ملک میں سانحات پر سانحات :ذمہ دار تباہ حال ”ادارے“!

ایک شخص نے دھاندلی زدہ الیکشن کروائے، دوسرے نے اس سے مکمل تعاون کیا جبکہ تیسرے نے اسے قانونی تحفظ دیے رکھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر طرف دہشت گردی ، سراسیمگی، امن و امان کے مسائل، پھنپھناتے دہشت گرد، ڈکیتیاں، چوریاں، لڑائی جھگڑے، بے سکونی ، فرسٹریشن، اعصابی دباﺅ، مہنگائی، بے یقینی، معاشی مسائل، بے ہنگم زندگی، بے چارگی، غیر یقینی کی صورتحال اور لاچارگی عام ہے۔ ایک وقت تھا جب کہیں دہشت گردی ہوتی تھی تو عام آدمی کو ریاست پر یقین تھا کہ اس کا سدباب کیا جائے گا اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ لیکن اب عوام کسی صورت اداروں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ نہ جانے ادارے کسی اور کام میں لگ گئے ہیں، یا کوئی اور وجہ ہے، لیکن یہ بات تو طے ہے کہ ان حالیہ سالوں میں ادارے خواہ وہ پارلیمان ہو، پولیس ہو، بیوروکریسی ہو یا ریاستی ادارے مکمل طور پر ”ایکسپوز“ ہوئے ہیں۔ اور رہی سہی عزت بھی گنوا بیٹھے ہیں۔ تبھی دنیا کے بہترین، مہذب اور well manageملکوں کی رینکنگ میں پاکستان کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ ملے بھی کیوں؟ دنیا ہماری عدلیہ کو دیکھتی ہے، پولیس کو دیکھتی ہے، جمہوریت کو دیکھتی ہے، آزادی اظہار رائے پر پابندیوں کو دیکھتی ہے، بیوروکریسی کو دیکھتی ہے، کرپشن کو دیکھتی ہے ، دہشت گرد کارروائیاں دیکھتی ہے اور اداروں کی زبوں حالی دیکھتی ہے تو وہ ہمیں ناکام ترین ریاست گردانتے ہیں۔ لہٰذاسوال یہ ہے کہ یہ ادارے تباہی تک کیسے پہنچے،،، اس کی ایک چھوٹی سی مثال سے وضاحت کرتا چلوں کہ دو تین روز قبل جعفر ایکسپریس کو بلوچستان میں دہشت گردوں کی جانب سے اغواءکیا گیاتو دنیا بھر میں پاکستان کے حوالے سے مزید چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں، ہر طرف خوب پروپیگنڈہ ہوا، ہمارے ریاستی اداروں خاص طور پر پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، سوشل میڈیا پر ہر پلیٹ فارم سے پاکستان کی سالمیت کے ذمہ دار ادارے پر آوازیں کسی گئیں۔ ایسے لگا جیسے یہ ادارہ اپنے بقاءکی جنگ لڑ رہا ہے۔ اور پھر سوشل میڈیا پر ملک دشمن قوتوں نے ایسی ایسی پرانی ویڈیوز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس(AI) سے تیار ایسی ویڈیوز پھیلا دیں کہ جس سے لگا کہ تمام 4سو افراد یا تو قتل کر دیے گئے ہیں یا اُنہیں قیدی بنا کر کسی خفیہ مقام پر لے جایا گیا ہے۔ پھر کہا گیا کہ ان قیدیوں میں زیادہ تر پاک فوج کے جوان تھے، جو عام لوگوں کے بھیس میں سفر کر رہے تھے۔ مطلب! نہ جانے کون کون سی خرافات نہیں موضوع بحث بنیں۔ اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ایسا کیوںہوا؟ میرے نزدیک ایسا اُس وقت ہوا جب میڈیا ٹھیک طرح سے خبر نہیں دے رہا تھا۔ کیوں کہ جب عوام میں اورمین سٹریم میڈیا میں کمیونی کیشن گیپ آجاتا ہے، تو وہ کسی اور ذرائع سے خبروں کے متلاشی ہوتے ہیں جو اُن کا حق بھی بنتا ہے۔ پھر آپ اُنہیں ایسا کرنے سے روک بھی نہیں سکتے۔ اس کے لیے اُنہیں جو تھرڈ میڈیم ملتا ہے، وہ سوشل میڈیا کا ہے۔ پھر وہاں سے وہ خبریں لے کر آگے پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ جس کے بعد ہر طرف خوف کا عالم ہوتا ہے۔ اور ایسا فی البدیع نہیں ہوتا بلکہ ریاستی اداروں اور حکومت میں چھپے ایک عجیب و غریب مائنڈ سیٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جن کی کوشش ہوتی ہے کہ سب کچھ بلیک آﺅٹ کر دیا جائے۔ ٹی وی چینلز پر کوئی خبر نہ چلے۔ کسی کو کچھ پتا نہ چلے۔ جتنا اس معاملے کی خبر کو چھپایا جا سکتا ہے، اسے چھپایا جائے اور پاکستانی لوگوں کو بالکل پتا نہ چلنے دیا جائے۔ ویسے مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ اس طرح کی خبریں چھپانے سے کیا حاصل ہوتا ہے۔ کیا اس خبر کا کسی کو پتا نہیں چلتا؟ کب تک پوری قوم اندھیرے میں رہتی ہے؟ یا شاید حکومت اور اداروں کا خیال ہوتا ہے کہ چوبیس گھنٹے بعد جب وہ اس معاملے کو مکمل ہینڈل کر لیتے ہیں تو پھر وہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ اب قوم کو بتایا جائے کہ حملہ آور کون تھے اور ان کا کس طرح مقابلہ کیا گیا اور اب الحمدللہ سب کچھ کنٹرول میں ہے۔ اس دوران جب ایسے حملوں کے دوران پاکستان کا سرکاری میڈیا کوئی خبر نشر نہیں کر رہا ہوتا اور دیگر چینلز کو بھی خبر دینے سے روک دیا جاتا ہے بلکہ بلیک آﺅٹ کر دیا جاتا ہے تو یہی وقت ہوتا ہے جب دہشت گردوں کا نیٹ ورک پوری قوت سے سوشل میڈیا پر ایکٹو ہو جاتا ہے۔پھر ایسی صورت میں لوگ بی بی سی اردویا وائس آف امریکا(اُردو سروس)، ڈی ڈبلیو اردو، وغیرہ جیسے پلیٹ فارم پر چیک کرتے پائے جاتے ہیں کہ شاید اُنہیں وہاں سے صحیح صورتحال کا اندازہ ہوجائے۔ جیسے ہمارا میڈیا پہلے دن یعنی وقوعہ ہونے کے 8گھنٹے بعد یہ خبر بریک کر رہا تھا کہ مغوی افراد میں سے 100افراد کو ہمارے اداروں کی جانب سے بازیاب کروا لیا گیا جبکہ برطانوی میڈیا بازیاب ہونے والے افراد کے انٹرویو دکھا رہا تھا جو کہہ رہے تھے کہ دہشت گردوں نے خواتین ، بچوں اور بلوچیوں کو جانے دیا اور باقی ڈھائی سے کے قریب افراد کو وہ ساتھ لے گئے، وہ وزیر داخلہ سمیت پوری پاکستانی قیادت کو برا بھلا کہہ رہے تھے اور مطالبہ کر رہے تھے کہ اب بس ہوگئی ہے! ریاست ان حالات کو سنجیدگی سے لے اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرے۔ اب مذکورہ بالا اہم ترین مسئلے میں مجھے بتائیں کہ کیا یہ مسئلہ گھمبیر نہیں ہے؟ کیا ہمارے اداروں کو اس کا ادراک ہے؟ ہمیں بتایا جائے کہ ماسوائے چند ایک چھاﺅنیاں قائم کرنے اور روڈز پر چوکیاں بنانے کے کونسا کام کیا ہے جسے سراہا جانا چاہیے۔ پھر دنیا بھر سے پاکستان پر صحیح تنقید ہو رہی ہے کہ ان کے ادارے اپنا اپنا کام چھوڑ کر کسی اور کام میں لگ گئے ہیں۔ عدالتیں انصاف نہیں دے رہیں، پولیس ظالم کے ساتھ کھڑی ہے، بیوروکریسی سیاسی شخصیات سے اٹی پڑی ہے، اور ہمارے سکیورٹی ادارے کاروبار کرنے اور ایک مخصوص جماعت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ چلیں مخصوص جماعت کو چھوڑیں آپ اس ادارے کی ہر ادارے میں موجود اپنے بند ے بطور”ہیڈ“ لگانے والی حکمت عملی ہی دیکھ لیں۔ چیک کریں کہ سی پیک اتھارٹی میں کے چیئرمین کون ہیں؟ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین کون ہیں۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے چیئرمین کون ہیں؟ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کون ہیں؟ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ کس کے پاس ہے؟ واپڈا کی سربراہی بھی چیک کر لیں کس کے پاس ہے؟ ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے سربراہ کا عہدہ کس کے پاس ہے؟ پھر پنجاب پبلک سروس کمیشن کی سربراہی اور اس کے اراکین کو دیکھ لیں کہ وہ کون کون ہیں؟ پھرنیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی سربراہی بھی چیک کرلیں، پھر دیگر اداروںمیں بھی چیک کر لیں کہ کون کون کام کررہا ہے؟ کیا ایسا کرنے سے ادارہ اپنے اصل کام سے ہٹ نہیں جائے گا؟ کیا اس سے یہ تاثر نہیں ملے گا کہ ہمارے جمہوری لوگ نہایت کمزور قسم کے لوگ ہیں جو ایسا ہونے دے رہے ہیں۔ یا اس سے یہ تاثر نہیں ملے گا کہ ہماری بیوروکریسی جو کبھی دنیا کی بہترین بیوروکریسی میں شمار ہوتی تھی، دنیا کی نکمی ترین بیوروکریسی بن جائے گی جس کی جگہ دوسرے لوگ لے لیں گے۔ ہمیں اس چیز سے انکار نہیں کہ یہ ریٹائرڈ افسران باصلاحیت نہیں ہیں۔ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ کیا واپڈا جیسے ادارے میں کوئی ایک بھی قابل افسرنہیں ہے جو اس کی سربراہی کر سکے۔ جسے کم ازکم واپڈاکے مسائل، انتظامات، نقصان اور پرافٹ جیسی صورتحال فنگرٹپس پر یاد ہوں ؟ کیا اس کے لیے کسی ریٹائرڈ افسر کا لگایا جانا زیادہ ضروری ہے؟اور پھر دیکھ لیں کہ ہم نے تو ایک اس حوالے سے ادارہ بھی قائم کردیا ہے جس کا نام اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل (SIFC) رکھا گیا ہے جس کی سربراہی ہمارے موجودہ آرمی چیف کر رہے ہیں۔ اُمید ہے کہ یہ ادارہ بیرون ملک سے ضرور انویسٹمنٹ لائے گا۔ اور ملک کی ترقی کے لیے کام کرے گا۔ مگر کیا اس ادارہ کو بنانے کے لیے کوئی تھنک ٹینک بیٹھا؟ کسی نے اس پر Sampleورک کیا؟ کیوں کہ ابھی تک تو اس حوالے سے رپورٹس آرہی ہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ دو سال میں کہیں سے کوئی انویسٹمنٹ نہیں آئی۔ بہرحال اداروں کی عزت بحال کی جائے، اُنہیں کام کرنے دیا جائے، ہاں آپ اُس کی نگرانی کر سکتے ہیں کہ خفیہ ادارے کرپشن کے حوالے سے رپورٹس تیار کرکے متعلقہ اداروں کے سربراہان کی معاونت کریں۔ اس سے اُن کا مورال بلند ہوگا۔ کیوں کہ بیوروکریسی میں موجود دوست احباب بتا رہے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سول افسران کے کام کرنے کی آزادی کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔سول اداروں کے افسران میں بے چینی پائی جاتی ہے جو اہم عہدوں پر تعیناتیوں کی خواہش کے ساتھ ہی ریٹائر ہو جاتے ہیں۔بہرکیف اداروں کی عزت اور وقار بحال ہوگا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کا ناسور بھی ختم ہوجائے گا، میڈیا ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرے گاجس کی وجہ سے لوگ سوشل میڈیا پر اعتبار کرنا چھوڑ دیں گے، اور رہی بات حالیہ ٹرین حملے کی تو جب آپ خود ہی ہر حملے کے بعد غائب ہو جائیں اور گھنٹوں تک آپ کا پتا ہی نہ چلے کہ آپ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں تو پھر عوام کہاں سے خبر کی ضرورت پوری کریں گے؟ اس طرح آپ خود ان دہشت گردوں کا کام آسان کر رہے ہوتے ہیں۔ ٹرین ہائی جیکنگ کے بعد بھی یہی دیکھا گیا۔ آپ نے وہ سپیس خالی چھوڑ دی اور اس پر بی ایل اے کے حامی اکاﺅنٹس نے فوراً قبضہ جما لیا اور اپنی مرضی کی خبریں اور کلپس چلانا شروع کر دیے۔ اس طرح انہوں نے ایک دہشت کا سماں باندھ دیا۔ لگتا تھا ریاست اور اسکے ادارے کہیں موجود ہی نہیں ہیں۔ کچھ محب وطن پاکستانی نوجوان اپنے تئیں سوشل میڈیا پر پاکستان اور ملکی اداروں کا دفاع کرنے میں لگے ہوئے تھے لیکن اگر ملک کی محبت سے لبریز نوجوانوں کی بڑی تعداد اپنے اداروں اور محاذ پر ڈٹے فوجی جوانوں کو سوشل میڈیا پر سپورٹ کرنا بھی چاہ رہی تھی تو نہیں کر پا رہی تھی کیونکہ ٹویٹر پاکستان میں بین ہے! لہٰذااس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ جب آپ میں مقابلہ کرنے کی سکت نہ ہوتو پھر پابندی ہی آخری حل رہ جاتا ہے!