بجٹ : ”دفاع“ کے ساتھ تعلیم بھی ضروری!

یقینا حالیہ ”جنگ“ کے بعد دفاع کا بجٹ بڑھ جائے گا، بڑھنا بھی چاہیے، کیوں کہ سکیورٹی اسٹیٹ ہونے کے ناطے دفاع بھی مضبوط ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ تعلیم کے بجٹ میں بھی اضافہ کرنا چاہیے، اگر ایک محاذ دشمن کے ساتھ میدان میں ہے تو دوسرا معیشت، تعلیم اور معاشرت کو لے کر بھی ہے جس میں ہم اپنے دشمن سے بہت پیچھے رہ چکے ہیں۔ ہماراتعلیمی بجٹ کتنا ہے؟ اس حوالے سے تو بعد میں بات کرتے ہیں، لیکن اس سے پہلے 2جون کو پیش ہونے والے بجٹ پر ایک سرسری نگاہ ڈالیں تو حسب سابق اس بجٹ کے عوام دوست ہونے کے امکانات بھی کم ہی ہیں۔ پاکستان رواں مالی سال کے ٹیکس اہداف حاصل نہیں کر پایا۔ ابھی تک دس ماہ کا خسارہ تقریباً 830 ارب روپے ہے۔ اپریل میں بھی تقریباً 118 ارب روپے کا خسارہ ہے، جس پر آئی ایم ایف کو تحفظات ہیں۔ اگلے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس اہداف تقریباً 1500 ارب روپے سے بڑھ سکتے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر نے پہلے ہی عندیہ دے دیا ہے کہ بجٹ میں ریلیف ملنے کے امکانات کم ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے اور کون قصوروار ہے، اس حوالے سے عوامی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایف بی آر افسران ٹیکس اہداف حاصل نہیں کر پا رہے اس کے باوجود ان کی تنخواہوں میں 140 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ چھوٹے ملازمین کے الاﺅنسز بند کیے جا رہے ہیں۔ اگر افسران کا احتساب نہ کیا گیا تو ماضی کی طرح مستقبل میں بھی آسان طریقوں سے ٹیکس حاصل کرنے کی روایت برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ سیلز ٹیکس بڑھا کر یا پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے ٹیکس اہداف حاصل کرنے کی کوشش جاری رہ سکتی ہے۔ پہلے ہی پٹرولیم لیوی 18 روپے سے بڑھا کر تقریباً 78 روپے کی جا چکی ہے۔ نئے بجٹ میں آئی ایم ایف سے اس میں مزید اضافے کا وعدہ کیا جا سکتا ہے۔ اور آنے والے دنوں میں ایک اور بلنڈر جو کیا جا رہا ہے، وہ یہ ہے کہ صدرِ پاکستان نے ٹیکس آرڈیننس میں تبدیلی کے ذریعے ایف بی آر کے اختیارات بڑھا دیے ہیں جو فوراً قابلِ عمل ہیں۔ ایف بی آر افسران اپنی ناکامی عدالتوں میں زیر التوا کیسز پر ڈال رہے ہیں۔ صدرِ پاکستان نے اس حوالے سے انہیں اختیار دیا ہے کہ وہ عام آدمی کے اکاﺅنٹ سے براہ راست ٹیکس آرڈر کے برابر فنڈز نکلوا سکتے ہیں۔ ملک بھر کی چیمبرز آف کامرس اس پر سراپا احتجاج ہیں۔ اس طریقے سے بلیک میلنگ بڑھنے کا اندیشہ زیادہ ہے اور ایک ماہ میں ٹیکس اہداف حاصل ہونا بھی مشکل دکھائی دیتے ہیں۔ اگر کوئی آرڈیننس لانا ہے تو ایسا بجٹ کے بعد بھی کیا جا سکتا تھا۔ ٹیکس فائلرز کے اکاﺅنٹس سے رقم نکلوانے کے ایف بی آر اختیار کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ کاروباری برادری چند دنوں میں عدالتوں سے رجوع کر سکتی ہے، جس سے بزنس کمیونٹی کا حکومت پر سے اعتماد مزید کم ہو سکتا ہے۔ بہرحال قصہ مختصر یہ ہے کہ پاکستان کا بڑا معاشی مسئلہ کیش اکانومی ہے۔ تقریباً 78 فیصد ٹرانزیکشنز کیش میں ہیں۔ ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 40 فیصد کیش اکانومی ہے۔ جی ڈی پی میں ٹیکس تناسب تقریباً 9 فیصد ہے جو خطے میں سب سے کم ہے۔ کیش اکانومی کا سائز چھوٹا کرنے کے لیے اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ بجٹ میں اس حوالے سے مناسب حکمت عملی پیش کیے جانے کی ضرورت ہے۔ دکانداروں اور تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کئی سالوں سے دعوے کیے جا رہے ہیں لیکن کامیابی ملتی دکھائی نہیں دے رہی۔ رواں مالی سال کے دس ماہ میں تاجر برادری نے تنخواہ دار طبقے کی نسبت تقریباً 1420 فیصد کم ٹیکس ادا کیا ہے۔ پچھلے دس ماہ میں تنخواہ دار طبقے نے تقریباً 390 ارب روپے ٹیکس ادا کیا اور تاجر برداری نے صرف 26 ارب روپے کے قریب۔ ترقی یافتہ ممالک میں تاجر تنخواہ دار طبقے کی نسبت زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ وہ ٹیکس خودکار نظام کے تحت وصول ہوتا ہے کیونکہ تمام ترقی یافتہ ممالک تقریباً کیش لیس اکانومی میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ اس لیے زیادہ ٹیکس دے رہا ہے کیونکہ یہاں کیش لیس ٹرانزیکشنز بہت کم ہیں۔ خیر ہمارا آج کا موضوع تعلیمی بجٹ کے حوالے سے تھا، جس میں سنا ہے کہ اضافہ نہیں کیا جا رہا ،،،اور خبر یہ بھی ہے کہ دفاع کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ہائیر ایجوکیشن جو وفاق کے زیر انتظام ہے ، کے بجٹ میں مزید کٹوتی کی جارہی ہے اور صوبے بھی تعلیم اور صحت کے بجٹ میں کٹوتیاں کر نے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ حالانکہ میرے خیال میں جہاں دفاع کے لیے 2ہزار ارب روپے سے زائد کا بجٹ رکھنے کی تیاری ہو رہی ہے وہیںہمیں ایجوکیشن اور ہیلتھ کے لیے بجٹ بڑھانا چاہیے۔ کیوں کہ دنیا بھر کے تعلیمی معیار کے مطابق پاکستان کا تعلیمی بجٹ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔اور پھراس وقت دنیا بھر میں جو بلاکس بن رہے ہیں آپ لاکھ کوشش کر لیں مگر امریکا کو ٹیکنالوجی یا جنگی ساز و سامان کے حوالے سے اس لیے بھی پیچھے نہیں چھوڑ سکتے، کیوں کہ وہاں کا تعلیمی بجٹ 20فیصد کے قریب ہے، جبکہ دیگر ممالک اس سے ابھی بہت پیچھے ہیں۔ وہ ریسرچ پر ہی سالانہ اربوں ڈالر استعمال کرتا ہے۔ یعنی امریکہ نے وفاقی تعلیم بجٹ میں تقریباً 330 ارب ڈالر کی منظوری دی، جس میں سے 79 ارب ڈالر صرف K–12 اسکولنگ اور 98 ارب ڈالر ہائیر ایجوکیشن کے لیے مختص کیے گئے۔ جرمنی، جس کی آبادی پاکستان سے تقریباً 60 فیصد کم ہے، ہر سال اپنی جی ڈی پی کا 4.8 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ چین نے اپنی پانچ سالہ تعلیمی پالیسی میں سائنسی تحقیق، ہائر ایجوکیشن، اور بنیادی تعلیم میں یکساں ترقی کو یقینی بنانے کے لیے 1.3 ٹریلین یوآن مختص کیے۔ جنوبی کوریا نے تعلیمی بجٹ میں 2024 میں 81.2 ٹریلین وون مختص کیے، اور جاپان میں صرف تحقیق و ڈیولپمنٹ پر سالانہ 20 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے جاتے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ہمارا تعلیمی بجٹ 2فیصد سے بھی کم ہے۔اسی بابت آج سوشل میڈیا پر یہ بحث پورے زور شور کے ساتھ جاری ہے کہ دفاع اور تعلیم کے بجٹ میں زمین آسمان کا فرق ہے، یعنی جیسا کہ میں نے کہا کہ دفاع کے لیے 2ہزار ارب روپے سے زائد کابجٹ رکھا جا رہا ہے جبکہ تعلیم کے لیے محض 60ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ (اس میں سے بھی آدھے سے زائد تنخواہوں کی مد میں چلا جاتا ہے) تبھی جامعات کی نئی عالمی درجہ بندی میںدنیا کی بہترین500یونیور سٹیز میں ایک بھی پاکستانی یونیو رسٹی شامل نہیں۔ اور ریسرچ کے حوالے سے پاکستان دنیا کی پہلی 3700یونیورسٹیوں میں بھی نہیں ہے۔ جبکہ شرم کی بات یہ ہے کہ ہمارے اقتدار کی ہوس کے پجاری حکمران اس بابت بات کرنے سے بھی گریزاں نظر آتے ہیں۔ بہرکیف آج ہم جس ملک کے خلاف جنگ جیتنے کی بات کر رہے ہیں، ہم خواہ اُس سے جنگ جیت چکے ہیں مگر آج اُس کی شرح خواندگی 78فیصد اور ہماری 62فیصد ہے، حتیٰ کہ بنگلہ دیش کی 76فیصد خواندگی کی شرح ہے۔ جب تعلیمی ادارے کمزور ہوں، جب نصاب غیرمتعلق ہو، اور جب ریاستی پالیسی میں تعلیم کو مرکزی حیثیت نہ دی جائے تو پھر معاشرہ ایسے رجحانات کا شکار ہو جاتا ہے جہاں جعلی دانشور تعلیم کو ناکام قرار دے کر نوجوانوں کو فقط پیسہ کمانے والی مشینوں میں بدلنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کا بیانیہ وقتی طور پر دلکش لگتا ہے، مگر یہ نوجوانوں کو نہ سوچنے کی صلاحیت دیتا ہے، نہ شعور، نہ تحقیق، نہ تخلیق، اور نہ ہی عالمی سطح پر کسی بڑے رول کے لیے تیار کرتا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام اصلاحات کا محتاج ہے۔مگر یہ اصلاحات کس نے کرنی ہیں؟ لیکن یہاں یہ بھی مسئلہ ہے کہ فی الوقت یہاں جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں، مہنگائی نے ہر طبقے کو متاثر کر رکھا ہے،فیصلہ کرنے والی قوتوں اور صاحب اقتدار لوگوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ایک سال میں فی من گندم کی قیمتوں میں 2570روپے کا تاریخی ہوشربا اضافہ ہوچکاہے۔باقی چیزوں کا اندازہ آپ خود لگا لیں، مہنگائی کے اس تناسب سے عوام پر 100فیصد اضافی بوجھ پڑاہے۔تو ایسے میں تعلیم کہاں رہ جاتی ہے؟ خیر آپ مانیں یا نہ مانیں یہ پاکستان کے خلاف سب سے بڑی سازش ہو رہی کہ یہاں کے عوام کو ایجوکیٹ ہونے سے روکا جائے اور یہ سازش کون کر رہا ہے؟ اس حوالے سے مقتدرہ قوتوں کو پتہ لگانا ہوگاکہ کیا بیرونی قوتیں اس کار خیر میں حصہ دار ہیں؟ یا یہ سازشیں پاکستان کے اندر سے ہو رہی ہیں،کیا اس کام میں ہمارے اپنے لوگ ملوث ہیں؟ جو ہر گز یہ نہیں چاہتے کہ اس ملک کے عوام پڑھ لکھ جائیں،خوشحال ہو جائیں، عقل مند کہتے آئے ہیں کہ چادر دیکھ کر پاﺅں پھیلانے چاہئیں‘ مگر ہمارے حکمرانوں کے کانوں تک یہ نصیحت ابھی تک نہیں پہنچی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے ملک میں بڑھتے ہوئے مسائل سے منہ پھیر کر کچھ اور معاملات کو اپنی ترجیحات بنا لیا۔ اس سے ہمارا ملک سیاسی ‘ معاشی اور سماجی عدم تحفظ کا شکار ہوا اور یہی ہمارے تمام مسائل کی اصل وجہ ہے۔ میرے خیال میں لگژری آئیٹمز پر پیسے بڑھا کر تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے ، اسی طرح ملک میں کم سے کم تیس لاکھ ایسے صاحب ِحیثیت لوگ ہیں جنہیں انکم ٹیکس دینا چاہیے لیکن وہ ادا نہیں کرتے۔ اتنے ہی لوگ ہیں جو اصل کا نصف یا اس سے بھی کم انکم اور سیلزٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ایف بی آر کی تنظیم نو کریں ، کرپشن کا خاتمہ کریں اور تعلیم و صحت پر خاص توجہ دیں ۔ لیکن یہ ساری باتیں آپ لاکھ مرتبہ لکھ لیں، یا یاد کر لیں مگر کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ماسوائے اس کے کہ جھوٹے وعدے و تسلیاں ہمارا مقدر بنیں گی۔ بقول شاعر جب کہتے ہیں ہم کرتے ہو کیوں وعدہ خلافی فرماتے ہیں ہنس کر یہ نئی بات نہیں ہے