لیں گے تو وہ عارضی ہوگی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات ٹھیک کریں، بجائے اس کے کہ کبھی امریکی گود میں بیٹھیں، یا روسی گروپ میں۔ ہمیں ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنا کر آگے بڑھنا چاہیے،،، کیوں کہ سیانے کہتے ہیں کہ ہمسایہ کبھی نہیں بدلتا اس لیے حالات بگاڑیں نہیں بلکہ اُن کے ساتھ سلجھاﺅ پیدا کریں!