ن لیگ کی ”آکسیجن“ صدر آصف زرداری !

آ ج 5جولائی ہے، یہ دن پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے جب 1977ءمیں جنرل ضیاءالحق نے مارشل لاءنافذ کیا اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ملک میں کئی سال تک فوجی حکومت رہی۔ یہ ماہ و سال پیپلزپارٹی کے قائدین، جیالوں اور عام ورکرز کے لیے قیامت سے کم نہیں تھے۔ اس کے بعد کے آنے والے سالوں میں پیپلزپارٹی اینٹی اسٹیبلشمنٹ کے طور پر متعارف ہوئی،،، جس کا ہر عمل مقتدرہ کے مخالف ہوتا تھا۔ اور اسی نفرت میں وہ اپنی حریف جماعت ن لیگ سے بھی دوری بڑھاتی رہی۔ اس کی وجہ بھی یہی تھی ن لیگ کا جنم جنرل ضیاءدور میںہوا تھا،،،اور یہ جماعت مقتدرہ کی منظور نظر بھی رہی اس لیے پیپلزپارٹی نے ہمیشہ اس سے دوری بنائے رکھی۔ لیکن اب پیپلزپارٹی کے لیے اس جماعت سے بڑھ کر کوئی لاڈلا ہی نہیں رہا۔ بلکہ پرویز مشرف کی حکومت کے بعد اس جماعت نے ن لیگ کے لیے آکسیجن کا کام کیا۔ جیسے 2007میں پرویز مشرف نے جب بے نظیر کو ملک میں آنے کی اجازت دی تو محترمہ نے کہا کہ نواز شریف بھی پاکستان آئےں گے، یعنی اُس وقت محترمہ نے ن لیگ کے لیے آکسیجن کا کام کیا۔ پھر نواز شریف پاکستان آئے اور2008کا الیکشن لڑا،،، 2008ءمیں پیپلزپارٹی کو محترمہ کی شہادت کے بعد ہمدردی کا ووٹ پڑا اور وہ جیت گئے۔اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ پنجاب میں بھی ق لیگ کے ساتھ مل کر حکومت بناتی (ان دونوں جماعتوں کی سیٹیں بھی حکومت بنانے کے لیے پوری تھیں) لیکن پی پی پی نے ن لیگ کے ساتھ مل کر پنجاب میں حکومت بنالی اور خود صدر زرداری صدر پاکستان بن گئے۔ اُس دن سے پی پی پی پنجاب سے ختم ہوگئی جس کا فائدہ تحریک انصاف کو ہوا اور تمام پیپلزپارٹی کے قائدین پی پی پی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ اس کے بعد ہر آنے والے دن میں پی پی پی اور ن لیگ کہیں کہیں نورا کشتی کرتی نظر آئی مگر مجال ہے کہ صدر زرداری صاحب نے ن لیگ کی آکسیجن بند کی ہو۔ حتیٰ کہ 2013ءکے الیکشن میں پی پی پی تحریک انصاف کی مخالفت میں ن لیگ کی اتحادی بنی،،، پھر 2018ءکے الیکشن میں انہوں نے ن لیگ کا بھرپور ساتھ دیا۔ پھر عمران حکومت کو گرانے میں انہوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ نیا اتحاد پی ڈی ایم بنوا کر منتخب حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی اور عمران حکومت کو چلتا کیا۔ پھر زرداری صاحب صاحب نے ن لیگ کے ساتھ مل کر ایسی ایسی قانون سازیاں کیں کہ بھٹو کی روح بھی تڑپ اُٹھی ہوگی۔ پھر سب سے اہم 26ویں آئینی ترمیم کروائی گئی جس کے بعد ملک میں جمہوریت کی کایا ہی پلٹ دی گئی۔ پھر زرداری صاحب کی آکسیجن ہی کی بدولت 8فروری کا الیکشن ”پلان“ کرکے تحریک انصاف کو مکمل سائیڈ لائن کر دیا گیا۔ اور موصوف ایک بار پھر صدر پاکستان کی سیٹ پر جا بیٹھے۔ مطلب! ان سب چیزوں کے بعد اور سپورٹ کیا ہوتی ہے؟ پھر یہی نہیں بلکہ پی پی پی کی موجودہ قیادت ہی کی بدولت قومی سطح کی جماعت ایک صوبے تک محدود ہو کر رہ گئی۔ الغرض پاکستان کی سب سے بڑی جماعت پیپلزپارٹی کو ایک صوبے تک محدود کرنے والے قائدین کو اگر کہا جائے کہ وہ سیاست کے بادشاہ ہیں تو اس سے بڑی بے وقوفی اور کیا ہوگی؟ بلکہ آپ تو ایسے شخص کو شکست خوردہ کہیں گے ، یا ”ونر“؟