190ملین پاﺅنڈ : نئی درسگاہ کا قیام: یا منافقت تیرا ہی آسرا ہے!

190ملین پاﺅنڈ کے جس کیس میں عمران خان کو 14سال اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7سال سزا ہوئی ( اسی رقم کے عوض خان اوربی بی پر یونیورسٹی کے لیے جگہ لینے کا الزام ہے) اب انہی پیسوں سے حکومت اسلام آباد میں ”دانش یونیورسٹی“ بنا رہی ہے، جس کا سنگ بنیاد وزیر اعظم شہباز شریف نے رکھ بھی دیا ہے۔ وزیر اعظم نے 190 ملین پاو¿نڈ کی رقم (60ارب روپے ) قومی خزانے میں منتقل کرنے پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا شکر یہ بھی ادا کیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دانش یونیورسٹی تعلیم، اساتذہ اور ریسرچ سینٹر کے حوالے سے دنیا میں بہترین مقام حاصل کرے گی اور 14اگست 2026 کو اس یونیورسٹی کا پہلا سیکشن فعال ہو جائے گا۔ میری سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ آخر وزیر اعظم کو ایسا کرنے کا مشورہ کس نے دیا ہوگا؟یقینا کوئی مخبوط الحواس شخص ہو گا جس کی باتوں میں موصوف آگئے ہوں گے۔۔۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ 60ارب روپے کی رقم آنکھوں میں دن رات کھٹک رہی ہو ،،، تو صاحب نے سوچا ہو گا کہ کیوں نہ اسے ادھر اُدھر کردیا جائے۔ مطلب! کوئی ”قابل “آدمی جو اس منصب پر بیٹھا ہوگا وہ کبھی ایسا نہیں کرے گا، کہ جن پیسوں کی وجہ سے ایک شخص کو پہلے ہی سزا مل چکی ہو اور دوسرا وزیر اعظم پھر اُنہی پیسوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہا ہو۔ اور پھرکسی کو علم بھی نہیں کہ یہ یونیورسٹی بنے گی بھی یا نہیں؟ اور اگر بنے گی بھی تو اس پر کیا سارا پیسہ خرچ کیا جائے گا یا نہیں،،، اور پھر اس پیسے کو خرچ کرنے کے لیے کابینہ سے منظوری بھی نہ لی گئی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ”مسئلہ “اسمبلی میں بھی ڈسکس نہ کیا گیا ہو تو سمجھ لیجئے کہ دال میں کچھ کالا ہے! اور پھر ان پیسوں پر تو سب سے پہلا حق اُن مالکان کا ہے جن کی زمینوں پر جبری طور پر بحریہ ٹاﺅن کراچی والوں نے قبضہ کیا۔لیکن ہمارے حکمران پیسہ دیکھ کر پاگل ہو جانے میں دنیا میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے! کیوں کہ ان کی قابلیت ہی شاید ”پیسہ“ ہے ،،، نہیں یقین توخود دیکھیں کہ حقیقت میں ”یا منافقت تیرا ہی آسرا ہے“ کے مصداق اُنہی پیسوں کو استعمال کرکے ایک نئی یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا گیا ہے،جنہیں ایک اکاﺅنٹ سے دوسرے میں جمع کروانے پر ایک سابق وزیر اعظم کو سزا ہوئی ہے۔ لیکن موجودہ وزیرا عظم شاید بتانا چاہ رہے ہیں کہ اصلی قانون ہمارے پاﺅں کے نیچے پنپ رہا ہے۔ چلیں یہ بھی چھوڑیں،،، ان کی قابلیت کی چند مثالیں دیتا چلوں کہ یہ موصوف وہ وزیر ااعظم ہیں جو بلوچستان میں دہشت گردی کو کنٹرول کرنے جیسے اجلاس کی صدارت کرنے کے بجائے وہاں پر جا کر نوجوان کے لیے اعلان کر رہے ہیں کہ ہم نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دیں گے۔۔۔ کیا یہ اُن کے ساتھ مذاق نہیں ہے؟ مطلب آپ کی قومی سیاست میں بصیرت، تدبر اور حکمت عملی کا شعور اتنا ہی ہے کہ آپ اُن کی اشک شوئی کرنے کے بجائے یا دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کرنے کے بجائے آپ مراعات کا اعلان کر رہے ہیں۔ پھر یہی نہیں بلکہ موصوف کی بصیرت کا یہ عالم ہے کہ آپ کی نظر سے ایک ایڈ گزرا ہوگا جس میں ایک اکیلی بالغ طالبہ پارک میں بیٹھی ہے، اور آپ کا وہاں پر اچانک گزر ہوتا ہے تو آپ اُس کے پاس جا کر بیٹھ جاتے ہیں اور اُسے تعلیم پر حکومتی اقدامات کے حوالے سے آگاہ کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر یہی نہیں ان کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ حالیہ دنوں میں چھپنے والے ضمیمے اور 60،60صفحات پر مشتمل اشتہارات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ یہ انہیں اپنی کارکردگی دکھانے کے حوالے سے خاصا دباﺅ ہے، ورنہ نارمل حکومت کبھی اتنی فضول خرچی نہیں کرتی اور نہ ہی اس قسم کے بلنڈر کرتی ہیں۔ خیر کیا کہا جا سکتا ہے،،، یہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والا حساب ہے،،، سب کچھ مقتدرہ کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے یہاں ایسی ہی قیادتیں آتی ہیں جو اپنی سمجھ بوجھ سے کام کرنے کے بجائے مقتدرہ کے اشاروں پر چلتے ہیںاور پھر اچھے خاصے ”بلنڈرز“ کرکے اگلے ادوار میں جیل کی ہوا کھاتے ہیں۔ نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں کہ یہاں کا ہر وزیر اعظم جیل میں رہا ہے۔ آپ بھٹو سے شروع ہو جائیں،،، محترمہ بے نظیر بھٹو کو دیکھ لیں، نوازشریف کو دیکھ لیں، شہباز شریف کو دیکھ لیں، مریم نواز کو دیکھ لیں، یوسف رضا گیلانی کو دیکھ لیں راجہ پرویز اشرف کو دیکھ لیں اور پھر آخر میں عمران خان کو دیکھ لیں ۔ آپ کو ہر وزیرا عظم جیل یاترا کرتا ہوا نظر آئے گا،،، مگر مجال ہے کہ کوئی سابق جرنیل اس حوالے سے کبھی جیل میں گیا ہو کہ اُس کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہو، یا اُس کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ایک سب سے بڑی سیاسی پارٹی کی حکومت چلی گئی۔ خیر اس ملک میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ،،، کسی سے کیا شکوہ کرنا۔ بہرحال بات 190ملین پاﺅنڈ کیس سے چلی تھی تو اسی پر واپس آتے ہیں کہ اگر یہ رقم سپریم کورٹ میں جمع ہوگئی تھی تو اس پر سب سے پہلا حق سندھ کے لوگوں کا تھا۔ اگر نہیں یاد تو بتاتا چلوں کہ سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بحریہ ٹاو¿ن کراچی میں ہزاروں کنال اراضی کو غیر قانونی طریقے سے منتقل کرنے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے نیب حکام کو بحریہ ٹاون اور متعلقہ سرکاری ملازمین کے خلاف تحقیقات کرنے اور ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا، بحریہ ٹاو¿ن کیس میں سپریم کورٹ نے زمینوں کی خریداری میں بدانتظامی سامنے آنے کے بعد 460 ارب روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا تھا، جو قسط وار جمع کرانا تھی۔لیکن نہ کروائی گئی جس کے بعد 23 نومبر 2023 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے بحریہ ٹاو¿ن کو 21 مارچ 2019 کے فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دیا تھا جس کے تحت بحریہ ٹاو¿ن کراچی نے 460 ارب روپے کی رقم ادا کرنا تھی اور اس حوالے سے فارمولا یہ طے پایا گیا تھا کہ یہ رقم قسط وار دی جائے گی لیکن کچھ عرصے تک اقساط ملنے کے بعد یہ سلسلہ رک گیا تھا، دوسری طرف حکومت سندھ کی کوشش ہے کہ اس رقم پر صوبہ سندھ کا حق ہونے کے ناطے انہیں دی جائے۔