معدنیات : وفاق میں جشن اور صوبوں میں بے چینی!

نہ جانے ہمیں کہاں سے عادت پڑ گئی ہے، بھیڑ چال چلنے کی کہ جیسے ہی عالمی سطح پر کوئی ہنگامہ بپا ہوتا ہے، ہم اپنی حاضری ضرور ڈالتے ہیں،،، آپ معدنیات کو ہی لے لیں جیسے ہی ٹرمپ نے حلف اُٹھایا، اُس کی نظریں یوکرین جنگ میں جھونکے گئے ساڑھے تین سو امریکی ڈالر کی ”ریکوری“ پر تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے سوچا کہ کیوں نہ یوکرینی صدر کو ڈرایا دھمکایا جائے، اور بعد ازاں پیسوں کی ریکوری کا مطالبہ کیا جائے،،، اور پھر چونکہ سب کے علم میں ہے کہ یوکرین پیسے دینے سے قاصر ہے تو یوکرین میں چھپی کھربوں ڈالر کی معدنیات کو قبضے میں لیا جائے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ گاڑیوں میں استعمال ہونے والی مہنگی ترین لیتھیم بیٹریوں میں استعمال ہونے والے میٹریل کا سب سے بڑا ماخذ یوکرین ہے۔ تو ایسے میں امریکا اور یوکرین کے درمیان اندر کھاتے معاہدہ ہوا، اوراب امریکا وہاں سے معدنیات نکالے گا۔۔۔ لیکن یہ بات یورپ کو قبول نہیں اس لیے ابھی مسئلے جاری ہیں جسے عالمی ماہرین ”عالمی تجارتی جنگ“ بھی قرار دے رہے ہیں،،، خیر یہ تو وقت ہی بتائے گاکہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، مگر ہم نے بھی دیکھا دیکھی عالمی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے کے لیے گزشتہ ہفتے ”پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025“ کا انعقاد کروایا۔ جسے وفاقی حکام نے کامیابی قرار دیا، لیکن کے پی اور بلوچستان میں خاصی بے چینی پائی جاتی ہے۔ جبکہ معدنیاتی قانون سازی کے حوالے سے ایک مسودہ بھی تیار کیا گیا ہے ، جسے مبینہ طور پر اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے۔اور اسے بغیر مناسب انداز میں پاس کروائے دونوں صوبوں بلوچستان اور کے پی کے میں نافذ کرنے کی تیاری کی جاچکی ہیں، بلکہ بلوچستان میں تو اس کا ایک حصہ نافذ کیا بھی جا چکا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ نہ جانے یہ لوگ کتنی جلدی ، سرعت ، اُجلت اور بغیر کسی تیاری کے چیزوں کے نفاذ پر یقین رکھتے ہیں کہ خدا کا نام۔ اور پھر جو یہ بل پاس کرواتے ہیں، یا کوئی نیا ادارہ بناتے ہیں تو اُس کے لیے بغیر کسی منصوبہ بندی کے اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے یہ لوگ چیزیں مسلط کرنے کے عاد ی ہوچکے ہیں،،، یہ نہ تو بل یا مسودے کو لے کر اسمبلیوں میں بحث کروانے کے عمل کو مناسب سمجھتے ہیں اور نہ ہی اسے سینیٹ میں موضوع بحث سمجھا جاتا ہے۔ یہ انتہائی غیر جمہوری اور غیر مناسب رویہ ہے اور تمام مسائل کی جڑ ہے۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اراکین اسمبلی کے علم میں بھی نہیں ہوتا کہ ہو کیا رہا ہے؟ اُن کو ایک آرڈر آتا ہے، کہ یہ بل پاس کرنا ہے، اس کے لیے بس ہاتھ کھڑا کریں اور آپ کا کام ختم،،، یقین مانیں ان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کہیں ہمارے ہاں اسمبلیاں سرکس بنی ہوئی ہیں،،، اور معذرت کے ساتھ ہمارے اراکین اسمبلی سدھائے ہوئے جانور لگ رہے ہوتے ہیں،،، جنہیں چھڑی کے ساتھ ہانکا جا رہا ہوتا ہے۔ لہٰذاجب آپ ایسے فیصلے کریں گے تو پھر صوبوں میں بے چینی بھی بڑھے گی اور پھڈے بھی سٹارٹ ہوں گے۔ اور پھر ایسے ایسے نعرے لگیں گے کہ آپ کو ملک کے اندر ہی ہر بندہ ”غدار“ نظر آئے گا۔ اس کی چھوٹی سی مثال حکومتی اتحاد میں شامل اے این پی کے سربراہ ایم ولی خان نے گزشتہ روز کہا ہے کہ ’ایسے پاکستان سے بغاوت ہی بہتر‘ایسے نامناسب الفاظ کو ہمیں دہرانا تو نہیں چاہیے مگر یہ اُس جماعت کے ہیں جو حکومت کی اتحادی سمجھی جاتی ہے، جبکہ آپ اپوزیشن جماعتوں کا اندازہ خود لگا لیں۔ خیر ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ جس ماحول میں آپ کے ساتھ بی ایل اے لڑ رہی ہو، جس ماحول میں ایران آپ کا دشمن ہو، جس ماحول میں افغانستان آپ کا دشمن ہو ( آپ کہتے ہیں میں نہیں کہتا) جس ماحول میں ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی آپ کی دشمن ہو، جس ماحول میں داعش آپ کی دشمن ہو، جس ماحول میں انڈیا آپ کا دشمن ہو تو آپ اپنے لیے ایک اور دشمن پیدا کر رہے ہیں۔ایسے ماحول میں معدنیات کی جنگ چھیڑنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ بہرحال جب ایک صوبے کی حکومت آپ کے خلاف ہے، دوسرے صوبے میں آپ کی ٹرانسپورٹ ہی محفوظ نہیں ہے، جبکہ تیسرے صوبے کے ساتھ آپ نے نہری مسئلہ چھیڑ رکھا ہے۔تو پھر ان ساری چیزوں کے بعد کیا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ باتیں محض ٹوپی ڈرامہ ہیں اور کچھ نہیں۔ اگر ٹوپی ڈرامہ نہ ہوتی تو کم از کم ان پر ہوم ورک ضرور کیا ہوتا۔ لہٰذااگر یہ کاسمیٹکس پراجیکٹ نہ ہوں اور مخلصانہ انداز میں چیزوں کو آگے لے کر جایا جائے تو ہر چیز اپنے وقت پر پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے۔ بلکہ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ انہوں نے مجوزہ کمپنیوں سے ایڈوانس پکڑ لیا ہے، کہ ان معدنیاتی کمپنیوں کو اُلجھایا جائے، پھر کمیشن کھایا جائے، اور بعد میں ریکوڈک کی طرح تنازعات میں ڈال کر عالمی سطح پر پاکستان کا مذاق بنایا جائے۔ یقین مانیں کہ اب تو ہماری گارنٹی دینے کے لیے نہ ہی عالمی عدالتیں آگے آتی ہیں، نہ ہی ورلڈ بینک آتا ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کا کوئی ذیلی ادارہ ۔ حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے کہ دنیا کے کسی ملک نے ان معدنیا ت سے ترقی نہ کی ہو،،،آپ سعودی عرب کو دیکھ لیں سعودی عرب نے تیل کی برآمد سے بڑی دولت حاصل کی۔ اس دولت سے بنیادی ڈھانچہ (infrastructure)، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی گئی۔ پھر آپ تیل اور معدنیات سے حاصل آمدنی کو جدید شہروں جیسے دبئی اور ابوظہبی کی تعمیر پر لگایا گیا۔ اب یہ ملک سیاحت، ٹیکنالوجی اور مالیات میں بھی آگے بڑھ رہا ہے۔پھر آپ چلی کو دیکھ لیں، چلی دنیا کا سب سے بڑا تانبا پیدا کرنے والا ملک ہے۔ اس صنعت سے حاصل آمدنی نے معیشت کو مستحکم کیا ۔پھر ناروے کی مثال آپ کے سامنے ہے، جہاں سے تیل و دیگر معدنیات نکالی جا رہی ہیں۔ پھر آسٹریلیا سے لوہا، کوئلہ، سونا، یورینیم وغیرہ جیسی دہاتیں نکالی جا رہی ہیں،،، آپ روس کو دیکھ لیں، جہاں سے پورے یورپ کو تیل و گیس سپلائی کی جا رہی ہے۔ آپ امریکا کو دیکھ لیں،، ، دنیا کے کئی ممالک سے خفیہ طور پر اور اعلانیہ طور پر معدنیات نکالنے کا کام کر رہا ہے۔ افغانستان میں بھی امریکا یہی کام کرتا رہا، عراق میں ابھی بھی کئی تیل کے کنویں امریکا کے پاس ہیں۔ اور رہی وطن عزیز کی بات تو پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ خود ان معدنیات کو نکالیں اور اپنے بھاﺅ پر بیچیں،،، صوبوں کو صوبوں کا حصہ دیں اور مرکز اپنا حصہ وصول کرے،،، چلیں مان لیا کہ کان کنی پر اور معدنیات نکالنے پر اربوں ڈالر خرچ بھی آتا ہے تو کیا ہم قرض لی گئی رقوم اس کام میں نہیں لگا سکتے؟ اور رہی بات صوبوں کو اعتماد میں لینے یا نہ لینے کے حوالے سے تو اس قانون سازی کی ٹائمنگ اور اس کے مبہم طریقہ کار نے اس کی آئینی حیثیت، مرکزیت پسند رجحانات اور ممکنہ سماجی و سیاسی اثرات پر حقیقی خدشات کو جنم دیا ہے۔ آئینی طور پر جوہری وسائل کے سوا پاکستان میں معدنی وسائل پر صوبوں کو طویل عرصے سے مکمل اختیار حاصل ہے، یہاں تک کہ اٹھارہویں ترمیم سے پہلے بھی یہی صورت حال تھی۔ اس تناظر میں وفاقی مداخلت کے خدشات بے بنیاد نہیں ہیں۔ کے پی کا بل اگرچہ مکمل طور پر خامیوں سے پاک نہیں تاہم اس میں صوبائی اختیار کے اہم عناصر برقرار رکھے گئے ہیں۔ وفاقی معدنیات ونگ سے متعلق اس کے حوالے صرف مشاورتی اور غیر لازمی نوعیت کے ہیں۔ لیکن ان کا شامل ہونا مستقبل میں وفاقی اختیارات میں توسیع کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس بلوچستان ایکٹ اس سے بھی آگے چلا گیا ہے۔ یہ نہ صرف وفاقی معدنیات ونگ کو معدنی ترقی، لائسنسنگ، لیز اور مالی معاملات بشمول رائلٹی پر سفارشات دینے کا اختیار دیتا ہے بلکہ بظاہر صوبے کو ان معاملات پر تجاویز پیش کرنے کا اختیار بھی سلب کرتا ہے اور اس کا کردار محض ایک غیر فعال ناظر کا بن جاتا ہے۔ اگرچہ تکنیکی طور پر یہ سفارشات لازمی نہیں لیکن قانونی طور پر وفاقی حکومت کا کردار سنگین مداخلت کا سبب بن سکتا ہے۔ بہرکیف ان قوانین کی سب سے بڑی خامیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان میں مقامی کمیونٹیز، کان کنی کی تنظیموں، اور آزاد ماہرین کی بامعنی نمائندگی کا فقدان ہے۔ کان کنی جیسا پیچیدہ اور حساس شعبہ اگر صرف بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کے سپرد کر دیا جائے تو یہ ناکامی کا یقینی نسخہ ہے۔ اسی طرح مقامی فوائد اور روزگار کی ترجیحات پر مبہم، غیر اہم دفعات بھی انتہائی قابل اعتراض ہیں۔ ان کی جگہ ایسے قانونی، واجب العمل فریم ورک کی ضرورت ہے جو کمیونٹی کی شمولیت، وسائل کی تقسیم اور مقامی ملکیت کو یقینی بنائیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو وہ طریقہ کار ہے جس کے تحت یہ قانون سازی تیار اور نافذ کی گئی۔ ایس آئی ایف سی جو ایک غیر آئینی ادارہ ہے، نے اس عمل کی قیادت کی اور وہ بھی بظاہر بہت کم شفافیت کے ساتھ۔ ایسے ماحول میں جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سیاسی حیثیت اور جواز پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے ہوں، وہاں یہ اوپر سے نافذ کیا گیا ماڈل نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ طرزِ عمل عوامی اعتماد کو مزید مجروح کر سکتا ہے اور صوبائی ناراضی کو ہوا دے سکتا ہے، چاہے قانونی طور پر یہ معاہدے درست ہی کیوں نہ ہوں۔ کان کنی ایک طویل المدتی شعبہ ہے۔ یہ سیاسی استحکام، پالیسی کے تسلسل اور سماجی قبولیت کا تقاضا کرتا ہے لیکن پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کا طرزِ عمل انتہائی قلیل مدتی ہے، جو طویل مدتی منصوبہ بندی کے بجائے فوری فائدے اور کرائے پر مرکوز ہے۔ ماضی کے تجربات ریکوڈک اور آئی پی پیز اس بات کا ثبوت ہیں کہ جلد بازی میں بغیر شفافیت کے کیے گئے معاہدے بالآخر قانونی تنازعات یا بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔ تکنیکی اعتبار سے بھی ملک کے پاس ایسے ادارہ جاتی وسائل اور مالیاتی صلاحیت کا فقدان ہے جو سرمایہ کاروں کے مفاد اور عوامی بھلائی کے درمیان توازن قائم کر سکے۔ موجودہ حالات میں قوی امکان ہے کہ کوئی بھی بیرونی حمایت یافتہ معاہدہ طویل مدتی ترقی کے بجائے مختصر المدتی مفاد کو ہی فروغ دے گا۔اس لیے مسائل پیدا کرنے والے کاموں سے گریز کیا جائے اور قومی مفاہمتی پالیسی اختیار کی جائے جس میں سبھی جشن منائیں!