قصہ مختصر کہ اب حالات یہ ہیں کہ جب بھی مسلم لیگ ن برے حالات سے دوچار ہوتی ہے۔ پیپلزپارٹی آکسیجن کاکام کرتی ہے۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ پیپلزپارٹی مقتدرہ کے لیے بھی آکسیجن کاکام کرتی رہی ہے ،،، شاید پیپلزپارٹی یہ بات بھول چکی ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے بھٹو کو پھانسی پرلٹکایا،وہ لوگ جنہوں نے پی پی کے خلاف 1977ءمیں قومی اتحاد بنایا۔اور ضیاءالحق نے مارشل لاءلگایا۔ اُن سب کی آکسیجن کا کام آج پیپلزپارٹی کر رہی ہے۔ بلکہ آپ یوں کہہ لیں صدر زرداری تمام بھٹو مخالفین اور بھٹو کے قاتلوں کے لیے” سہولت کار“ کا کام کر رہے ہیں۔ اورپھر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اب مخصوص نشستوں کے حتمی فیصلے کے بعد ٹو تھرڈ میجورٹی حاصل کرنے کے بعد نئی من چاہی قانون سازیاں ہوں گی،،، صدر زرداری ہی کی بدولت فیلڈ مارشل صدر بھی بنےں گے۔این ایف سی ایوارڈ بھی واپس ہوں گے۔ اور صدر صاحب مسکر اکر اس کو سپورٹ کریں گے۔ بلکہ مخصوص سیٹوں سے یاد آیا کہ اس کی کارستانیاں یہ ہیں کہ ایک سیاسی جماعت جے یو آئی کو تین جیتی ہوئی نشستوں پر 11مخصوص نشستیں ملیں گی ۔ اب اُنہیں مرکز اور صوبوں کی حکومتوں میں حصہ مل جائے گا،،، اللہ اللہ خیر صلیٰ۔ بہرحال 5جولائی 1977ءکے بعد سے جس پیپلزپارٹی کے بارے میں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ بھٹو کی شہادت، مرتضیٰ بھٹو کی شہادت یا بے نظیر کی شہادت کے پی پی پی ہمیشہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہے گی،،، تو قارئین! یہ بھرم ٹوٹ چکا ہے۔ اب یہ سب ایک پیج پر ہیں۔ جس پارٹی کو سب سے زیادہ محتاط ہونا چاہیے تھا وہ ہی سب سے زیادہ ”سہولت کار“ بنی ہوئی ہے۔ انہیں یاد نہیں ہے کہ جن کے سامنے آج یہ گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں، انہی لوگوں نے پیپلزپارٹی کے ورکروں پر کوڑے برسائے، انہی لوگوں نے قلعوں میں بند کیا، انہی لوگوں نے قیادت کو مفلوج کیا، اور تو اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے تختہ پر لٹکایا۔ پھر جنرل ضیاءالحق نے دس سالہ دور آمریت میں پیپلز پارٹی اور اس کے کارکنوں کے ساتھ ہر اُس شخص پر عرصہ حیات تنگ کردیا ، جس نے کسی بھی شکل میں یا تو آمریت کی مزاحمت کی، یا کسی بھی سطح پر پیپلز پارٹی اور بھٹو شہید کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کی۔راقم بھی انہی جیالوں میں سے ایک تھا جنہیں لاہور کے شاہی قلعہ میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں، اُس وقت ہم بھی صف اول کے جیالوں میں شامل رہتے تھے، سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور آمریت کے خلاف خوب زہر اُگلتے تھے۔ الغرض یہ وہ سیاہ ترین دور تھا کہ بھٹو صاحب کو جسمانی طور پر ختم کرنے سمیت پیپلز پارٹی کا جسمانی و نظریاتی وجود ختم کرنے کی پوری کوششیں کی گئیں، لیکن 1988 کے انتخابات کے نتائج نے واضح کردیا کہ نہ تو لوگوں کے دلوں سے بھٹو کو نکالا جاسکا اور نہ پیپلزپارٹی کی عوامی مقبولیت ختم کی جاسکی۔ بہرکیف اس پر بلاول بھٹو زرداری کو سوچنا چاہیے کہ انہوں نے اپنے سیاسی ہاتھوں کو کیسے مضبوط بنانا ہے۔ اُنہیں یہ تاثر ختم کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ ملک میں جب بھی مارشل لاءآیا آدھی سے زائد جماعتوں نے اُسے خوش آمدید کہا۔