سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کے ساتھ ایک شام !

ویسے تو میں حکومتی عہدوں پر شخصیت پرستی کے حوالے سے اتنا زیادہ قائل نہیں ہوں، کیوں کہ وطن عزیز میں موروثیت جیسی بیماری جہاں ہر جماعت میں موجود ہے وہیں سیاسی خاندانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اُس کے بعد اُن کا جانشین ہی کرسی سنبھالے، خواہ اُس میں قابلیت ہو یا نہ ہو۔ لیکن اس کے برعکس جو لوگ اس گرد آلود ماحول میں منتخب ہو کر اہم ترین عہدوں پر پہنچتے ہیں، یقینا اُن میں کہیں نہ کہیں خداداد صلاحیتیں ضرور چھُپی ہوتی ہیں۔ انہی شخصیات میں سے ایک شخصیت ملک احمد خان ہیں جو اس وقت اسپیکر پنجاب اسمبلی ہیں۔ بادی النظر میں یہ وہ واحد اسپیکر ہیں جن کے ہوتے ہوئے کم و بیش ڈیڑھ سال میں پنجاب اسمبلی نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، اور کسی بڑے ہنگامے کا موجب نہیں بنی۔ وہ یقینا پڑھے لکھے اسپیکر پنجاب اسمبلی ہیں، علاقائی سے لے کر بین الاقوامی سیاست کی اچھی خاصی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، اُن سے آپ کسی موضوع پر بھی بات کر لیں وہ دلیل کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ آپ پنجاب اسمبلی کے تمام اجلاس دیکھ لیں، جلسے جلوس دیکھ لیں، یا نیوز کانفرنس دیکھ لیں،،، آپ کو ن لیگ کے بہت سے رہنماﺅں سے زیادہ ملک احمد خان بہتر نظر آئیں گے۔ یہ وہی ملک احمد خان ہیںجنہیں آپ نے کبھی میڈیا پر بدتمیزی سے بات کرتے نہیں دیکھا ہوگا، وہ شائستگی سے چبھتے ہوئے سوالوں کے جواب بھی دیتے ہیں اور سوال کرنے والے کو سراہتے بھی ہیں، حالانکہ تمام جماعتیں ”بدتمیز“ ترجمانوں سے بھری ہوئی ہیں۔ اُن کی انہی خوبیوں کے باعث ہم نے یعنی لیڈر گروپ نے گزشتہ دنوں اُن کے ساتھ مقامی ہوٹل میں ایک فورم رکھا، جس میں اُنہوں نے پاک بھارت حالیہ جنگ، قومی و بین الاقوامی سیاست، اور اپنے ہم عصروں پر تنقید جیسے موضوعات پر کھل کر اظہار کیا۔لیکن اس سے پہلے راقم نے تقریب سے مختصر خطاب کیا اوراسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان سے ”وعدہ“ لیا کہ وہ ہمارے سوالوں کے مثبت اور صحیح انداز میں جواب دیں گے،،، راقم نے اس موقع پر مزید کہا کہ آج کا فورم میں اپنے چھوٹے بھائی کا کررہاہوں،یہ میرے لیے اتنی خوشی کی بات ہے ،یہ میرے گھر کے فردہیں میرے چھوٹے بھائی ہیں، ہمارا حلقہ کھڈیاں کا ہے، یہ بڑا زرخیزحلقہ ہے، پاکستان کی تاریخ میں یہ بڑا اہم حلقہ ہے۔ یہاں پر بڑی بڑی شخصیات الیکشن لڑتی رہی ہیں ، ہمارے حلقے سے دو وزیر خارجہ بھی رہے اس سے اندازہ لگائیں کہ ہمارا حلقے کی کتنی اہمیت ہے۔مذکورہ حلقے میں سب سے زیادہ مقام احمد خان کے والد محترم ملک محمد علی خان نے حاصل کیاملک احمد خان کا ریکارڈہے کہ یہ بھی ہمارے حلقے سے چار بار منتخب ہوئے، یہ ہمارے علاقے کے قابل فخر سپوت ہیںہمارے علاقے کو پورے پاکستان کو ان سے بہت سی اُمیدیں وابستہ ہیں،،، مسلم لیگ ن میں مجھے بہت کم لوگ پسندہیں ،،،مجھے امید ہے کہ ملک احمد خان ہمارے سب سوال کا جواب دیں گے ملک جس صورتحال میں ہے وہ آج تک نہیں آئی، کنٹرولڈمیڈیا ہے، جو خلاف بات کرے حکومت اس کو اٹھا لیتی ہے ،ایک چھوٹی سے جنگ جیت کر ہم فیلڈ مارشل بن گئے ہیں اور جنگ کی خوشیاں ختم نہیں ہورہی ہیں،،، اراکین اسمبلی اور ایف بی آر کی تنخواہوہیں ڈبل ہوگئیں ہیں عوام کو بجٹ میں 1500ارب کے نئے ٹیکس آرہے ہیں،،، جنگ کبھی بھی خوشی لیکر نہیںآتی ملک صاحب سے درخواست ہے کہ کھل کر بات کریں کہ ہمارے ملک میں کیا ہو رہاہے ہمیں کوئی ریلیف ملے گا کہ عوام ایسے ہی پستے رہیں گے ۔ راقم کے خطاب کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی جانب سے پاکستان پر دہشتگردی کے جھوٹے الزامات عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ہندوستان نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستانی شہری آبادی کو نشانہ بنایا، لیکن اس کے باوجود پاکستان کی جنگی صلاحیت اور سفارتی بصیرت کو دنیا نے تسلیم کیا۔سپیکر ملک احمد خان نے جمہوریت پر اپنے پختہ یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوری عمل کا حصہ ہیں اور اس سفر میں انہیں کامیابی و ناکامی دونوں کا سامنا رہا۔انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان اور پاکستانی عوام نے اس مختصر جنگ میں مثالی کامیابی حاصل کی جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، لیکن بھارت کی ہندوتوا پر مبنی سوچ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ پاکستان خطے میں کسی کی بالادستی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور ہمیشہ امن کا داعی رہا ہے۔ سپیکر نے پہلگام واقعے پر بھارتی وزیرِ اعظم کی الزام تراشی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 80 ہزار سے زائد قیمتی جانیں قربان کیں، لیکن کوئی دنیا کو نہیں بتاتا کہ ان کے قاتل کون ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے متعدد واقعات کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیا، اور کہا کہ آپ پاکستان میں ہر دوسرے دن دہشت گردی کرواتے ہیں، جس کے ہم آپ کو ثبوت بھی فراہم کرتے ہیں لیکن پاکستان نے کبھی آپ کے اوپر چڑھائی نہیں کی، بلکہ صبر و تحمل سے کام لیا ہے۔ اور پہلگام واقعہ جس میں پاکستان کا کوسوں دور کوئی تعلق نہیں ہے، تو اُس کا ملبہ اپنی سکیورٹی ناکامی کے بجائے پاکستان پر کیوں ڈال رہے ہیں؟ سندھ طاس معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ہندوستان کی جانب سے پانی بند کرنے کی دھمکیاں غیر سنجیدہ ہیں۔ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگوں کے باوجود برقرار رہا ہے اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے، اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور مکالمے اور آئین کی بالادستی کا دور ہے۔ چاہے جمہوری نظام ہو یا نہ ہو، تمام ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں قانون ساز ادارے موجود ہیں۔ آزادی اظہار رائے جمہوریت کی روح ہے، تاہم یہ آزادی ملک و قومی سلامتی کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کو مضبوط بنانے سے ہی نظام مضبوط ہوگا۔ سپیکر نے کہا کہ وہ صحافیوں پر پابندیوں کے سخت مخالف ہیں اور اس حوالے سے کھلی بحث کی ضرورت ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کی جنگ کے دوران میں نے بھارتی میڈیا کو بھی اچھی طرح پرکھا ہے۔ ان نامساعد حالات میں پاکستانی صحافیوں کو بہترین کام کرتے دیکھا ہے جبکہ بھارتی صحافیوں نے اپنے ایڈونچر میں صحافت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ پاکستانی صحافیوں نے اس جنگ میں نہایت متانت اور تدبر کا مظاہرہ کیا۔کسی جماعت کو فوج پر تنقید کرکے مقبولیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ نیب جیسے ادارے کا خاتمہ اس وقت کی عدلیہ کی مداخلت کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ شاہد خاقان عباسی نے بطور وزیراعظم کہا تھا کہ اگر وہ نیب ختم کریں گے تو چیف جسٹس ان کا گلا کاٹ دیں گے۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ وہ جماعتیں جو آج فوج پر تنقید کر کے سیاست میں سرگرم ہیں، ماضی میں اسی فوج کے سہارے اقتدار میں آئی تھیں۔ معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خان نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے لیکن جب تک عوام ٹیکس نہیں دیں گے، معیشت مضبوط نہیں ہوگی۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے صاف ستھرے پنجاب کے منصوبے سے وسائل کی رخ عام آدمی کی جانب موڑا ہے۔سیاستدان اپنے ووٹ بینک کے تحفظ کے لیے ٹیکسیشن سے گریز کرتے ہیں۔آخر میں سپیکر نے زور دیا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو فعال اور موثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ معاشی استحکام کی بنیاد رکھی جا سکے۔ آخر میں سوال جواب کا سیشن ہوا، جس میں ملک احمد خان نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے چبھتے ہوئے سوالوں کے جواب دیے اور کسی موقع پر بھی انہوں نے ناراضی کا اظہار نہ کیا۔ بہرحال اس ساری گفتگو کا نچوڑ یہ نکالا گیا کہ ملک احمد خان جیسے رہنماﺅں نے مسلم لیگ ن میں ایک نئی روح پھونکی ہے۔ انہوں نے پارٹی کے بدترین حالات میں بھی اپنے کارکنوں کو سنبھالے رکھا۔ انہوں نے واقعی اپنے حلقے کے لوگوں کو متحرک رکھا، وہ اپنے کارکنان کی خود موٹیویشن کرتے ہیں، وہ حلقے کے ہر شخص کے ساتھ خود رابطے میں ہیں،اُن کے مسائل حل کرتے ہیں، وہ دلائل کے ساتھ بات کرتے ہیں،اور لوگ اُن کی بات پر پوری طرح دھیان بھی دیتے ہیں۔ بہرکیف ن لیگ نے اگر سیاست میں زندہ رہنا ہے تو اُسے آئندہ بھی ایسے رہنماﺅں کو آگے لانا ہوگا،مسلم لیگ ن کو چاہیے کہ وہ ملک احمد خان جیسے رہنماﺅں کو آگے لے کر آئے، اور جنہوں نے زندگی کی بہاریں دیکھ لی ہیں، اُنہیں آرام کا موقع دیا جائے۔ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ اس جماعت میں پڑھے لکھے لوگوں کی کمی ہے، خود ملک احمد خان ایچی سن کالج کے فارغ التحصیل ہیں، ان کے علاوہ مصدق ملک، اعظم نذیر تارڑ،مریم اورنگ زیب، خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق وغیرہ نمایاں ہیں۔ میرے خیال میں اگر ن لیگ ان لوگوں کو آگے لائے گی، تو یقینا عوام میں اس جماعت کا مثبت چہرہ سامنے آئے گا،،، ورنہ مسلم لیگ ن کبھی اپنے خاندان اور موروثی سیاست سے باہر نہیں آسکے گی۔ خیر بات ہو رہی تھی ملک احمد خان کے ساتھ ایک شام کی تو یہ بھرپور شام تھی،،، ہمیں اُن سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور عوام میں بھی ایک مثبت پیغام گیا کہ ہم بے لوث وطن عز یز کے مسائل پر ڈسکشن کا اوپن فورم مہیا کرتے ہیں تاکہ کسی مسئلے پر بحث کے بعد اُس کے حل کی طرف جایا جائے!