اب بادی النظر میں سپریم کورٹ کے 2023 کے آرڈر کے تحت حکومت سندھ کو 41 ارب روپے مل چکے ہیں جبکہ 60 ارب روپے (190ملین پاﺅنڈ) وفاقی حکومت کو مل چکے ہیں، اس حساب سے بحریہ ٹاو¿ن کی جانب سے ادا کی جانے والی رقم 460 ارب میں سے 95 ارب روپے وصول ہوچکے ہیں، جبکہ 365 ارب روپے اب بھی واجب الادا ہیں۔4 مئی 2018 کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاو¿ن کراچی کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹاو¿ن کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا۔ اس کے بعد بحریہ ٹاون کی طرف سے عدالت کو مقدمہ ختم کرکے تصفیہ کرنے کے لیے پہلے 250، پھر 358 اور بعد میں 405 ارب روپے کی پیش کش کی گئی تاہم سپریم کورٹ نے یہ آفرز مسترد کردیں۔دسمبر 2018 میں برطانیہ میں منی لانڈرنگ کے الزام میں ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔21 مارچ 2019 کو سپریم کورٹ نے ملک ریاض کی جانب سے بحریہ ٹاون کراچی کے مقدمے کے تصفیے کے لیے 460 ارب روپے کی پیش کش قبول کی۔اگست 2019 میں برطانیہ کے ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ نے ملک ریاض کے 12 کروڑ پاو¿نڈز کے آٹھ آکاو¿نٹس منجمند کرنے کے احکامات دیے تھے۔3 دسمبر 2019 کو برطانیہ کے نیشنل کرائم ایجنسی اور ملک ریاض کے درمیان منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں 19 کروڑ پاو¿نڈ کی رقم لوٹانے کے عوض تصفیہ طے پایا۔ تصفیہ نیشنل کرائم ایجنسی کی ملک ریاض حسین کے خلاف تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے اور فیصلہ ہوا کہ رقم اور اثاثے ریاست پاکستان کو لوٹا دیے جائیں گے۔3 دسمبر 2019 کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں برطانیہ سے ملنے والی ملک ریاض کی 50 ارب روپے کی رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں جمع کرانے کی منظوری ہوئی اور یوں بالواسطہ طور پر رقم ملک ریاض کا قرض چکانے میں خرچ ہوئی۔26 دسمبر 2019 کو سابق وزیر اعظم عمران خان نے القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ ملک ریاض نے اس ٹرسٹ کے لیے جہلم میں زمین عطیہ کی جو مبینہ طور عمران خان کی طرف سے تصفیے والی رقم ان کے سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں جمع کرانے کے فیصلے کا عوض تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے عائد جرمانے کے بعد سوال یہ اٹھا کہ یہ رقم ملے گی کسے؟ جس کے لیے اس وقت کی وفاقی اور سندھ کی صوبائی حکومتوں نے کوششیں کیں، سندھ حکومت نے اس رقم کے خرچ کے لیے کمیشن بنانے کی مخالفت کی تھی اور مو¿قف اپنایا تھا کہ یہ رقم سندھ کی ہے، اس لیے صوبائی انتظامیہ ہی کو اس کے خرچ کا مکمل اختیار ہونا چاہیے۔اب وہاں سے بھی اس حوالے سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ یہ رقم اُنہیں دی جائے،،، لیکن اس حوالے سے اتحادی جماعت پیپلزپارٹی خاموش ہے،،، شاید وہ اس لیے بھی خاموش ہے کہ اندر کھاتے سیٹلمنٹ ہو چکی ہو، ،،، لیکن اس سارے کیس میں سندھ کے عوام کس کے پاس جائیں؟ اور خاص طور پر وہ لوگ جن کی زمینوں پر قبضہ کرکے عالیشان سوسائٹی بنائی گئی۔ لہٰذااگر سرکار کی سطح پر عوام کی حق تلفی کی جاتی رہی تو عوام کے پاس اس کے بعد صرف ایک ہی حل رہ جاتا ہے کہ وہ ان ایوانوں کے سامنے خود کو آگ لگا لیں ،،، تب شاید اُنہیں انصاف مل جائے ورنہ یہاں نا تو ایوانوں سے انصاف کی کوئی اُمید ہے، نہ عدالتوں سے اور نہ ہی اداروں سے۔۔ اگر یہاں کسی چیز کا راج ہے تو صرف اور صرف منافقت کا ۔۔۔۔ وہ چاہے ان سے جتنی مرضی کروالیں!