امریکا سے وسیع تر قومی مفاد میں ”مراعات “حاصل کرنے کا وقت!

یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ چڑھتے سورج کو سلام کرتا ہے، ورنہ وہ اپنے سے حقیر شخص کو دھتکار دیتا ہے۔ یہی حال اس وقت امریکا اور پاکستان کا ہے کہ جب سے پاکستان نے پاک انڈیا جنگ میں اپنی بھرپور قوت کا مظاہرہ کیا ہے، امریکا نے بھی ہمیں گھاس ڈالنا شروع کردی ہے،،، خواہ اس وقت امریکہ کو ہم سے ایران اسرائیل کی جنگ ہی کیوں نہ مدد لینا پڑی مگر یہ بات خوش آئندہے کہ ہمیں بھی اس قابل سمجھا گیا ہے! اور پھر سپرپاور کے صدر کے ساتھ ہمارے فیلڈ مارشل کی دوگھنٹے سے زیادہ دورانیے کی ملاقات میں یقینا بہت سی باتوں کو موضوع بحث بنایا گیا ہوگا،،،جس میں ایران اسرائیل جنگ سرفہرست جبکہ پاک بھارت تنازعات نمبر دو، مسئلہ افغانستان نمبر تین، اور یقینا چین کا پاکستان میں بڑھتا اثرو رسوخ نمبر 4پر موضوع بحث بنا ہوگا۔ ویسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف کی یہ پہلی ملاقات ہے،اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پاک بھارت اور ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں ہر ملک اس بات چیت کو اپنے زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ بھارت نے اس کاپاگل پن کی حد تک اثر لیا ہے۔اس کی حکومت مخالف سیاسی جماعتیں ہی نہیں، اپنوں کی نظر میں بھی وزیراعظم مودی کا کردار ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے،اور اس کے عالمی کردار پر سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے۔ خیر اس حوالے سے تو بعد میں بات کریں گے لیکن اس وقت پاکستان کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ وسیع تر قومی مفاد میں اپنے تعلقات کو آگے بڑھائے، ایران اسرائیل جنگ میں ایران کو رام کرنے کے عوض پاکستان میں اپنے قرضوں کو ری شیڈول کروائے، یا کسی حد تک معاف بھی کروا سکتا ہے۔ تاکہ عوام کو سکھ کا سانس آئے۔ یا پھر مسئلہ کشمیر کو حل کروانا چاہیے،،، جسے سوچ کر ہی بھارتی وزیر اعظم مودی نے عین ملاقات کے دن امریکی صدر کو فون کھڑکا دیا تھا کہ جیسے وہ شکوہ کر رہے ہوں کہ میرے مخالف کی کوئی بھی بات میری منشاءکے خلاف نہیں ہونی چاہیے۔ مطلب! پاکستان کچھ بھی منوا سکتا ہے،،، کیوں کہ اس سے پہلے بھی پاکستان ایسے مواقعوں سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اُٹھا سکا۔ جیسے امریکا کو افغانستان میں 20سال بعد ”فیس سیونگ“ چاہیے تھی، اور بادی النظر میں پاکستان نے اس حوالے سے امریکا کی مدد کی تو ایسے میں پاکستان اپنی بہت سی شرائط منوا سکتا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے سیاستدانوں میں اتنی جرا¿ت کہاں کہ وہ امریکا کو اپنے نرغے میں لا سکیں! آپ یقین مانیں یہ افغان معاملہ تو تازہ ہی ہے آپ 60کی دہائی میں چلے جائیں جب پاکستان کی دنیا بھر میں خاصی اہمیت تھی، اُس وقت پاکستان نے امریکا اور چین کے تعلقات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا مگر بدلے میں پاکستانی حکمران ذاتی مفادات کے بجائے امریکا سے کچھ حاصل نہ کر سکے۔ اُس وقت پاکستان کے صدر یحییٰ خان تھے اور امریکی صدرنکسن تھے۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر تھے۔ ہنری کسنجر خود کہتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے گھبرا رہے تھے کہ اب پاکستان نہ جانے اس کے بدلے اُن سے کیا ڈیمانڈ کرے گا، مگر پاکستانی سیاستدانوں نے ماسوائے ذاتی تعلقات کے اس قوم کے لیے کچھ حاصل نہ کیا! بقول شاعر رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئے حق بات لب پہ آئی تو ہم بے ہنر ہوئے اور اب بھی ایسی ہی صورت حال ہے، اب اگرہمیں ایران اسرائیل جنگ میںکلیدی کردار ادا کر نے کے لیے کہا گیا ہے تو ہمیں بھی پاکستان کے وسیع تر تناظر میں دیکھنا ہوگا، اگر دیکھا جائے تو اس وقت ہمارے دو ہمسایہ ملک آپس میں لڑ رہے ہیں،،، یعنی ایران تو ہمسایہ ملک ہے ہی، مگر امریکا بھی 2001سے ہمارا ”پڑوسی “بنا ہوا ہے۔اور عام طور پر کہا جاتاہے کہ ہمسائے نہیں بدلے جاسکتے، اسی لیے فی الوقت آپ یہی سوچیں کہ امریکا نے اگر کہا ہے کہ وہ ایران کو سمجھائے اور فیس سیونگ کے لیے تھوڑے بہت گھٹنے Bentکر لے تو پاکستان کے لیے یہ سنہری موقع ہے، کہ وہ وسیع تر مفادات کی خاطر پاکستان کی ترقی کے لیے کوئی بڑی ڈیمانڈ کرے۔ ورنہ یہ دورہ بھی ماضی کا حصہ بن جائے گا اور ہم کہتے پھریں گے کہ اُس وقت ہمارے پاس اپنی باتیں منوانے کا بہترین موقع تھا۔ بہرحال اس وقت ٹرمپ اور عاصم منیر ملاقات کے بعد اس کے نتائج واثرات کا دنیا بھر میں انتظار شروع ہوگیا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دوسرا دورہ امریکا ہے۔اس سے قبل وہ آرمی چیف کا منصب سنبھالنے کے بعد دسمبر2023ءمیں امریکا گئے تھے،جہاں اس وقت کی جوبائیڈن انتظامیہ کے حکام سے ان کی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔لیکن حالیہ دورے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے،، کیوں کہ اس ملاقات کے نہ صرف خطے میں بلکہ اس سے باہر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہونگے۔اس ملاقات کے تناظر میں اب وقت آگیا ہے کہ امریکی قیادت اگر خطے میں واقعی پائیدار امن چاہتی ہے تو اسے یران اسرائیل جنگ بندی سمیت بھارت کو مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی میز پر لاتے ہوئے اپنے وعدے کی پاسداری کرنی چاہئے۔ بہرکیف امریکا کو اس خطے میں اپنے مفادات کو عزیز رکھنے کے لیے پاکستان کی ”ضروریات “ کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے ، اور یہ جاننے کےلئے کسی کیمسٹری کی ضرورت نہیں کہ آنے والے دنوں میں امریکا کو پاکستان کی مزید ضرورت پڑنے والی ہے،،، اور ایران ، افغانستان ، بھارت وغیرہ کے مسائل بھی دنوں میں حل ہونے والے نہیں ہیں،،، اور پھر یہاں پر چلنے والی 80فیصد سے زائد این جی اوز امریکا کی فنڈنگ سے چل رہی تھی، اُس کے بحال ہونے کے چانسز بھی بڑھ گئے ہیں،،،کیوں کہ ہزاروں طلبہ اُسی کے قائم کر دہ سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور درجنوں قسم کے پراجیکٹ یو ایس ایڈ کے تحت ہی چلائے جارہے ہیں۔ اور تواور پاکستان میں آئے حالیہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے اکٹھی ہونے والی رقم کا 70فیصد امریکا اور اُس سے جڑے اداروں نے ادا کیا ہے اور 30فیصد باقی دنیا نے ادا کیا ہے۔ حتیٰ کہ امداد کرنے والوں میں چین بھی امریکا سے پیچھے ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ بھی ہے کہ امریکا ایسا کیوں کرتا ہے؟ کیا وہ واقعی پاکستان کے معاملے پر شاہ خرچ ہے یا پاکستان کی مدد کرنا اُس کی مجبوری ہے؟ ان سوالات کو ایک طرف رکھ کر سب سے پہلے یہ سوچیں کہ آج دنیا میں کونسا ملک ہے جو بغیر کسی مفاد کے دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے؟ یقینا آپ کو کوئی بھی ملک ایسا نہیں ملے گا۔ یہی حال پاکستان اور امریکا کا ہے۔