تبھی سیاسی طبقہ آج تک مضبوط نہیں ہوسکا۔ اور ہمیشہ تیسری قوت نے اس چیز کا فائدہ اُٹھایا۔ لہٰذااس وقت پارٹیوں کے اندر جمہوریت کی ضرورت ہے،،، موروثیت سے ہم پہلے ہی بہت نقصان اُٹھا چکے ہیں۔کیوں کہ یہ کسی مذاق سے کم نہیں تھا کہ رضا ربانی، اعتزاز احسن، قمر الزمان کائرہ، فاروق ایچ نائیک جیسے سینئر سیاستدانوں کے ہوتے ہوئے خاندانی سیاست کو آگے بڑھایا جائے۔ یعنی جس گاڑی کا ڈرائیور ہی اچھا نہیں ہوگا وہ گاڑی کیا سفر کرے گی؟ ایسا شاید اس لیے بھی ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیوں خاندانوں میں بچوں کی تربیت کرنے کا رواج ہی نہیںہے اب بندہ پوچھے کہ بلاول کو کیا علم کہ لاڑکانہ کی سڑکوں کا کیا حال ہے؟ یا کراچی کی گلیوں میں رہنے والوں کے کیا مسائل ہیں؟ اُسے کیا علم کی سندھ کے دیگر اضلاع کے زمینی حقائق کیا ہیں؟ اسی طرح راہول کو کیا علم کے دہلی کی گلیوں میں کیا ہورہا ہے؟یا مریم نواز کو کیا علم کے پنجاب کے گلی محلوں کے کیا مسائل ہیں؟ یعنی یہ بچے سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتے ہیں اُنہیں کیا علم کہ عام آدمی کے مسائل کیا ہیں؟ یا انہیں کیا علم کہ دنیا کا مقابلہ کیسے کرنا ہے؟ بہرکیف پیپلزپارٹی نے اپنے لیڈر ، کارکنان اور اُس کے جیالوں کو ناراض کر دیا ہے، حالانکہ ہمیں اس چیز سے سبق لینا چاہیے تھا کہ معزول وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر بھی لٹکانے کے پیچھے عالمی طاقتیں اور اندرونی سازشیں کارفرما تھیں، درحقیقت ذوالفقار علی بھٹو بھی نڈر، بے باک اور کچھ کر گزرنے والے سیاستدان ضرور تھے مگر اقتدار کا طول اور شخصی آمریت اُنہیں بھی لے ڈوبی تھی۔ یہ اُنہی دنوں کی بات ہے جب پورے کے پورے کالجز بھٹو کی ایک آواز پر باہر آجاتے تھے ،لیکن آج یہ سب کچھ ایک خواب لگتا ہے۔ پیپلزپارٹی نے ان سب چیزوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، انہوں نے 1977ءکے مارشل لاءسے آج بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا، آج بھی زرداری صاحب ایک سیاسی جماعت کے خلاف مقتدرہ طاقتوں کا مہرہ بنے ہوئے ہیں، اور پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی میں دراڑیں ڈالنے میں پیش پیش ہیں، لیکن مجال ہے کہ ان سب چیزوں سے کوئی سبق سیکھ رہے ہوں۔ لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدانوں کو ان ”تواریخ“ کے آگے بند باندھنا ہوں گے ، انہیں ایک نئے آپسی معاہدے کی ضرورت ہے کہ یہ کبھی کسی کا مہرہ نہیں بنیں گے، یہ کبھی مارشل لاءیا اُس جیسے حالات کو جواز نہیں بنیں گے اور سب سے بڑھ کر ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا نا تو سبب بنیں گے اور نہ ہی کوئی بیرونی طاقت انہیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کریں گی۔ اور خدانخواستہ اگر ان پر عمل درآمد نہ ہوا تو پھر اس ملک کا کچھ نہیں ہوسکتا، پھر یہاں کوئی گارنٹی نہیں کہ 9مئی جیسے واقعات دوبارہ ہوں، یا ہماری مضبوط فوج کو توڑنے کی کوئی کوشش نہ کرے! اور رہی بات زرداری صاحب کی آکسیجن فراہم کرنے کی تو خدارا وہ اپنی صحت کا خیال کریں،،، اس عمر میں انسان پختہ فیصلے نہیں کرپاتا۔ اس لیے ایسی صدارت کا کیا فائدہ جو عوام کے لیے کارگر ثابت ہونے کے بجائے اُلٹا نقصان میں ہو۔ اس لیے خدارا ملک پر رحم کریں اور نئی قیادت کو موقع دیں !