کیا ”کسان مکاﺅ“سکیم جاری ہے؟

میرا بچپن، لڑکپن اور کسی حد تک جوانی بھی گاﺅں میں گزری،والد صاحب زمیندار تھے، اور وہ کوشش کرتے تھے کہ ہم بھی اُن کے ”کام“ کو سمجھیں۔ تبھی وہ ہمیں زمینوں پر مزارعوں کے ساتھ بھیجتے، کام کرواتے ، تاکہ ہمیں بھی کاشتکاری کی سمجھ بوجھ ہو جائے۔ لہٰذاآپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے آباﺅ اجداد کے کام میں بہت زیادہ مہارت تو نہیں رکھتے ، مگر شہری بابوﺅں سے خاصی حد تک زیادہ سمجھ بوجھ ضرور رکھتے ہیں۔ اور اسی لیے تک بھی کسان، ٹھیکیداروں اور مزارعوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ یہ سب میں اس لیے قارئین کے گوش گزار کر رہا ہوں کہ راقم نے آج تک کسان کو جتنا بے بس اور لاچار دیکھا ہے، گزشتہ پانچ چھ دہائیوں میں نہیں دیکھا۔ ہر سال اپریل مئی میں جب گندم کی کٹائی کے دن آتے ہیں تو یہ دن کسان کے لیے عید کے دن ہوتے ہیں مگر آپ اندازہ لگائیں کہ حالات یہ پیدا ہو چکے ہیں کہ کسان مناسب قیمت نہ ملنے پر دلبرداشتہ ہو کر تیار گندم جانوروں کو کھلارہا ہے۔کسان کہتا ہے کہ مہنگا ڈیزل، بجلی اور کھاد استعمال کر کے فصل تیار کرتے ہیں لیکن پھر بھی مناسب ریٹ نہیں ملتا۔ چلیں! آپ کسانوں کو چھوڑیں، موٹا موٹا حساب لگاتے ہیں!کہ کسان کوگندم کی فصل تیار کرکے کتنے کی فی ایکٹر ملتی ہے، تو زمین کی تیاری 3200روپے لگا لیں۔ بیج 50کلو گرام فی ایکڑ 6500روپے۔ بیج کی ٹریٹمنٹ 500روپے۔ کھاد ڈی اے پی ڈیڑھ بوری‘ پوٹاش ایک بوری اور یوریا دو بوری کی حالیہ مارکیٹ قیمت 41050 روپے۔ زنک دو کلو 1250 روپے۔ ہربی سائڈ سپرے 3000روپے۔ پانی چار عدد بحساب چھ گھنٹے فی ایکڑ 16000روپے۔ ہارویسٹر 4000روپے فی ایکڑ۔ یہ سارا خرچہ ملائیں تو فی ایکڑ لاگت 75500روپے بنتی ہے۔ ابھی اس میں زمین کے ٹھیکے کی رقم شامل نہیں اور نہ ہی مزدوری شامل ہے۔ اب اگر فی ایکڑ گندم کی پیداوار دیکھیں تو وہ بنتی ہے، 30سے 40من فی ایکڑ،،، جبکہ سرکار نے گندم کے نرخ 2350روپے فی من مقرر کر رکھے ہیں،،، یعنی فی ایکڑ گندم کی آمدنی مبلغ 80سے 90 ہزار روپے ہے۔ اب اس آمدنی کا اخراجات سے موازنہ کریں ،،، تو کسان کے ہاتھ تو اخراجات ہی پورے نہیں ہورہے،،، تو وہ کیسے کسی کو ٹھیکے کے پیسے دے گا؟اور اس وقت اچھی زمین کا ٹھیکہ کم از کم ڈیڑھ لاکھ روپے فی ایکڑ ہے۔ گزشتہ سال ٹھیکے کی رقم اس سے کہیں زیادہ تھی مگر گندم اور دیگر فصلات میں ہونے والے گھاٹے کے باعث ٹھیکے کی رقم نیچے آ گئی ہے۔ اس حساب سے اس پانچ ماہ کی فصل کو ڈیڑھ لاکھ پر تقسیم کریں تو صرف گندم کی فصل کے وقت کا ٹھیکہ مبلغ 62500 روپے بنتا ہے۔ یعنی اگر کسی نے زمین ٹھیکے پر لے کر کاشت کی ہے تو اسے اس سال گندم کی فصل میں مبلغ چھپن ہزار روپے پلے سے ڈالنے پڑیں گے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جس نے دس ایکڑ زمین ٹھیکے پر لے کر کاشت کی تھی اسے پانچ ماہ کی محنت‘ مشقت اور خرچے کے بعد نفع کے بجائے مبلغ 5 لاکھ 60ہزار روپے پلے سے ڈالنے پڑ جائیں گے۔ اب وہ اس کے بعد اگلی فصل کیسے کاشت کرے گا؟ اس ملک کا کاشتکار گزشتہ دو سال سے مسلسل اسی طرح کی صورتحال کا شکار ہے۔ پھر اس سے بھی بڑا مسئلہ آپ کو بتاتا چلوں کہ سرکار نے کسان سے گندم خریدنے کا جو ٹارگٹ سیٹ کر رکھا ہے وہ کم و بیش 4کروڑ گندم کی بوری ہے۔ جبکہ گزشتہ سال آپ کو یاد ہو گا کہ گندم کا سکینڈل منظر عام پر آیا تھا، جس میں سرکار نے مقامی کسان کی گندم چھوڑ کر بیرون ملک سے گندم منگوائی گئی تھی۔ اور بے چارہ کسان جس کے پاس گندم ذخیرہ کرنے کی جگہ نہیں تھی، اُس نے گندم کو اونے پونے میں فروخت کیا تھا۔ جس سے کاشتکار پل بھر میں زمین بوس ہو گیا تھا۔ یعنی ایک سال قبل سرکاری ریٹ 3900 روپے تھا تو اب ڈھائی سے بھی نیچے آگیا ہے،،، جبکہ ہر چیز کے نرخ میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں کسان احتجاج نہ کرے تو اور کیا کرے،،،حکومت بھی یہ بات جانتی ہے کہ جب کسان احتجاج کرتا ہے تو پھر پیچھے کچھ نہیں بچتا،،، انقلاب فرانس کا آغاز بھی کسانوں نے ہی کیا تھا،،، اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ یہ 1931ءکی بات ہے جب امریکہ کے شہر شکاگو میں بہت سے کسان سڑکوں پر تھے ، وہ حکومت سے نالاں تھے کہ اُن پر اضافی ٹیکس ڈال دیا گیا ہے، کسان اکٹھے ہوئے اورحکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا، حکومت نے اسے اپنے خلاف دھمکی قرار دے کر کسانوں کو حوالات میں بند کرنا شروع کردیا۔ اپنے کسان بھائیوں کو گرفتار ہوتے دیکھ کر دیگر شہروں سے کسان شکاگو پہنچنا شروع ہوئے اور کم و بیش 30ہزار کسان اکٹھے ہوئے اور حکومتی پارلیمان کے سامنے عارضی خیمے لگا لیے۔ حکومت نے اکا دکا بار کسانوں پر تشدد بھی کیا جس سے چند افراد مارے گئے لیکن حکومت اپنے اقدامات سے ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں تھی۔ کسانوں کا احتجاج چونکہ جائز تھا لہٰذااُن کی تعداد بڑھتے بڑھتے ایک لاکھ تک پہنچ گئی اور احتجاج بھی طویل ہوتا گیا۔ یہ لوگ مخصوص وقت کے لیے سڑکوں پر نکلتے اور دوبارہ خیموں میں جا بیٹھتے۔ حتیٰ کہ یہ سلسلہ 3سال تک جاری رہا ، جس کے بعد بلآخر حکومت کو گھٹنے ٹیکنا پڑے اور کسان کامیاب ہوگئے۔ اس احتجاج کے کم و بیش 80سال بعد 2020ءمیں بھارت نے بھی اسی قسم کی ٹیکس اصلاحات اپنے کسانوں پر بھی نافذ کیں یعنی 14 ستمبر 2020کو بھارتی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں زراعت کے تین بل پیش کیے گئے۔17 ستمبر 2020کو لوک سبھا میں بل پاس ہوا۔جسے 20 ستمبر 2020 کو بل راجیہ سبھا میںبھی منظورکیا گیا۔ اس قانون سازی پر بھارتی کسانوں کو سخت قسم کے تحفظات تھے جس پر انہوں نے 24ستمبر کو پنجاب میں تین روزہ ریل بند کرنے کا اعلان کیا۔احتجاج بڑھتا گیا ، جس نے پورے بھارتی پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیاجبکہ یہ احتجاج آج بھی جاری ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا بالکل منفرد احتجاج تھا جس میں 800ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔ جس کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا واضح اعلان کردیا۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہم کسانوں کو قوانین پر اعتماد میں لینے میں ناکام رہے جس پر معافی مانگتا ہوں، ہم نے پوری کوشش کی؛ تاہم کسان راضی نہیں ہوئے،قوانین کی واپسی کیلئے آئینی عمل اسی ماہ شروع ہوجائے گا ،کسانوں سے درخواست ہے کہ گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔ بہرحال آپ دیکھیں گے،،، کہ آنے والے چند دنوں میں کسان سڑکوں پر ہوگا،،، چند کسانوں کی تنظیمیں سڑکوں پر آئی بھی ہیں،،، مگر حکومت نے اُنہیں بزور طاقت کچلنے کی کوشش کی ہے،،، تمام شہروں کے داخلی سڑکوں پر سینکڑوں کی تعداد میں پولیس اہلکار کھڑے کر دیے گئے ہیں، تاکہ کسان شہر کے اندر پہنچ کر احتجاج نہ کر سکیں۔ لہٰذامیں یہاں یہ کہنے کے حوالے سے حق بجانب ہوں کہ اس وقت فیصلہ کرنے والی قوتیں کہاں ہیں؟ کیا وہ یہ زیادتیاں نہیں دیکھ رہے؟ اگر دیکھ رہے ہیں تو وہ خاموش کیوں ہیں؟ کیا طاقت رکھتے ہوئے بھی خاموش رہنا ظلم نہیں ہے؟ ویسے کسانوں کے حوالے سے پیپلز پارٹی حکومت بہتر رہی۔ ہمیشہ سپورٹ پرائس پیپلز پارٹی دور میں بڑھائی گئی ‘ مسلم لیگ(ن)ہو یا عمران خان حکومت وہ پرائس پر کوئی فیور نہیں کرتیں۔ مسلم لیگ(ن) کو تو کسانوں کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔اورپھر کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ سارا سال کسانوں نے کھاد فیکٹریوں کی مقرر کردہ قیمت پر کھاد خریدی، حکومت کے سرکاری ریٹ پر تیل خریدا، بیج خریدا‘سرکاری ریٹ سے بجلی کے نرخ ادا کیے‘ لیکن اب جب ان کی فصل کی باری آئی ہے تو اس وقت سرکار اپنے ریٹ پر بھی گندم نہیں خرید رہی؟ تحریک انصاف کے دور میں مجھے یاد ہے کہ افغانستان کے تاجروں نے کسانوں کی کھڑی فصلوں تک کے سودے کر لیے تھے اور انہیں سرکاری ریٹ سے زیادہ ریٹ آفر کیا جارہا تھا۔ اس وقت یہ شاید خطرہ تھا کہ ساری گندم افغانستان پہنچ جائے گی اور پاکستان میں گندم کی کمی ہوجائے گی اور ہمیں ڈالرز مانگ کر باہر سے منگوانی پڑے گی۔ اور یہی ہوا۔ لیکن اب تو ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے، افغانستان سے پاکستان کے بجائے متبادل ذرائعوں سے گندم کی خریداری کرنا شروع کردی ہے۔ جبکہ حکمرانوں کا سارا زور محض ایک سیاسی جماعت کو پچھاڑنے میں لگا ہوا ہے۔ بہرکیف گندم تیار ہے، اور کسان اسے فی من ایک ہزار روپے گھاٹے میں بھی بیچنے کو تیار ہے۔ مگر اُس کا استحصال ہو رہا ہے۔ اور اس کا فائدہ اب مڈل مین کو ہورہا ہے کیونکہ کسان اپنی فصل کو کھیت میں کھڑا رکھ سکتا ہے اور نہ ہی کاٹ کر سٹور کرسکتا ہے کہ جب اچھا ریٹ ملے تو نکال کر بیچ دے۔ کسان کی ساری امیدیں گندم کی فصل سے ہوتی ہیں۔ یہ اس کی سب سے بڑی کیش کراپ سمجھی جاتی ہے۔ اس نے جہاں سال بھر کے ادھارواپس کرنے ہوتے ہیں وہیں بچوں کی شادیاں بھی اس فصل کے پکنے کے انتظار میں ہوتی ہیں۔ اس فصل پر ہی گاﺅں میں خوشی غم کا انحصار ہوتا ہے۔ سکول‘ کالج‘ یونیورسٹی میں پڑھتے بچوں کی سالانہ فیسیں‘ سب کچھ اس فصل پر ادا ہوتا ہے ‘یا فصل بیچ کر پیسے جوڑ لیے جاتے ہیں کہ اگلا پورا سال کھاد‘ بیج اور تیل کی لاگت پوری کرنی ہوتی ہے۔ اوپر سے کسانوں کو فصل کی انشورنس کی سکیم بھی نہیں ملتی‘ جس وجہ سے جب بھی بارش اور طوفانوں سے ان کی فصلیں برباد ہوئیں تو ان کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔محنت تو گئی سو گئی ان کا فصل پر لگایا سرمایہ اور کچھ کمانے کی امیدیں بھی ساتھ ہی دم توڑ گئیں۔اور پھر کبھی کبھار تو یہ باتیں سمجھ سے باہر لگتی ہیں،،، کہ ہم محض تھوڑی سی کمیشن حاصل کرنے کے لیے ملک کو سینکڑوں ارب روپے کا چونا لگا دیتے ہیں،،، سوال یہ ہے کہ ان حکمرانوں کو کون پوچھے گا؟شاید یہ طاقتور لوگ ہیں،، اس لیے اُنہیں کچھ نہیں ہوگا۔ اور پھر پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے کہ یہاں طاقتور کو کچھ نہیں کہا جاتا اور غریب کو چھوڑا نہیں جاتا۔ لہٰذافیصلہ کرنے والے جب پانی سر سے گزر جائے تب فیصلے نہ کریں،،، یقینا اُس وقت فیصلوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی ۔ بلکہ اُس سے پہلے دیکھیں تاکہ اصل قصورواروں کو پکڑا جائے۔۔۔ اور ہوش کے ناخن لیں اور وطن عزیز کے کسانوں کو فائدہ پہنچائیں نہ کہ اُنہیں ختم کرنے کے نت نئے طریقے تلاش کیے جائیں!