اسرائیل کو نہ روکا گیا تو مکہ اور مدینہ کوکون بچائے گا؟

دنیا حیران ہے کہ ایران اسرائیل جنگ میں بڑے بڑے اپ سیٹ ہو رہے ہیں۔گزشتہ 5، 6دہائیوں میں جو اسرائیل سب کے سامنے ”جن“ بنا ہوا تھا، اُسے پہلی بار حالیہ جنگ میں جتنا نقصان پہنچا ہے شاید یہ اگلی کئی دہائیوں تک یاد رکھا جائے گا، شایداس کے بعد اب دنیا میں حالات بدل جائیں ۔کیوں کہ اس سے پہلے 13جون کو جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور تمام ایرانی صف اول اور دوم کی عسکری قیادت کو اُڑا کر رکھ دیا تو ایرانیوں سمیت پوری مسلم اُمہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی کہ نہ جانے اب اُن کے ساتھ کیا ہونے والا ہے،،، مگر پھر اچانک ایران کو ”غیب“ سے مدد ملی اور سب کچھ اُلٹ ہوگیا۔ اسرائیلی دارالحکومت تل ایبب ایرانی میزائیلوں کے حملوں سے گونج اُٹھا، متعدد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، حتیٰ کہ اسرائیل کے دفاعی سسٹم ”آئرن ڈوم“ کو بھی جام کر دیا گیا۔ اور پھر اسرائیل یہاں تک جھک گیا کہ اُسے امریکا سے براہ راست مدد مانگنا پڑی۔ لہٰذاتادم تحریک دونوں جانب سے حملے جاری ہیں،،، لیکن اس مذکورہ جنگ سب سے خاص بات یہ ہے کہ پہلی بار سعودی فرمانروا محمد بن سلمان نے ایران کے حق میں بیان دے کر مغربی دنیا کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ اسرائیلی حکومت ایران سے تنازع بڑھانا چاہتی ہے تاکہ امریکا بھی اس جنگ میں شامل ہو۔سعودی عرب ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہے، آج پوری اسلامی دنیا ایران کی پشت پر کھڑی ہے۔انہوں نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے ٹیلی فون پر کافی دیر بات کی ،،، اور ایران کو حوصلہ دیا کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اب میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا ، کہ اس کے بعد یہ ”غیبی مدد“ سعودی عرب کی جانب سے دی گئی، پاکستان کی جانب سے دی گئی یا چین کی جانب سے؟ کیوں کہ امریکی و انڈین میڈیا دبے الفاظ میں چین اور پاکستان کا نام ہی لے رہے ہیں،،، اور کہہ رہے ہیں کہ ایران پاکستان کی سرحد ایک ہزار کلومیٹر ہے،،، لہٰذااس خدشے کو رد نہیں کیا جاسکتا ، کہ پاکستان ایران کی مدد کو نہیں پہنچا۔ لیکن یہاں یہ بتاتا چلوں کہ جو بھی ہوااس میں ایران کا عمل قابل تحسین ہے،،، کہ اُس نے جرا¿ت کا مظاہرہ کیا ہے۔ یعنی ایران دنیا کے دوسرے بڑے ”پنٹاگون“ تک پہنچ گیا۔ ایران نے دنیا کو بتا دیا کہ اسرائیل Unbeatenنہیں ہے، اس سے لڑا جا سکتا ہے۔ خیر چہ جائے اس کے کہ ایران کی انٹیلی جنس ناکامیوں کی ایک لمبی فہرست ہے،،، جیسے اسرائیل نے ایران کے اندر نقب کیسے لگائی؟ کس طرح ڈرونز بنانے چلانے والی خفیہ فیکٹری تہران کے قریبی علاقے اسفج آباد میں قائم کی گئی، ڈرونز چلانے والی گاڑیاں وہاں کیسے اسمگل ہوئیں۔ اسرائیلی کمانڈوز کے خصوصی دستے کو ایران کی جوہری تنصیبات بارے حساس معلومات کس نے فراہم کیں۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی جو پہلے ایرانی جوہری پروگرام کے محفوظ ہونے، عالمی معیار پر پورا اترنے کا اقرار کرتے تھے اسرائیل کے حملے سے ایک روز قبل اچانک انکی رائے کیوں تبدیل ہوئی اور انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام بارے تحفظات کا اظہار کس کے کہنے پر کیا۔ اہم ترین اور مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ایران کی آستین میں کون سا سانپ چھپا بیٹھا تھا جسکی معلومات، سہولت کاری کے نتیجے میں اسرائیل ایران کے اندر ایک خفیہ اڈا بنانے میں کامیاب ہوا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی اور ایک بڑا دفاعی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کارروائی میں ایران کی مرکزی فوجی قیادت، سینئر ترین ایٹمی سائنسدانوں کی پوری ٹیم شہید کردی گئی مگر کسی مسلمان حکمران کا ضمیر نہیں جاگا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران پر حملے کے بعد جس ایک عالمی شخصیت سے سب سے پہلے ٹیلیفونک رابطہ کرکے اسے ایران پر حملے بارے بریفنگ دی وہ کوئی اور نہیں نریندر مودی تھا، آخر کیوں؟ تجارت کے عوض امن کے نعرے میں لپٹے امریکہ، اسرائیل، بھارت گٹھ جوڑ کے خفیہ گھناﺅنے عزائم کیا ہیں؟ کیا یہ گریٹر اسرائیل کی تکمیل کا مرحلہ تو نہیں ہے؟ جسے عملی جامہ پہنانے کے لیے نتین یاہو میدان عمل میں آچکے ہیں۔ اور اگر خاکم بدہن یہ کامیاب ہو جاتے تو پھر کیا ہوتا؟ لیکن فی الوقت ہمیں شکر کرنا چاہیے کہ اسرائیل کو پہلی بار منہ کی کھانی پڑی ہے، جس کے بعد اسرائیل اب یقینا مذاکرات کی میز پر آجائے گا،،،وہ گزشتہ 50سال سے اتنا مضبوط ہوگیا تھا، کہ وہ علاقے کا بدمعاش بنا بیٹھا تھا، اور یہ بات بھی کافی حد تک درست ہے کہ اسرائیل ایران سے زیادہ طاقتور ملک ہے، لیکن حالیہ جنگ کے بعد اُسے علم ہو گیا ہے کہ وہ محض آٹھ دس بڑے میزائلوں کی مار ہے، کیوں کہ وہ رقبے میں چھوٹا ملک ہے۔ اُس کے آئرن ڈوم دفاعی نظام کو اگر جام کر دیا جائے تو یقینا اسرائیل کا حال بھی فلسطین جیسا کیا جاسکتا ہے،،، جبکہ اب تو یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ اسرائیل کو سعودی حمایت حاصل ہے،،، بلکہ سعودی عرب جان چکا ہے، کہ گریٹر اسرائیل کے نقشے میں سعودی عرب بھی موجود ہے،،، اور سعودی عرب جانتا ہے کہ اگر ایران پر اسرائیلی حملہ ہوا تو اُس کے بعد سعودی عرب کی باری بھی آسکتی ہے۔ اور اگر سعودی عرب کی باری آگئی تو کیسے ممکن ہے کہ اُس سے مکہ اور مدینہ بچ جائیں؟ لہٰذامکہ اور مدینہ کو بچانے کے اسرائیل کو یہیں روکنا ضروری ہے۔ اس کے لیے یقینا مسلمان ملکوں کی جانب سے بددعائیں دینے کا سلسلہ بند کرکے عملی کام کی طرف جانا چاہیے، اپنے دفاع کو ہر حال میں مضبوط بنانا چاہیے،،،اور پھر یہ فطرت کا اصول ہے کہ تلوار ہمیشہ ڈھال سے زیادہ طاقتور بنتی ہے، چونکہ ڈھال نے تلوار کو روکنا ہوتا ہے، اس لیے ڈھال بنانے والوں کی کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ ”دفاع“ مضبوط سے مضبوط تر رہے۔ لیکن حالیہ دور میں جتنی ترقی ”تلوار“ بنانے میں ہوئی ہے، اتنی ترقی ”ڈھال“ بنانے میں نہیں ہوئی۔ یعنی جتنی ترقی حملہ کرنے والے ہتھیار بنانے میں ہوئی ہے، اتنی ترقی ڈیفنس سسٹم کو مضبوط بنانے میں نہیں ہوئی۔ مسلمان ملکوں بشمول پاکستان سب کو اپنا دفاعی نظام مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،،، اور معاشی طور پر بھی امریکا و اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے،،، کیوں کہ اسرائیل کا اگر نقصان ہوا ہے تو اسے پورا کرنے کے لیے امریکہ موجود ہے۔ ایران کا ایک نقصان تو ناقابلِ تلافی ہے۔ یہ رجالِ کار کی شہادت ہے۔اور دوسرا وہ آنے والے دنوں میں مزید معاشی پابندیوں کا شکار ہوگا،،، اس حوالے سے بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،،، اس کے لیے او آئی سی کا فوری اجلاس لازم ہے۔ سب سے اچھا تو یہ ہوتا کہ اس اجلاس میں ایران کی حمایت کا اعلان کیا جا تا اور یہ کہا جاتا کہ او آئی سی کے کسی ایک رکن پر حملہ پورے عالمِ اسلام پر حملہ تصور ہو گا۔ حملہ کرنا یا نہ کرنا، یہ اگلا مرحلہ ہے مگر ایک موقف تو سامنے آئے۔ مجھے ابھی بھی اس کا کوئی امکان اس وقت دکھائی نہیں دے رہا۔ وجہ وہی قومی ریاستی مفادات ہیں۔ خدشہ یہی ہے کہ جب امریکہ اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہے تو یہ اعلانِ جنگ بالواسطہ امریکہ کے خلاف ہوگا اور ہم اس دشمنی کی تاب نہیں لا سکتے۔ سادہ لفظوں میں ہمارے اس خواب کی سرِدست کوئی تعبیر نہیں کہ امتِ مسلمہ ایک سیاسی وحدت ثابت ہو۔ لہٰذاکہیں نہ کہیں سے آپ کا دفاع کمزور پڑ جاتا ہے۔ جسے مضبوط کرنے کے لیے ہمیں چین و روس کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہوگا،،، ویسے تو چین کی پالیسی یہ ہے کہ اسے کسی تصادم میں نہیں الجھنا۔ وہ ایران کی اقتصادی بحالی میں تو معاون ہو سکتا ہے‘ عسکری معرکے میں نہیں۔ اور پھر روس یا چین کی اسرائیل سے کوئی دشمنی نہیں۔ اس کے باوجود اگر چین اور روس چاہیں تو سفارتی سطح پر وہ دباﺅ پیدا کر سکتے ہیں جو امریکی پیش قدمی کو موخر کر دے۔ اگر انہیں او آئی سی کی حمایت بھی مل جائے تو اس سے کچھ آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔کیا روس اور چین ایسا کریں گے؟ میرا خیال ہے براہِ راست تصادم سے بچتے ہوئے وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ اس وقت یورپ امریکہ سے خوش نہیں ہے۔ ممکن ہے وہ بھی حسبِ سابق مشرقِ وسطیٰ میں اس گرم جوشی کے ساتھ امریکہ کا ساتھ نہ دے۔ پھر یورپ کے عوام بھی اسرائیل کے بارے میں اب اچھی رائے نہیں رکھتے۔ جمہوری حکومتیں عوامی جذبات کو ایک حد سے زیادہ نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ عربوں کو بھی یہ اندازہ ہو گا کہ ایک طاقتور اسرائیل کل ان کے لیے کیا مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے امریکہ آسانی سے اپنا مقصد حاصل نہیں کر پائے گا۔اس لیے چین کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ وہ ایران، روس، ترکی وغیرہ جیسے ممالک کے بلاک کی کھل کر حمایت کرے تاکہ دنیا میں توازن قائم ہو سکے۔ بلکہ اب تو چیزیں بہت زیادہ واضح ہونا شروع ہوگئی ہیں اور بڑے بڑے ملکوں کے بھرم بھی ٹوٹنا شروع ہوگئے ہیں کہ امریکا اسلحے میں دنیا سے 50سال آگے ہے، چین نے یہ بھرم بھی توڑ دیا ہے۔ اور رہی پاکستان کی بات توپاکستان کو بھی اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے،،، میرے خیال میں وہ دور بھی ختم ہونے والا ہے کہ جس نے پاکستان میں سے اسرائیل کی مخالفت کی ہے پھر وہ زندہ نہیں بچا،،، ذوالفقار علی بھٹو کو محبِ اسرائیل افسران نے ہی پھانسی کے تختہ دار تک پہنچایا کیوں کہ وہ بھی تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کر چکے تھے جسکی وجہ سے امریکہ و اسرائیل کی نیندیں اُڑی ہوئی تھیں، پھر ڈاکٹر عبدالقدیر کی بے بسی سب کے سامنے ہے، انہوں نے بھی ایران کو اسرائیل کے خلاف جو ہری ہتھیار بنانے میں مبینہ طور پر مدد کی تھی، پھر مصری صدر محمد المرصی کا حال سب کے سامنے ہے، جنہوں نے اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تھا۔ خیر بات پاکستان کی ہو رہی تھی تو اسرائیل کا وجود یقینا پاکستان کے لیے بھی خطرے کا باعث ہے،،، پاکستان کے اندر کئی دہشت گرد کارروائیوں میں موساد اور ”را“ کی مشترکہ کارروائیوں کے ثبوت ملتے ہیں،،، پھر حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت کی 6ائیر بیس ایسی تھیں جہاں پر اسرائیلی اہلکار موجود تھے، جو اپنی نگرانی میں ڈرون اُڑا کر پاکستان بھیج رہے تھے۔ اس لیے پاکستان کو بھی کھل کر اسرائیل کے خلاف اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرنا چاہیے۔ بہرکیف اس بار اسرائیل کو دنیا کی اتنی حمایت ملی بھی نہیں جتنی اُسے ملنی چاہیے تھی، یا جتنی اُسے حماس کو مارنے کے حوالے سے ملی تھی۔ اس لیے یہ وقت ہے کہ چین کو اس وقت خطے میں توازن قائم رکھنے کے لیے کھل کر سامنے آنا ہوگا۔ ورنہ ہمارا مکہ مدینہ بھی مسجد اقصیٰ کی طرح یہود و ہنود کے زیر اثر چلا جائے گا اور پھر.... کچھ نہیں بچے گا!