لاکھوں فلسطینیوں کی شہادت نے دنیا کی ”ایلیٹ کلاس“ کو ایکسپوز کر دیا!

فلسطین اسرائیل جنگ دراصل دو ریاستوں کی جنگ نہیں بلکہ یہ دو طبقات کی جنگ ہے، ایک ایلیٹ کلاس اور دوسرا مظلوم کلاس۔ جبکہ ایلیٹ کلاس کو کم و بیش ایک لاکھ فلسطینیوں نے شہادت دے کر بری طرح ایکسپوز کرکے رکھ دیا ہے،،، اس ایلیٹ کلاس کو بعد میں موضوع بناﺅں گا لیکن اُس سے پہلے اگر غزہ کی منظر کشی کی جائے تو آج فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کو پونے دو سال ہو چکے ہیں،،، اسرائیل بغیر ناغہ کیے فلسطین پر کھربوں ڈالر کے بم برسا چکا ہے، جس سے فلسطین خصوصی طور پر غزہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے، 60ہزار سے زائد بچے، بوڑھے، خواتین اور جوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ جبکہ حیرت اس بات پر ہے کہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے والا کوئی ملک سامنے نہیں آرہا۔ حتیٰ کہ قوام متحدہ میں پیش کی جانے والی جنگ مخالف قرار داد کو بھی امریکا بار بار ویٹو کرکے اسرائیل کوتحفظ فراہم کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ حماس کے خاتمے تک اسرائیل کو روکنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ جبکہ دیگر ایٹمی طاقتیں اور بڑی بڑی معاشی قوتیں بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف کھل کر بات نہیں کر رہیں۔ جبکہ غزہ کے حالات یہ ہیں کہ وہاں پر بچے کھچے مکینوں پر جو ظلم ڈھائے جا رہے ہیں، اُس کی چیدہ چیدہ ہی خبریں باہر آرہی ہیں،،، کیوں کہ کسی میڈیا ٹیم کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے، حتیٰ کہ کھانے پینے کی اشیاءکی رسد بھی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے،،، اور امدادی کیمپ بھی اسرائیل و امریکا نے اپنے زیر انتظام کر لیے ہیں،،، اور ریڈ کراس اور اقوام متحدہ کی ٹیموں کو نکال باہر کیا ہے،،، جبکہ اسرائیل کے زیر انتظام کیمپوں کا اگر حال پوچھا جائے تو سیٹلائیٹ سے حاصل شدہ تصاویر کے مطابق وہاں عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح رکھا گیا ہے،،، اور ناکوں چنے چبوا کر ایک وقت کا کھانا دیا جا رہا ہے،،، اُس میں بھی غلاظت کے آثار نمایاں ہیں.... ایسے میں دنیا کے بڑے ممالک کے مردہ ضمیر مزید مردہ ہو رہے ہیں،،، اور کوئی ملک بھی ”بولڈ“ اقدامات کرنے سے قاصر ہے،،، اس لیے اسرائیل کے اس محاصرے کو توڑنے کی غرض سے اب دنیا بھر کی نجی تنظیمیں اپنے تئیں اقدامات کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں،،، تاکہ اپنے اپنے ملکوں کو شرما دلائی جا سکے ،،، مگر بقول شاعر مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی موت آتی ہے پر نہیں آتی کعبے کس منہ سے جاو¿ گے غالب شرم تم کو مگر نہیں آتی خیر بات ہو رہی تھی نجی تنظیموں کی تو ایسے میں، کچھ لوگ اٹھے ہیں جنہیں دنیا ”دیوانے” کہہ رہی ہے۔ یہ وہی ہیں جو ”فریڈم فلوٹیلا میڈلین” پر سوار ہو کر، بھوک اور موت کے اس رقص کو روکنے نکلے تھے۔ ”میڈلین“ نامی یہ جہاز غزہ کی پہلی اور واحد خاتون ماہی گیر ”میڈلین کلاب “ کے نام پر رکھا گیا تھا، جو فلسطینی استقامت اور دنیا میں جاری مظالم کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت کی علامت ہیں۔6جون 2025 کو اٹلی کے سسلی کے شہر کتانیا (Catania) سے روانہ ہونے والی یہ کشتی 2,000 کلومیٹر کا دشوار گزار سفر طے کرکے فلسطین سے محض ڈھائی سو کلومیٹر کی دور پر تھی کہ اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی امدادی کشتی ”میڈلین“ کو غزہ پہنچنے سے قبل ہی روک کر اپنے قبضے میں لے لیا۔ کشتی میں سوار تمام 12 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جن میں عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن بھی شامل ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی نیوی نے کشتی کو گھیر کر اس کا محاصرہ کیا، جہاز کا مواصلاتی نظام جام کر دیا اور تمام افراد کو موبائل فون بند کرنے پر مجبور کیا، جس کے بعد کشتی سے لائیو نشریات بند ہو گئیں اور بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا۔اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ "میڈلین" کو اشدود پورٹ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ لیکن یہ ”مشن“ یقینا دنیا کے اُس ”فیس“ پر پوری طرح ایک طمانچہ ہے، جو اسرائیل و امریکہ کی بربریت کے باعث دبی بیٹھی ہے۔ اور پھر جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ اس جہاز پر عام لوگ سوار نہیں تھے بلکہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکنان اور صحافی سوار تھے، جن میں مشہور سویڈش ماحولیاتی کارکن’ ’گریٹا تھنبرگ “، فرانسیسی،فلسطینی یورپی پارلیمنٹ کی رکن ”ریما حسن (Rima Hassan)“ ، آئرش اداکار ”لیام کنیگھم“، اور دیگر جیسے یاسمین آکار، بپٹسٹ آندرے، تیاگو ایولا، عمر فیاض (الجزیرہ کے نمائندے)، پاسکل ماریراس، یانس مہامدی، سویب اردو، اور سرجیو توریبیو” شامل ہیں۔ان کا مقصد غزہ کے لوگوں کے لیے انتہائی ضروری انسانی امداد پہنچانا تھا، جس میں بچوں کا دودھ، آٹا، چاول، پانی کو صاف کرنے والی کٹس، طبی سامان، بیساکھیاں اور بچوں کے لیے مصنوعی اعضاءشامل تھے۔ یہ صرف سامان نہیں، یہ امید تھی ان لاکھوں بے بس لوگوں کے لیے جو زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ جہاز پر موجود تمام 12 افراد کا عملہ اور 4 سویلین مسافر عدم تشدد کے تربیت یافتہ تھے اور تمام غیر مسلح سفر کر رہے تھے۔ ان کا ہر قدم پرامن طور پر اسرائیلی ناکہ بندی کو چیلنج کرنے کی کوشش تھی تاکہ انسانیت کی پکار سنی جا سکے۔ انہیں معلوم تھا کہ راستہ دشوار ہے، اور ہو سکتا ہے کہ انہیں منزل تک پہنچنے سے روک دیا جائے، جیسا کہ ایک ماہ قبل ”فریڈم فلوٹیلا’“ا یک اور امدادی جہاز ”کونسائنس (Conscience)“ مالٹا کے ساحل کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی ڈرونز کے حملے کا نشانہ بنا تھا اور اس پر سوار چار افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔ پھر اسی قسم کا ایک اور قافلہ جس میں دنیا کے 32 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے اداروں ، کارکنان، سول سوسائٹی کی تحریکوں اور مختلف ملکوں کی ٹریڈ یونینز نے پہلی بار ایسا قدم اٹھایا ہے جو انسانیت کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ ایک عالمی قافلہ جسے ”عالمی مارچ برائے غزہ“ کا نام دیا گیا ہے غزہ کی اس پیاسی اور سسکتی زمین کی طرف پیدل روانہ ہوا۔جسے راستے میں ہی روک لیا گیا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس عالمی مارچ میں شریک ہونے والے افراد صرف عرب یا مسلم دنیا سے نہیں بلکہ اکثریت ان افراد کی ہے جو مغربی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے مظلوم فلسطینی بچوں کی لاشیں تصاویر میں دیکھیں اور خاموش نہ رہ سکے۔ وہ جنہوں نے ماو¿ں کی سسکیاں سنی، یتیموں کی آہیں سنیں اور ضمیر کے بوجھ تلے لبیک کہا۔لیکن دنیا کی ”ایلیٹ کلاس “ نہیں چاہتی کہ وہ جنگ بندی ہو! جی ہاں! یہ وہی ایلیٹ کلاس ہے جس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اس ایلیٹ کلاس کو تو کم و بیش ایک لاکھ فلسطینیوں نے جام شہادت نوش کرکے ایکسپوز کر دیا ہے کہ دنیا میں ”ایلیٹ کلاس“ دنیا کے کسی مذہب کو نہیں مانتا بلکہ یہ خودایک مذہب ہے، اور یہ سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ یعنی اس وقت پوری دنیا کی ایلیٹ کلاس ایک طرف ہے، جن میں پاکستان، بھارت، امریکا، چین، روس، برطانیہ، جرمنی، سعودی عرب ، فرانس یواے ای، یورپ سبھی ممالک کی ایلیٹ کلاس شامل ہیں۔ جبکہ دنیا بھر کے غریب افراد دوسری طرف ہیں۔ جس سے ثابت ہوچکا ہے کہ دنیا بھر میں مذہب کی کہیں کوئی لڑائی نہیں ہے، بلکہ ہرطرف مفادات کی جنگ ہے، مذہب، برادری، علاقائی تعصب یہ سب کچھ اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے ان لڑائیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ان ایلیٹ کلاس کے لوگوں کو سمجھنے میں دشواری ہورہی ہے توآپ اسے پاکستان کے Contextمیں دیکھ لیں،،، جیسے یہاں شوگر مل ایسوسی ایشن کی ”حکومت“ ہے، سیاسی جماعت کوئی بھی اقتدار میں آئے مگر اصل حکومت اسی مافیاکی ہوتی ہے،،، اور ہر حکومت سب سے پہلے اُن کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ پھر ان کے ممبرز ہر جماعت میں موجود ہیں۔ جو اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ اور وقت آنے پر اس قدر بے رحم ہو جاتے ہیں کہ مخالفین کو قتل کروانا یہ اپنے اوپر فرض کر لیتے ہیں،،، یا اسے دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس ایلیٹ کلاس نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سب نتین یاہو کی پالیسیوں کے حامی ہیں۔ یہ سب اسی سکول آف تھاٹ کا حصہ ہیں،،، اور یہ سب کچھ صرف یہاں ہی نہیں بلکہ ہر ملک کی کہانی ہے،،، کہ جہاں بھی اُنہیں اپنے مفادات کھٹائی میں پڑتے نظرآرہے ہوں، وہ بندے مار بھی سکتے ہیں، وہ جانیں بھی لے سکتے ہیں، تباہی مچاسکتے ہیں، بم بھی مار سکتے ہیں، کروز میزائل پھینک سکتے ہیں، ایٹم بم بھی مار سکتے ہیں، کلسٹر بم بھی پھینک سکتے ہیں،،، نسل کشی بھی کر سکتے ہیں۔ اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ 5ہزار، 10ہزار یا ایک لاکھ بندہ مر جائے۔ اُنہیں صرف اپنے مفادات عزیز ہیں، وہ اس کے لیے بڑی سے بڑی جنگ بھی لڑنے کو تیاررہتے ہیں، یہ دولت، طاقت اور اختیارات اکٹھے کرنے کے لیے ہر حدتک جانتے کو تیار رہتے ہیں۔ انہیں طاقت اتنی عزیز ہوتی ہے کہ یہ اپنے مفادات کے لیے، حکمران طبقے کو ساتھ ملا لیتے اور ساتھ ہی مذہبی لوگوں کے ایک گروہ کوبھی ساتھ ملا لیتے ہیں تاکہ اُنہیں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بلکہ یہ تو وہ لوگ ہیں، جو دوملکوں کو آپس میں صرف اس لیے لڑادیتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں اُن کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔ اور رہی بات حالیہ امدادی مشن کی تو یہ یقینا دنیا کی ایلیٹ کلاس کے منہ پر طمانچہ ہے، یہ 57اسلامی ممالک کے منہ پر طمانچہ ہے،،، یہ او آئی سی اور اقوام متحدہ کے منہ پر تھپڑ ہے کہ وہ اسرائیل و امریکا کو جنگ سے باز رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ جس کے باعث آج غزہ کی پٹی ایک ایسے میدان کا منظر پیش کر رہی ہے جہاں انسانیت سسک رہی ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے، ہم براہ راست اس تباہی کو دیکھ رہے ہیں جہاں بھوک، موت اور مایوسی کا ایک نہ ختم ہونے والا رقص جاری ہے۔ بچے بلک رہے ہیں، مائیں نوحہ کناں ہیں، اور ہر گزرتا لمحہ مزید زخموں کا سبب بن رہا ہے۔اور رہی بات ”فریڈم فلوٹیلا میڈیلین“ کی تو میں نے ان لوگوں کے ایک دو انٹرویو سنے،،، یقین مانیں،، ان کے دلوں میں انسانیت کی محبت اس قدر پختہ تھی کہ انہیں کوئی رکاوٹ روک نہیں سکتی تھی۔ یہ صرف انسانی امداد نہیں پہنچا رہے، بلکہ یہ دنیا کو ایک پیغام دے رہے تھے کہ انسانیت ابھی مری نہیں، ضمیر ابھی زندہ ہے۔ یہ فلوٹیلا یقینا ہمیں یاد دلائے گا کہ جب انسانیت خطرے میں ہو تو خاموش رہنا سب سے بڑا جرم ہے۔ یہ ہمیں مجبور کر رہا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، اور اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں جو غزہ میں جاری ہے۔ کاش ان ”دیوانوں“ کا جذبہ ہمارے دلوں میں بھی انسانیت کی شمع روشن کر دے اور دنیا کے 8ارب انسانوں کو ہوش آجائے،، جو اس وقت اسرائیل کے خوف میں مبتلاءہیں!