امریکا سے شاباشی ،،، مگر اندرون خانہ ملک زخموں سے چُور!

میرا ایک ملازم ہے، جس کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر کام بخوبی سرانجام دیتا ہے، جو اس کے ذمہ نہیں ہوتا۔ اُس کے سامنے کوئی بھی بات ہو،،، وہ اثبات میں سر ہلا دیتا ہے،،، کہ جی سر! ایسے نہیں ایسے کر لیں ،وغیرہ۔ لیکن جیسے ہی میں اُس کے ذمہ لگے ایک دو کاموں کے بارے میں پوچھتا ہوں تو اُس کے ہاتھ پاﺅں پھول جاتے ہیں۔ یہی حال ہماری ”سرکار“ اور اداروں کا ہے کہ وہ ہر کام بخوبی کرتے ہیں جو اُن کے لیے اضافی ہوتا ہے،،، یا اُن کے لیے ضروری بھی نہیں ہوتا۔ مگر وہ اپنا کام کبھی بخوبی انداز میں نہیں کریں گے۔ جیسے ہم نے گزشتہ دنوں افغانستان سے امریکی فواج کے انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ پر ایک خودکش حملے میں فوجی اہلکاروں سمیت عام افغان شہریوں کو نشانہ بنانے والے مرکزی ملزم شریف اللہ کوامریکا کے حوالے کیا۔ اس حملے میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران 13 امریکی فوجی اور 170 کے قریب افغان شہری ہلاک ہوئے تھے۔جس کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کانگریس یعنی مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں اس ملزم کی گرفتاری میں تعاون اور مدد کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا۔اس خاص ”شکریہ“ پر یہاں خوشی کے شادیانے بجائے جانے لگے ، حکومتی ایوانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ گلے ملنے کی باقاعدہ رسمیں ہوئیں۔ کہ شکر ہے کہ امریکا بہادر ہم سے راضی ہے۔ اور اب حکومت کو امریکا سمیت کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ حالانکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق شریف اللہ عرف جعفر نامی دہشت گرد کو انہوں 6ماہ سے پکڑا ہوا تھا، اور یہ لوگ کسی خاص موقعے کی انتظار میں تھے کہ ہم امریکا کے سامنے کچھ پوائنٹ سکورنگ کر سکیں۔ ویسے اس پر تو مجھے ضیاءحکومت یاد آگئی جسے بھٹو کی پھانسی کے بعد مغربی قوتوں کی آشیرباد حاصل کرنا تھی۔ تو ایسے میں جنرل ضیاءچاہتا تھا کہ ایسا کوئی کام کیا جائے کہ امریکا خوش ہو جائے۔ لیکن بدقسمتی سے ایک ڈیڑھ سال تک کوئی ایسا موقع بن نہیں پا رہا تھا، جس کی وجہ سے بھٹو کو پھانسی دینے کی بدولت دنیا جنرل ضیا سے سخت ناراض تھی۔ لیکن پھر ایسا ہوا کہ روس افغان جنگ شروع ہوگئی اور امریکا روس کی شکست چاہتا تھا، تبھی اُس نے پاکستان کی مدد کا سوچا اور جنرل ضیاءکو امریکا طلب کیا گیا۔ موصوف امریکا پہنچے جہاں اُن کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ پھر اُس کے بعد اُنہوں نے جہاد کا ایسا نعرہ لگایا کہ ہم اُس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں،،، یعنی ہم نے امریکی ایما پر روس کی مخالفت کی اور ساتھ ہی لاکھوں جہادی تیار کرکے افغانستان یعنی پرائی جنگ میں بھیجے۔ اور بدلے میں جنرل ضیاءکو طویل حکومت کرنے کے جواز مل گیا۔ پھر اسی طرح مشرف کو بھی حکومت کو طوالت دینے کے لیے کوئی جواز چاہیے تھا،،، لہٰذاانائین الیون کے بعد فغان امریکا جنگ شروع ہوئی۔ اور پاکستان دُم ہلاتے ہوئے امریکی بغل میں جا بیٹھا۔ جس کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی ایسی لہر آئی کہ سب کچھ بہا کر لے گئی۔ جبکہ آپ ابھی کی بات کرلیں،،، جوبائیڈن کی حکومت جیسے ہی ختم ہوئی اور جارح مزاج ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آئی تو حکمرانوں کی ٹانگیں کانپنا شروع ہوگئیں کہ نہ جانے ملک کی سب سے بڑی جماعت کے ساتھ برا سلوک کرنے پر امریکا نہ جانے ہمارے ساتھ کیا کرے گا،،، انہوں نے سعودی عرب کے دورے پر دورے کیے۔ کہ ہماری سیٹلممنٹ کرواد ی جائے۔ حالانکہ انہوں نے امریکی الیکشن کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کو پاگل قرار دیا،،، حکومتی سطح پر کہا گیاکہ ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان کی کاپی ہیں۔۔۔ جو عقل سے پیدل ہیں وغیرہ وغیرہ جیسے کلمات کہے لیکن اُس کے بعد جب وہ اقتدار میں آگیا تو انہوں نے ایسا رنگ بدلا کہ گرگٹ بھی شرمندہ ہوگیا۔ اور اب جب موصوف امریکی صدر نے پاکستان کی تعریف کی ہے تو سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ یہ لوگ اس قدر خوشی کے شادیانے کیوں بجا رہے ہیں۔ حالانکہ انہیں اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ اس سے ملک میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ بلکہ لے چکی ہے۔ نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ پچھلے ایک ڈیڑھ ہفتے میں چار بڑے حملے ہوئے ہیں جن میں اکوڑہ خٹک، بنوں اور پاک افغان سرحد پر گولہ باری نمایاں ہیں۔ جس سے بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ ہم نے طالبان کو مزید مخالف کر لیا ہے۔ اور رہی بات ٹرمپ کو پاکستان سے کیا مفاد ہو سکتا ہے اور ٹرمپ کیسے پاکستان سے اپنا کام نکلوانے میں کامیاب ہوا ہے ، ویسے تو اس کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں مگر اس میں سے ایک یہ ہے کہ یا تو ٹرمپ حکومت نے انہیں ڈرایا ہے اور یہ لوگ ڈر گئے ہیں، نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ سی آئی اے چیف نے خود کہا ہے کہ ہم نے پاکستانی آئی ایس آئی سے کہا کہ اگر آپ ٹرمپ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں تو یہ بندہ ہمیں پکڑ کر دیں۔۔۔ اور پھر انہوں نے اس سیاق و سباق سے ہٹ کر کہ اس کے آفٹر ایفکیٹس کیا ہوسکتے ہیںہم نے وہ کر دکھایا جو ماضی میں ڈکٹیٹر کرتے آئے ہیں۔ اور پھر مسئلہ یہ ہے کہ چلیں ٹھیک ہے، آپ نے یواین چارٹرڈ پر دستخط کیے ہوئے ہیں، کہ عالمی دہشت گرد پکڑ کر آپ امریکا کے حوالے ہی کریں گے ،،، لیکن آپ اُس کے لیے تیاری تو کر لیں،،، ہوم ورک تو کر لیں،،، کہ اگر مذکورہ بندہ امریکا تو کو دینا پڑا تو طالبان ایک بار پھر آپ کے خلاف ہو جائیں گے۔ لیکن تیاری ہم نے کیا ہی کرنی ہے، ہم تو تین سال سے تحریک انصاف اور بانی تحریک انصاف کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ہم تو ان کی ناک سے لکیریں نکلوانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہیں شاید اس چیز کا بھی احساس نہیں ہے کہ ہم عالمی تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں، انہیں شاید یہ بھی علم نہیں ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے عالمی انڈیکس پر نمبر 2پر آئے ہیں۔ لیکن انہوں نے ترقی کیا خاک کرنی ہے؟ انہوں نے تو دوسرے ممالک کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہوئی ہیں کبھی یہ امریکا کو بندے پکڑ کر دیتے ہیںتو کبھی یہ ایران کو بندے پکڑ کر دے رہے ہوتے ہیں، کبھی یہ روس کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی یہ برطانیہ کی ایم آئی کے لیے۔ حدتو یہ ہے کہ اس وقت ہمارے تمام بارڈر ننگے ہیں،،، جو جدھر سے آنا چاہتا ہے، آ جاتا ہے، اور اپنی کارروائی کر کے چلا جاتا ہے،،، حالانکہ اب حکمران فوٹو سیشن کر رہے ہیں کہ بنوں حملے میں بیرون ملک سے یعنی افغانستان سے امریکی ساختہ اسلحہ آیا ہے،،، بندہ پوچھے اگر یہ پاکستان تک آ گیا ہے، تو اس کو روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ میری ذمہ داری ہے؟ آپ کی ہے؟ یا ان اصل ذمہ داران کی ہے!جو کبھی اپنی ناکامی تسلیم ہی نہیں کرتے، جو کبھی یہ بھی تسلیم نہیں کریں گے، کہ بنوں کینٹ تک بارود سے بھری یہ گاڑیاں آ کیسے گئیں؟ حالانکہ یہ بات بھی درست ہے کہ حکومتوں کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جو کام ان کے کرنے والے ہیں وہ یہی کرتے ہیں،،، عمران خان کے دور میں بھی یہی کر رہے تھے، ن کے دور میں بھی یہی ہیں اور پی پی پی کے دور میں بھی انہی کی ”پالیسیاں“ چل رہی تھیں۔ پھر انہی کے دور میں سانحہ اے پی ایس کے قاتلوں کے ساتھ کیا ہوا، کیا وہ پکڑے گئے؟ یا اس شبہ میں پکڑے جانے والے بھی چھوٹ گئے؟ پھر انہی کی ناک کے نیچے سے ڈی آئی خان کی جیل توڑ کر 243ساتھی طالبان رہا کرواکر طالبان لے گئے،کیا رانا ثناءاللہ پر کیس نہیں ڈالا گیا؟ مطلب ! جس مرضی کی حکومت آئے یا جائے،،، کیا آپ کو کوئی روک سکتا ہے؟ کیا آپ نے اتنی محنت اپنے ملک میں ہونے والے سانحات کے مجرموں کو پکڑنے کے لیے کی ہے؟ کیا کبھی خان لیاقت علی خان ، بے نظیر کے قاتلوں کو پکڑنے کے لیے اتنی محنت کی ہے؟ کیا انہوں نے اس قاتل کو پکڑنے کے لیے کبھی محنت کی ہے جس نے سوات میں پاکستانی فوجیوں کے سروں سے فٹ بال کھیلا تھا؟ یا انہوں نے اُن دہشت گردوں کو پکڑا ہے جو بلوچستان میں پنجابیوں کو چن چن کر مار رہے ہیں؟ لہٰذایہ لوگ جتنی محنت ایک جماعت کو دبانے کے لیے کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ یہ اپنے بارڈرز مضبوط کریں، پارہ چنار میں اس وقت خانہ جنگی کی صورت حال ہے، بلوچستان کے حالات آپ کے سامنے ہیں، مذہبی رہنماﺅں پر شدت پسند حملے کر رہے ہیں،،، اس کی تازہ مثال اکوڑہ خٹک کی ہے۔ سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف بھی امریکا سے شکریہ وصول کر رہے ہیں اور باقی وزیر بھی جبکہ اسحاق ڈار تو دو قدم آگے دکھائی دے رہے ہیں، کہتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کے پارٹنر ہیں۔ اتنی جلدی امریکی سیٹی پر ناچنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیوں کہ رہی بات مجرموں کی حوالگی کے حوالے سے تو پاکستان میں کسی ملک کو بھی مطلوب مجرم کوحوالے کرنے کے ضابطہ فوجداری کے اندر ایک پورا چیپٹر موجود ہے۔ جنرل مشرف نے خود اپنی کتاب میں اعتراف کر رکھا ہے کہ اس نے ملک کے آئین اور قانون کو روند کر سینکڑوں پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کیا۔ بہرکیف افغان طالبان حکومت جس دیدہ دلیری اور ڈھٹائی کے ساتھ ٹی ٹی پی کو سپورٹ کر رہی ہے، ہمیں اس کا سدباب تلاش کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ خاکم بدہن یہ دھماکے اور شورش بنوں، پارہ چنار اور دیگر سرحدی علاقوں سے نکل کر لاہور، اسلام آباد، کراچی جیسے شہروں میں بھی شروع ہو جائیں گے اس لیے خدارا ہوم ورک کے بغیر دشمن کو آسان نہ سمجھا کریں اس سے عوام کا نقصان ہوتا ہے۔۔۔ جبکہ آپ تومہان ہیں۔۔ آپ پر تو ہم الزام بھی نہیں لگا سکتے!