تاریخ گواہ ہے افغان روس جنگ ہویا دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ امریکا نے پاکستان کو جہاں کھڑا کیا ، پاکستان نے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر اپنی ”ذمہ داری“ پوری کی۔ اس کے علاوہ امریکا کو پاکستان سے یہ خطر ہ ہے کہ وہ اگر پاکستان کو اس کے حال پر چھوڑتا ہے تو اُسے افغانستان میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ یایہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان روس و چین کے بلاک کی طرف رخ کر سکتا ہے۔ یا یہ بھی سمجھ لیں کہ پنٹاگون پاکستان کو کبھی اکیلا اس لیے نہیں چھوڑے گا کہ خطے میں اُسے اس طرح کا اتحادی دوبارہ نصیب نہیں ہوگا! اس لیے امریکا چاہ کر بھی پاکستان کے ساتھ مکمل قطع تعلق نہیں ہو سکتا ہے، اور پھر رہی پاکستان کی بات تو وطن عزیز کا امریکا کے ساتھ جڑے رہنا تو ویسے ہی بہت بڑی مجبوری ہے ۔ پاک امریکہ دوستی کے معمار جنرل ایوب خان نے تنگ آکر :Friends not Masters کے عنوان سے کتاب لکھی۔ جنرل ایوب نے کتاب میں رونا رویا کہ امریکہ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کے بجائے دھونس جماتاہے۔با الفاظ دیگر پاکستان کے قومی مفادات اور عوامی جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرتاہے اور نہ ان کی پروا کرتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف، آصف علی زرداری اور نوازشریف کے دور میں جس تحقیر آمیز لب ولہجے میں امریکی حکام ہدایات جاری کیا کرتے تھے انہوں نے پاکستانیوں کو بہت رنجیدہ کیا۔ افغانستان کی جنگ میں پاکستان کا بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا لیکن امریکی حکام صرف اپنے مفادات کی تکمیل پراصرار کرتے رہے۔ بھول کون سکتاہے کہ تسلسل کے ساتھ ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتاتھا۔ پاکستانی حکام کو دورغ گو اور پیسہ کے پجاری قراردیاجاتا۔ انہیں طعنہ دیاجاتاکہ وہ افغانستان میں دوہراکھیل کھیل رہے ہیں۔ امریکہ سے پیسہ بھی ا ینٹھ رہے ہیں اور ڈیلیور بھی نہیں کررہے۔ عمران خان برسراقتدارآئے تو یہ منظر نامہ بدلنے لگا۔ بتدریج پاک امریکہ تعلقات بہترہوئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان میں گاڑھی چھننے لگی۔افسوس! صدر بائیڈن کے برسراقتدار آنے کے بعد یہ صورت حال بدل گئی۔عمران خان نے نچلے درجے کے امریکی اہلکاروں کے ساتھ ملاقات سے انکار کردیا۔ حتیٰ کہ سی آئی اے کے سربراہ کے دورے پاکستان میں ملاقات کی درخواست کی گئی تو انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنے ہم منصب سے ملیں۔ امریکی حکام ایسے کسی پروٹوکول کے عادی نہیں!چند برس قبل سابق امریکی سفارت کار کس ڈینس کی پاکستان امریکہ تعلقات کے حوالے سے ایک دلچسپ کتاب The United States and Pakistan: 1947-2000 کے عنوان سے چھپی۔ مصنف کے بقول امریکی سفارت خانے کی تقریبات میں اعلیٰ پاکستانی حکام کی شرکت معمولی کی بات تھی۔ وزیراعظم لیاقت علی خان تو سفارت کے تھرڈ سیکرٹری کے استقبالیہ میں بھی آجاتے تھے۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے جنہوں نے پاکستانی وزارت خارجہ اور حکومت کو غیر ملکیوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں ایک ضابطہ کا پابندکیا جس کی انہیں قیمت چکانا پڑی۔ لہٰذاہمارے فیلڈ مارشل کو بھی چاہیے کہ وہ ماضی میں ہوئے بلنڈرز سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے پاکستان کے لیے کچھ کرجائیں تاکہ اُنہیں حقیقی معنوں میں یاد رکھا جائے۔