مفتی شاہ میر بزنجو کا قتل : یہ بھی ایک ملکی سانحہ ہے!

مولانا حامد الحق کی شہادت، بنوں حملہ، اور بلوچستان میں خاص طبقے پر حملوں کے بعد دہشت گرد عرف خارجیوں نے ایک اور کارروائی کرکے جے یو آئی تربت کے جنرل سیکرٹری مفتی شاہ میر بزنجو کو بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت میں قتل کر دیا گیا۔ یہ بھی نہیں کہ اُنہیں راہ چلتے قتل کیا گیا ہو یا خاموشی سے اُنہیں قتل کیا گیا ہو بلکہ مسلح افراد نے مسجد میں داخل ہو کراُنہیں اس وقت نشانہ بنایا جب وہ امام کے پیچھے پہلی صف میں کھڑے تھے۔ شاہ میر کے حوالے سے انڈین میڈیا دو دن سے وکٹری سٹینڈ پر موجود ہے کہ اُس نے کلبھوشن یادیو کو پکڑوانے میں مدد کرنے والے مفتی شاہ میر کو انجام کو پہنچا دیا ہے۔ ظاہر ہے انڈین میڈیا کے پاس اُن کی ایجنسیوں نے خبر دی ہوگی۔ لیکن ہمارے ادارے اس حوالے سے خاموش ہیں اور کلبھوشن کے حوالے سے تصدیق یا تردید نہیں کر رہے۔ حالانکہ اس واقعہ کے کچھ دن قبل خضدار میں جے یو آئی کے دو رہنماو¿ں، وڈیرہ غلام سرور موسیانی اور ان کے ساتھی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔لیکن پھر بھی ہمارے ادارے خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے کہ مفتی شاہ میر بزنجو والا واقعہ ہوگیا کہ جس میں ہماری خوب جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ اور سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا بھارت جب چاہیے جہاں چاہے پاکستان میں اب آپریشن کر سکتا ہے اور کوئی نہیں روک سکتا؟ کیوں کہ اس سے پہلے بھی بھارت کلیم کر چکا ہے کہ انڈین جاسوس سربجیت پر حملہ کرنے والے عامر سرفراز عرف تانبا کو لاہور میں قتل کردیا گیا تھا۔ پھر آئی ایس آئی کے بریگیڈئیر عامر حمزہ کو قتل کیا گیا، جس کاکریڈٹ بھی انڈیا نے لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اُس نے اپنے ایک اور دشمن کا قلع قمع کیا ہے۔ پھر سوابی اور سیالکوٹ میں بھی ایسے ہی واقعات دیکھنے کو ملے جس میں انڈین کریڈٹ کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذامفتی شاہ میر کے قتل میں بھی بھارتی ہاتھ کو نظر انداز کرنا حماقت کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ کیوں کہ یہ لوگ پہلے بھی ایسی تقریریں کر چکے ہیں کہ جس میں اُن کے وزیر نے کہا تھا کہ ہم گھُس کر ماریں گے، البتہ شائبہ ہے کہ وہ شاید ایسا ہی کر رہا ہے؟ بہرحال حالات تو اس وقت شاید ہمارے خلاف ہی جا رہے ہیں کیوں کہ ہر طرف سے بھارت ہمیں پچھاڑ رہا ہے، نہیں یقین تو خود دیکھ لیں بلکہ اس کی چھوٹی سی مثال حالیہ چمپئن ٹرافی کی لے لیں جس میں پاکستان کو ماسوائے ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ جبکہ بھارت ہی بھارت پورے عالمی میڈیا پر چھایا رہا۔ حتیٰ کے گزشتہ روز ہونے والے فائنل میں بھی آئی سی سی نے کسی پاکستانی عہدیدار کو مدعو نہیں کیا۔ اس سارے معاملے کے بعد آپ بتائیں کہ ہماری ایجنسیاں کس کام میں مصروف ہیں؟ کیا وہ یاسمین راشد پر نئے مقدمات قائم کرنے میں مصروف ہیں؟ یا ان کی خط و کتابت روک رہی ہیں ؟ جبکہ اس کے برعکس ہم اپنے بندے مروا رہے ہیں اور بھارتی میڈیا ان چیزوں ہائیلائیٹ کرکے ہمارے لیے مسائل کھڑے کر رہا ہے۔ یقین مانیں !ایک وقت تھا، جب انڈیا ہماری آئی ایس آئی سمیت دیگر ریاستی اداروں سے تھر تھر کانپتا تھا۔آسام یا تامل ناڈو میں بھی اگر کچھ ہوتا تھا تو اُس کا الزام پاکستان پر دھرا جاتا تھا۔ اور اب اُس کی یہ جرا¿ت ہوگئی ہے، کہ وہ پاکستان کے اندر ٹارگٹ کلنگ کر رہا ہے۔ لہٰذااب کون پاکستانی فورسز یا ہماری ایجنسیوں پر اعتبار کر ے گا۔ امریکا ہم پر سفری پابندیاں لگا رہا ہے، آئی سی سی چیمپین شپ میں ہم خوار ہو چکے ہیں، دنیا میں ہم تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں، ہماری لابنگ کمزور پڑ رہی ہے، ہمارے مقابلے میں بھارتی لابی اتنی تگڑی ہے کہ وہ ہمیں دنیا بھر میں بدنام بھی کررہی ہے، اور ہم ریٹنگ بھی گرا رہی ہے۔ مودی نے چند سال قبل کہا تھا کہ پاکستان اپنی جنگ ہار چکا ہے، اب اُس سے بارڈر پر لڑنے کی ضرورت نہیں ،،، یہ خود اپنی موت مر جائے گا،،، پھر دیکھ لیں کہ اُس نے ہمیں سب سے پہلے معاشی طور پر کمزور کیا، پھر ہماری خارجہ پالیسی کو شکست دی، پھر دنیا بھر میں ہماری ایجنسیوں کو بدنام کیا ، پھر رہی سہی کسر اب پاکستان کے اندر کارروائیاں کرکے نکال رہا ہے۔ جبکہ ہم خواب غفلت میں سور ہے ہیں بقول شاعر خواب غفلت میں ہے یہ قوم جگانا ہوگا اس کے کردار کی پستی کا نہ پوچو عالم بہرحال خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے، بھارت اگر بارڈرز پر خاموش ہے تو آپ خود دیکھیں، کہ وہ بلوچستان میں متحرک ہے، وہ پاکستان کی مخالفت میں افغانستان میں متحرک ہے، غرضیکہ وہ ہر جگہ متحرک ہے، جہاں اُس کو متحرک ہونا چاہیے۔ کچھ تو خدا کا خوف کریں، کچھ تو ملک کریں،،، یقین مانیں بطور پاکستانی مجھے بہت زیادہ تکلیف ہوئی ہے، اور میں نے ابھی اوپر لابنگ کے حوالے سے بات کی ہے، آپ لابنگ کے حوالے سے پاکستان کو خود دیکھ لیں، کہ کیا پاکستان میں کے حالات شام، افغانستان، صومالیہ، نائیجر، یا، یمن، کیمرون سے بھی بدتر ہیں؟ میں مان ہی نہیں سکتا کہ پاکستان میں ایسا ہے! یہ صرف اور صرف ہمارے خلاف لابنگ ہو رہی ہے،نہیں یقین تو آپ شام کے اندرونی حالات دیکھ لیں، ابھی گزشتہ ہفتے ہیں شامی فورسز اور بشر الاسد فورسز کے درمیان تازہ جھڑپوں میں ساڑھے تین سے ہلاکتیں ہوئی ہیں جس میں آزادانہ طور پر مارٹر گولے اور جدید اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔ کیا پاکستان میں ایسے حالات ہیں؟ اور پھر کیمرون، صومالیہ میں خانہ جنگی کی صورتحال ہے، جہاں ڈکٹیٹرشپ عروج پر ہے، اور عام شہریوں کو بھی قتل کیا جا رہا ہے۔لہٰذاتو یہ ممالک ہم سے زیادہ محفوظ کیسے ہوگئے؟ مطلب! ہمارے پاس بھارتی لابنگ کا جواب دینے والے قابل افسران موجود ہی نہیں ہیں۔ ان اعداد و شمار میں سارا کھیل ہی لابنگ کا ہے۔ اگر امریکا میں پاکستان کے خلاف لابیاں سرگرم ہیں تو وہاں آپ چیک کر لیں ایسے شخص کو سفیر لگایا گیا ہے جس کا سفارتکاری کا خاص تجربہ ہی نہیں ہے،،، کیوں کہ اگر میرٹ نہیں ہوگا تو ہم یقینا خوار ہوتے رہیں گے۔ چلیں مان بھی لیا کہ ہم سخت دہشت گردی کی زد میں ہیں، یا خانہ جنگی کا شکار ہو رہے ہیں تو شاید عالمی اداروں نے خانہ جنگی موجودہ ملکی سیاسی صورتحال حال کو قرار دیا ہو۔ کہ ہم گزشتہ تین سالوں سے ملک کے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں، شاید وہ خانہ ہی ہو۔ اورپھر جب ہم اپنے لوگوں کے ساتھ لڑ رہے ہوں، اُنہیں پیچھے دھکیلنے کے لیے کام کر رہے ہوں تو دنیا کی بڑی سے بڑی ریاست بھی اندرونی طور پر کمزور ہو جاتی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔ ریاست کا وقار خاک میں مل جاتا ہے۔ یہاں بھی شاید ہر گھر میں لڑائی شروع کی ہوئی ہے، یہ جس کو چاہتے ہیں اُٹھا لیتے ہیں، جس کو چاہتے ہیں ہراساں کرتے ہیں، جس کو چاہتے ہیں غائب کردیتے ہیں ،،، نہیں یقین تو اپنے علاقے کی پولیس کو دیکھ لیں کہ ”سانحہ“ 9مئی کے بعد پولیس ہمارے گھروں میں چھاپے مارنے کے حوالے سے کس قدر آزاد ہو چکی ہے۔ وہ جس پر دل چاہتا ہے مقدمہ دائر کرکے غیر معینہ مدت کے لیے غائب کر دیتی ہے۔ اور پھر شاید اداروں کو یاد نہیں ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جو کبھی ان کے چہیتے ہوا کرتے تھے، کبھی یہ وزیر اعظم تھے، پھر انہیں جیل کی ہوا کھانا پڑگئی۔ اور یہ آج سے نہیں بھٹو کے دور سے شروع ہے، کہ یہ لوگ جب آپ کو اقتدار دیتے ہیں یا آپ کی ”وسیع تر قومی مفاد“ میں مدد کرتے ہیں تو پھر یہ بعد میں آپ کو جیل بھی دکھا دیتے ہیں۔ آپ نواز شریف کو دیکھ لیں، آپ زرداری کو دیکھ لیں، آپ شہباز شریف کو دیکھ لیں، آپ مریم نواز کو دیکھ لیں، آپ یوسف رضا گیلانی کو دیکھ لیں حتیٰ کہ احسن اقبال، رانا ثناءاللہ یا سعد رفیق کو دیکھ لیں۔ سب کو عہدے ملے مگر سب کو جیل بھی جانا پڑا۔ چلیں یہ بھی چھوڑیں آپ انڈیا کو دیکھ لیں کہ وہاں وزارت عظمیٰ سے فارغ ہونے والے کتنے وزراءجیل میں گئے؟ یا امریکا سے فارغ ہونے والے کتنے صدور جیل میں گئے،،،، حالانکہ جوبائیڈن کے دور میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کیا کیا نہیں ہوا؟ بلکہ ایک وقت میں یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ اب شاید ٹرمپ کی واپسی نہ ہو۔ لیکن وہ اقتدار میں آگیا،،، اور کیا مجال ہے اُس کی کہ وہ جوبائیڈن کو جیل میں بھیج سکے؟ بلکہ وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرے گا کہ جوبائیڈن کو کچلنے کے لیے پورے ملک کو داﺅ پر لگا دے۔ لیکن اس کے برعکس ہم بڑھ چڑھ کر اپنے سابق وزراءکو مورد الزام ٹھہرا کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں،،، حتیٰ کہ ہم تو سابق ڈی جی آئی ایس آئی پر الزام لگانے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ یعنی آپ اندازہ لگائیں کہ جب ان عہدوں کی ہم خود عزت نہیں کریں گے تو کوئی دوسرا کیا خاک عزت کرے گا؟ اگر ہمارا ڈی جی کرپٹ تھا تو یہ ڈی جی کیسے لگ گیا؟لہٰذایہ تماشے اب بند ہونے چاہیے، اور ملک کا سوچیں۔ الغرض آپ کو اپنی حدود کا تعین کرنا چاہیے، اور ان واقعات سے سیکھنا چاہیے، آپ کو ان واقعات کے بعد یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ آخر کیوں ہمارے اداروں کی عزت میں فرق آنے لگ گیا ہے؟ کیوں اب دوسرے ممالک ہمیں وہ اہمیت نہیں دیتے جو 60اور 70کی دہائی میں دیا کرتے تھے۔ بہرکیف اس وقت ہمارے اداروں اور عوام میں جو گیپ ہے ، شاید یہ تاریخ میں کبھی نہیں رہا۔نہ ان کا رعب رہا ہے اور نہ ہی ان کا دبدبہ رہا ہے اور اسی کی وجہ سے آج دشمن ملک کی ایجنسیاں ہمارے ملک میں کارروائیاں کر رہی ہےں۔ لہٰذااس چیز پر ہمیں غور کرنا چاہیے، ،، کہ ہم کیوں ایکسپوز ہوئے ہیں؟لہٰذاہمیں اس وقت قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے کہ ہر شخص قومی مفاد کو ترجیح دے، ذاتی انا، بغض اور کینہ پروری چھوڑ کر ملک کے بارے میں سوچے کہ ہم کس قدر کمزور ہو چکے ہیں۔ مل بیٹھنے سے کسی کی شان نہیں گھٹے گی، بلکہ اُس سے مسئلے کا حل نکلے گا، جب آپ کسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں اور اصل مسئلہ تلاش کر لیتے ہیں تو آدھے سے زیادہ مسئلہ تو وہیں حل ہو جاتا ہے! اس لیے آجائیں، اور صرف 9مئی والے کیسز کو نہیں بلکہ مفتی شاہ میر والے کیس کو بھی ”سانحہ “ سمجھیں اور مسائل کو حل کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کریں!