کیا ہمارے معاشرے میں تنگ نظری بڑھتی جا رہی ہے؟

پاکستانی معاشرے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ ہم انتہا پسندی کی طرف مائل ہیں، ثبوت کے طور پر حال ہی میں ہونے والے پے در پے انفرادی قتل و غارت کے واقعات جس میں ایک فریق یا تو اپنے ساتھی کو ذاتی رنجش کے باعث موت کی نیند سلا رہا ہے، یا غیرت کے نام پر یا ذاتی اختلاف کے باعث۔ ہم یہ چیز بھول چکے ہیں کہ اسلام میں ایک قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ لیکن نہ جانے ہم کہاں سے چیزیں Adoptکر رہے ہیں،،، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ہمارے معاشرے میں frustrationاس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اب یہ ”انتہا“ ہمیں ہمارے والدین نے دی ہے، معاشرے نے دی ہے، ہمارے حکمرانوں نے دی ہے یا سیاسی قائدین نے دی ہے ،ا س پر مکمل تحقیق ہونا باقی ہے۔ خیر آپ یقین مانیں کے اب تو جب بھی سوشل میڈیا کو کھولا جاتا ہے، سامنے مار دھاڑ کی ویڈیوز آجاتی ہیں،،، قتل و غارت کی ریلز چلنے لگتی ہیں، جس کے بعد کافی دیر تک دوبارہ سوشل میڈیا استعمال کرنے کا دل ہی نہیں کرتا۔ جیسے رواں ہفتے کراچی کے ڈیفنس میں ہونے والا واقعہ دیکھ لیں کہ موٹرسائیکل گاڑی کے ساتھ لگنے پر بہن کے سامنے بھائی کو مارا جا رہا ہے، جبکہ بہن التجا کر رہی ہے اور ایک نو دولتیا قسم کا شخص فرعونی کیفیت میں اپنے ملازمین سے اُن پر تشدد کروارہا ہے۔ پھر آپ ٹک ٹاکر ثناءیوسف کے قتل کو دیکھ لیں، کہ اتنی معصوم بچی کو آخر اس قدر بے دردی سے مار دیا گیا، جبکہ انتہا تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا ایک طبقہ اس اقدام کو سراہ رہا ہے۔ اور پھر جب اسی قسم کا بڑا واقعہ رونما ہوجاتا ہے تو ہمارے ادارے یہ سوچتے ہوئے کوئی کارروائی نہیں کرتے کہ لوگوں کو آگ لگانے دو ، سرکاری اور نجی املاک تباہ کرنے دو، بعدمیں نامعلوم افرادکے خلاف پرچہ درج کرلیں گے، اِس وقت اِن مشتعل لوگوں کو روکنا حماقت ہوتی ہے،،، وغیرہ وغیرہ ،،، یعنی یہ ہے وہ ’حکمت عملی‘ جس کی وجہ سے ہمیں پورا معاشرہ ہی شدت پسند لگنے لگا ہے۔پھر تبھی 9مئی کے واقعات بھی ہوجاتے ہیں اور اقلیتوں کی پوری کی پوری بستی کو آگ بھی لگا دی جاتی ہے۔ خیر بات ہورہی تھی معاشرے کی تنگ نظری اور عدم برداشت کی تو ایک رپورٹ کے مطابق ایک سال میں ایک ہزار سے زائد خواتین و مرد کو صرف اس لیے قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے خاندان کی مرضی کے برخلاف شادیاں کی تھیں،،، آپ اس حوالے سے مکمل رپورٹس پڑھیں تو بعض جگہ 9ماہ کی چھوٹی بچی کو بھی میاں بیوی کے ساتھ قتل کر دیا جاتا ہے ، پھر ایک شخص 22سال امریکا رہا، خاندان بھی اُس کا امریکا میں ہی رہا، لیکن جیسے ہی اُس نے دیکھا کہ اُس کی 17سالہ بیٹی تھوڑی سی ماڈرن ہو رہی ہے تو بیٹی کا باپ بچی کو بہانے سے پاکستان لا کر ،،، اپنے سالے کے ساتھ مل کر صرف اس لیے قتل کر دیتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ خاندان کی بدنامی کا باعث نہ بنے۔ مطلب! جس پاکستانی کا 22سال مغربی ممالک میں رہ کر بھی ذہن نہ بدلا اور اپنی بیٹی کا قتل کر ڈالا تو یا تو قصور ہماری تربیت کا ہے۔ یا ہمارے جینز میں ہی مسئلہ ہے۔ لیکن جینز میں مسئلہ تو تب ہو جب یہ خطہ مکمل طور پر بنیاد پرست رہا ہو۔ آج سے تیس ، پینتیس سال پہلے لاہور جیسے شہر میں بھی لڑکیوں کے چار یا پانچ سرکاری کالج ہوا کرتے تھے، اُن کالجوں میں ماڈرن اور متمول طبقے کی لڑکیاں پڑھتی تھیں جن کی ’جدیدیت‘ کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کنیرڈ کالج کے سالانہ میگزین میں طالبات کی نیکر پہنے ہوئے تصاویر بھی شائع ہو جاتی تھیں۔ہماری دلعزیز بشریٰ انصاری کے بقول1970ءکی دہائی میں کراچی بڑا ماڈرن شہر ہوا کرتا تھا، کلب وغیرہ تھے اور وہ اپنے خاوند اور دیگر دوستوں کے ساتھ ایسی جگہوں پر جایا کرتے تھے۔ جینز اور سکرٹ خواتین کا پسندیدہ لباس ہوا کرتا تھا اور امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ کراچی ہی میں اینگلو انڈین علاقے تھے جہاں خواتین اور دیگر لوگوں کا اپنا کلچر تھا اور اس پر کسی کا اعتراض نہ اٹھتا۔ میمنوں کی اپنی آبادیاں تھیں، اونچے اور نیچے درجے کے پارسی اپنی زندگیاں گزارتے تھے۔ رواداری تھی‘ ایک دوسرے کا کچھ لحاظ تھا اور زندگی چلتی رہتی تھی۔ اس معاشرے کی بدنصیبی سمجھیے یا اسے کوئی نظرِبد لگ گئی کہ وہ پرانا ماحول سارا ماضی کا حصہ لگتا ہے، اب تو کچھ اور ہی روایات نے جنم لے لیا ہے۔ بات کچھ ہوتی نہیں اور نعرہ لگ جاتا ہے‘ پھر لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں، کسی کا خون ہو جاتا ہے یا جیسے ہم نے سوات کے شہر مدین میں دیکھا، برہنہ جسم کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ پولیس کی حراست میں ایک انسان کو دے دیا گیا ہے لیکن اعلانات ہوجاتے ہیں اور ایک بپھرا ہجوم تھانے پر دھاوا بول دیتا ہے۔ حسبِ روایت پولیس بھاگ جاتی ہے اور پھر زیر حراست بندے کو باہر نکال کر عوامی غیظ و غضب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک واقعہ ہو تو ہم کہیں کہ یہ تو بس ویسے ہی ہو گیا لیکن یہاں روز کا معمول بن کر رہ گیا ہے۔ کئی معاملات کو تو سرے سے ہی دبا لیا جاتا ہے، بلکہ متاثرہ لڑکیوں کے گھر والے بھی معاملہ دبانے کے لیے ہر چیز سہہ لیتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ یہ معاشرہ بے حس ہے اور اس معاشرے نے ان کی بیٹی کا قصور نکال دینا ہے۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا اگر کسی لڑکی کے ساتھ ریپ یا اسے ہراساں کیا جائے تو عموماً گھر والے معاملہ دبانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں ہماری گھر کی عزت خراب نہ ہوجائے لیکن وہ بھیڑیا جس نے اس لڑکی کی زندگی برباد کی وہ دن دناتا باہر گھوم رہا ہوتا ہے۔ لیکن یہ معاشرہ خاموش تماشائی بنا ہوگا اور اگر غلطی سے کسی لڑکی نے رپورٹ درج کروا دی تو یہ معاشرہ اسے شک کی نظر سے دیکھے گا اور ویکٹم بلیمنگ کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہماری یہ تربیت کر کون رہا ہے؟ کیا یہ تربیت ہمارے سیاسی قائدین نے تو نہیں کی؟ کہ اختلاف رائے بھی رکھو مگر مخالف کو ”سبق“ بھی سکھاﺅ! بلکہ ان سیاسی قائدین نے تو کارکنان کی آپسی رنجشیں اس قدر بڑھا دیں کہ بات خاندانی دشمنیوں تک چلی گئی۔ جیسے پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے ساری زندگی کارکنوں کو آپس میں لڑائے رکھا، بعد میں اپنے ذاتی مفادات کے لیے ایک ہوگئے، اور کارکن نیچے رُل گئے، جن کے پاس کوئی راستہ نہ بچا تو وہ تحریک انصاف میں چلے گئے۔ حالانکہ ان کے ادوار میں پیپلزپارٹی ن لیگ کو اور ن لیگ نے پیپلزپارٹی کو کیا کچھ نہیں کہا؟ بے نظیر کی نیم برہنہ تصاویر کے پوسٹرز ہیلی کاپٹرز سے پھنکوائے جاتے رہے۔ پھر انہی کارکنوں کو اسٹیبشلمنٹ کے خلاف کیا گیا، اور اسٹیبشلمنٹ کو کارکنوں کے خلاف کیا گیا، لیکن پھراُوپر کی سطح پر سب اختلافات ختم ہوگئے ،،، سب ایک ہوگئے اور کارکن منہ تکتے رہ گئے۔ یہی حال تحریک انصاف والوں کا ہے، نہ جانے اُن کے بڑے کب صلح کرلیں گے، اور نیچے کارکن رلتے رہ جائیں گے۔ لہٰذازیادہ Extremeہونے کا کیا فائدہ؟ اور پھر اسی طرح اسی طرح یونیورسٹیوں میں بھی ایسے ہی ماحول میں ہم پروان چڑھے، کہ طلبہ یونینز اور جمعیت میں ہمیشہ اختلافات کی وجہ سے ان دو فریقین کے درمیان ہمیشہ تنازعات رہے۔ اور پھر ہمارا ہر وقت اسلام بھی خطرے میں رہتا ہے، جس کی وجہ سے ہم ہمیشہ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے رہتے ہیں ، اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو اس سطح پرنہیں لے آنا چاہیے کہ جہاں واپسی ممکن نہ ہو۔ کیوں کہ کسی کا کچھ نہیں جاتا،،، آپ جذباتی ہوں گے تو آپ کا کچھ نہیں جائے گا، آپ کے پیچھے فیملی ساری زندگی Surviveکرے گی، اگر آپ سیاسی کارکن ہیں تو آپ اپنے لیڈر کی محبت میں نہ جانے کیا کچھ کر دیں گے، مگر لیڈر اپنا ”نظریہ“ بدلتے ہوئے ایک منٹ نہیں لگائے گا۔ مزے کی بات یہ بھی ہے کہ جو منظم گروہ ایسے واقعات کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور انہیں ہوا دیتے ہیں ان کا ماضی دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ان پر تو ریاستی مہربانیاں ہوتی رہی ہیں۔ مضموم مقاصد کے لیے ایسے گروہوں کو استعمال کیا جاتا ہے، سویلین حکومتوں کو دباﺅ میں رکھنے کے لیے ایسی جماعتوںکو آلہ کار بنایا جاتا ہے۔پھر ہم نے سیدھا کام بھی کرنا ہوتا ہے تو اُس میں بھی اختلافات کا عنصر خود پیدا کردیتے ہیں،،، جیسے بلوچستان سے فتنة الہندوستان کا خاتمہ کر رہے ہیں، لیکن بلوچیوں کو پنجابیوں کے خلاف کر رہے ہیں۔ پھر ہم نے افغانیوں کو 40سال بعد ملک سے نکالنا تھا، ہم نے اُن کو بھی اپنے خلاف کر لیا۔ کراچی میں ہم نے ایم کیو ایم اور پنجابیوں کے درمیان دشمنیاں بڑھائیں، پنجاب میں ہم نے شیعہ سنی فسادات کروائے، ہم ان حوالوں سے تاریخ میں ہمیشہ شرمندہ رہیںگے ۔ لہٰذاقائدین کو چاہیے کہ وہ ان کی تربیت کریں کہ دلیل کے ساتھ بات کریں، اختلاف ضرور رکھیں مگر اس حد تک نہ جائیں کہ واپسی ممکن نہ رہے! اس لیے ابھی بھی وقت ہے کہ اپنے ملک کو بچائیں، تمام جماعتیں بھی اپنے اندر حوصلہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھیں، سیاسی اختلاف ضرور رکھیں مگر اس حد تک نہ جائیں کہ یہ آپ کی عادت بن جائے،،، بلکہ تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ بھی اس حد تک نہ جائے اور کبھی بھی اپنے آپ کو بنیاد پرست نہ بنائے۔ معتدل رہیں،،، احتیاط سے کام لیں، صبر کرنا سیکھیں،،، کیوں کہ یہی کامیاب زندگی گزارنے کے گرُ ہیں۔ معتدل میں نے اس لیے کہا کیوں کہ یہاں مذہبی طبقہ ہی شدت پسند نہیں ہے بلکہ لبرل لوگ بھی انتہا پسند سوچ کے حامل ہیں، اُن کا بس نہیں چلتاکہ مذہب کو لوگوں کی زندگیوں سے خارج ہی کر دیں، جبکہ عام آدمی اِن دو انتہاﺅں کے درمیان کہیں پایا جاتا ہے۔ اور پھر جو کچھ وہ سیکھتا ہے، اُسے اپنے تئیں Implementکرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس سے وہ نقصان کربیٹھتا ہے!