”زندہ“ عمران خان کبھی مائنس نہیں ہوگا!

آج ایک بار پھر یہ باز گشت سنائی دی جا رہی ہے کہ بانی تحریک انصاف مائنس ہوگئے،،، بانی تحریک انصاف کو اب کبھی عوام میں نہیں لایا جائے گا،،، بانی تحریک انصاف کو پبلک انٹرسٹ میں جیل میں رکھا گیا ہے،،، وغیرہ وغیرہ جبکہ اس پر مہر اُن کی بہن علیمہ خان نے یہ کہہ کر ثبت کی کہ خان کی مشاورت کے بغیر کے پی کے بجٹ پاس ہونے کے بعد واقعی خان مائنس ہوگئے،،، اور پھر ایک خاتون فوجی آفیسر کی تقریر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے ،،، جس کے مطابق ”پاکستان آرمی جو بھی کرتی ہے وہ عوام کے مفاد میں کرتی ہے“۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”میں نے یہ نہیں کہا کہ وہ جو بھی کرتی ہے ٹھیک کرتی ہے، میں نے یہ کہا کہ ’پاک فوج جو بھی کرتی ہے، وہ پبلک انٹرسٹ میں کرتی ہے“۔ لیکن میرے خیال میں یہ جو آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ہر کام ”پبلک انٹرسٹ“ میں کرتے ہیں، یہی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ نہیں یقین تو آپ تاریخ کو ٹٹول کر دیکھ لیں،،، کہ آپ 1988ءمیں بے نظیر کو لائے، اور 1990ءمیں کرپشن کے الزامات لگا کر اُسے نکال دیا۔ 1990میں نواز شریف کو اقتدار میں لائے اور 1993ءمیں اُسے بھی ایسے ہی الزامات لگا کر نکال دیا۔ پھر آپ 1993ءمیں بے نظیر کو لائے اور 1996ءمیں اُسے بھی کرپشن کیسز کی وجہ سے نکال دیا۔ پھر نواز شریف کو 1997ءمیں اقتدار میں لایا گیا اور 1999کو مارشل لاءلگا دیا۔ پھر مارشل کئی سال تک رہا،،، اورپھر امریکا کے دباﺅ پر2006ءمیں آپ نے بے نظیر کو پاکستان آنے کی اجازت دی،،، لیکن محترمہ نے کہا کہ وہ نوازشریف کے بغیر پاکستان نہیں آئیں گی۔۔۔ آپ نے اس کی بھی اجازت دے دی۔ پھر نواز شریف پاکستان آئے اور2008کا الیکشن لڑا،،، 2008ءمیں پیپلزپارٹی کو محترمہ کی شہادت کے بعد ہمدردی کا ووٹ پڑا اور وہ جیت گئے۔اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ پنجاب میں بھی ق لیگ کے ساتھ مل کر حکومت بناتی (ان دونوں جماعتوں کی سیٹیں بھی حکومت بنانے کے لیے پوری تھیں) لیکن پی پی پی نے ن لیگ کے ساتھ مل کر پنجاب میں حکومت بنالی اور خود صدر زرداری صدر پاکستان بن گئے۔ جب زرداری پہلی بار صدر بنے تو مقتدرہ ہی اُن کے خلاف میمو گیٹ سکینڈل لے کر آگئی،،، لیکن سزا پھر نہیں ہوئی اُن کو۔ اس کے بعد اربوں ، کھربوں روپے خرچ کر کے آپ نے 2017میں نوازشریف کو اقتدار سے نکالا اور پورے خاندان کو دنیا کا کرپٹ ترین خاندان ثابت کیا۔ لیکن سزا ایک کو بھی نہیں دے سکے۔ حتیٰ کہ ان سب سیاستدانوں پر آپ نے مقدمات بنائے۔ اربوں روپے ان مقدمات پر صرف ہوئے، لیکن سزائیں صرف منتخب چند ایک افراد کو ہوئیں۔ بلکہ کرپشن پر کسی ایک کو بھی سزا نہیں ہوئی۔ تمام لوگ سیاسی مقدمات کی آڑ میں بچ نکلے۔ حالانکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ دونوں خاندان کرپٹ ہیں، لیکن آپ پھر بھی ان کو سزا نہیں دے سکے۔ اورپھر2023ءمیں پھر آپ نے جنہیں غدار، کرپٹ اور ملک کے لیے خطرہ قرار دیا تھا، اُنہیں دوبارہ اقتدار سونپا۔ اب شریف فیملی دوبارہ کب کرپٹ ہوگی،،، یہ بات ہمیں اگر پہلے ہی بتا دیں تو زیادہ بہتر ہوگا! اور پھر یہی نہیں بلکہ بانی تحریک انصاف پر آپ ایک بھی ایسا کیس نہیں بنا سکے کہ لوگ کہیں کہ واقعی جینوئن کیس بنا ہے، کبھی آپ اُسے عدت کیس میں پکڑتے ہیں، کبھی آپ گھڑی کے کیس میں پکڑتے ہیں تو کبھی آپ اُسے اسلامی ادارہ بنانے کے کیس میں پکڑتے ہیں تو کبھی آپ جلاﺅ گھیراﺅ کے سیاسی کیسوں میں دھرتے ہیں۔ لیکن ایک کیس بھی ایسا نہیں بنا سکے کہ جس سے لوگ کہیں کہ وہ بندہ غلط ہے۔ اور پھر اُس کے ہر اچھے کام کو آپ نے ختم بھی کردیا۔ حتیٰ کہ صحت کارڈ جسے بہتر بنانا چاہیے تھا، اُسے بھی ختم کردیا گیا۔ مجھے بتائیں کہ اس میں پبلک انٹرسٹ کہا ں ہے؟ یہ تو لگتا ہے کہ آپ کے اپنے انٹرسٹ ہیں،،، اور پھر یہ پوری اسٹیبشلمنٹ کا انٹرسٹ بھی نہیں ہے، بلکہ دو چار لوگوں کا انٹرسٹ ہے۔ جیسے وہی باجوہ صاحب عمران کو لانے والے، وہی نکالنے والے۔۔۔ اور پھراربوں روپے لے کر باہر چلے گئے ، کونسا چیف آف آرمی سٹاف بعد از ریٹائرمنٹ پاکستان میں رہتا ہے،،، کیا یہ سب پبلک انٹرسٹ میں بیرون ملک منتقل ہو جاتے ہیں؟ اب پنجاب حکومت پر دس کھرب کی کرپشن کا الزام لگا ہے، مطلب الزام تو لگا ہے،،، ثابت آپ سے یہ بھی نہیں ہونا،،، لیکن اس 10کھرب کو صرف آپ لوگ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں گے،،، اُسے گھسیٹیں گے،،، اور جب ان کا اقتدار ختم کرنا ہوا،،، تو اسی کرپشن کو استعمال کریں گے،،،اور پھر دوبارہ ان کو مقدمات میں گھسیٹنے کے لیے اربوں روپے استعمال کریں گے،،، لیکن مجھے یقین ہے کہ سزا پھر نہیں دے سکیں گے۔ آپ کو علم ہے کہ جب ایک سیاسی قیدی کو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو کتنا خرچ آتا ہے،،، یعنی عوام انہیں غیر ترقیاتی اخراجات میں دب کر رہ گئی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ فلاں کی حکومت ہم نے کرپشن کی بنیاد پر ختم کی، لیکن مجال ہے کہ اُسے آج تک ثابت بھی کیا ہو۔ بادی النظر میں یہ کھیل اب ختم ہو گیا ہے،،، آپ سے مائنس عمران خان کبھی بھی نہیں ہوگا۔ اُس غریب کے ساتھ اگر آپ کچھ اور کر دیں تو وہ الگ بات ہے، لیکن پبلک اُس کے ساتھ ہے، اس لیے اُسے آپ مائنس کر ہی نہیں سکتے۔ آپ کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کی معیشت بہت اوپر جا رہی ہے، پاکستان بہت ترقی کر رہا ہے، پاکستان کے اعشاریے بہت بہتر ہو رہے ہیں،،، لیکن آج بھی آپ نئے انتخابات کروا لیں اور تحریک انصاف کو ایک بار پھر پرلے درجے کا انتخابی نشان دے دیں،،، لیکن ووٹ عمران خان کو ہی پڑے گا۔ کیوں کہ عوام اُس کے ساتھ ہے،،، اور پھر یہ بھی سچ ہے کہ جب بھی عمران خان کو کوئی گرائے گا تو وہ خود عمران ہوگا۔ پہلے بھی جب وہ اقتدار میں تھا، تو اُس وقت بھی اگر اُسے پانچ سال پورے کرنے دیتے تو دوبارہ کسی نے عمران خان کا نام نہیں لینا تھا،،، لیکن اُس کا اقتدار دھکے سے ختم کرکے اُسے ہمدردی کا ووٹ دیا گیا۔ جناب عالی،،، واقعی پبلک انٹرسٹ کا خیال رکھیں،،، اُن کے ووٹ کا احترام کریں،،، اپنا مذاق نہ بنوائیں۔ اب عوام میں شعور آچکا ہے، اب عوام کو اپنے پبلک انٹرسٹ کا علم ہے، اُسے آپ یہ کہہ کر بے وقوف نہیں بنا سکتے کہ پبلک انٹرسٹ کی خبریں اور ہیں،،، یا ہم جو کچھ کرتے ہیں وہ پبلک انٹرسٹ میں کرتے ہیں۔ آپ ایک چھوٹی سی بات دیکھ لیں کہ ہر ادارے میں ریٹائرڈ جرنیل بیٹھا ہے، کیا یہ بھی پبلک انٹرسٹ میں ہے؟یہ بچوں والی باتیں ہیں کہ پبلک انٹرسٹ کا خیال رکھیں،،، عوام اب ان باتوں میں نہیں آتی۔ اس لیے پبلک انٹرسٹ یہ ہے کہ عمران خان کبھی مائنس نہیں ہوگا،،، بلکہ آپ تو شہید ذوالفقار علی بھٹو کو آج تک مائنس نہیں کر سکے۔ لہٰذاایک بار تو ہل جل ہوگی ، وہ آج ہوگی، یا کل ہوگی یا 10سال بعد ہوگی لیکن، ہوگی ضرور۔ اگر آپ حق پر بھی ہوں اور ظلم کریں تو وہ زیادہ دیر کبھی نہیں چلے گا۔ اس بات کا آپ یہیں سے اس بات کا اندازہ لگا لیں کہ جب حضرت امام حسین ؓ شہید ہوئے تھے، تو اُن کی شہادت کے 6سال بعد قبیلہ بنو ثقیف سے تعلق رکھنے والے مختار ثقفی نے امام حسین ؓ کے قاتلوں سے انتقام لینے کے لیے ایک تحریک چلائی، جو تاریخ میں قیام مختار کے نام سے جانی جاتی ہے۔جیسا کہ 61 ہجری کو امام حسین ؓ اور ان کے خاندان کو کربلا میں شہید کر دیا گیا۔ مختار ثقفی اس وقت کوفہ میں موجود تھے اور عبیداللہ بن زیاد کی قید میں تھے، اس لیے وہ امام حسین ؓکی مدد کے لیے کربلا نہیں جا سکے۔ مختار ثقفی قید سے رہا ہو کر مکہ پہنچے، مختار ثقفی نے کوفہ واپس آ کر اپنے قیام کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے اہل بیت ؓکے حامیوں کو جمع کیا اور امام حسین ؓ کے قاتلوں سے انتقام لینے کے لیے ایک منظم تحریک شروع کی۔ مختار نے اپنی حکمت عملی اور شجاعت کے ذریعے کوفہ میں اپنی سیاسی اور عسکری طاقت کو مضبوط کیا۔مختار ثقفی نے کوفہ میں باضابطہ قیام کا اعلان کیا اور امام حسین ؓ کے قاتلوں کو سزا دینا شروع کیا۔ اور کم و بیش 6ہزار لوگوں کو قتل کیا۔ مطلب! جو فوج امام حسین ؓ کو شہید کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی، وہ ساری فوج اس نے مار دی تھی، ان کی قیادت میں ایک منظم فوج نے عبیداللہ بن زیاد، عمر بن سعد، شمر بن ذی الجوشن، اور دیگر قاتلان کربلا کو سزا دی۔ پھر بعد میں اُن کے اپنے بھائی مصعب بن زبیر نے مختار ثقفی کو قتل کردیا۔ لہٰذاامویوں کا دور تو پھر بھی ویسے ہی رہااور اگلے 100سال تک وہ پھر بھی اقتدار میں رہے۔ لہٰذااگر آپ کسی کو طاقت کے ذریعے یا سازشوں کے ذریعے ختم کرتے ہیں تو وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ مائنس ہمیشہ مصلحت سے ہوتا ہے،،،، کانگریس اگر بھارت میں مائنس ہوئی تھی تو وہ بھی مصلحت سے ہوئی تھی، جمہوریت سے ہوئی تھی، وہاں کی اسٹیبلشمنٹ نے اسے طاقت کے زور سے باہر نہیں کیا تھا۔ اگر نیویارک کا میئر کا اُمیدوار ظہران ممدانی وہاں کے ووٹ سے بنا ہے تو کیا وہاں کی اسٹیبلشمنٹ نے اُسے جھوٹے کیس بنا کر جیل میں بند کر دیا ہے؟ بہرکیف ایک سادہ سا سوال ہے کہ کیا صرف ہماری اسٹیبلشمنٹ کو ہی جمہوریت کی فکر ہے، کسی اور ملک کی اسٹیبشلمنٹ کو اتنی فکر نہیں ہوتی؟برطانیہ کی آرمی بھی ہے، امریکا کی آرمی بھی ہے، دیگر ممالک کی افواج بھی ہیں ،،، مگر وہاں عوامی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔ وہاںحقیقی پبلک انٹرسٹ میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اس لیے مائنس عمران خان والی باتیں چھوڑ دیں تو زیادہ بہتر ہوگا،،، کیوں کہ یہ باتیں اب بچگانہ لگتی ہیں،،، اس لیے پبلک انٹرسٹ اسی میں ہے کہ اُن کی رائے کا احترام کریں۔