برُے وقت میں کیا ن لیگ پی پی کےساتھ دوستی نبھائے گی؟

خبریں گرم ہیں کہ صدر زرداری گھر جا رہے ہیں،،، اور بڑے گھر والے صدر بن رہے ہیں،،، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ یقینا پیپلزپارٹی کے لیے سبکی ہوگی،،، ایسی سبکی کہ جس کا خمیازہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کئی سالوں تک بھگتتے رہیں گے،،، ویسے میں اس حوالے سے کبھی کالم نہ لکھتا اگر وزیر داخلہ محسن نقوی اس خبر کی ”تردید“ نہ کرتے کہ صدر زرداری کے گھر جانے کی خبریں محض افواہیں ہیں،،، سوال یہ ہے کہ اگر یہ افواہیں ہیں تو کسی اور سے بیان دلوا دیتے آپ کو اتنی اہمیت دینے کی کیا ضرورت تھی؟ خیر اب تیر کمان سے نکل چکا ہے اور ہم اسی پر ہی اکتفا کریں گے کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے،،، کیوں کہ تمام سابقے اور لاحقے اسی طرف جا رہے ہیں کہ ن لیگی حکومتی اتحاد کو جب سے مخصوص نشستوں والا فیصلہ آیا ہے، تب سے کوئی خطرہ نہیں رہا۔ اب وہ پیپلزپارٹی کی بلیک میلنگ سے بھی باہر نکل آئے ہیں۔ کیوں کہ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اگر ہم قومی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن دیکھیں تو اس وقت ن لیگ کی نشستیں 123،پیپلزپارٹی کی 74، ایم کیو ایم 22، مسلم لیگ ق5، آئی پی پی 4، مسلم لیگ ضیا، باپ، نیشنل پارٹی، کی ایک ایک اور آزاد اراکین ملا کر ان کی تعداد 235ہوچکی ہے،،، جبکہ اپوزیشن میں سنی اتحاد(تحریک انصاف )کی 80، جے یوآئی کی 10اور دیگر جماعتوں کے اراکین کے ساتھ ان کی تعداد 98بنتی ہے۔ لہٰذاحکومتی اتحاد کو اس وقت دو تہائی اکثریت حاصل ہو چکی ہے،،، اور اگر پیپلزپارٹی حکومت سے نکل بھی جائے تو آزاد اراکین حکومت کے ساتھ مل جائیں گے،،، اور حکومت کو سادہ اکثریت حاصل رہے گی۔ لہٰذامخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد پیپلزپارٹی کی بلیک میلنگ پوزیشن کو وقتی طور پر ختم کر دیا ہے، پہلے پیپلزپارٹی کہتی تھی کہ ہم 24گھنٹے میں حکومت گرا سکتے ہیں۔ لیکن اب صورت حال مختلف ہے۔ اس لیے اب سوال یہ ہے کہ اب مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی؟ کیوں کہ تاریخ گواہ ہے کہ ن لیگ نے ہمیشہ پیپلزپارٹی کو بطور ٹشو پیپر استعمال کیا۔ نہیں یقین تو آپ تاریخ کا سرسری جائزہ لیں،،، آپ کو لگ پتہ جائے گا،،، جیسے آپ میثاق جمہوریت کو دیکھ لیں کہ محترمہ کو پاکستان آنے کی اجازت ملی مگر انہوں نے نوازشریف کے بغیر پاکستان آنے سے انکار کر دیااور وہ نواز شریف کو ساتھ لے کر خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان آئیں۔ حالانکہ ان دونوں جماعتوں کے قائدین نے ایک دوسرے پر سینکڑوں مقدمات درج کروا رکھے تھے۔ خیر پھر محترمہ تو شہید ہوگئیں مگر 2008ءکی حکومت پیپلزپارٹی کو ہمدردی کے ووٹ کے طور پر دلوا گئیں،،، یعنی مرکز میں پیپلزپارٹی کی حکومت آئی، صدر زرداری صدر بن گئے اور پنجاب میں ن لیگ کی حکومت آئی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نواز شریف بھی محترمہ کے احسان کا بدلہ چکاتے لیکن انہوں نے جیسے ہی پنجاب میں اپنا کلہ مضبوط کیا ویسے ہی مرکزی حکومت کی جڑیں کاٹنا شروع کردیں،،، ن لیگ نے مینار پاکستان پر کیمپ لگایا اور مہنگی بجلی کا راگ الاپتے ہوئے مرکزی حکومت کو خوب لتاڑا۔ اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا مینارِ پاکستان کے سامنے میڈیا کے ایک ہجوم کے ساتھ اپنی کابینہ کا اجلاس بلانا بھی یقین مانیں نہیں بھولتا۔ اور پھر یہ سلسلہ چند دنوں کے لیے نہیں تھا بلکہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف پنجاب حکومت کا یہ احتجاج کئی ماہ تک چلتا رہا۔اس احتجاجی کیمپ میں پنجاب کے سرکاری افسران اور اراکین اسمبلی ہاتھوں میں دستی پنکھے لئے بیٹھے رہتے تھے اور ٹی وی چینلز ان کی براہ راست کوریج کرتے تھے۔اس وقت کے اخبارات اور ٹی وی کی خبروں کو سامنے رکھیں تومیاں شہباز شریف کی جانب سے ایک الزام بھر پور اور بڑی شدت سے لگایا جاتا تھا کہ آصف علی زرداری پنجاب کو اپنے حصے کی گیس اور بجلی جان بوجھ کر کم دے رہے ہیں اور لوگ ا س پر فوراََ یقین بھی کر لیا کرتے تھے ،لیکن ان کی آنکھیں اس وقت کھلیں جب نواز لیگ کی مرکز میں حکومت قائم ہوئی اور اس حکومت نے نہ صرف سردیوں میں پنجاب کے لاکھوں چولہے اور صنعتیںبند کر دیں ، بلکہ ہر ماہ بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بھی بڑھانا شروع کر دیں۔ خیر یہ الگ بحث ہے مگر اسی دوران جب پی پی پی کی حکومت تھی اور میموگیٹ اسکینڈل منظر عام پر آیا تو اُس وقت نواز شریف خود کالے کوٹ اور ٹائی میں ملبوس ہو کر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ۔ اور اپنے ”محسن“ کا ساتھ دینے کے بجائے اُس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ،،، ہوا کچھ یوں کہ 10اکتوبر2011ءکو برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں ایک مضمون شائع ہوا جس سے پاکستان کی سیاست میں بھونچال آگیا۔ منصور اعجاز نے دعویٰ کیا کہ ایبٹ آباد آپریشن کے ایک ہفتہ بعد یعنی 9مئی 2011ءکو ایک سینئر پاکستانی ڈپلومیٹ نے ان سے رابطہ کرکے درخواست کی کہ صدر زرداری وائٹ ہاﺅس کے نیشنل سیکورٹی حکام کو ایک ہنگامی نوعیت کا پیغام بھیجنا چاہتے ہیںکہ ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد فوج کی طرف سے اقتدار پر قبضہ کیے جانے کا خدشہ ہے،،، لہٰذا امریکی انتظامیہ مداخلت کرے اور جنرل اشفا ق پرویز کیانی کو کہا جائے کہ ایسی مہم جوئی سے باز رہیں۔بعد ازاں یہ دعویٰ کیا گیا کہ منصور اعجاز سے رابطہ کرنیوالے سفارتکار دراصل امریکہ میںپاکستان کے سفیر حسین حقانی ہیں۔ پاکستان میں یہ قومی سلامتی کا معاملہ قرار پایا اور اسے میموگیٹ کا نام دیا گیا۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق میمو گیٹ میںبظاہر تو حسین حقانی کیخلاف چارج شیٹ تھی مگر اصل نشانہ صدر زرداری تھے۔حسین حقانی پر دباﺅ بڑھنے لگا تو یہ باتیں ہونے لگیں کہ وہ صدر زرداری کیخلاف سلطانی گواہ بن جائیں گے۔22نومبر 2011ءکو وزیراعظم کے دفتر میں ایک اہم ترین نشست ہوئی جس میں صدر زرداری اور جنرل اشفاق پرویز کیانی نے شرکت کی۔ اس بیٹھک میںفیصلہ ہوا کہ حسین حقانی استعفیٰ دیدیں تاکہ شفاف انداز میں تحقیقات کو یقینی بنایا جاسکے۔ حسین حقانی نے استعفیٰ دیدیا تو کہا اب مجھے جانے دیں،لیکن آصف زرداری کو معلوم تھا کہ دیوتا حسین حقانی کی بھینٹ پر مطمئن نہیں ہونگے اور مزید قربانی کا مطالبہ کرینگے۔ میمو گیٹ کی بنیاد پر صدر زرداری کیخلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ دائر کرکے ٹرائل کرنے کی باتیں ہونے لگیں ،،، بات بڑھتے بڑھتے بڑھ گئی اور سپریم کورٹ تک جا پہنچی، جہاں ایک کمیشن قائم ہوا اور اُس نے اپنی رپورٹ جمع کروائی۔ جبکہ اس حوالے سے میاں نواز شریف نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا فیصلہ کیا اور سپریم کورٹ میں مذکورہ خط کے خلاف درخواست دائر کی اور صدر زرداری کے خلاف عدالت میں پیش ہوئے۔ حالانکہ بعد میں موصوف نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ انھیں صدر زرداری کے خلاف سپریم کورٹ نہیں جانا چاہیے تھا ،،، لیکن موصوف گئے اور ثابت کیا کہ وہ موقع پرست ہیں۔ پھر اس کے بعد جب 2013ءمیں ن لیگ کو حکومت ملی تو انہیں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں سمیت کئی مسائل کا سامنا تھا،،، پھر ڈان لیکس آگیا،،، لیکن اس دوران زرداری اور ایم کیو ایم نے ن لیگ کا ہی ساتھ دیا،،، مگر جب نواز شریف کو حکومت سے پانامہ لیکس کے معاملے پر الگ کیا گیا تو ایک بار پھر قائد ن لیگ نے سب کو رگڑا لگا دیا۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت آئی تو یہ دوبارہ ایک ہوگئے،،، اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر حکومت کو ختم کیا اور 2024ءکا الیکشن چرایا۔ لیکن پیپلز پارٹی نے جن توقعات کے ساتھ فروری 2024ءکے انتخابات کے بعد مرکز میں (ن) لیگ کی حمایت کا فیصلہ کیا تھا‘ وہ بھی پوری نہیں ہوئیں۔ ان توقعات میں سب سے اہم پنجاب میں سپیس حاصل کرنا تھی۔ پیپلز پارٹی کا حکومت پر تنقید اور اس سے ذرا ہٹ کر چلنے کا تاثر دینے کا صرف ایک مقصد ہے اور وہ ہے پنجاب میں کھویا ہوا مقام حاصل کرنا۔ دوسری وجہ دریائے سندھ میں سے چھ نہروں کی تعمیر پر ہونے والے احتجاج کی قیادت کا اپوزیشن کے ہاتھ میں چلے جانے کا خطرہ ہے۔ اگرچہ اس منصوبے کی حکومتِ سندھ اور پارٹی کی مرکزی قیادت نے مخالفت کی ،مگر یہ مخالفت نرم الفاظ میں کی گئی،،، اور اب یہ خبریں آرہی ہیں کہ صدر زرداری گھر جا رہے ہیں،،، تو اس پر بھی یقینا کہیں نہ کہیں سے ن لیگ کا ہاتھ ضرور ہے،،، کیوں کہ کیا آپ کو یہ نہیں لگتا کہ یہ ن لیگ کی مشاورت کے بغیر ایسا فیصلہ ہوا ہوگا؟ اور یقینا آپ کو یہ بھی اندازہ ہوگا کہ جب بھی کبھی کوئی ایسا بڑا”کام“ کرنا ہوتا ہے، تو مقتدرہ اپنے من پسند صحافیوں سے ایسی ہی خبریں چلوا کر عوام کی ذہن سازی کرتی ہے،،، پھر اس کی تردید آتی ہے،،، اور پھر خبر درست ہی ثابت ہوتی ہے،،، اس کیس میں بھی دیکھ لیں کہ ایک صحافی سے یہ خبر چلوائی گئی،،، پھر وزیر داخلہ نے ایک ڈیڑھ ہفتے بعد اس کی تردید کر دی،،، میں ایک بار پھر کہوں گا کہ اگر خبر کی اہمیت ہی نہیں تھی تو تردید دینے کا مقصد؟ خیر دھواں وہیں سے اُٹھتا ہے، جہاں آگ جلے۔۔۔ لیکن میں یہ بات وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر خبر درست ہے تو یہ یقینا اُسی صورت میں ہوا ہوگا جب ن لیگ کو علم ہوگیا ہوگا کہ اب اُنہیں پیپلزپارٹی کی ضرورت نہیں رہی۔ اور ہو سکتا ہے، کہ مخصوص سیٹوں کا فیصلہ کروایا ہی اسی لیے گیا ہو کہ پیپلزپارٹی کے زور کو کم کیا جائے۔ تبھی تو اس وقت زرداری یا پی پی پی رہنما خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اور ایسی صورت میں اگر ن لیگ یہ نہ بھی چاہے کہ پیپلزپارٹی کا ساتھ چھوڑا جائے ،،، اور اسٹیبشلمنٹ اگر ایسا کرنا چاہتی ہے تو آپ دیکھ لیجئے گا کہ ن لیگ کبھی پی پی پی کے ساتھ نہیں کھڑی ہوگی،،، بلکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ اور پھر آپ آنے والے دنوں میں دیکھیے گا کہ پیپلزپارٹی ن لیگ کے خلاف احتجاج کرتی نظر آئے گی۔ لیکن اس سارے معاملے میں آپ ایک ادارے کا یکطرفہ کردار چیک کریں کہ جب سپریم کورٹ نے کہا کہ تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دی جائیں تو الیکشن کمیشن نہیں مانا۔ حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے اس حوالے سے چار فیصلے آئے کہ سیٹیں تحریک انصاف کا حق ہیں،،، مگر یہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔۔۔ اور 26ویں آئینی ترمیم اور آئینی بینچ بننے کا انتظار کرتے رہے۔ اُس وقت ویسے سپریم کورٹ کا بھی بڑا پن تھا کہ اُس نے کہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں کیا،،، اور نہ ہی الیکشن کمیشن سے اس کا ”حساب“ مانگا۔ بلکہ اس چیز کا بھی حساب نہیں مانگا گیا کہ سپریم کورٹ نے بارہا الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ فلاں فلاں صوبوں میں 90دن کے اندر الیکشن کروائیں ،،، تو الیکشن کمیشن اُس پر بھی نہیں مانا۔ لیکن جیسے ہی مخصوص نشستوں کا فیصلہ الیکشن کمیشن اور اغلوں کی مرضی کے عین مطابق آیا،،، تو الیکشن کمیشن نے 15منٹ میں سیٹیں تقسیم کرکے اگلے ہی دن سیٹیں بانٹ دیں۔ بہرکیف یہ بات سند کر لیں کہ آنے والے دنوں میں ن لیگ پیپلزپارٹی کے ساتھ ایک بار پھر ہاتھ کرے گی اور اس بار پیپلزپارٹی کے پاس دوبارہ کھڑا ہونے کا وقت بھی نہیں ہوگا،،، کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ اغلوں نے سندھ حکومت بھی ان سے لینے کا پلان بنا رکھا ہو!