ٹرمپ کے عرب ممالک سے اربوں ڈالر معاہدے اور ہماری بے وجہ حیرانگی!

پاک بھارت جنگ بندی کے بعد یہ ہفتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تاریخی دورہ سعودی عرب، قطر اورمتحدہ عرب امارات کی شہہ سرخیوں میں گزرا ۔ یہ ممالک چونکہ پاکستان کے ”کزن“ بھی کہلاتے ہیں اس لیے پاکستان میں بھی اس دورے کو خاص ”اہمیت “دی گئی،،، بلکہ ضرورت سے زیادہ ہی اہمیت دی گئی۔ خاص طور پر عرب روایات کے مطابق مہمانوں کا جو استقبال ہوا، اور تحفے تحائف دیے گئے وہ بھی موضوع بحث بنے رہے۔ اس دورے پر کس ملک کے ساتھ کتنے کھرب ڈالر کے معاہدے ہوئے، اس کی تفصیل آگے چل کر بیان کروں گا، لیکن اس سے پہلے میں حیران ہوں کہ ہم امریکی صدر کو دیے جانے والے تاریخی پروٹوکول اور کھربوں ڈالر کی بارش کو لے کر تنقید کیوں کر رہے ہیں؟ کیوں ہم حیران و پریشان اور غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ وہی امریکا ہے جو فلسطین میں اسرائیل کا ساتھ دیتا ہے،،، یقین جانیں،،، میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہم نہ جانے کیوں ہر چیز میں ”اسلام“ تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔ میں پہلے بھی اپنے کالموں میں یہ بات دہراتا آیا ہوں کہ دنیا میں دوریاستیں کبھی بھی مذہب کے نام پر نہیں جڑی رہیں۔ یہ محض مفادات کی دوستیاں اور دشمنیاں ہوتی ہیں۔ اگر ریاستوں کے درمیان مذہب کا عمل دخل ہوتا تو کبھی بھی پہلی اور دوسری جنگ عظیم عیسائی ممالک کے درمیان نہ ہوتیں۔ ابھی بھی جن ملکوں میں آپ ”اسلام“ کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ،،، اُن کے مفادات امریکا کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، بلکہ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اُن کا وجود ہی امریکا کے بغیر نا ممکن ہے۔ تبھی ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ممالک جن کا Survivalامریکا کے بغیر ممکن نہیں ہے، وہ امریکا کو اس کی ”قیمت“ ادا کریں۔ لہٰذااس وقت یہ ممالک اس کی ”قیمت“ ادا کر رہے ہیں۔ ورنہ سعودی عرب کو کیا پڑی تھی کہ وہ امریکی صدر کے 600ارب ڈالر کے معاہدے کر لیتے، حالانکہ اُن کے اپنے ملک میں کھربوں ڈالر کے جدید منصوبے جاری ہیں۔ اور پھر ہمارے علم میں یہ بات بھی ہونی چاہیے کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں ایک سپر پاور ضرور رہی ہے،،، جیسے ایک وقت میں منگول پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے تھے، پھر خلافت اُمیہ کی 40لاکھ سکوائر میل حکومت رہی ، پھر عثمانیوں نے 700سال تک دنیا پر حکمرانی کی،،، پھر ایک وقت تھا جب برطانیہ دنیا پر راج کر رہا تھا،،، اور ایک وقت تھا کہ اُس کی ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ 130ممالک پر حکمرانی تھی۔ اور پہلی و دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کمزور ہوا، تو اُس کی جگہ امریکا نے لے لی۔ جسکی اس وقت باالواسطہ اور بلاواسطہ دنیا بھر میں،، ماسوائے چند ایک ممالک کے ہر جگہ اسی کا راج ہے،،،اور پھر ہمارے جیسے ممالک میں اس کی مرضی کے لوگ اقتدار میں آتے ہیں ،،، اور مرضی کے برخلاف لوگوں کو اقتدار سے الگ کردیا جاتا ہے۔ اس کی تازہ مثال آپ شامی صدر کی گزشتہ روز ہونے والی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اسی کا شاخسانہ ہے کہ اُس نے کس طرح ایران نواز بشر الاسد کو اقتدار سے الگ کیا اور اپنا بندہ وہاں بٹھا دیا۔ آپ اس کو پاکستان کے پیرائے میں بھی دیکھ سکتے ہیں! اور پھر سپر پاور کی آپ خصوصیات بھی دیکھ لیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ تعلیمی ادارے امریکہ میں ہیں،دنیا کی ٹاپ ٹین یونیورسٹیاں بھی امریکہ میں ہیں، دنیا میں سب سے زیادہ ارب پتی افراد امریکہ میں رہتے ہیں، دنیا میں سب سے زیادہ چیرٹی کے ادارے اور افراد امریکہ میں ہیں، بل گیٹس اور وارن بفٹ جیسے ”سخی“ لوگ بھی امریکی ہیں، دنیا میں سب سے زیادہ ڈاکٹرز، انجینئرز اور سائنسدان امریکہ میں ہیں، دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ ڈیلر امریکہ ہے، دنیا میں سب سے زیادہ ایجادات امریکہ میں ہو رہی ہیں،دنیا میں سب سے زیادہ ایٹم بم امریکہ کے پاس ہیں، امریکہ کا دفاعی بجٹ سب سے زیادہ ہے، امریکہ جب چاہے اور جہاں چاہے اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکہ کا انٹیلی جنس سسٹم سب سے مضبوط ہے، امریکہ کے جمہوری سسٹم کی مثالیں دی جاتی ہیں، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ جیسے اداروں کے دفاتر امریکہ میں ہیں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی قونصل کا اجلاس بھی امریکہ میں ہوتا ہے اور دنیا کی معیشت کو کنٹرول کرنے اور دنیا کو اپنی مرضی سے چلانے کے اجلاس اور خفیہ میٹنگز بھی امریکہ میں ہوتی ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ ملٹی نیشنل کمپنیاں امریکہ میں ہیں اور دنیا کا 90فیصد میڈیا امریکہ سے کنٹرول ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں وجوہات ایسی ہیں، کہ امریکی اُن پر فخر بھی کر سکتے ہیں اور بغیر کسی وجہ کے اکڑ بھی سکتے ہیں۔ اور بارعب انداز میں کسی بھی ملک کو اپنا غیر معمولی استقبال بھی کروا سکتے ہیں۔ لہٰذاجب تک امریکا سپر پاور ہے وہ ان ممالک سے بھتہ لیتا رہے گا، اپنا کام نکلواتا رہے گا، اور سب سے اہم ان ممالک کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہے گا۔ اور رہی بات امریکا اور سعودی عرب کے درمیان معاہدوں کی تو 600 ارب ڈالر سے زیادہ کے اس پیکج میں ’تاریخ کا سب سے بڑا ہتھیاروں کا سودا‘ بھی شامل ہے۔ اس پیکج کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ ریاض کے دوران کیا گیا۔ اس میں دفاع، توانائی، انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ اس کے ساتھ سعودی عرب امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز، ایوی ایشن، صحت اور معدنیات میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ ان میں سب سے بڑا سودا امریکہ کا اپنے عرب شراکت داروں کو تقریباً 142 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت ہے۔ امریکہ نے اسے ’تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ‘ قرار دیا ہے۔ان کے ساتھ ایلون مسک اور بلیک راک اور بلیک سٹون جیسے حکام بھی موجود تھے۔ پھر آپ قطر کی بات کر لیں ،،، قطر میں امریکا کا دوسرا بڑا ائیر بیس ہے،،، جہاں ہزاروں کی تعداد میں امریکی فوجی تعینات ہیں۔ ٹرمپ نے قطر کے ساتھ تجارتی اور دفاعی تعاون کے معاہدوں پر بھی ستخط کیے جس میں امریکی کمپنی کے 200 ارب ڈالرز مالیت کے 160 طیاروں اور امریکی ایم کیو 9 بی ڈرون طیاروں کی فروخت شامل ہے۔ یہ بوئنگ کے لیے اب تک کا سب سے بڑا آرڈر ہے، اور 787 ماڈل کا سب سے بڑا آرڈر بھی ہے۔ اس معاہدے میں جی ای ایروسپیس کے انجن بھی شامل ہیں، جس سے امریکہ اور قطر کے تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔پھر آپ متحدہ عرب امارات کی بات کرلیں ابوظہبی میں امریکی صدر سے ہونے والی ملاقات کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے اعلان کیا کہ ان کا ملک آئندہ دس سالوں میں امریکہ میں 1.4 کھرب ڈالر یعنی 140ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔یہ سرمایہ کاری ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور توانائی جیسے شعبوں میں کی جائے گی۔ الغرض یہ معاہدے ایک ہزار ارب ڈالر سے زائد کے بنتے ہیں،،، آپ کو ان معاہدوں میں کہیں قریب میں بھی ”پاکستان“ نظر آتا ہے؟ یقینا نہیں! اگر نہیں تو پھر انجوائے کیا کریں،،، اپنی ترقی کی راہیں کھولنے کے لیے کام کیا کریں۔ یہ اوپری سطح کی گیمیں ہیں،،،ہمارا شمار تیسرے درجے کے ممالک میں ہوتا ہے،،، اور فی الوقت یہ بھی نہ سوچیں کہ ہم نے وقتی طور پر بھارت کو زیر کر لیا ہے، تو ایسا کرنے کے بعد ہم دنیا کے محفوظ ترین ملک کے باسی ہوگئے ہیں،،،، یا ہم ٹیکنالوجی میں بہت آگے چلے گئے ہیں۔ایسا ہر گز نہیں ہے، بلکہ ابھی بھی ہم ٹیکنالوجی میں دنیا سے بہت پیچھے ہیں،،، ہمارا صرف جذبہ ایمانی کام کر گیا،،، ورنہ اگر ایک بھی غلطی ہمارے اینڈ سے ہو جاتی تو پوری قوم آج سر جھکائے پھر رہی ہوتی۔ اس لیے ابھی بھی بہت سے کام کرنے کی ضرورت ہے،،، بھارت کو اگر زیر کرنا ہے تو ہمیں معاشی طور پر ، سیاسی طور پر اور معاشرتی طور پر ترقی کرنا ہوگی۔ ورنہ ہم دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے،،، ہم سیاسی اور معاشی طور پر بہت کمزور لوگ ہیں،،، اچھا ہوا جنگ ٹل گئی ورنہ ہم مزید کمزور ہو جاتے ،،، اور فرانسیسی جنگجو نپولین بونا پارٹ کا جنگ کے بارے میں یہ قول مجھے ذاتی طور پر بہت اچھا لگتا ہے کہ سب سے کامیاب جنگ وہ ہے جو ٹل جائے۔ جدید دنیا میں جتنی بھی اینٹی وار تحریکیں چلتی آرہی ہیں، ان کا بنیادی مقصد بھی جنگ ٹالنا ہی ہے۔ جنگوں پر گہری نظر رکھنے والے عالی دماغوں نے ایک اور گرہ بھی کھولی۔ وہ کہتے ہیں کہ جب بادشاہ کمزور ہو جاتے ہیں، عام آدمی غربت، کرپشن اور بے رحمی سے تنگ آجاتے ہیں تو ایسے ماحول میں کمزور بادشاہ جنگ چھیڑ کر لوگوں کی اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا بہترین وار کرتا ہے۔ اللہ کرے میں غلط ہوں مگر حالات کچھ ایسے ہی ہیں۔ خیر بات ہورہی تھی امریکی صدر کے دورہ خلیج ممالک کی تو ان لوگوں کے امریکا کے ساتھ مفادات جڑے ہیں، امریکا جیسا کہے گا یہ ویسا کہنے کے پابند ہیں،لہٰذاہمیں یہ سوچ بالکل نہیں رکھنی چاہیے کہ متحدہ عرب امارات نے جیسا امریکی صدر کا استقبال کیا، اسلام ہمیں اس چیز کی اجازت نہیں دیتا، یا قطری سرکار نے ٹرمپ کو 400ملین ڈالر کا طیارہ گفٹ کیا تو یہ فضول خرچی ہے،،، یا سعودی عرب نے استقبال میں اعلیٰ نسل کے اونٹوں کو استعمال کیا تو یہ بھی بدعت ہے،،، وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں ایسی فضولیات میں پڑنے کے بجائے صرف اس بات کا دھیان کرنا چاہیے کہ دنیا کہاں جارہی ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں،،، بقول شاعر آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی