پاک بھارت ”اعصاب کی جنگ “میں جو جیتا وہی سکندر !

ویسے تو لکھاری، دانشور، محققین وغیرہ آپ کو یہ بات کم ہی لکھتے نظر آئیں گے کہ جنگ کرو!یا جنگی ہونی چاہیے! لیکن بات جب حد سے بڑھ جائے اور سامنے والا فریق آپ سے جنگ کرکے کئی قسم کے فائدے حاصل کرنا چاہ رہا ہویا آپ کی ساکھ کو نقصان پہنچا کر آپ کو کمزور کرنا چاہ رہا ہو تو پھر ساحر لدھیانوی جیسے امن پسند شاعر نے بھی کہہ دیا تھاکہ گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی اور پھر ایسا بھی نہیں ہے کہ تاریخ کے تمام دانشوروں نے ہی جنگ کے حق میں بیانات داغے ہوں،،،بلکہ 99فیصد مورخین جنگ کی شعلہ بیانیوں کا ذکر کرتے نظر آئیں گے۔ جس کا ہم بعد میں ذکر کریں گے،،، لیکن یہاں یہ بتاتا چلوں کہ بھارت پاکستان پر کبھی کوئی بڑا حملہ نہیں کر سکتا۔ وہ صرف پاکستان رعب و دبدبہ ڈالنا چاہ رہا ہے،،، وہ پاکستان کے اعصاب کے ساتھ کھیل رہا ہے، جسکا جیتنا ہمارے لیے اشد ضروری ہے۔،،، یعنی اگرہم اس سرد جنگ کا اعصابی طور پر مقابلہ کر گئے، تو انڈیا کبھی جنگ نہیں کر سکتا۔ میرے خیال میں اگر بھارت پاکستان پر کسی قسم کی بڑی جنگ مسلط نہیں کرے گا تو اُس کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں پہلی یہ ہے کہ اس وقت امریکی ٹیرف اور محصولات کی وجہ سے چین اور امریکا میں شدید تناﺅ ہے، اور انڈیا اپنی پوری کوشش کر رہا ہے کہ وہ تمام کمپنیاں جو چین میں کام کر رہی تھیں، وہ انڈیا شفٹ کر جائیں۔ اس کے لیے وہ کئی کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ اپنی کاروباری شخصیات کے ذریعے رابطے کر رہا ہے۔ تو ایسے میں ممکن نہیں ہے کہ بھارت کسی بڑی جنگ کا حصہ بن کر بڑی کاروباری پیش رفت کو پیچھے چھوڑ دے۔ کیوں کہ جب آپ حالت جنگ میں ہوں تو پھر بیرونی سرمایہ کاری ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ جبکہ بھارت میں اس وقت 3کھرب ڈالر کی بیرون ملک سے سرمایہ کاری آچکی ہے۔ جبکہ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت کی معیشت 600ارب ڈالر پر کھڑی ہے، جبکہ ہماری 12،15ارب ڈالر کے مانگے تانگے پیسوں پر کھڑی ہے۔ لہٰذااگر خدانخواستہ جنگ ہوتی ہے تو پھر ہماری معیشت کو زیادہ سے زیادہ نقصان یہ ہوگا کہ وہ ڈیفالٹ کر جائے گی، اور جنہوں نے ہم سے قرض لینا ہے، وہ معیشت کو دوبارہ کھڑا بھی کر لیں گے،،،اور ہمارے پاس ایک بہانہ ہاتھ آجائے گا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اس لیے ہمارے قرضے ری شیڈول کیے جائیں یا معاف کر دیے جائیں۔یہ ایسے ہی ہے جیسے گندم کے حوالے سے کسان کو نقصان ہوا ہے، تو جن مزارعوں نے زمینیں ٹھیکے پر لی ہیں،،، اُن کے پاس تو بہانہ آگیا کہ بھئی ہمیں سرکاری نرخ نہ ملنے کی وجہ سے شدید نقصان ہوا ہے، اس لیے ہم زمینوں کا ٹھیکہ (رقوم) دینے سے قاصر ہیں۔ لہٰذامالکان بھی سوچتے ہیں کہ اس میں ان کا قصور نہیں ہے اس لیے وہ بھی خاموش ہو جاتے ہیں۔ لیکن بھارت جو دنیا کی پانچویں بڑی معیشت رکھتا ہے، جو دھڑام سے نیچے آگرے گی،،، یعنی جنگ کا زیادہ نقصان پاکستان کے بجائے بھارت کو ہوگا۔ اور اس سے بھارت کی عالمی سطح پر ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ تیسری وجہ بھارت کے جنگ نہ کرنے کی یہ بھی ہے کہ عالمی سطح پر اُس کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا،،، کیوں کہ فی الوقت پاکستان نے جو اقدامات کیے ہیں جیسے فضائی حدود پر جو پابندیاں لگائی ہیں اُس سے بھی بھارتی معیشت کو خاطر خواہ نقصان پہنچنے کے بجائے بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ اس لیے بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ حالات مزید خراب ہوں یا جنگ کی طرف جایا جائے،،، ہاں اپنے عوام کو ”رام“ کر نے کے لیے کنٹرول لائن پر گولا بارود دونوں اطراف سے پھینکا جائے گا، لیکن کسی بڑی جنگ کی پیش گوئی آپ نہیں کر سکتے۔ چوتھی وجہ یہ بھی ہے کہ اس خطے میں چین کبھی بھی ان دونوں ملکوں کے درمیان جنگ نہیں ہونے دے گا،،، اور اس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جتنی بھی قراردادیں منظور ہوئی ہیں اُن تمام کو چین نے ویٹو کردیا ہے۔ ایسا اس لیے بھی ہے کہ چین کو بھارت کے بارے میں بھی تحفظات ہیں کہ وہ خطے میں اُس کی جگہ نہ لے لے ، جبکہ دوسری جانب وہ امریکا کی معیشت کے ساتھ تمام ملکوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے دنیا میں اپنا رعب جمانا چاہتا ہے۔ وہ کبھی بھی دونوں ممالک کی لڑائی نہیں ہونے دے گا، وہ دونوں ممالک کے درمیان مصالحت کا کردار ادا کر ے گا۔ تاکہ دنیا میں یہ تاثر جائے کہ دونوں ممالک جو جنگ کے دھانے پر کھڑے تھے کے درمیان چین نے صلح کروائی ہے۔ جبکہ امریکا اس وقت صرف پیسے بٹورنے میں لگا ہوا ہے۔ پانچویں اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت نے آج تک یہ سوچا ہی نہیں ہے کہ وہ پاکستان کو فتح کرے گا،،، کیوں کہ پاکستان کو فتح کرنا اُس کے مفاد میں نہیں ہے،،، یعنی خاکم بدہن اگر بھارت حملہ کرکے پاکستان حاصل کر لیتا ہے تو اُسے اس کا کیافائدہ ہوگا؟ کیا اُس کی اپنی ریاستیں محفوظ ہیں جو ایک نئے پنگے میں شامل ہوگا؟یعنی اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ علیحدگی پسند تحرکیں بھارت میں چل رہی ہیں بھارتی 14 ریاستوں میں 17 بڑی اور 50 چھوٹی آزادی کی تحریکیں تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے بھارت اندورنی طور پر بہت خوفزدہ ہے ان علیحدگی پسندتحریکوں میں بلخصوص ماو¿ تحریک کی وجہ سے بھارت کی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ اس طرح ناگا لینڈ ،میز ورام، منی پورہ، آسام، مغربی بنگال، بہار، اُتر پردیش میں علیحدگی کی تحرکیں ماو¿ کی طرح تیزی سے زور پکڑ رہی ہیں بالکل اسی طرح علیحدگی کی ایک اور تحریک نکسل باڈی، مومنٹ مغربی بنگال، بہار،ا±تر پردیش کے تین بڑے صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ تو کیا یہ خطہ حاصل کرنے کے بعد دہشت گردی ختم ہوجائے گی؟ بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ایسا ہونے سے پورا انڈیا غیر محفوظ ہو جائے گا۔ کیوں کہ افغانستان ،بھارت اور روس کے درمیان پاکستان ایک بارڈر کا کام کرتا ہے،،، اور تاریخ دان یہ بات جانتے ہوں گے کہ جب پاکستان بننے کے حوالے سے نہرو نے حامی بھری تھی تو اُس میں ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ جو شمال ، مغربی قوتیں جو پوری تاریخ میں متحدہ ہندوستان کے ساتھ کرتے رہے ہیں وہ اب پاکستان کے ساتھ کریں گے،،، اس لیے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ صرف اعصابی جنگ ہے، جس میں پاکستان کو جیتاہے،،، اس جنگ میں انڈیا صرف ڈرائے گا، اور یہ بتائے گا کہ اُس سے ڈرا جائے،،، اس کے علاوہ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ بھارت بھی پاکستان سے اعصابی جنگ جیتنا چاہتا ہے، اور وہ تبھی کبھی پانی بند کر دیتا ہے تو کبھی پرانے معاہدے ختم کردیتا ہے، تو کبھی ہندوستان میں موجود پاکستانیوں کو وہاں سے نکلنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ یہ ایک اعصابی جنگ ہے، جو اس جنگ میں اپنے آپ کو مضبوط کر گیا وہ Surviveکر جائے گا۔ اس لیے ہمیں مصلحت پسندی دکھانے میں کسی قسم کی جلدی نہیں ہونی چاہیے، اگر وہاں پہلگام میں حملہ ہوا ہے تو ہمارے ہاں بھی ہر روز پہلگام جیسے واقعات ہوتے ہیں،،، جس کے تانے بانے بھارت سے جا کر ملتے ہیں۔ اور ان واقعات پر بھارت ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے ملوث ہونے کے حوالے سے انکار کر دیتا ہے۔ لہٰذاہمیں بھی یہی سوچنا چاہیے اور بھارتی الزامات کو کسی خاطر میں نہیں لانا چاہیے،،، کیوں کہ اس وقت عالمی میڈیا یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ بھارت 100سے زائد ملکوں کے سفارتکاروں کو اپنی وزارت خارجہ میں بلا کر بریفنگ دے چکا ہے کہ یہ پاکستان کی جانب سے حملہ کیا گیا ہے۔ لیکن اس واقعے کے ٹھوس ثبوت پیش کرنے سے قاصررہا ہے۔ لہٰذااس وقت ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے،،، امریکا بھی اس جنگ کو Easyلے رہا ہے ،،، آپ بھی ایزی لیں،،، بہرکیف ہم برسہا برس سے دہشتگردی کا شکار ہیں۔اپنے پیاروں کی لاشیں اُٹھاتے چلے آرہے ہیں۔گاہے بگاہے حکومت کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دہشتگردی کے ان واقعات میں بھارت ملوث ہے۔بھارت کے حاضر سروس فوجی افسر کلبھوشن یادیو کی سربراہی میں کام کر رہا جاسوسی کا نیٹ ورک پکڑا گیا۔ماضی میں جہاد کشمیر کیلئے سرگرم کئی اہم شخصیات کو چن چن کر قتل کیا گیا اور ان واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد ملے۔جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کئے جانے کے واقعہ میں بھارتی خفیہ اداروں کی ملی بھگت سامنے آئی مگر حکومت پاکستان نے جنگ کی دھمکیاں نہیں دیں لیکن پہلگام میں سیاحوں پر فائرنگ کے واقعہ کی ایف آئی آر درج ہونے سے پہلے پاکستان پر الزام تراشی شروع کردی گئی اور پھر یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرکے کشیدگی کو آخری حدتک پہنچا دیا گیا تو فریق ثانی کے پاس تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق کوئی اور راستہ باقی نہ رہا۔امن کا درس دینے والے احباب شاید یہ حقیقت فراموش کررہے ہیں کہ جنگ ضعف و ناتوانی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔جب ایک فریق جنگ سے گریز پا ہوتا ہے تو دوسرا اسے دیوار سے لگانے کی کوشش میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔اور یہی پاکستان کے ساتھ ہو رہا ہے۔۔۔ لہٰذاپاکستان کو اپنا مورال ڈاﺅن کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے،،، لیکن پھر بھی ہمیں آخری حد تک جنگ سے بچنے ہی کی ضرورت ہے،،، کیوں کہ ونسٹن چرچل نے کہا تھا،جنگ وہ کھیل ہے جسے مسکراتے ہوئے کھیلا جاتا ہے۔اگر آپ مسکرانا نہیں جانتے تو دانت چبائیں اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو پھر اس وقت تک جنگ سے گریز کریں جب تک دانت چبانا سیکھ نہ جائیں۔فرانسیسی فلاسفر ،ژاں پال سارترنے اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا،جنگ مسلط تو اُمرا کرتے ہیں مگر اس میں مرتے غربا ہیں۔یونانی مورخ اور فلاسفرہیرو دوتس نے جنگ کی تلخ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا تھا، زمانہ امن میں بیٹے اپنے باپ کو دفناتے ہیں مگر دوران جنگ باپ اپنے بیٹوں کے جنازے اٹھاتے ہیں۔ روسی مصنف ،لیو ٹالسٹائی کے بقول جنگ اس قدر مکروہ اور غیر منصفانہ عمل ہے کہ اسے مسلط کرنے والوں کو پہلے اپنے ضمیر کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے۔پاکستان اور بھارت آزادی کے بعد مسلسل میدان جنگ میں زورآزمائی کرتے چلے آرہے ہیں حالانکہ نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا کہ ایک ہی دشمن سے بار بار نہ لڑو ،ورنہ وہ تم سے فنِ سپاہ گری سیکھ لے گا۔مگر ہم نے دشمن تو کیا تاریخ سے بھی بس ایک ہی سبق سیکھا ہے کہ ماضی سے کوئی سبق حاصل نہیں کرنا۔اب موجودہ حالات کو ہی دیکھ لیجئے۔۔۔ راہ چلتی مصیبت گلے آن پھنسی ہے،،، جس سے کل وقتی حکمت عملی سے جتنی جلدی ممکن ہوسکے چھٹکارہ حاصل کرنا ضروری ہے،،، ورنہ اعصابی جنگ ہارنے کا مقصد سب کچھ لٹادینا ہے!