اشرافیہ کو ”کم از کم اُجرت“ والا قانون بھی کھٹکنے لگا!

چاروں صوبوں اور مرکز میں ”الحمد اللہ“ آئی ایم ایف کے ”تعاون“ سے بجٹ پیش کر دیے گئے، مجال ہے کہ غریب کو کہیں سے بھی کوئی ریلیف ملاہو۔ بلکہ متعدد قسم کے نئے ٹیکس لگا کر بجلی و پٹرول کو مزید مہنگا کرنے کے منصوبے پیش کیے گئے۔ بلکہ کسی صوبے یا مرکز نے عام آدمی پر ظلم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بلکہ اب تو بجٹ بنا کر سارا ملبہ آئی ایم ایف پر ڈال دیا جاتا ہے،،،، اور ہاتھ کھڑے کر لیے جاتے ہیں۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ عام آدمی کو اگر کہیں سے ریلیف دینے کی کوشش بھی کی جاتی ہے تو اُس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بیوروکریسی اور مافیاز بن جاتے ہیں۔ یعنی آپ پنجاب ہی کو دیکھ لیں جہاں انڈسٹریز کو پابند کیا گیا ہے کہ کم سے کم اُجرت کو 37ہزار سے بڑھا کر 40ہزار روپے کر دیا جائے۔ مگر غریب کی اتنی اچھی قسمت کہاں کہ وہ اُس پر 3000روپے کا ماہانہ اضافہ بھی حلال ہو جائے،،، بلکہ اشرافیہ کا ظرف دیکھیں کہ یہ اضافہ بھی اُنہیں چین نہیں لینے دیتا کہ بقول شاعر کیسے کیسوں کا ظرف کھلتا ہے مفلسی تیری مہربانی سے یعنی گزشتہ دنوں سیکرٹری لیبر و چیف سیکرٹری پنجاب نے منظوری کے لئے نوٹیفکیشن وزیر اعلیٰ کو بھیجا ہے کہ 1983 سے ہر سال ”ہنر مند افراد کے لیے الگ سے اجرت مقرر کرنے والا نوٹیفکیشن عمل درآمد میں مشکلات پیدا کرتا ہے(ویسے یہ دونوں موصوف حضرات بیچ میٹس ہیں)۔پہلے مذکورہ نوٹیفکیشن کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں کہ ہنر مند افراد کے لیے الگ سے اُجرت مقرر کرنے والا نوٹیفکیشن عمل درآمد میں مشکلات پیدا کرتا ہے کیونکہ ”ہنر مند فرد“ کی تعریف مختلف صنعتوں اور عہدوں میں یکساں طور پر لاگو نہیں ہو سکتی۔ اس سے قانونی تنازعات جنم لیتے ہیں اور آجرین کو اپنے ملازمین کی درجہ بندی، تنخواہوں کی تنظیم اور قانون کی پیروی میں دشواری پیش آتی ہے، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (SMEs) کو۔نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت کو تجویز کیا گیا ہے کہ حکومت صرف غیر ہنر مند مزدوروں کے لیے بنیادی کم از کم اجرت کی سفارش بورڈ کو بھیجے تاکہ مالی سال 2025-26کے لیے یہ اجرت مقرر کی جا سکے۔ اب اگر نوٹیفکیشن کی منظوری دے دی جاتی ہے تو اس سے بقول شخصے کم از کم دو کروڑ ہنر مند متاثر ہوں گے۔ اب یہاں سب سے پہلے بتاتا چلوں کہ بجٹ میں پنجاب حکومت کم از کم ماہانہ اُجرت کے حوالے سے جو نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے،وہ تین طرح کے ورکرز کے لیے ہوتا ہے،،، پہلی قسم غیر ہنر مند، دوسری قسم ہنر مند افراد جبکہ تیسری Highly Skilled افراد کے لیے ۔ جبکہ پنجاب میں 102انڈسٹریز ہیں، اور یہ پے اسکیل ان انڈسٹریز پر لاگو ہوتا ہے،،، جبکہ ان کے مالکان اور ہماری بیوروکریسی کی مافیاز کی ملی بھگت سے عوام سے حق بھی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ہنر مند فرد جو انڈسٹری سے 70، 80ہزار تنخواہ لے رہا ہے،،، تو اس نوٹیفکیشن پر اگر حکومت عمل درآمد کرتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لیتی ہے تو ان ”ہنر مند“ افراد کی تنخواہیں بھی 40، 50ہزار کے درمیان آجائیں گی۔ اور پھر ایک اور حیرت والی بات دیکھیں کہ صوبہ پنجاب جو اپنے آپ کو دوسرے صوبوں سے ٹیکنالوجی سمیت ہر لحاظ سے بہتر سمجھتا ہے،،، وہاں یہ قانون کہ ملازمین کو تنخواہ بذریعہ کراس چیک دی جائے گی، پر سرے سے عمل درآمد ہی نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ اس حوالے سے سندھ ہم سے بہتر ہے۔۔۔ پنجاب والے شاید اس لیے تنخواہ کیش میں دیتے ہیں کہ وہ اس کم سے کم اُجرت والے قانون پر عمل درآمد نہیں کرتے اور اپنے ملازمین کو کم سے کم تنخواہ 20، 22ہزار روپے دے کر ٹرخا دیتے ہیں۔ اور کم علم ملازمین اس خوف سے شور نہیں مچاتے کہ اُن کے پاس دوسری نوکری نہیں ہوتی۔ اور وہ اس نوکری کے ہاتھ سے جانے سے بھی ڈرتے ہیں۔ میرے خیال میں اگر کم سے کم اُجرت والے قانون کے حوالے سے پنجاب حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو کم از کم اس قانون پر ہی عمل درآمد کروا دے۔ لیکن بادی النظر میں یہاں مافیا کا اور حکومت کا گٹھ جوڑ نظر آتا ہے۔ اور پھر عام آدمی کے لیے ایک اور مسئلہ بھی اشرافیہ نے چپکے سے کھڑا کر دیا ہے جس کے مطابق جو ٹھیکیدار (وینڈر) حکومت کو سامان مہیا کرتا تھا، اُسے قوانین کے مطابق 30دن کے اندر پیمنٹ کرنے کا ادارہ پابند ہوتا تھا، اگر پہلے کہیں سے پیمنٹ لیٹ ہوتی تھی تو وہ ادارہ شکایت درج کرواتا تھا اور متعلقہ محکمے ادارے کو پابند کرتے تھے کہ ان کی پیمنٹ ریلیز کی جائے۔ جبکہ اب نئے نوٹیفکیشن کے مطابق اس قانون کو سرے سے ہی ختم کردیا گیا ہے تو ایسے میں عام وینڈر جس میں عام آدمی براہ راست منسلک ہے وہ کہاں جائے؟ اُس کی تو روزی روٹی ہی ختم کردی گئی ہے۔ اور پھر ایسا بھی نہیں ہے کہ ان پر نظر رکھنے کے حوالے سے ادارے موجود نہ ہوں، بلکہ عالمی بینک کے تعاون سے پاکستان میں وفاقی سطح پر2004 اور پنجاب میں 2014 اور دیگر صوبوں میں پیپرا، (پروکورمنٹ ریگولر اتھارٹی) نام سے ادارے بنائے گئے ہیں، تاکہ مرکزی اور صوبائی حکومت اور اس کے ماتحت تمام اداروں میں تمام پروکورمنٹ، جن میں اشیائ، ورکس، اور سروسز کے شعبے جات شامل ہیں۔ پیپرا رولز کے تابع کام کرتی ہیں۔ ان رولز کے تحت تمام حکومتی اداروں کے لئے لازمی ہے کہ وہ کسی بھی مد میں پروکورمنٹ کرتے وقت یقینی بنائیں کے ان کے پاس متعلقہ خریداری کے لئے بجٹ موجود ہے اور یہ تمام ادارہ جات متعلقہ پروکورمنٹ کے بعد 30 دن کے اندر اندر متعلقہ ٹھیکیدار کو اس کے تمام بلوں کی ادائیگی یقینی بنانے کے ذمے دار بھی ہیں۔ پنجاب کے چیف سیکرٹری جو کہ پیپرا کے بطور چیئرمین تمام امور کی انجام دہی کے برائے راست ذمہ دار ہیں نے 30 اپریل 2025ءکو پیپرا رولز میں چپکے سے ترمیم کرتے ہوئے، متعلقہ ٹھیکیدار کو 30 دن کے اندر اس کے بلوں کی ادائیگی کو یقینی بنانے والے پیپرا رول 62 کو سرے سے ہی ختم کر دیا ہے۔ یوں عالمی بینک کی جانب سے شفافیت کو یقینی بنانے اور ٹھیکیدار کو ادائیگی کو یقینی بنانے کے نظام کی مکمل نفی کر دی ہے۔ پنجاب کے چیف سکریٹری کو چائیے کہ وہ صوبائی حکومت کے اداروں کو بجٹ کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور پیپرا رولز 62 کو بحال کر دیں۔ اگر ان کے لئے یہ ممکن نہیں تو پھر پیپرا پنجاب کو بند کر دیں۔ کیونکہ اگر اس ادارے نے ٹھیکیدار کے مفاد کو ان کے بلوں کی 30 دن کے اندر یقینی نہیں بنانا تو پھر عالمی بینک کی امداد سے بنائے گئے ادارے کو مکمل طور ختم کرتے ہوئے صوبے میں عمل طور پر جنگل کے قانون رائج کر دیں۔ یقینی طور پر ان کے اس سیاہ کارنامہ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ بہرحال قصہ مختصر کہ اس وقت حکومت نجی سرمایہ دار کے ہاتھوں میں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ اور سرمایہ دارانہ سوچ رکھنے والے سیاست دانوں کی جانب سے۔محکمہ لیبر و افرادی قوت کے قوانین پر اثرانداز ہوتے ہوئے نت نئے قوانین کے ذریعے عملی طور محکمہ لیبر کو بے دست و پاہ کر رکھا ہے۔ جس کے باعث نجی شعبہ میں کام کرنے والے ملازمین کے لئے کم از کم تنخواہ کا قانون پہلے ہی صرف مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ اور عملی طور پر تقریبا مفلوج ہو چکا ہے۔ لہٰذاوزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے گزارش ہے کہ وہ اس طرف بھی نظر کرم کریں اور چیف سیکرٹری صاحب کے اس نوٹیفکیشن کو رد کردیں ورنہ انڈسٹری مالکان جو پہلے ہی ٹیکس چوری میں نمبر ون ہیں کے ورکرز پر ظلم بڑھ جائیں گے۔ پنجاب حکومت کو ایسے ظالمانہ اقدام سے مکمل طور پر گریز کرنا چاہیے۔ اور کم از کم تنخواہوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی غرض سے صوبہ سندھ کی حکومت کی طرز پر ایسا قانون فوری طور پر نافذ کرنا چاہتے، تاکہ نجی شعبے کے غیر ہند مند اور ہنر مند ملازمین کو انکی تنخواہوں بذریعہ بینک ادا کی جاسکیں۔ جس سے کافی ہد تک نجی شعبے کے ان ملازمین کی حالت کار میں مزید بہتری ممکن ہو سکے گی۔ بہرکیف میں جانتا ہوں کہ چیف سیکرٹری صاحب کی بات کو مان لیا جائے گا،،، کیوں کہ لگتا یہی ہے کہ ایسے نوٹیفکیشن سے پہلے ہی فیصلے ہو چکے ہیں،،، اور اندر کھاتے سب کچھ ہوچکا ہوتا ہے۔ بس ”رسم “باقی ہوتی ہے۔ اسی لیے تو میں اکثر کہتا ہوں کہ ہمارا ملک اشرافیہ کے لیے جنت بن چکا ہے۔جبکہ عام آدمی کے لیے دوزخ ۔ چلیں اگر کم از کم تنخواہ 40ہزار روپے بھی مقرر ہے تو مافیا کو یہ سوچنا چاہیے کہ اتنے پیسوں میں گزارہ ناممکن ہے، ایک وقت کا کھانا بھی پیٹ بھر میسر نہیں آتا، یہ لوگ کبھی سوکھی روٹی اور چائے تو کبھی کسی لنگر سے لے کر کھاتے ہیں۔پاکستان میں لاکھوں ایسے مزدور، غیر ہنرمند، نیم ہنرمند اور ہنرمند افراد ہیں جو مختلف شعبوں اور اداروں میں حکومت کی جانب سے مقررہ اجرت سے کم پر کام کر رہے ہیں۔مگر اُن کا بھی استحصال کیا جا رہا ہے۔ بلکہ یہ لوگ زندگی جی تھوڑی رہے ہیں، بلکہ سسک سسک کر گزار رہے ہیں۔ لہٰذاپنجاب حکومت سے دست بستہ گزارش ہے کہ اگر عام آدمی کو ریلیف نہیں دینا نہ دیں،،، اُن کے غم کا مداوا تو کریں،،، بلکہ جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے، اُنہیں ریلیف تو دیں۔ اور اس مذکورہ کم از کم اجرت والے قانون میں تو اُن کے پلے سے کچھ بھی نہیں جائے گا۔ بلکہ اگر فائدہ ہوگا تو انڈسٹری مافیا کو ہو گا جو پہلے ہی اس ملک کے عوام کو نچوڑ کر کھربوں روپے ناجائز منافع کما رہے ہیں!